پوائنٹ آف نو ریٹرن
- سوموار 01 / ستمبر / 2014
- 4439
دنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ جب جب خلق خدا کو امن و امان ، انصاف ، روزگار ، تعلیم ، صحت سمیت زندگی کی بنیادی سہولیات میسر نہ آئیں تب تب محکوموں نے قانون اپنے ہاتھ میں لیا۔ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی بیڈ گورننس اور میاں نواز شریف کی بادشاہت کی طرز پر حکمرانی کی خواہش سے عوام میں اضطراب کی لہریں عمران خان اور طاہر القادری کے اعلانات سے قبل ہی بیدار ہوتی نظر آ رہی تھیں۔
آج اگرچہ سوائے عمران خان کے پارلیمنٹ میں موجود دیگر تمام جماعتیں جو حکومت کے مزے لوٹ رہی ہیں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے خلاف صف آرا ہو چکی ہیں مگر عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے انہیں جمہوریت بچانے کی فکر دامن گیر ہے۔ کسی بھی معاشرے میں حکمرانوں کی اچھی کارکردگی ان کے اقتدار کی ضامن ہوتی ہے۔ مگر پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں حکمرانی کا پیمانہ یکسر مختلف ہے۔ پاکستان کی جمہوریت روز اول سے برادری ازم ، صوبائی عصبیت، مسلکی اختلافات سمیت دیگر متعدد عوامل کے ہاتھوں یرغمال ہے۔ ہمارے سیاستدان ووٹ کے حصول کے لئے قاتلوں اور دہشتگردوں سے ہاتھ ملانے سے بھی گریز نہیں کرتے اور اپنے اس عمل کو مفاہمت کا چولا پہنایا جاتا ہے۔
اسلام آباد کی صورتحال کے تناظر میں آج سپریم کورٹ نے ماورائے آئین اقدامات کے کیس کی سماعت کی۔ جبکہ دوسری جانب دھرنے کے شرکا اپنی ہی ریاستی طاقت سے نبرد آزما تھے۔ طاہر القادری اور عمران خان کے کنٹینرز سے اعلانات ہو رہے تھے کہ کارکنو! آگے بڑھو۔ یہ بھی سب نے دیکھا کہ کس طرح پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت پر انقلابیوں نے دھاوا بول کر ہر چیز تہہ و بالا کر دی اور پھر فوج کے کہنے پر نہایت اطمینان سے رخصت ہو گئے۔
اسی دوران آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے وزیراعظم کی ملاقات بھی جاری تھی اور اسی وجہ سے دھرنے کے شرکا سمیت ملک بھر میں افواہوں کا بازار گرم تھا اور اس پر مستزاد ہمارا مادر پدر آزاد میڈیا یہ خبر چلا رہا تھا کہ ” آرمی چیف نے وزیراعظم کو تین ماہ کے لئے مستعفی ہونے کا مشورہ دے دیا ہے“۔ اسی گرم گرم ماحول میں آئی ایس پی آر کو وضاحت جاری کرنا پڑی کہ ایسا کچھ نہیں ہے۔
یہ افواہیں ابھی پوری طرح سرد بھی نہ ہوئی تھیں کہ تحریک انصاف کے صدر جاوید ہاشمی نے ایک نیا پنڈورا باکس کھول دیا۔ ان کی باتوں کا لب لباب یہ تھا کہ عمران خان کو فوج کی حمایت حاصل ہے۔ فوج نے انہیں قادری صاحب کے ساتھ مل کر چلنے کے لئے کہا ہے۔ الیکشن ستمبر میں ہونگے وغیرہ وغیرہ۔ اس پریس کانفرنس کے بعد ہر طرف سے عمران خان تنقید کی توپوں کی زد میں آ گئے اور آخر کار ایک بار پھر فوج کے ترجمان ادارے کو میدان میں آ کر یہ وضاحت کرنا پڑی کہ وہ جمہوریت کے ساتھ ہیں نہ کہ عمران خان اور طاہر القادری کے ساتھ۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ موجودہ سیاسی بحران اور تحریک انصاف و عوامی تحریک کے پیچھے فوج یا آئی ایس آئی کا کوئی کردار نہیں ہے۔ بدقسمتی ہے کہ موجودہ سیاسی تنازع میں پاک فوج کو گھسیٹا جا رہا ہے۔ فوج ایک غیر سیاسی ادارہ ہے جس نے مختلف مواقع پر جمہوریت کی غیر مشروط حمایت کی ہے۔ بیان میں واضح طور پر کہا گیا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے پیچھے فوج یا آئی ایس آئی کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔
عمران خان اور طاہر القادری کے مطالبات درست ہیں تاہم ان کے طریقہ کار سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ آج ہر جمہوریت پسند ان کے طریقہ کار کے خلاف ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی ہمیں حکومت اور سیاستدانوں کے طرز عمل کو بھی جانچنا ہو گا۔ مظاہرین پر اسلام آباد میں ہونے والی شیلنگ اور تشدد کی مذمت کرنا از حد ضروری ہے۔ پولیس کا وحشیانہ طرز عمل اس امر سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ صحافیوں کو ان کی گاڑیوں سے نکال کر بری طرح مارا پیٹا گیا اور یہ طرز عمل جمہوریت کی خدمت نہیں بلکہ اس کے قطعی خلاف ہے۔ حکومت نے بجا طور پر گزشتہ 18 دنوں میں بے حد صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا مگر اس حد تک برداشت کے مظاہرے کے بعد اس طرح کی پولیس گردی کو درست کہنا بھی ٹھیک نہ گا۔
یہ بات مسلمہ ہے کہ دو فریقین یا گروہوں کے درمیان تنازعات دلیل سے طے پاتے ہیں مگر جب فریقین ضد پر اڑ جاتے ہیں اور معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ جائیں تو کسی ثالث یا ضامن کی ضرورت موجود رہتی ہے ( اپنی سہولت کے لئے آپ اسے سہولت کار بھی پڑھ سکتے ہیں) جب تک یہ کردار منظر میں موجود رہیں معاملات طے پانے کی امید بھی برقرار رہتی ہے۔ محض ضد اور انا سے کوئی فریق انصاف کا پلڑا اپنے حق میں نہیں جھکا سکتا۔ فوج بارہا یہ پیغام دے چکی ہے کہ سیاستدان تنازعہ کو مذاکرات سے باہمی طور پر حل کریں۔ عمران خان سیاست کے میدان میں نووارد ہیں مگر نواز حکومت نے متعدد سرد و گرم دیکھ رکھے ہیں۔ تاہم اس نازک موقع پر وہ بھی مذاکرات کے لئے سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہی۔ یہ رویہ جمہوریت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
فوج کے سیاست لاتعلق رہنے کے اشاروں کے باوجود ہمارے سیاستدان انہیں پھر اسی میدان کارزار میں کھینچ کر لانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اگر جنرل راحیل شریف نے ” میرے عزیز ہموطنو ! “ کہہ دیا تو یہی سیاستدان یا تو فوج کے پہلو میں کھڑے ہوں گے یا اسے گالیاں دینے میں مصروف ہوں گے۔ ہمارے منتخب نمائندے اگر جمہوریت کو پھلتا پھولنا دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں جمہوری روایات کو سیکھنا اور آگے بڑھانا ہو گا۔ اپنی غلطیوں کا بوجھ کسی اور پر ڈالنے کی روایت نے ہی وطن عزیز میں جمہوریت کو پروان نہیں چڑھنے دیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور دھرنے والے تشدد کی بجائے مذاکرات کی جانب آئیں ورنہ اب ” میرے عزیز ہموطنو! “ کی تقریر شاید لکھ لی گئی ہو۔