پاکستانی کرکٹ کا بحران
- سوموار 01 / ستمبر / 2014
- 4104
پاکستان کرکٹ ٹیم حال ہی میں سری لنکا کی ٹیم سے شکست خوردہ ہوکر وطن لوٹی ہے۔ میں اس شکست کو کیا کہوں شرمناک یا عبرناک، سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ دو ٹیسٹ میچوں میں وائٹ واش کا مزا چکھنے والی گرین شرٹس کو سری لنکا نے ون ڈے سیریز میں دو ایک سے مات دی ۔
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ٹیسٹ ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی طرز کی کرکٹ ہسٹری کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان 1981سے تاحال 19ٹیسٹ سیریز کھیلی گئیں، جن میں 8پاکستان نے جیتی اور 6 میں سری لنکا کامیاب رہا ۔ 5ڈرا ہوئیں۔ اگر ہم آخری تین سریز کا مطالعہ کریں تو کسی میں بھی پاکستان کامیاب نہ ہوسکا ۔ مطلب واضح ہے کہ پاکستانی ٹیم کی کارکردگی مسلسل زوال پذیر ہے۔
اسی طرح دونوں ٹیموں کے درمیان 141 ایک روزہ مقابلے ہوئے ہیں جن میں سے پاکستان 81اپنے نام کرنے میں کامیاب رہا جبکہ 54سری لنکا نے جیتے اور 6مختلف وجوہات کے باعث نتیجہ خیز نہ بن سکے۔ سری لنکا کی ٹیم جو کبھی آج کی بنگلہ دیش، افغانستان دیگر بے بی ممالک کی ٹیم ہوتی تھی، نے 1996ء میں اپنی بہترین پرفارمنس سے جس طرح ورلڈ جیتا اس کے بعد وہ بین الاقوامی سطح پر کارکردگی میں کافی حد تک تسلسل لے کر آئی ۔ اس کے برعکس پاکستان کی ٹیم ہر موقع پر غیر متوقع کارکردگی کا اظہار کرتی رہی بلکہ کرکٹ مبصرین کی اکثریت یہ تک کہنے لگی کہ پاکستان کی ٹیم کچھ بھی کرسکتی ہے۔
ہم حالیہ ٹیسٹ اور ایک روزہ سیریز کا جائزہ لیں تو پاکستان کی گیارہ کھلاڑیوں کی ٹیم سری لنکا کے 6کھلاڑیوں سے ہارگئی ۔ ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی 23وکٹیں سری لنکن بالر ہیراتھ نے گرائیں اور دونوں ٹیسٹ میچوں میں عمدہ کارکردگی پر مین آف دی سیریز بھی رہا۔ ادھر ایک روزہ مقابلوں میں9کھلاڑی پریرا نے میدان سے باہر کئے ۔اس نے ایک ففٹی بھی اسکور کی ۔ اس آل راؤنڈ کارکردگی پر وہ سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار پایا ۔
یہ تھا صرف دو بالرز کا تذکرہ ، بلے بازوں میں سیریز کے دوران سنگاکارا، میتھیوز، جے وردھنے اور دلشان نے شاندار کھیل پیش کیا ۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کی طرف ٹیسٹ میں تسلسل کے ساتھ صرف سرفراز احمد نے پرفارم کیا ۔ اور ون ڈے میں فواد عالم کی کارکردگی واجبی سی رہی۔ اور وہاب ریاض نے دونوں طرز نے مقابلوں میں کچھ وکٹیں اپنے نام کیں مگر مرد بحران نہ بن سکے ۔
پاکستان ٹیم کی اس کارکردگی پر مبصرین اور ماہرین کھیل کی رائے یہ ہے کہ کوچز کی لمبی فہرست رکھنے والی ٹیم اندرونی سیاست کے ساتھ پاکستان کرکٹ بورڈ کی اترتی چڑھتی سیاست سے بھی متاثر ہورہی ہے۔ نوجوان قیادت وقت کی ضرورت ہے مگر اعلیٰ حکام ہر مرض کی دوا صرف مصباح الحق، شاہد آفریدی اور پروفیسر حفیظ کو سمجھتے ہیں۔ جو کہ ہر گز درست نہیں۔
کرکٹ کا عالمی مقابلہ آئندہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسے سرد ممالک میں ہوگا ۔ اس کیلئے اگر آج سے ہی کچھ خاص حکمت عملی نہ بنائی گئی اور پرانے مہروں کے ذریعے ہی کھیل کی بڑی بساط اپنے نام کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ لاحاصل رہے گی۔
اگر پاکستان سری لنکا سے شکست کے بعد اپنی خامیوں کا درست تجزیہ کرنے میں کامیاب رہا اور گزشتہ عالمی مقابلوں میں شکست کی وجوہات پر دسترس پا لی تو اس بات کے قوی امکان ہیں کہ سیاسی طور پر انتشار کا شکار پاکستان ، کھیل کے میدان میں اپنا سکہ دوبارہ جما لے گا۔ لیکن اس کیلئے ضرورت زیادہ کوچز کی نہیں، نیک نیتی کے ساتھ ٹیم بناکر مقابلہ کرنے کی ہے۔ جس کا پاکستان ٹیم میں شدید فقدان کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔