تھرڈ ایمپائیر کی انگلی
- بدھ 17 / ستمبر / 2014
- 4446
جمشید ناصر پنجاب یونیورسٹی کا طالب علم تھا اور اردو میں ایم اے کر رہا تھا۔ جمشید ناصر اپنے وقت کا بہترین افسانہ نگار تھا ، ملک کے ادبی پنڈت اس کو اردو کا بہترین افسانہ نگار بنتا دیکھ رہے تھے۔ شہر کی کوئی ادبی محفل اور ادبی اجلاس جمشید ناصر کے بغیر نامکمل سمجھا جاتا تھا ۔
جمشید ناصر جہاں بہترین افسانہ نگار تھا وہیں وہ بلا کا جملہ باز بھی تھا۔ اس لیے یونیورسٹی کی بھی کوئی محفل اس کے بغیر نامکمل ہوتی۔ دوسرے شہروں سے آئے ہوئے لوگ جہاں اسکے تازہ افسانے اپنے شہروں کو لے کر جاتے وہیں وہ اس کے محفلوں میں کہے ہوئے جملے بھی تبرک کے طور پہ ساتھ لے کر جاتے تھے ۔ یونیورسٹی میں طالب علموں کی ہر یونین جمشید ناصر کو اپنی یونین میں شامل کرنے کی کوشش میں لگی رہتی۔ مگر جمشید ناصر کسی یونین میں شامل نہ ہؤا مگر وہ یونین جلسوں کے لیے اسکرپٹ لکھ کر دے دیتا۔ بائیں بازو کے نظریات رکھنے والی یونین کے لئے لکھتا تو دائیں بازو کے نظریات رکھنے والی یونین کو بھی مایوس نہ کرتا ۔
جمشید ناصر کی ایک اور خصوصیت اس کا لباس تھا۔ کسی نے آج تک جمشید ناصر کو پینٹ کورٹ یا پینٹ شرٹ پہنے نہیں دیکھا تھا ۔ وہ ہر وقت سفید کرتا ۔ سفید پاجامہ اور کندھوں پہ سفید چادر ڈالے رہتا ۔ اس کا دایاں بازو چادر کے باہر ااور بایاں بازو چادر کے اندر ہوتا۔ وہ کلاس روم میں ، ادبی جلسوں میں اور اپنے کمرے میں ہر وقت اسی لباس اور چادر میں نظر آتا جہاں اس کا دایاں بازو چادر کے باہر اور بایاں چادر کے اندر ہوتا۔
اُن دنوں کلاس روم میں ، ہونیورسٹی کی کینٹین میں اور یونیورسٹی کے ساتھ بہنے والے نہر کے کنارے لڑکے لڑکیوں پر اکٹھے بیٹھنے اور ایک ساتھ ٹہلنے پر پابندی نہیں لگی تھی۔ حتیٰ کہ اسلامی جمعیت کے طالب علم بھی لڑکیوں کے ساتھ اکٹھے گھومتے نظر آتے تھے ۔ قانونی طور پہ تو آج بھی ایسی کوئی پابندی نہیں ہے مگر ضیا کے دور میں لڑکیوں کو لڑکوں کے ساتھ گھومنے پہ ان کے سر کے بال کاٹ دیے جاتے تھے ۔
زلیخا ان دنوں جمشید ناصر کے ساتھ اکثر گھومتی نظر آتی تھی ۔ اب زلیخا نے بھی جمشید ناصر کے ساتھ شہر کی ادبی محفلوں میں جانا اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا تھا ۔ اور ۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ اور پھر ایک دن یونیورسٹی کی کینٹین میں زلیخا نے پانچواں چائے کا کپ اور ساتواں سگریٹ پیتے جمشید ناصر سے کہا: “ جمشید تم شادی کیوں نہیں کر لیتے ؟ “۔ جمشید نے زلیخا کی طرف دیکھے بغیر کہا: “ کس سے کروں ؟ “۔ زلیخا نے آٹھواں سگریٹ سُلگاتے ہوئے کہا: “ مثلا مجھ سے “۔ اور جمشید ناصر نے زلیخا کے ہاتھ میں سُلگتے سگریٹ کو پکڑا اور سگریٹ پینا شروع کر دیا ۔ جمشید ناصر نے زندگی میں آج پہلی بار سگریٹ پیا تھا۔ اس کے بعد زلیخا جب بھی جمشید ناصر سے شادی کی بات کرتی جمشید اس سے سگریٹ لے کر پینا شروع کر دیتا۔
اور پھر ایک دن زلیخا جمشید ناصر کو اپنے گھر لے گئی تاکہ اُسے اپنے ماں باپ سے ملوا سکے ۔ اور ایک دن زلیخا کے گھر والوں نے اپنے چند عزیزوں کو گھر میں بلوایا۔ زلیخا کی ماں نے بہت اعلی انگوٹھی خریدی اور جمشید ناصر کو گھر آنے کی دعوت دی گئی۔
جمشید ناصر سفید کرتا، سفید پاجامہ اور سفید چادر کندھے پہ ڈالے زلیخا کے گھر چلا گیا اور اس کا بایاں بازو چادر سے باہر اور دایاں بازو چادر کے اندر تھا ۔ اور جب زلیخا کے ایک بزرگ نے جمشید ناصر کو انگوٹھی پہنانے کے لئے جمشید ناصر کو دایاں ہاتھ آگے کرنے کے لیے کہا اور جمشید ناصر نے چادر کندھے سے آُتاری تو پتہ چلا جمشید ناصر کا تو دایاں بازو ہی نہیں ہے۔ نہ اس بازو سے جڑا ہاتھ ہے اور جمشید ناصر کے دائیں ہاتھ کی تو کوئی انگلی ہی نہیں ہے جس میں انگوٹھی پہنائی جا سکے ۔
لگتا ہے عمران خان کو بھی کسی نے کندھے پہ چادر ڈالے ایسا ہی تھرڈ ایمپائیر دکھا دیا ہے کہ جب عمران خان لوگوں کو لاہور سے لے کر اسلام آباد پہنچا اور ایمپائیر کو انگلی اُٹھانے کو کہا تو ایمپائیر کے کندھے سے چادر ہٹی تو پتہ چلا کہ تھرڈ ایمپائیر کا تو بازو ہی نہیں ہے۔ تھرڈ ایمپائیر کے پاس تو وہ انگلی ہی نہیں ہے جو اس نے عمران خان کے کہنے پر اُٹھا نی تھی۔