ٹرک دی بتی

  • بدھ 17 / ستمبر / 2014
  • 4368

کہاوت ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا مگر ایک زاویہ سے پاکستان میں آ کر یہ کہاوت اپنی سچائی کھو دیتی ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قیام سے لے کر آج تک عوام کو سیاست میں صرف چہرہ بدلتا ہؤا نظر آتا ہے مگر نئے چہرے کے پیچھے وہی فرسودہ سوچ کارفرما ہوتی ہے جو قیام پاکستان سے چلی آ رہی ہے۔ چند خاندان ہی اقتدار کے ایوانوں پر براجمان ہیں اور انہوں نے عوام کو ’’ ٹرک دی بتی‘‘ کے پیچھے لگا رکھا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے بعد بے نظیر بھٹو ، پھر آصف زرداری ، پھر بلاول بھٹو ، نواز شریف اور شہباز شریف کے بعد مریم نواز اور حمزہ شہباز ، چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الٰہی کے بعد مونس الٰہی ، یوسف رضا گیلانی کے بعد عبدالقادر گیلانی ، علی موسیٰ گیلانی ۔ جنرل ایوب خان کے بعد گوہر ایوب اور پھر عمر ایوب، جنرل ضیاء الحق کے بعد اعجاز الحق ، سیالکوٹ کے خواجہ صفدر کے بعد خواجہ آصف ، فیصل آباد کے شیر علی کے بعد عابد شیر علی، گوجرانوالہ کے غلام دستگیر کے بعد خرم دستگیر ، لاہور کے خواجہ رفیق  کے بعد خواجہ سعد رفیق ، حامد ناصر چٹھہ کے بعد احمد چٹھہ اور فیاض چٹھہ ، ذولفقار کھوسہ کے بعد دوست محمد کھوسہ ، اسفند یار ولی کے بعد امیر حیدر ہوتی ، مخدوم امین فہیم کے بعد مخدوم جمیل الزماں ، قائم علی شاہ کے بعد نفیسہ شاہ اور فاروق لغاری کے بعد اویس لغاری اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

ان حضرات کے علاوہ بھی درجنوں نام گنوائے جا سکتے ہیں جن کی نسلیں بادشاہت کے مزے لوٹتی چلی آ رہی ہیں۔ باتوں کے چیمپئن یہ حضرات اپنی تجوریاں بھرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں جانتے۔ غریب کے منہہ کا نوالہ چھین کر اپنی تجوریاں بھرنے والے یہ ڈاکو 67 بعد بھی عوام کو کچھ نہیں دے سکے تو آگے چل کر بھی ان کے ہاتھوں کوئی معرکتہ الآرا کام انجام پانے کا امکان نظر نہیں آتا۔

پاکستان میں اگر آپ کے پاس ایم این اے ، ایم پی اے یا سینیٹر بننے کیلئے بولی کے پیسے موجود ہیں تو آپ بھی بادشاہ گروں سے رابطہ کر کے اقتدار کے ایوان تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمارے سیاستدانوں نے ہر چیز کو بکاؤ بنا دیا ہے۔ لفظ ’’ سیاست ‘‘ کا مطلب الجھے ہوئے معاملات کو تدبیر اور دانشمندی سے سلجھانا ہے مگر ہمارے سیاستدانوں نے اس لفظ کی حرمت کو پامال کرتے ہوئے اسے ایک گالی بنا دیا ہے۔ وطن عزیز میں جو شخص شاطر اور دھوکے باز ہو اسے سیاستدان کہا جاتا ہے۔

آخر عوام اس ظلم اور جبر کے نظام کو کب تک برداشت کرتے رہیں گے۔ کیا پاکستانیوں کی قسمت میں کاتب تقدیر نے محض ووٹ ڈالنا اور اپنا استحصال کروانا لکھا ہے۔ کب تک ہم جاگیر داروں اور وڈیروں اور سرمایہ داروں کی رعایا بن کر جئیں گے ؟۔ یہ غلام ابن غلام بننے کی ریاضت کب ختم ہوگی ؟ ایک اسلامی، جمہوری اور فلاحی ریاست کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر ہو پائے گا؟۔ آخر کب کوئی کھڑا ہو گا جو اس فرسودہ اور گلے سڑے نظام کو تبدیل کرتے ہوئے حقیقی جمہوریت اور عوام کو ان کے حقوق واپس دلوائے گا۔

دنیا آج گلوبل ولیج کا روپ دھار چکی ہے۔ عوام کا اجتماعی شعور بیدار ہو رہا ہے۔ عام لوگ سچ اور جھوٹ کی پرتوں کو کھولنا اچھی طرح جان چکے ہیں۔ ملک میں اکثریت نوجوانوں کی ہے جو تبدیلی چاہتے ہیں اور یقیناً تبدیلی آئے گی اور ایک بہتر نظام پاکستان کا مقدر بنے گا ۔