سیلاب، انقلاب اور اسکرپٹ

  • منگل 16 / ستمبر / 2014
  • 4292

( کالم نگار کا ایڈیٹر سے اتفاق کرنا ضروری نہیں ہوتا ۔ دھرنے کی رقص گاہ  اور انقلابی خانقاہ کے خطبوں سے میں نے جو لہجہ سیکھا ہے ، اب وہی چلے گا )

سیاسی سمندر میں ریٹائرڈ مگر مچھوں سے بیر کا شاخسانہ
ہاتھی زندہ ہو تو لاکھ کا ، مر جائے تو سوا لاکھ کا

فوجی جرنیل حاضر سروس ہو تو مارشل لاء کا بجوکا ، ریٹائر ہو جائے تو انقلاب اور آزادی کا نقیبب
نواز شریف حکومت کے خلاف دھرنے کی دھماچوکڑی کے دوران جنرل پرویز مشّرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے کلیدی بات کہی کہ نواز شریف اگر سابق صدر پرویز مشرف کے گھٹنے پکڑ کر معافی مانگ لیں تو انقلاب رفع دفع اور آزادی مارچ معطل ہو سکتا ہے ۔

اِس وکیل کی یہ دلیل بر وزنِ ابابیل مسئلے کے حل کی کنجی ثابت ہو سکتی ہے ، کیونکہ ریٹائرڈ فوجی جرنیلوں نے اپنی عسکری بصیرت سے جو آپریشن دھرنا و انقلاب شروع کیا ہے ، اُس کی ذمّہ داری آئی ایس پی آر نے بار بار ، واضح اندار میں اپنے کندھوں سے اُتار پھینکی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اُنہیں شک کا فائدہ نہیں ملا ۔
ملک کے اندر اور باہر کسی سکرپٹ کی بات ہو رہی ہے ۔ انگلیاں بار بار آئی ایس آئی کی طرف اُٹھ رہی ہیں ۔ کیوں نہ اُٹھیں ، آخر اس کا جواز جو موجود ہے ۔ اور وہ یہ کہ  فوجی منصوبہ ساز جنرل حمید گل کی ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف بننے والے  قومی اتحاد کی مالی سرپرستی کی مثال سب کے سامنے ہے ۔ اس لیے اس قسم کی قیاس آرائیاں لازمی ہیں ۔ سو قیاس آرائیاں جاری ہیں ۔ اور چونکہ معاملہ سیاسی ہے ، اِس لیے اُس مثال کے اعادے کے امکان کو یکسر رد کرنا ممکن نہیں ۔

ہر چند کہ فوج اپنی جگہ اس عہد پر قائم کہ وہ جمہوریت کے تسلسل کی خواہاں ہے مگر ۔ ۔ ۔
یہ (مگر) کہتا ہے کہ جمہوریت صرف نواز شریف کی وزارتِ عظمیٰ سے مشروط نہیں بلکہ کوئی بھی  دوسرا وزیر اعظم جمہوریت کی اونٹنی کا ساربان ہو سکتا ہے ۔ اور جب عمران خان بار بار اپنی تقریروں میں ہر روز خود کو مستقبل کے وزیرِ اعظم طور پر پیش کرتے رہتے ہیں تو اِس سیاسی طوفانِ بلا خیز کے سکرپٹ رائٹر کے بارے میں چہ میگوئیاں تو ہوں گی ہی ۔

نواز شریف کی سیاسی ٹیم اور اس کی انتظامی کارکردگی اس  سوالیہ نشان کی زد میں ہے ۔
پاکستان میں سول سیاست کرنی ہو تو فوج کو ساتھ لے کر چلنا لازمی ہے ۔ سیاست کے اس سمندر میں جرنیل حاضر سروس ہوں یا ریٹائرڈ مگر مچھوں کی طرح ہوتے ہیں اور سیاست کے سمندر میں محفوظ تیراکی کے لیے عسکری مگرمچھوں سے بیر نہیں رکھا جا سکتا ۔ لیکن نواز شریف اس نقطے کو نظر انداز کرتے رہے ۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ وہ جنرل پرویز مشرف کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے اور مفاہمت کی فضا میں ایک نئے سیاسی سفر کا آغاز کرتے  جو پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل کے لیے نیک فال ثابت ہوتا ۔

میری صوابدید کے مطابق اگر عمران خان وزیر اعظم بن بھی گئے تو وہ کون سا جھرلو استعمال کر کے قوم کی تقدیر راتوں رات بدل دیں گے ، کیونکہ سیاست نہ توکرکٹ کا ٹیسٹ میچ ہے اور نہ ہی کینسر ہسپتال کی تعمیر کے فنڈز کی فراہمی کی مہم ۔ اور نہ ہی طاہر القادری صاحب کے پاس وہ اسمِ انقلاب ہے جو چشمِ زدن میں بد حالی کو خوشحالی میں ، بد امنی کو امن میں ، دہشت گردی کو عافیت میں بدل سکیں اور کرپشن کا قلع قمع کر کے رزقِ حلال کی سبیل لگا دیں تاکہ تاجر ، بیوروکریٹ ، پولیس افسر اور مُلّا اس پاکیزہ گھاٹ پر ایک ساتھ من و سلویٰ سے بہرہ اندوز ہوں اور بد عملی یوٹرن لے کر نیکی کا تاج محل بن جائے ۔

جی نہیں ، پچھلی حکومتوں سے ورثے میں ملے وسائل کا رونا دھونا ہوگا ۔ پھر انتظار کرنے کو کہا جائے گا ، اوروہ بھی اُس قوم کو جو پچھلے سرسٹھ سال سے انتظار کے سکتے میں ہیں ۔

جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ جب تحریک انصاف کو ایک صوبے میں حکومت ملی ہے تو وہ وہاں تعمیری کارکردگی دکھا کر اُس صوبے کو ترقی ، امن اور خوشحالی کا گہوارہ بنا دے ، تو وہ بجا کہتے ہیں ۔ جب یہ عملی مثال قائم ہوگی تو اگلی بار وزارتِ عظمیٰ لازماً عمران خان کی ہوگی ۔ لیکن نہیں صاحب ، قوم کو از سرِ نو آزادی دلانے کا پراجیکٹ ، پختونخواہ کی صوبائی وزارتِ اعلیٰ سے زیادہ دلکش ہے اور وہ بھی ایسے حالات میں ، جب پورا پنجاب سیلاب کے عذاب سے نیم جاں پڑا ہے ۔

پنجاب میں سیلاب کے لاکھوں متاثرین کھلے آسمان تلے گُڈ گورننس کے مونہہ پر تھپڑ بنے ہوئے ہیں ۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے جو خود کو خادمِ پنجاب کہتے نہیں تھکتے کشکول اٹھا کر سیلاب زدگان کی امداد کے لیے اپیلیں کر رہے ہیں اور اندرونِ ملک اور بیرون ملک پاکستانیوں کی جیبوں میں ہاتھ ڈال رہے ہیں ۔ کیا یہ حکومتی گداگری کی شاندار مثال نہیں ہے ؟ کیا شریف خاندان کی فیاضی کی روایت  اتنی کشادہ  نہیں ہے کہ وہ اپنی ایک مل فروخت کر کے، اس کی قیمت سے ان غریبوں کے دکھ درد کا مداوا کردیں ؟ انہیں چاہیئے کہ ہمت کریں اور اپنی ذاتی جیب سے پنجاب کے عوام کا بھلا کریں اورسچ مُچ کے خادم بنیں  ۔ آخر بھیک مانگنا کون سی خدمت ہے ؟

یہی سوال طاہر القادری صاحب سے بھی کیا جا سکتا ہے ، جن کے اثاثے ملکوں مُلکوں ہیں اور آج اوسلو میں مجھے ایک باخبر شخصیت نے بتایا کہ ناروے سے سات ارب روپیہ قادری کنٹینر کی ساکھ قائم رکھنے کے لیے بھجوایا گیا ہے ۔ یہ ایک ملک ناروے سے بھیجے گئے فنڈز ہیں ، تو باقی یورپی ملکوں سے کتنی رقم گئی ہوگی؟ اگر وہ ان اربوں کی زکات اپنی سیاسی  مہم جوئی کے اخراجات سے الگ کر کے سیلاب زدگان پر خرچ کریں اور ثوابِ انقلاب قدرے کم حاصل کریں تو اس سے بہتوں کا بھلا ہو سکتا ہے ۔

لیکن قادری صاحب کو مجبور تو نہیں کیا جا سکتا ۔ مگر حسنِ ظن کی اپنی کہانی ہے ۔ مجھے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یاد آ گئے ۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے راہِ خُدا میں خرچ کرنے کے لیے مال خرچ کرنے کو کہا کہ تو اپنا سارا ثاثہ لا کر آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈھیر کردیا ، یہاں تک کہ بیوی بچوں کے لیے بھی کچھ نہ چھوڑا  ۔ قبال نے کہا :
پروانے کو چراغ ہے بلبل کو پھول بس
صدیق کے لیے ہے خُدا کا رسول بس

عمران خان کے لیے بھی یہ آزمائش کی گھڑی ہے کہ وہ اپنے نجی اثاثوں سے کتنا اس کارِ خیر پر خرچ کرتے ہیں ۔ کیونکہ دھرنے کی رقص گاہ اور انقلاب کی خانقاہ سجانے سے اہم کام یہ ہے کہ سیلاب زدگان کی مُصیبت میں کام آیا جائے ۔ بقول حکیم بقل بطورا :
دوست وہ جو ضرورت کے وقت دوست کے کام آئے
اور سیاستدان وہ جو مصیبت کے وقت عوام کے کام آئے

اور صرف عوام کو کام میں نہ لائے ۔