عمران خان سیاستدان بن گئے

  • بدھ 10 / ستمبر / 2014
  • 4092

عمران خان لیڈر نہیں سیاستدان بن گئے ہیں۔ اگر عمران خان کی محبت میں مبتلا لوگ ناراض نہ ہوں تو میں ایک بار پھر دوہرانا چاہتا ہوں کہ ’’ عمران لیڈر نہیں رہے سیاستدان بن گئے ہیں‘‘۔ پی ٹی آئی کا آزادی مارچ  ایک ماہ پورا کرنے کے قریب ہے۔ وہ ہر چند گھنٹے بعد جلسے اور ٹی وی کے ذریعے پوری قوم سے مخاطب ہوتے رہے۔ اس دوران عمران خان چاہتے تو قوم کی شعوری تربیت کرتے مگر انہوں نے اپنا موضوع گفتگو سیاستدانوں اور الیکشن نظام کی خامیوں ، دھاندلی الزامات اور وضاحتوں کو بنایا ۔

عمران خان کو ان کے اردگرد موجود دانش وروں نے یہ بتایا ہوگا مگر وہ مانتے کہاں ہیں کہ لیڈر جنون میں مبتلا نہیں ہوتا۔ وہ باغبان ہوتا ہے ، جسے معلوم ہوتا ہے کہ جو پودا ( روایات اور اخلاقیات) میں آج لگا رہا ہوں وہ کل کو درخت ( میرے کارکن کا کردار بن کر ) دنیا کے سامنے ہو گا۔ عمران خان شاید 17برس کی سیاست کے دوران یہ سمجھ گئے ہیں کہ وہ اپنے کارکنان کی فکری، ذہنی اور نفسیاتی تربیت نہیں کر پائے۔اس لئے وقتی ابال کی بنیاد پرابتر سیاسی و سماجی زندگی کو بہتر کے بجائے مزید خراب کرنے کیلئے کنٹینر سیاست کے ذریعے میدان میں اتر آئے ہیں۔

کیا سیاسی گدی نشین سے بزور احتجاجی تحریک گدی چھینے کا یہ پہلا واقعہ ہے؟ نہیں اس کی روایات بڑی طویل ہیں۔اس طرز پر چلنے والی تحریکیں کتنی کامیاب رہیں؟ تو اس کا جواب ہے کہ گدی نشین کی تبدیلی کی حد تک کامیاب لیکن معاشرتی اور شعور ی بالیدگی پیدا کرنے کی حد تک ناکام رہیں۔ ایسی ہی ایک تحریک ہندوستان میں بہار موومنٹ جسے بعد ازاں مکمل انقلاب کا عنوان دیدیا گیا تھا جو23مارچ 1974 ء سے 25جون 1975ء کو لگنے والی ایمرجنسی تک جاری رہی ۔اس تحریک کی قیادت جے پرکاش نارائن نے کی جسے وہاں کے عوام عمران خان کی طرح عوامی ہیرو کہتے تھے ۔ اندرا گاندھی کی حکومت گرانے کے باوجود وہ مکمل انقلاب ہندوستانی معاشرے کا مقدر نہ بن سکا جس کی آرزو میں 8طلبا جان سے گئے اور معاشی لحاظ سے ملک کا بے پناہ نقصان ہؤا تاہم تاریخ اس کا احاطہ نہ کرسکی۔

عمران خان کے حوالے سے ان کارکنان کے اس تاثر کو میں بھی درست سمجھتا ہوں کہ ملک کو کرپشن سے پاک کرینگے، 180ملین سے زائد قرضوں میں دبی قوم کو خود کفیل بنائینگے، دہشتگردی سمیت کئی بڑے مسائل سے نجات دلائینگے ۔ لیکن اس کیلئے عمران خان کو انقلاب کا اصل راز سمجھنا ہوگا ۔ انقلاب کا آغاز ایوانوں میں تبدیلی سے نہیں ہوتا بلکہ غیر سیاسی اداروں میں تبدیلی سے ہوتا ہے۔

جو بھی کہتا ہے درست کہتا ہے کہ آپ خیبر پختونخوا میں پرفارم کریں اور ملک بھر کے عوام کا دل جیت لیں ۔ لیکن یہ مختصر راستہ ہے ۔ اس سے پانچ برس کا اقتدار ملتا ہے لیکن پائیدار انقلاب کیلئے تدریج کے اصول کے مطابق کام کرنا پڑتا ہے۔ قوم کو باشعور بنانا پڑتا ہے تاکہ جاگیر دار اور سرمایہ دار دولت کے زور پر کامیاب ہونے والے سیاستدان ان کا ووٹ خرید نہ سکیں اوران کا ووٹ انمول ہوجائے۔

دائمی انقلاب کے لئے عمران خان کو کنٹینر پر بیٹھنے سے کچھ نہیں ملے گا ۔ انہیں احتجاجی میدان سے نکل کر حقیقی سیاسی میدان میں کرپٹ لوگوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ اس انقلاب کے لئے عمران خان کارکنان کو تیار کریں ۔ آپ کی جماعت نے بے شک 76لاکھ ووٹ لئے مگر آپ کے کارکنان کی سیاسی و سماجی معاملات پر گرفت وہ نہیں جو پی پی رہنما اور مسلم لیگ ن کے ورکرز کی ہے۔ تو اس جانب توجہ دئیے بغیر عمران خان کبھی بھی مکمل میدان نہیں مار سکتے۔ یہ بات انہیں سمجھنا ہوگی۔