ضمنی انتخاب اور عواقب

  • سوموار 22 / ستمبر / 2014
  • 3712

حالیہ ضمنی انتخابات میں نتائج کے اعتبار سے اترپردیش، راجستھان اورگجرات قابل تذکرہ ہیں ۔ مغربی بنگال اس لحاظ سے قابل توجہ بنا ہے کہ ملک کی برسراقتدار سیاسی پارٹی بی جے پی کو ریاست میں 15سال بعد ایک بار پھر اپنا کھاتہ کھولنا کا موقع ملا ہے۔اترپردیش میں کل 11؍میں سے 7+1سیٹوں پر سماج وادی پارٹی کامیاب ہوئی اور بی جے پی کوصرف 4سیٹیں حاصل ہوسکیں ۔راجستھان میں کانگریس کو 3اوربی جے پی کو 1سیٹ ملی۔ ریاست گجرات جہاں ایک طویل عرصہ سے کانگریس بری طرح شکست سے دوچار تھی ، اس مرتبہ 3سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔

دیکھا جائے تو بااقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کو تمام دعوں کے باوجود ناکامی ہوئی ہے۔ درحقیقت ناکامی نے سوچنے کے موقع بھی فراہم کیے ہوں گے ۔ ضمنی انتخابات میں سماج کو منتشر کرنے والوں اورنفرت کی آگ بھڑکانے والو ں کو صدمہ بھی پہنچا ہے۔اور نتائج نے امن پسند حلقوں میں خوشی کی ایک خاموش لہر پیدا کی ہے ۔ نیز ایک بار پھر ان تمام سیاسی پارٹیوں کوحوصلہ فراہم کیا ہے جو گزشتہ لوک سبھا الیکشن میں بری طرح ناکامی کے سبب مایوسی سے دوچار تھیں۔

ضمنی انتخابات نے خصوصاًایک بار پھر کانگریس میں جان ڈال دی ہے۔ہریانہ اور مہاراشٹر میں ہونے والے انتخابات میں کارکنوں کے حوصلہ بلند ہوئے ہیں ۔ کانگرس کی جانب سے مودی حکومت کے 100دن مکمل ہونے پر ان کی کارکردگی کے بارے میں 16صفحات پر مشتمل دستاویز بھی منظر عام پر آئی ہے۔اس میں بی جے پی کے انتخابی نعروں پر طنز کرتے ہوئے مودی حکومت کو کھوکھلے وعدوں والی ناکارہ حکومت کا لقب دیا گیا ہے۔دوسری طرف بی جے پی کے اندر سے بھی ناقص کارکردگی اور نفرت آمیز مہم کے خلاف آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ شتروگھن سنہا نے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی ناقص کارکردگی نکتہ چینی کی ہے اور حکومت میں وزیرمینکا گاندھی نے بھی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

ضمنی انتخابات میں عوام کی جانب سے یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ صرف نعروں کی بنیاد پر امن قائم کرنے والے ہی دراصل فرقہ پرستی کے فروغ میں معاون بن رہے ہیں،لہذا ان کو دوبارہ اقتدارمیں نہ آنے دیا جائے ۔ ملک کے میڈیا کی حقیقت بھی سامنے آگئی ہے۔کہ میڈیاجس کے ذمہ مثبت رائے ہموارکرنا ، امن و امان کے قیام میں معاون و مددگار بننے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، وہی میڈیاآج ان دونوں محاظ پر ناکام نظر آرہاہے۔یہ ناکامی دراصل کچھ لوگوں کی کامیابی ہے یا واقعی میڈیا کی ناکامی ہے؟یہ وہ اہم سوال ہے جس پر چند لمحے ٹھہر کر میڈیا کے مالکان، میڈیا کے ذمہ داران، اور خود ان لوگوں کو غور و خوض کرنا چاہیے جو میڈیا سے کسی بھی سطح پر کہیں نہ کہیں وابستگی رکھتے ہیں۔واقعہ یہ ہے ملک کا میڈیا آج زیادہ تر وہی چیزیں دکھاتا ہے جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں۔برخلاف اس کے میڈیا چینل کی جانب سے کرائے جانے والے ڈبیٹ اور ڈسکشنس میں وہ باتیں سننے کو ملتی ہیں جو نفرت کے فروغ میں معاون و مددگار بن رہی ہیں۔یہ ڈبیٹ کیوں کروائے جاتے ہیں؟ان میں مخصوص لوگوں کو ہی کیوں بلایا جاتا ہے؟اور ایک مخصوص قسم کے لوگوں کو کیوں نہیں بلایا جاتا ہے؟کیا ملک کی راہنمائی ،اس کو چلانے اور مسائل کے حل چند مخصوص لوگوں کے پاس ہی ہیں؟یا دیگر افراد،گروہ،سماج کے سوچنے سمجھنے والے لوگ اور عوام بھی ان معاملات میں کوئی رائے رکھتے ہیں؟

یہ وہ عمومی سوالات ہیں جس پر ہم سب کو سوچنا اور غور و فکر کرنا چاہیے۔یہ صحیح ہے کہ میڈیا پر بندشیں مناسب نہیں ہیں اور چونکہ میڈیا رائے عامہ کے فروغ میں ایک اہم ترین کردار ادا کرنے والا ادارہ ہے۔ لہذاجب کبھی میڈیا پر پابندی کی بات اٹھتی ہے تو عوام و خواص سب مل کر میڈیا کے حق میں کھڑے نظر آتے ہیں۔لیکن افسوس وہی میڈیا جس کے حق میں بلا لحاظ مذہب و ملت، ملک کے تمام عوام ایک ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں،عوام میں نفرت کے فروغ کو پروان چڑھا نے کا منفی کردار ادا کررہا ہے۔یا د فرمائیں آج سے چھ سال قبل بٹلہ ہاؤس انکاونٹر کا معاملہ ہمارے میڈیا ہی کے ذریعہ ملک کے ہر عام و خاص کے سامنے آیا تھا۔جس وقت یہ واقع رونما ہواتھا اس دن میڈیا کے تمام چینل بیک زبان مختلف بے تکی رپورٹوں کو پیش کرنے میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں کوشاں تھے۔اور اس کے بعد جب یہ معاملہ عدالت میں گیا،عوام و خوص کے ذریعہ مختلف سوالات کھڑے کیے گئے۔ انکاونٹر کی عدالتی جانچ کی بات کی گئی، تو ہمارا میڈیا خاموش نظر آیا۔

حقوق انسانی کی کارکن منیشا سیٹھی جو بٹلہ ہاؤس انکاونٹر معاملہ کی حقیقت سامنے لانے میں کوشاں ہیں، کے مطابق بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کی رپورٹ اور پولیس کی کہانی میں کئی تضادات سامنے آچکے ہیں۔ اس سلسلے میں مرکزی حقوق انسانی کمیشن کی رپورٹ سرسری ہے۔ انکوائری کے لیے ہر جگہ سے مطالبہ ہونے کے باوجود اس کی انکوائری نہ کیا جانا بے حد افسوسناک ہے۔مینشا کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں دو کیس بنے تھے۔ ایک انسپکٹر موہن چند شرما کی موت اور دوسرے دہلی بلاسٹ کیسیز کے سلسلے میں۔ لیکن ساجد اور عاطف کی موت کے بارے میں اب تک کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا اور نہ ہی اس کی انکوائری ہوئی ہے۔انکوائری نہ ہونا ہی ایک بہت بڑا سوال کھڑا کرتا ہے۔وہیں دوسری جانب ملک غداری اور ملک میں دہشت گردی جیسے معاملات میں آٹھ آٹھ ،دس دس سال اور اس سے کچھ کم یا زیادہ وقت جیلوں میں گزارنے والے افراد جب با عزت بری ہوتے ہیں،تو کیا ہمارامیڈیا پکڑے جانے کے وقت جس قدر سرگرم تھا اس کا عشر عشیر ہی اُن کی باعزت بری کی خبر جلی یا خفی حرفوں میں سامنے لاتا ہے؟

جو بات ضمنی انتخابات کے نتائج میں سامنے آئی ہے وہ یہ کہ ملک کے عوام نفرت کی بنیاد پر سیاست کرنے والوں کے دام میں زیادہ دن اور پھنسنے والے نہیں ہیں۔شائد یہی وجہ ہے کہ حالیہ بہار کے ضمنی انتخابات اور آئندہ ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر بی جے پی کے لیڈر سشیل کمار مودی اب کہتے نظر آرہے ہیں کہ یوگی آدتیہ ناتھ پارٹی کا چہرہ نہیں ہیں۔ اور اگر بہار میں انہوں نے ویسی باتیں کہی ہوتیں،جیسی یوپی میں کہی ہیں تو میں ان کی زبردست مخالفت کرتا۔ ریاست گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ اورملک کے وزیر اعظم بھی ایک پرائیوٹ نیوز چینل کو انٹر ویو دیتے ہوئے ملک کے مسلمانوں کو محب وطن قرار دے رہے ہیں اور کہ رہے ہیں کہ ہندوستان کے مسلمان اپنے وطن کے لیے ہی جیتے ہیں اور اسی کے لیے مریں گے۔ان دو بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ خواب خرگوش میں سونے والے نیند سے بیدار ہوا چاہتے ہیں۔لیکن یہ بیدار ی کتنے دن برقراررہے گی،اس کی کوئی گارنٹی نہیں ہے۔

ہم یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ وزیر اعظم نے موجودہ بیان سے قبل اور کتنی مرتبہ ملک کے مسلمانوں کی حب الوطنی کے تعلق سے بیانات جاری کیے ہیں۔تحقیق کرنے والوں کو تحقیق کرنی چاہیے کہ کیا آج سے پہلے بھی یہ باتیں اُن کی جانب سے سامنے آئی ہیں؟اگر ہاں تو بہت خوب اگر نہیں تو کیا آج ملک کے وزیر اعظم کی آنکھوں پر بندھی پٹی کھلا چاہتی ہے ؟یا اس میں بھی کوئی دوہری پالیسی اپنائی جا رہی ہے ۔