پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق

  • جمعہ 05 / ستمبر / 2014
  • 5288

گزشتہ سال کے عام انتخابات میں ایک دو نہیں کئی پہلوان میدان میں تھے اور ایک ایسا دنگل کھیلا گیا جو خونی ہوتے ہوتے رہ گیا۔البتہ کہیں کہیں سیاسی شعور کے مطابق عوامی رائے کا احترام بھی کیا گیا۔ ملک میں تیسرے دور کیلئے وزیراعظم بننے کیلئے آئین میں ترمیم کی گئی جس سے سیاسی حلقوں میں بے چینی پائی گئی خصوصاً عمران خان جو تحریک انصاف کے چئیر مین ہیں وہ اس ترمیم پر بہت رنجیدہ تھے اور ان کے اندر غصہ سے بھر پور جذبات نے جگہ بنالی تھی۔

انہیں ایک بار پھر اقرباء پروری، جاگیرداری، دھونس اور دھمکی پر مبنی حکومت بنتی نظر آرہی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ اس بار دیگر انتخابات کی نسبت دھاندلی کی شرح سب سے زیادہ ہوگی اور اس میں جو سب سے زیادہ ملوث قیادت میاں برداران کی ہوگی ، یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں سب سے میاں نواز شریف اور ان کے بھائی میاں شہباز شریف کی کردار کشی کی اور کئی بار عوامی اجتماعات میں انہیں نہ صرف آڑے ہاتھوں لیا بلکہ للکارا بھی۔ عمران خان کے ان جذبات کو میڈیا کے ذریعہ ملک بھر میں محسوس کیا گیا۔

پاکستان میں انتخابات میں عام طور پر گلی اور محلہ کی سطح پر مہم چلانے کی روایت ہے ۔ امیدوار چھوٹے بڑے عوامی اجتماعات میں اپنا یا پارٹی منشور بیان کرتے ہیں۔ انتخابی مہم کے حوالے سے اکٹھے ہونے کیلئے دفاتر بھی قائم کئے جاتے ہیں،جہاں کارکنان نامزد امیدوار کی کامیابی کیلئے کام کرتے ۔ لیکن اس بار پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے اس حوالے سے کردار ادا کیا اور پارٹی قیادت نے اپنا منشور بیان کیا اور ساتھ مخالفین کیخلاف اپنا غبار نکالنے کے علاوہ ایک دوسرے پر خوب کیچڑ اچھالا گیا۔ گویاہر سیاسی جماعت کا ایجنڈا عوامی سطح پر بخوبی پہنچایا گیا۔

میاں نواز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اس بار ملک میں آدھا تیتر آدھا بٹیر جیسی حکومت کے خواہاں نہیں لہٰذا عوام ایک ایسی حکومت کی تشکیل دیں جس سے ایک ایسی پاورفل قیادت اقتدار میں آئے ۔پاکستان کو انتشار سے نکال کر ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کردے ۔

انتخابی نتائج نے کسی حد تک اس بات کو سچ ثابت کردیا اور مرکز میں مسلم لیگ کو وہ موقع مل گیا جس کا وہ تقاضہ کررہی تھی۔ علاوہ ازیں ملک کے چاروں صوبوں میں الگ الگ سیاسی جماعتوں کی حکومتیں قائم ہوئیں ۔ ان انتخابات میں کئی اہم واقعات رونما ہوئے ان میں سب سے بڑا نقصان اے این پی کا ہوا جس کا نام و نشان ہی مٹ گیا، پی پی پی سندھ تک محدود ہوگئی، بلوچستان میں ایک اچھی تبدیلی یہ آئی کہ وہاں بلوچ قوم پرست تنظیم نے اقتدار سنبھالا، پنجاب تو تھا ہی میاں بردران کا البتہ سب سے اہم تبدیلی خیبر پختون خواہ میں آئی جہاں پی ٹی آئی نے اقتدار کی بھاگ دوڑ سنبھالی جو ملکی سیاست میں ایک خوش آئند تبدیلی میں محسوس کی گئی۔

ہمارے یہاں ایک عام رویہ ہے کہ اگر کسی بھی مقابلہ میں نتائج ہماری مرضی و منشاء کے مطابق ہوں تو ایساعمل غیرجانبدار تھا لیکن صورتحال اس کے برعکس ہو تو دھاندلی کا شور و غوغا مچایا جاتا ہے یعنی میٹھا میٹھا ہپ ، کھٹا کھٹا تھو۔ یہ کیفیت انتخابی نتائج کے آتے ہی پیش آئی البتہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ لوگ مصلحتاً جبکہ کچھ طاقت نہ ہونے کے باعث خاموش ہوگئے ۔ ان میں ایک پاکستان تحریک انصاف کے چئیر مین عمران خان بھی تھے جو وقتی طور پر اپنی بیماری اور دیگر مصروفایت کی وجہ سے اس جانب توجہ نہ دے سکے۔ کئی ایک بار شکست خوردہ امیدواروں کی جانب سے انصاف کیلئے دہائی دی گئی ، کسی کے پرانے زخم سے کوئی ٹیس بھی اٹھی، کہیں سے کوئی شور برپا کیا جانے لگا مگر کوئی مثبت ردعمل کا اظہار نہ کئے جانے پر سب جھاگ کی مانند بیٹھ گیا۔لیکن اچانک ہی عمران خان چار حلقوں میں دھاندلی کے الزامات کے ساتھ قوم کی بیداری کا جذبہ لیکر اٹھے اور چھاگئے اور ایسا چھائے کہ یوم پاکستان کے موقع پر آزادی مارچ کے ہمراہ اسلا م آباد کی اینٹ اینٹ بجانے پہنچ گئے۔ ان کا انداز خطابت انتخابی مہم کے دوران جس قدر غیر شائستہ یا غیر پارلیمانی تھا وہ ان دنوں خرابی کی حدود کو پار کرچکا ہے ۔ انہوں نے انتخابی عمل کی نگرانی کیلئے اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوھدری سے درخواست تھی اور ان کی جانب سے کئے گئے اقدامات پر مطمئن تھے لیکن نتائج کے بعد انہوں نے اپنا پینترا بدلہ اور اپنی ناکامی کو افتخار محمد چوھدری اور نو منتخب حکومت کی ملی بھگت قرار دیدیا ۔ انہوں نے اس پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ عوامی اجتماعات ، نجی محفلوں سمیت پریس کانفرنسوں میں سابق چیف جسٹس کی عزت و وقار کو داغ دار کرنے لگے۔

بزرگوں کا کہنا ہے کہ کمان سے نکلا ہوا تیر اور زبان سے نکلے ہوئے الفاظ واپس نہیں ہوتے ۔ انسان کو بات کرنے سے پہلے الفاظ کو تول کر ادا کرنا چاہئے کیونکہ بعض اوقات جذبات میں یا بغیر سوچے سمجھے کہے گئے الفاظ اسے آسمانوں کی بلندیوں سے گرادیتے ہیں جو نہ صرف اسکی ذات کیلئے نقصان کا باعث ہوتے ہیں بلکہ اس کے خاندان سمیت دیگر سماجی ساکھ کیلئے خطرے کا موجب بھی بن جاتے ہیں۔

عمران خان ذاتی طور پر ایک جذباتی شخصیت کے مالک ہیں جو ان کے خاندانی پس منظر کی عکاسی کرتا ہے ۔ کھیل کے میدان میں بھی انکا یہی مزاج رہا ہے جو کھلاڑیوں کو برا تو لگا کرتاتھا لیکن ڈریسنگ روم میں معذرت خواہانہ اندازیو ٹرن لے لیتے اور معاملہ رفع دفع ہوجاتا۔ ان کا خیال ہے سیاست میں بھی اسی طرح کا انداز کارفرما ہے ۔ سیاست دان اسی کی بنیاد پر اپنی دکانداری جمائے بیٹھے ہیں ۔ یہ بات کسی حد تک درست سہی لیکن اس روش کو تبدیل کرنا ہی اس میں نظام کی تبدیلی ہے جو ان کا مطمع نظر ہے ۔

کپتان صاحب نے گیارہ مئی 2013 سے قبل تما م اقدار بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے مخالفین کو ہدف بنایا اور پھر اپنے بیانات سے یوں پھرے کہ لوگ ششدر ہوگئے۔ گوکہ پی ٹی آئی ملک میں ایک تیسری بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری ہے لیکن جس طرح کا رویہ اس کے چیئر مین کا ہے وہ ملکی سیاست کیلئے خاصا تکلیف ثابت ہورہا ہے ۔ ان کی عمر اور ان کا سیاسی کیرئیر اس کی بات کی قطعاً اجازت نہیں دیتا کہ وہ الفاظ کا انتخاب کرنے میں کسی قسم غلطی کریں ۔لیکن ان کی عادتیں اس قدر بگڑ چکی ہیں کہ وہ جذبات کی رو میں بہہ کر نازیبا الفاظ کا بھرپور استعمال کرنا نہیں چھوڑ سکتے۔ ایک نئے پاکستان کو وجود میں لانے والے پارٹی لیڈر کی سیاسی ناپختگی عقل سے ماورا ہے ۔

سابق صدر آصف علی زرداری کی ملک بھر میں ہر مقام پر تنقید کی گئی لیکن ان کی مصالحت کی پالیسی کے باعث کوئی بڑا سیاسی بحران نہیں دیکھا گیا اور گذشتہ برس کے انتخابات میں بہت زیادہ ناکامی نے بھی ان سے صبر کا دامن چھوٹنے نہیں دیا۔ اس کے باوجود خاطر جمع رکھی اور کسی بھی موقع پر غیر شائستہ زبان استعمال نہیں کی ۔ عمران خان نے تو حد کردی ۔ افتخار چوھدری جنہیں وہ خود پارسا کہتے تھے ان پر انتخابی دھاندلی کے الزامات لگائے۔ لیکن جب انہیں سابق چیف جسٹس نے آڑے ہاتھوں لیا اور ا ظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تو انکے سارے بلند و بانگ دعوے جھاگ کی طرح بیٹھ گئے ۔ انہوں نے اپنے وکلاء کے ذریعہ اپنا معافی داخل کروایا اور کہا کہ وہ افتخار محمد چوھدری کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور ان کی جانب سے کہے گئے الفاظ ان کی نیت سے مطابقت نہیں رکھتے ۔ انہوں نے جو کچھ کہا وہ انصاف کی عدم دستیابی پر مبنی بیان تھا۔ جس طرح مایوسی کی حالت میں ایک شکست خوردہ امیدوار سخت الفاظ کا استعمال کرتا ہے ایسا ہی انہوں نے کیا۔

تعلیم یافتہ اور باشعور نیاپاکستان بنانے والے نے بڑی ڈھٹائی سے عجب عذر لنگ پیش کردیا کہ اس قسم کی زبان جلسوں اور پریس کانفرنسوں میں رائج ہے جو انہوں نے بھی اپنائی ( مطلب حمام میں سب ننگے ہیں تو پی ٹی آئی نے ایسا کیا تو اس میں کیا قباحت ہے)۔ان کے وکلاء نے مزید کہا کہ ان کے موکل نے عدلیہ کو نہیں بلکہ عام انتخابات میں ججوں کے بطور ریٹرننگ افسران کے کردار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جس کی وجہ سے ان کی پارٹی کو مبینہ دھاندلی کی وجہ سے تیس سے زائد قومی اور پچاس سے زائد صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر ہرایا گیا۔ وہ افتخار محمد چوھدری کی عزت کرتے ہیں اور معذرت کے خواہاں ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے مقدمہ پر نظر ثانی کی استداعا بھی کی ۔ایک جانب انہوں نے وکلاء کی وساطت سے معذرت کا اظہار کیا اور اسی دن شام کو افضل خان کے میڈیا پر آنے بعد اپنے رویے کے عین مطابق افتخار چوھدری پر ایک بار پھر الزامات کی بارش شروع کردی اور بدھ کے روز ان کے وکلاء عمران خان کا جمع کیا ہوا معذرت نامہ واپس لینے پہنچ گئے ۔اگرچہ قانون میں معافی نامہ کی واپسی کی گنجائش نہیں تاہم اگر واپس کردیا گیا تو کپتان صاحب کو ان ناکردہ گناہوں کا بھی کفارہ اداکرنا پڑے، جو ابھی ان سے سرزد بھی نہیں ہوئے ہیں۔