تھرڈ امپائر سے سوال
- منگل 02 / ستمبر / 2014
- 4784
’’ہم کہاں کے سچے تھے‘‘ ویسے تو یہ عمیرہ احمد کے ناول کا ٹائٹل نام ہے۔ مگر آج کل پاکستان جس طرز کی سیاست کو بھگت رہا ہے اس کے بعد دل ایک ہی بات کہنے کو کرتا ہے کہ ’’ تم کہاں کے سچے تھے‘‘۔ لیکن بات وہی ہے کہ ہم سوال اٹھائیں تو کئی معزز ناراض ہوجاتے ہیں۔ بات کریں تو کئی ایک کے پیروکار لعنت ملامت پر اتر آتے ہیں۔ سچائی کی تلاش اور اس کا اظہار بھی لگتا ہے کچھ دن میں جرم عظیم بن جائیگا ۔
میں سوچ رہا ہوں ہاتھ باندھ کر پاکستان کے فرشتوں اور عمران خان کے تھرڈ ایمپائر سے پوچھ ہی لوں کہ ’’ یقیناًآپ نے 20روز بعد ہی سہی، پر ہم سب کی تشفی کیلئے بتادیا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنوں میں آپ کا ہاتھ نہیں‘‘ ۔ میں اس بات پر صد فی صد یقین کرتا ہوں کہ جو آپ نے کہا سچ کہا اور سچ کے سوا کچھ نہیں کہا۔ لیکن پھر بھی آپ کو یہ وضاحت کرنے کیلئےء 20دن کا طویل انتظار کیوں کرنا پڑا؟ کیا آپ مظاہرین کے پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر میں داخلے کے منتظر تھے؟ یا باغی( جاوید ہاشمی ) کے انکشاف انگیز خیالات کے آجانے کے بعد آپ کومجبوراً اپنے پتے شو کرنا ہی پڑے؟۔
میں نے یہ بات دل لگی کی نہیں بلکہ آپ کی سیاست سے دوری ناپنے کیلئے پوچھ رہا ہوں۔ کیونکہ آپ کا کسی کے بھی پیچھے نہ ہونے کا بیان آنے کے بعد عمران خان 6گھنٹے کی ورزش پر چلے گئے اور طاہر القادری کے کیمپ پر رات گئے تک سناٹا طاری رہا ۔
میں اس بات پر بھی یقین رکھتا ہوں کہ آپ ایک غیر سیاسی ادارے کا حصہ ہیں۔ کئی ایک موقع پر جمہوریت کی غیر مشروط حمایت بھی کرتے ہیں۔ ویسے تو اس غیر مشروط حمایت کی تین چار دہائیاں تو ہم سب ہی نے پاکستان کی تاریخ سے نکال لی ہیں۔ بے فکر رہیں اس تاریخ میں پاکستان کے دو لخت ہونے کا ذکر میں نہیں کرونگا کیوں کہ میں مانتا ہوں کہ اس میں آپ کا نہیں نااہل سیاست دانوں کا بہت زیادہ ہی حصہ ہے۔ آپ کی فرض شناسی اور محنت و محبت کا میں ہر کروٹ اعتراف کرتا ہوں اور اس بار بھی یہ نااہل سیاستدان ہی ہیں جو آپ کو تنازعہ میں گھسیٹ کر برا بنانا چاہتے ہیں۔ آپ تو چاہتے ہیں کہ اسلام آباد میں سب کچھ جام کردینے والے محب وطن پاکستانیوں کے ساتھ معاملات پرامن اور سیاسی انداز سے ہی حل ہوں اور تشدد کرکے جگ ہنسائی کا ہر گز انتظام نہ کیا جائے۔
لیکن میں پریشان ہوں کہ معاملات سیاسی انداز سے حل ہونے کا طریقہ کار کون طے کریگا۔ بطور جمہوری نظام کے حامی کے میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ اس کا فیصلہ منتخب سیاستدانوں کو ہی کرنا چاہیے اور اس پر بھی فریق ثانی کئی باتوں کی منظوری کے بعد بھی ڈھیٹ بن جائے تو پھر معاملات کاحل اور حکومتی رٹ کی بحالی کیلئے طاقت کے سوا کونسا آپشن رہ جاتا ہے؟۔ میرا خیال ہے اس طرح کی رٹ پاکستان میں اس سے قبل لال مسجد، سوات، کراچی اور وزیرستان میں منوائی جاچکی ہے۔
اس سب جگہوں پر مرنیوالے پاکستانی تھے۔ وہ بھی پاکستان کے آئین کو اتنا ہی درست مانتے اور ان پر عمل کرتے تھے جتنا عمران خان اور طاہر القادری نے ان 20دنوں میں عمل کیا ہے۔اگر آپ کو لگتا ہے کہ جمہوری حکومت کی بدنامی یا اس کے انتظامی امور میں مداخلت کے ذریعے رٹ توڑنے کے بدلے طاقت کا استعمال نہیں ہونا چاہیے تو میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ آنے والے اجلاس میں اس حوالے سے فیصلہ سازی کرکے سیاسی حکومت تک پہنچادیں تاکہ ابہام کے شکار پاکستانیوں کے ذہن واضح ہوجائیں۔ کیوں کہ کئی ایک اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم کے ماتحت وزیر دفاع کو آپ کا محکمہ جواب دہ ہے۔ لیکن حکومتی تبدیلی کیلئے امریکہ بہادر سمیت تمام ہی قوتیں آپ کی جانب دیکھتی ہیں۔ یقیناً یہ آپ کیخلاف ایک منفی تاثر ہے لیکن آج پاکستان میں اس تاثر سے زیادہ مضبوط کچھ بھی نہیں۔
عمران خان اور طاہر القادری کی سیاست کا کیا مستقبل ہے یہ پاکستان کے عوام نے طے کرنا ہے۔ لیکن آج پارلیمنٹ کے اجلاس میں سیاسی جماعتوں نے جن خیالات کا اظہار کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ تمام ہی آپ کے معاملے میں یکسو ہیں۔ اب یہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ مضبوط ہوتے منفی تاثر کو کس طرح زائل کرتے ہیں۔ اگر آپ نے اس بار تھرڈ ایمپائر بن کر آگے بڑھنے کی کوشش کی اور جمہوریت کی بساط پلٹی تو آپ کو سخت مزاحمت کا سامنا ہوگا۔
آپ سرحدوں کی حفاظت اور طالبان و دیگر دہشتگرد عناصر کی سرکوبی کرتے ہی اچھے لگتے ہیں۔ دوسرا کوئی کردار اب پاکستان کے عوام اور سیاستدان برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ یہ ساری بات بھی ایک تاثر ہے۔ جس میں کچھ بھی برا لگے تو ان ہی صفحات پر جواب دے سکتے ہیں۔ ویسے یہ آپ کی خوبی ہے کہ آپ برا نہیں مناتے۔ اور نہ ہی آسانی سے جواب دیتے ہیں۔