عوام بپھر گئے تو کیا ہوگا
- جمعرات 04 / ستمبر / 2014
- 4503
آزادی و انقلاب دھرنوں کی کرامات دیکھئے، جمہوریت کا نام لے کر دکانیں چمکانے والے تمام ہی لوگ اکٹھا ہوگئے۔ دو روز سے جمہوریت سے محبت، وزیراعظم کے عزم، حکومت اور اپوزیشن کی پارلیمنٹ کے ساتھ قربتوں کا تذکرہ ہورہا ہے ۔
اس دوران کچھ دل جلوں نے بڑے ہی مہذب انداز میں حکومت اور وزیر اعظم نواز شریف کو جلی کٹی بھی سنا دیں اور حکومت نے بھی سن لیں کہ چلو ابھی ہم پھنسے ہیں تم کہہ لو اور ہم سن لیتے ہیں۔اور میں توقع رکھتا ہوں کہ آج تیسرے روز بھی آپ جمہوریت ، ملک، پارلیمنٹ اور وزیراعظم کی حمایت اور عمران ، دھرنے ، لانگ مارچ ، طاہر القادری کے خلاف بہت کچھ سنیں گے۔
پارلیمنٹ اور جمہوریت کیلئے گھنٹوں لفظوں کا جال بننے والے یہ سیاستدان کیا بتاسکتے ہیں کہ اس جمہوری نظام نے عام پاکستانی کو کیا دیا؟۔ کیا اعتزاز احسن، مولانا فضل الرحمن، چوہدری نثار، اسحاق ڈار، حاصل بزنجو، محمود خان اچکزئی، آفتاب شیرپاؤ سمیت تمام ہی اراکین اسمبلی نے وہ ثمرات تو ضرور حاصل کرلئے ہونگے جو اس نظام سے انہیں ملتے ہیں۔ پچھلی اسمبلی کے 342اراکین قوم کو 80کروڑ روپے کے اخراجات میں پڑے تھے ۔ ان میں کرپشن اور مفاہمت کے نام پر نوازنے کے واقعات شامل نہیں۔ اس مد میں خرچ ہونیوالی رقم کی نہ حد نہ حساب۔ میں اس ساری بات پر یہ کہوں کہ جناب عالی آپ سب اگر پارلیمنٹ اور جمہوریت کے گن نہ گائیں گے تو کیا کرینگے۔ ایک عام آدمی جو بے امنی، بیروزگاری، بجلی کی لوڈشیڈنگ، صاف پانی کی عدم دستیابی، گیس کی قلت اور مہنگائی سمیت دیگر کئی مسائل کا شکار ہے۔۔۔ ان کیلئے موجودہ اور گزشتہ حکومتوں اور اراکین پارلیمنٹ نے کیا ہی کیا ہے؟۔
مجھے بتائیں کیاآپ سب میں اتنی قوت ہے کہ اپنی عالی شان رہائش گاہوں سے نکل کر اس بنیادی تنخواہ میں ایک ماہ بسر کریں جو آپ ہی جیسے اراکین نے عام پاکستانی کیلئے مقرر کردی ہے۔اگر آپ ایک ماہ بھی ایسی زندگی بسر کرنے میں کامیاب ہوگئے تو آپ بھی ،آپ کا دعوئ جمہوریت بھی اور پارلیمنٹ سب ہی سچے ۔ دینا بھر کے ترقی یافتہ ممالک نے یقیناً جمہوریت ہی کی بنیاد پر تعمیر کا سفر جاری رکھا۔ میں بھی چاہتا ہوں کہ پاکستان میں جمہوری نظام اور رویہ پروان چڑھے۔ مگر یہاں تو خاندانی سیاسی پارٹیاں اور خاندانی حکومتیں، انتخابی عمل کو ڈنڈے، اسلحے اور چور دروازوں سے لوٹ لیتی ہیں۔ پھر سب ہی مل بانٹ کر عوام کے ٹیکسوں پر 5برس کی طویل پکنک پارٹی انجوائے کرتے ہیں۔
محترم اراکین پارلیمنٹ آپ اور میں عمران خان، طاہر القادری کے دھرنے اور اس سے پیدا تشدد کی لہر، تھرڈ ایمپائر کا چھپ کر معاون و مددگار کا کردار ادا کرنااور اس جیسے کئی معاملات کو برا کہہ سکتے ہیں۔ ان کے راستہ میں رکاوٹیں کھڑی کرسکتے ہیں ۔ لیکن کیا ہم اس بات کا اقرار بھی کرسکتے ہیں کہ ہم بنیادی مسائل 67برس بعد بھی درست نہیں کرسکے۔ آپ پھر کہہ دینگے کہ ہم یا جمہوری نظام رہا ہی کتنے برس ہے۔ آمریت نے جمہوری سوچ اور رویے پنپنے ہی نہیں دئیے۔ آپ کا یہ کہا بھی سچ پر کیا آپ ہی کے قبیلے کے وہ سیاست دان قابل گرفت نہیں جنہوں نے ہمیشہ آمریت کو کندھے فراہم کئے۔؟۔ کیا آپ کے قبیلے کے اہل افراد نے ان کا ناطقہ بند کیا؟۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس جمہوریت نظام کی درستی کا دارو مدار اب صرف اس بات پر نہیں کہ پارلیمنٹ بچ جائے، دھرنا دینے والے گھروں کو لوٹ جائیں بلکہ اس پر بھی ہے کہ سیاستدان حقیقت طور پر پرفارم کریں۔ عوام کے بنیادی مسائل کے حل کیلئے لیعت لعل سے کام نہ لیں، اپنے لہجے کے غرور و تکبر کو ٹھنڈا کریں اور لفظی نہیں عملی طور سے خود کو عوام کا خادم بنائیں تاکہ آپ کی دال روٹی بھی چلے اور عام پاکستانی کا چولہا بھی بجھنے سے محفوظ رہے۔
اور جان لیں یہ آپ کے پاس آخری موقع ہے۔ اس بار پر فارم نہ کیا تو عمران و طاہر القادری سے زیادہ سخت لہجے اور مزاج کے رہنما اپنے پیروکار اوربڑے ہجوم لے کر آپ کی دہلیز پر دستک دینگے۔ آپ خود کو لان میں محفوظ سمجھیں گے نہ کمرے میں اور نہ ہی پارلیمنٹ لاجز میں۔ آپ ان سرپھروں سے پھر صرف ایک ہی سوال کرینگے بھائی میرے پیچھے کیوں پڑ گئے ہو۔ اور اس کا جواب کچھ نہ ہوگا۔ اور شاید پھر کچھ بھی محفوظ نہ رہے گا۔
آپ پارلیمنٹ میں تقریریں ضرور کریں لیکن عوام کے دکھوں کا مداوا بھی سوچیں۔ کیونکہ عمران اور طاہر القادری نے آپ کو ہلکا سا جھنجوڑا ہے۔ 20کروڑ عوام کا احساس محرومی شدید ہوگیا تو پھر کیا ہوگا ؟؟۔ میرے جیالو ، متوالو ۔۔۔ اس حوالے سے تھوڑا سوچنا۔اگر وقت ملے تو۔