مسائل کے حل میں مسابقت

  • منگل 09 / ستمبر / 2014
  • 4571

بقول شخصے دنیا پہلے دوستوں اور دشمنوں میں بٹی ہوئی تھی۔ مختلف بلاک ایک دوسرے کے دشمن سمجھے جاتے تھے۔لیکن زمانہ کی کروٹ کے ساتھ ہی اب نہ فرد اور نہ ہی بلاک دشمن اور دوست سمجھے جاتے ہیں۔بلکہ درحقیقت سب ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اورایک دوسرے کے حریف اور مسابقت کرنے والے (competitor) بھی۔اب لوگوں میں بھی اور گروہ ،ممالک اور بلاک میں بھی ایک دوسرے سے مسابقت میں لوگوں کو زیادہ دلچسپی ہوگئی ہے۔

عام آدمی جس کو ملکی سطح پر فیصلوں سے دور رکھا جاتا تھا،اب حکمراں مجبور ہوئے ہیں کہ ان کو فیصلوں میں شریک کریں۔ان دو بنیادی تصورات کو پیش نظر رکھتے ہوئے موجودہ دور کے مواصلاتی انقلاب پر بھی نظر رہنی چاہیے۔جس کی بنا پر ہی دراصل یہ تبدیلی رونما ہوئی ہے۔معاملہ یہ ہے کہ جہاں ذات پات، رنگ و نسل اور عقیدہ و مسلک کی بنیاد پر انسانوں کے درمیان تفریق برتی جاتی تھی، وہاں لوگ دیکھ رہے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں صلاحیت،کردار اور کارکردگی کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے مواقع سب کو حاصل ہیں۔لہذا غیر فطری سماجی تقسیم پر مبنی سماج کے پسماندہ و دیگر کمزورطبقات کی خواہش ہے کہ ان کے ساتھ بھی ویسا ہی معاملہ ہو۔اس پورے پس منظر میں دیکھا جائے تو رابطہ جو پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔رابطہ نہ صرف افراد کا بلکہ ان کے افکار و نظریات اور شب و روزمیں انجام پانے والے عملی رویوں کا بھی۔ترقی و خوشحالی اور کامیابی و سربلندی کے لیے لازم ہے کہ ملک کے تمام شہریوں کے روابط بہت ہی مستحکم ہوں۔اب یہ رابطہ جس قدر مضبوط ہوگا اسی قدر اس کے مثبت نتائج بھی رونما ہوسکیں گے۔

دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج اسلام اور اسلامی تعلیمات تنقید کا شکار ہیں۔ اسلام دشمنوں میں سرفہرست وہ لوگ ہیں جنہیں اسلام اور اسلامی تعلیمات سے نفرت ہے۔یہ نفرت کس بنا پر ہے؟ اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں۔لا علمی ، حسد و کینہ ، اقتدار کا جنون، یا وہ اقتدار جس کے ملنے کی انہیں توقع ہے،وغیرہ مختلف وجوہات ممکن ہیں۔لیکن ان نفرت کرنے والوں کے بھی دو گروہ ہیں۔ایک وہ بااقتدار گروہ و حکومتیں جنہیں ہم یہود و نصاریٰ اور ان کے حواریوں کے نام سے جانتے ہیں ۔وہیں دوسری جانب نفاق میں مبتلا مسلمانوں کے وہ افراد اور گروہ جنہیں اسلام کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔

حالانکہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دنیا بدی و خیر کی ایک امتحان گاہ ہے۔اور ہم سب اسی امتحان سے گزررہے ہیں۔ اب امتحان سے گزرتے ہوئے کامیاب ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ امتحان لینے والے نے جو طریقہ بتایا ہو ، اس کے مطابق عمل کیا جائے۔قرآن و حدیث کی روشنی میں پر امن رہنے کا مسلک،کوئی مصلحت کی بات نہیں ہے۔بلکہ درحقیقت اسلامی تعلیمات اس کی قائل ہی نہیں کہ طاقت و تشدد کا راستہ اختیار کیا جائے۔اور یہی دراصل اصول ہے۔اس کی واضح مثال بنی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مکی دور ہے۔اور اس دور میں مسلمانوں پر ہو نے والے مظالم کے بے شمار اندوہ ناک واقعات درج کئے جا سکتے ہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ جس مقام اور گردہ کی جانب سے بھی تشدد کا استعمال شروع ہوتا ہے، عقلی استدلال اور اخلاقی اقدار کی اثر پذیری ختم ہو جاتی ہے۔غالباً 1965 یا 1966 کی بات ہے۔ کچھ عرب نوجوان مولانا مودودیؒ سے ریاض میں ملے۔انھوں نے مولانا سے کہاکہ “ آپ اپنے ملک میں الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں، اور الیکشن میں تقریریں کر سکتے ہیں۔آپ کے ملک میں جمہوریت ہے لیکن ہم لوگ تو یہ سب نہیں کر سکتے۔ ہم لوگ مجبور ہیں کہ خفیہ تحریک چلائیں۔اور جب خفیہ تحریک چلائیں گے تو اس میں تشدد تو استعمال کرنا پڑے گا “۔  

مولانا نے فرمایا کہ آپ اس طریقہ سے جو تبدیلی لائیں گے، وہ اسلامی نہیں ہوسکتی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طریقہ سے جو اقتدار حاصل کرے گا وہ اقتدار باقی رکھنے کے لیے بھی یہی طریقہ استعمال کرے گا۔آپ نے متعدد ایسے انقلابات دیکھے ہوں گے۔ ایسے انقلابات میں سب سے پہلے جو آدمی مارا جاتا ہے، وہ انقلاب لانے والے کا قریبی ساتھی ہوتا ہے۔ایسا کیوں ہوتا ہے؟وہ انقلاب یا وہ تبدیلی جو خفیہ سرگرمیوں اور تشدد سے آئے، اس میں یہ بات بہت اہم ہوتی ہے کہ کوئی آدمی دشمن سے نہ مل رہا ہو،کوئی اس کی خبر نہ دے رہا ہو،کوئی خود کو اقتدار میں لانے کی کوشش نہ کررہا ہو۔جیسے ہی یہ شبہ ہوتا ہے، قتل کے علاوہ اس کو خاموش کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔خلاصہ یہ کہ انہوں نے کہا کہ ہم جو تبدیلی چاہتے ہیں،وہ ان لوگوں کے ذریعہ ہی آسکتی ہے جو راضی خوشی اسلام کو قبول کریں۔یعنی اس اسلام کی روشنی میں جس کے معنی ہی امن کے ہیں۔لہذا امن و امان برقرار رکھتے ہوئے ، رائج الوقت پر امن طریقہ سے نظام کی اصلاح کی جدوجہد کی جانی چاہیے۔

رابطہ کی اہمیت اور نظام کی پر امن طریقہ سے اصلاح کرنے والوں کے سامنے یہ حقیقت بھی خوب واضح رہنی چاہیے کہ آج انسان جن مسائل سے دوچار ہے،وہ کسی مسلک یا مذہب کے مسائل نہیں ہیں ۔ بلکہ من جملہ انسانوں کے مسائل ہیں۔مثلاً اگرخاندان کا ادارہ تباہ ہو رہا ہے تو یہ صرف کسی مخصوص ملک یا مذہب یا مسلک کا مسئلہ نہیں ہے۔اس مسئلہ سے تمام ہی مذاہب اور طبقات و نظریات سے وابستہ لوگ متاثر ہیں۔اسی طرح لڑائی جھگڑا،ظلم و زیادتی،نا انصافی اور امن و امان کے خاتمہ سے تمام ہی لوگ متاثر ہیں۔وہیں امیر اور غریب کے درمیان غیر منصفانہ بڑھتی خلیج سے بھی جو لوگ متاثر ہیں ان میں مذہبی ،نظریاتی و مسلکی بنیادوں پر کسی قسم کی آپ تقسیم نہ پائیں گے ،سوائے اس کے کہ وہ سب ایک اہم مسئلہ سے دوچار ہیں۔ نیز دیگر سیاسی ،معاشی اورسماجی سطح کے مسائل جن میں فحاشی و عریانیت اورکرپشن جیسے مسائل بھی ہیں،سے ملک کا ہرطبقہ متاثر ہے۔

آخری بات یہ کہ جب اس بات کا احساس ہو جائے کہ انسانوں کے مسائل انسانوں کے میل جول اور آپسی تعاون و اشتراک سے ہی حل ہوتے ہیں۔تو اُس وقت اس بات کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے کہ ہماری کوششوں کا محور و مرکز کیا ہے؟آیا ہماری کوششیں حکومتوں اورحکمرانوں سے الجھنے میں صرف ہو رہی ہیں؟ یا ہماری مرکز توجہ عامتہ الناس ہیں؟واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت مسائل سے ہی نالاں ہے۔وہیں دوسری جانب جو لوگ مسائل اور اس کے حل پر گفتگو کرتے ہیں ان کی کوششوں کا بڑا حصہ سیاسی جھغڑون کی نذر ہوجاتا ہے۔ عامتہ الناس جو درحقیقت ہماری مرکز توجہ ہونے چاہیے، ان کو اس کاوش سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

اس پس منظر میں اسلامی نظام کے فروغ میں مصروف عمل رہنے والوں کو چاہیے کہ وہ غور کریں،محاسبہ کریں اور ذاتی احتساب کے ساتھ امت کے اجتماعی احتساب کا بھی اہتمام کریں کہ فرد واحد او بطور گروہ کس درجہ ہم دوسروں کے حریف اور مسابقت میں سرگرداں ہیں؟ اگر اس کا تشفی بخش جواب مل جائے تو بہت خوب! لیکن اگر جواب ممکن نہ ہو تو پھر لازماً بحیثیت انسان، انسانوں کے مسائل اور اُن کے حل کے لیے اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔درحقیقت یہی ہمارے وجود اور تشخص و بقا کا ذریعہ بھی بنے گا۔بصورت دیگر بہتر ہوگا کہ آپ ملکی و بین الاقوامی سطح پر مزید ذلت ورسوائی سے دوچار ہونے کے لیے تیار ہو جائیں۔کیونکہ جمود کا نتیجہ انحطاط ہے اور انحطاط کا لازمی نتیجہ ہر سطح پر مغلوبیت ہی ہوتا ہے۔