مذہب اسلام سے تہی دامن لوگ
- منگل 02 / ستمبر / 2014
- 4299
واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ مصر کے مفتی اعظم نے اعلان کیا ہے کہ مسلمان بھی اپنا مذہب تبدیل کرنے میں آزاد ہیں کیونکہ یہ معاملہ بندے اور اس کے خدا کے درمیان ہے۔ مفتی اعظم مصر نے واشنگٹن پوسٹ اخبار کے زیر اہتمام فورم میں مسلمانوں کے مذہب تبدیل کرنے کے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ کسی شخص کے مذہب تبدیل کرنے کا عمل گناہ ہے لیکن وہ صرف قیامت کے دن خدا کو جوابدہ ہو گا۔ جہاں تک کسی شخص کا کلی طور پر مذہب سے انکار ہے تو اس کی سزا کے متعلق دنیا میں کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ یاد رہے کہ بعض علماء کرام کے نزدیک اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے اور آج کل مصر کی عدالت عظمیٰ میں مسیحیت سے تائب ہو کر مسلمان ہونے والے 12 افراد کے دوبارہ عیسائی مذہب اختیار کرنے کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے۔
ایک دوسری خبر کے مطابق اٹلی میں رہائش رکھنے والے افغانستان کے مرتد باشندے نے اطالوی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت دنیا میں امن کے قیام کے لئے کسی جہادی مذہب کی نہیں بلکہ یسوع مسیح کی تعلیمات کی ضرورت ہے تا کہ دنیا امن کا گہوارہ بن سکے۔ سابق عبدالرحمان نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ مجھے قتل کرنے کی ہر کوشش کو یسوع مسیح نے ناکام بنا کر میرے فیصلے کے صحیح ہونے کی تصدیق کی ہے۔
تیسری خبر جو کہ کویت سے آئی ہے اس کے مطابق امریکن انٹرنیشنل تنظیم برائے مذہبی آزادی نے حدیث کا انکار کرنے والے فرقہ قرآنیہ کے پانچ افراد کی گرفتاری کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت حقوق انسانی کی حفاظت سے منہ موڑ رہی ہے اور عقائد و فکری آزادی کو سلب کر رہی ہے۔ تنظیم برائے مذہبی آزادی کے چیئرمین ولیچہ جایر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی حکومت کو فرقہ قرآنیہ سے تعلق رکھنے والے پانچوں افراد کی گرفتاری کے خلاف ہر سطح پر آواز اٹھانی چاہئے اور حکومت مصر پر ان کی رہائی کے لئے دباﺅ ڈالنا چاہئے۔
ہر مذہب کے ماننے والوں کی کوشش ہوتی ہے کہ دوسروں پر اپنی سچائی اور فوقیت ثابت کریں۔ نہ صرف انفرادی سطح پر بلکہ دنیا کے چند ممالک میں اجتماعی طور پر بھی ایسی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ایک مذہب کو خیر باد کہہ کر دوسرے مذہب سے وابستہ ہونا ( کچھ دانشوروں کے نزدیک یہ عمل ایک کنویں سے نکل کر دوسرے کنویں میں گرنے کے مترادف ہے مگر یہ ایک الگ بحث ہے) ہر فرد کے لئے ایک نہایت اہم فیصلہ ہوتا ہے۔ اکثر اوقات والدین کا ذاتی فیصلہ ان کی آنے والی نسلوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ بچے اپنے آباﺅ اجداد کے مذہب پر قائم رہنا اپنے آباﺅ اجداد کی عزت و تکریم و تعظیم کا ایک جز سمجھتے ہیں۔ معاشرتی ، تہذیبی اور مذہبی روایتوں اور بدھنوں کو توڑنا سراسر گستاخی اور ناخلفی تصور کیا جاتا ہے۔ ایسی مشکلات کے باعث بہت ذہین اور صاحب کمال لوگ بھی وسعت قلبی سے اپنے مذہب کا دوسرے مذاہب سے موازنہ کرنے کی جرات نہیں کر پاتے بلکہ دوسرے مذاہب کے بارے میں ایک شدید تعصب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ گو ظاہری طور پر یہ دعوے کرتے ہیں کہ ہم طرح کے تعصب سے پاک ہیں۔ لیکن نفسیاتی طور پر وہ اپنی سوچ ، فکر اور خیالات سے مطمئن رہتے ہیں حالانکہ درحقیقت وہ اپنے ضمیر کی آواز کو بھی جھٹلا کر معاشرتی اور تہذیبی قیود میں جکڑے رہتے ہیں۔
یہ طویل تمہید میں نے اس لئے پیش کی کہ اسلامی قانون کے مطابق جو مسلمان اپنے مذہب کو چھوڑ کر یا خیر باد کہہ کر کوئی دوسرا مذہب اختیار کر لے چاہے وہ اہل کتاب کا مذہب ہی کیوں نہ ہو وہ مرتد ہے اور مرتد کی سزا صرف موت ہے۔ ہاں اگر وہ توجہ کر لے یعنی پھر سے اسلام قبول کر لے تو یہ سزا معاف ہو سکتی ہے۔ یہاں میں ان حلقوں کی بات کرنا چاہوں گا جو یہ سمجھتے ہیں کہ مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے۔ ایسی صورت میں اگر اسے ایک مذہب میں سکون نہیں ملتا تو جہاں اسے سکون ملتا ہے جہاں اسے اطمینان میسر آتا ہے وہاں وہ کیوں پناہ نہیں لے سکتا؟ جیسے ہر انسان کو بھوک لگتی ہے اور پسندیدہ غذا کھائے بغیر اسے سکون نہیں ملتا۔ اسی طرح انسان کے اندر ہدایت کی طلب اور روحانیت کی پیاس پیدا ہوتی ہے اور تبدیلی غذا کی طرح تبدیلی مذہب کو قبول کئے بغیر اسے سکون و اطمینان نہیں ملتا۔ سکون قلب و روح کے لئے اگر چوکھٹ تبدیل کر دی جائے تو یہ عمل ” گناہ عظیم “ کیسے ہو سکتا ہے اور چوکھٹ تبدیل کرنے کی سزا موت کیونکر ہو سکتی ہے؟ خدائے قادر و مطلق کیلئے یہ بات عین ممکن تھی کہ وہ صرف ایک ہی دین پیدا کرتا۔ اس طرح پوری دنیا مسلمان ہو جاتی اور ” کفر “ کا نام و نشان بھی مٹ جاتا لیکن ایسا نہیں ہؤا۔ کیوں ........ ؟
یہاں میں بات کو ایک دوسری طرح پیش کرتا ہوں۔ ایک پیدائشی مسلمان اگر (کم از کم) ایک دفعہ غور و فکر کے بعد اور حق و باطل کو بخوبی سمجھ کر کوئی سا بھی مذب اختیار کرتا ہے یا ” کفر و گمراہی “ کی طرف لوٹتا ہے تو یہ بات اسلام کے لئے کیوں ناقابل قبول ہے؟ ایسے شخص کیلئے جو کہ خوب غور و فکر کر کے کسی ایک مذہب کو اپنا لیتا ہے ، اسلام اسے کیوں موت کا حقدار سمجھتا ہے؟ جبکہ کسی بھی مذہب کا پیروکار اگر حلقہ اسلام میں داخل ہوتا ہے تو ہم خوشی سے نہال ہو جاتے ہیں۔ یہ کیسا امتیاز ہے؟ مسلمان خود تو تبلیغ کر کے یا ڈرا دھمکا کر دوسرے مذاہب کے لوگوں کو مشرف بہ اسلام کرتے رہتے ہیں اور پھر باقاعدہ ایک پلاننگ کے تحت اس خبر کو اخبارات و رسائل میں صفحہ اول کی زینت بناتے رہتے ہیں مگر کوئی سوچ و بچار رکھنے والے (پیدائشی) مسلمان اپنی فکر اور دانش کا استعمال کرتے ہوئے کسی اور جماعت ، مذہب یا دین میں شامل ہو جائے تو اسے مرتد قرار دے کر موت کے منہ میں ڈال دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ارتداد کی سزا کے سلسلے میں جبر و تشدد کا طعنہ دیا جاتا ہے جبکہ دوسرے طرف ” لااکراہ فی الدین “ کی نوید بھی سنائی جاتی ہے۔ جب دین میں کوئی جبر نہیں تو جس شخص میں تلاش حق کا مادہ موجود ہے اس ” مرتد “ کو قتل کرنا اس کی مذہبی آزادی میں مغائر ہے۔
قرآن مجید نے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جنگ کرنے کی سزا قتل قرار دی ہے (المائدہ 33) نہ کہ اسلام قبول کرنے کے بعد ارتداد کا راستہ اختیار کرنے والوں کیلئے بھی قتال کرو۔ یہاں ایک عام فہم سا سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ اگر کوئی ذی شعور دائرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے تو ہم مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں اور اگر کوئی ذی شعور اپنی سوچ کے مطابق دائرہ اسلام سے نکل جاتا ہے تو ہم مرتد مرتد کے ورق کوٹنے پر کیوں لگ جاتے ہیں؟
یہ فیصلہ اور انصاف مذہب تسلیم کرے تو کرے عقل تسلیم نہیں کرتی۔
کیا یہ ہم مسلمانوں کی تنگ نظری ، تنگ دلی اور تنگ فکری نہیں؟ میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچئے........
ترے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیا
سر پھرا دے انسان کا ایسا خبط مذہب کا