اسکاٹ لینڈ سے سبق سیکھئیے

  • ہفتہ 20 / ستمبر / 2014
  • 4252

اللہ کی پناہ، میں 18کروڑ آبادی کے ایسے ملک میں رہتا ہوں ، جہاں کیسے کیسے عجوبے پیدا ہوتے ، پنپتے اور پروان چڑھتے ہیں۔ اس پر اللہ کی پناہ نہ مانگی جائے تو کیا کیا جائے؟۔ نواز شریف ، عمران خان، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمن کہنے کو تو عوام کی رائے کو اہمیت دینے والے جمہوریت پسند ہیں۔ ان کی اکثریت جمہور اور جمہوری نظام سے عشق کی دعویدار بھی ہے۔ بلکہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان کی زندگی، اڑھنا بچھونا اور سنبھل سنبھل کر چلنا سب کچھ جمہور کے زخموں سے رستے لہو پر پھاہے رکھنے کی کوشش ہے۔ وہ بھی ایسی کوشش جس نے ہر بار زخم کو ہرا ہی کیا ہے۔

یہ سب کچھ کہنے اور لکھنے کی باتیں نہیں۔ سمجھنے اور ان کو آئینہ دکھانے کی باتیں ہیں۔ لیکن اس سے قبل آپ جمہوریت کی تازہ ترین تصویر دیکھیں۔ اوران سب جمہوریت پسند لیڈروں کو تولییں کہ کون کھرا اور کھوٹا ہے، اور کون دعوے میں سچا اور جھوٹاہے، ہم ایک دور دراز ملک کی بات کرتے ہیں جہاں جمعرات کو ایک جمہوری معرکہ سرزد ہؤا ہے۔

اسکاٹ لینڈ1707 ء سے متحدہ برطانیہ کا حصہ چلا رہا ہے۔ یعنی 3سو برس کا ساتھ ہے۔ بالآخراس محبت میں شکوک اور شبہات کی شکائیتیں سامنے آنے لگیں۔ اس ناراضگی کی قیادت کے فرائض اسکاٹ لینڈ کے شہری اور فرسٹ منسٹر ایلیکس سیمنڈ نے کی ۔ اور انتخاب جیتنے کے بعد وعدے کے مطابق عوامی ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ کیا ۔ اس فیصلہ پر کسی نے الزام لگایا نہ ناجائز قرادیا۔ عوامی ریفرنڈم کے نتائج آئے تو 55فیصد عوام نے برطانیہ کے ساتھ رہنے کا اعلان کیااور 45فیصد نے آزادی کے حق میں رائے کا اظہار کیا۔

ان نتائج کے اعلان پر اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر نے دھاندلی کا واویلا کیا اور نہ ہی حق پر ڈاکہ پڑنے  کا شور مچایا۔ بلکہ اس نے اسکاٹ لینڈ کے ان 45فیصد ووٹرز سے کہا کہ وہ اکثریت کے فیصلے کو تسلیم کریں اور برطانیہ کے ساتھ رہیں۔ وجہ کیا ہے صرف ایک جمہوری روایات کی مضبوطی ۔ حقیقی جمہوریت پر ایمان کا دعوی نہیں یقین۔ اس پورے عمل میں نواز شریف ، عمران خان اور آصف زرداری کیلئے بہت کچھ ہے پر کون ہے جو حقیقت کو تسلیم کرے؟۔

نواز شریف کہتے ہیں مجھے اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں نے منتخب کیا۔ میں چند ہزار کے مطالبے پر استعفیٰ کیوں دوں ۔ درست جناب پر آپ تین بار اقتدار میں آئے اور آپ کے چھوٹے بھائی آپ سے پانچ بار پنجاب کے خادم بنے مگر عوام کی مشکلات کا حل ۔۔۔ ہاں جناب حل کہاں ہے؟۔ آپ کی آنیاں جانیاں نہیں  عوان نتائج کی توقع بھی کرتے ہیں۔  مگر اس حوالے سے آپ کا اور آپ کے ساتھیوں کا دامن خالی ہے۔ ورنہ سیلاب کی تباہ کاریاں اتنی شدید نہ ہوتیں کہ چھ برس کی کارکردگی کاپول کھل جاتا۔

عمران خان کہتے ہیں عوام کو کرپشن ، لاقانونیت اور بدامنی سے پاک نیا پاکستان دینے کیلئے دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ احتجاج ان کا حق ہے۔ ان کی ہر طرح کی سرگرمی اور بیان پر حکومت خاموش رہے ۔ اس رویہ پر تنقید کا  کا مطلب  ہے کہ مجھے میرے حق سے محروم کیا جارہا ہے، جس کی کوئی روایت مغرب کے جمہوری نظام میں نہیں ملتی۔ یہ بھی درست جناب۔ پر عمران خان صاحب آپ کے ساتھیوں کے صرف حقوق ہی ہیں یا کچھ فرائض بھی ہیں ؟ جنہیں بہرحال ہر پاکستانی نے ادا کرنا ہے۔ یقیناًآپ کو خود کو صرف پاکستانی نہیں محب وطن پاکستانی کہتے ہیں تو پھر آگے بڑھئیے من پسند جمہوریت کا راگ الاپنا چھوڑئیے ۔ سچائی کو مانئے کہ عوام نے آپ کو پرفارم کرنے کیلئے ایک صوبہ دیا ہے۔اپنی قیادت کا جوہر دکھائیے اور کارکردگی کی بنیاد پر پانچ برس بعد عوام سے  ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے کا حق مانگئیے۔

زرداری صاحب نے تو پانچ برس پورے کرنے کی خواہش میں مفاہمت کے نام پر کرپشن کی نئی تاریخ ہی رقم کردی۔ اس حوالے سے ان کا نام ہمیشہ روشن ہی رہے گا۔

مجھ سمیت ہر کوئی مانتا ہے کہ پاکستان کے الیکشن پراسس کو بہتر، صاف شفاف، مضبوط اور مستحکم بنانے کیلئے کچھ عملی اقدامات کی از حد ضرورت ہے ۔ اس کیلئے تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اکھٹی بھی ہوچکی ہیں ۔ ان سے گزار ش ہے اپنے اپنے مطلب کی جمہوریت کے بجائے حقیقی جمہوریت کی طرف عوام کا رخ موڑیں۔ درست جمہوری روایت کو پروان چڑھائیں۔ پرفارم کریں ورنہ گھر بیٹھیں۔

احتجاج کا مطلب ملک کی ترقی کا سفر روکنا ہے اور نہ ہی ترقی ترقی کے شور میں اپنوں کو نوازنے اور بچانے کی بھرپور کوشش کرنا ہے۔ میری عوام سے بھی گزارش ہے آپ کے مفادات اپنی جگہ پر آپ کی ذات کسی بھی طرح ملک و قوم سے بڑی نہیں ۔ خود کو سمجھیں، جھوٹے سچے سمجھوتے نہ کریں ورنہ اس جرم کی سزا مرگ مفاجات کے سوا کچھ نہیں۔