قربانی کے مسائل
- سوموار 22 / ستمبر / 2014
- 4681
قربانی کرنے کا بہت بڑا ثواب ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے قربانی کے دنوں میں قربانی سے زیادہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ۔ قیامت کے روز قربانی کے جانور کو اسی طرح میزان میں تول دیا جائے گا اور جانور کے ہر ہر بال کے عوض ایک ایک نیکی نامہ اعمال میں لکھ دی جا تی ہے ۔
ہر بالغ مسلمان مرد و زن جو صاحب نصاب ہو یعنی جس پر زکوۃ فرض ہے یا صدقہ فطر واجب ہے اس پر قربانی بھی واجب ہے ۔قربانی فی گھر نہیں بلکہ گھر کے تمام افراد جو صاحب نصاب ہوں پر واجب ہوتی ہے ۔ قربانی متوفیان کی طرف سے بھی کی جاسکتی ہے ۔ بالخصوص فخر کون و مکاں پیارے پیغمبر حضرت محمد مصطفی احمد مبتبی ﷺ کی طرف سے قربانی کرنا بہت بڑا اجر و ثواب ہے ۔ مسافر پر قربانی واجب نہیں ہے ۔ مسافر اسے کہتے ہیں جو 48 میل یعنی 72 کلومیٹر گھر سے دور جا چکا ہے ۔
وہ حجاج کرام جن کو سات ذولحج کو مکہ مکرمہ میں قیام کئے ہوئے پندرہ دن گذرگئے ہوں وہ حج تمتع یا قران کر رہے ہوں تو وہ دو قربانیاں کریں گے۔ ایک حج کی قربانی ایک عید کی قربانی ۔ ایسے حجاج کرام جن کو سات ذولحج کو مکہ مکرمہ میں پندرہ روز نہ گذرے ہوں تو وہ صرف حج کی ایک قربانی کریں گے۔ ان پر عید الاضحی کی قربانی بوجہ مسافر ہونے کے واجب نہیں ہوتی۔ یہ حجاج کرام حج کی قربانی تو منی میں کریں گے۔ عید کی قربانی اپنے وطن میں بھی کرواسکتے ہیں۔
قربانی صرف پالتو جانور وں کی کی جاتی ہے ۔جنگلی جانور کی قربانی مثلا ہرن ،نیل گائے وغیرہ کی جائز نہیں ہے ۔ قربانی کے جانور اور ان کی عمریں یہ ہوں گی ۔ اونٹ کی عمر پانچ سال۔ گائے بھینس کی عمر دو سال۔ بکرا بکری کی عمر ایک سال ۔ مینڈھا دنبہ نر مادہ کی عمر ایک سال سے کم بھی ہو مگر موٹا تازہ ہوتو بھی جائز ہے ۔قربانی کے جانوروں کا صحیح سالم تندرست ہو نا شرط ہے ۔ اگر کوئی جانور اتنا دبلاپتلا ہو کہ قربانی گاہ کی طرف اپنے قدموں پر چل کر بھی نہ جاسکے تو اس کی قربانی درست نہیں ۔ جو جانور اندھا یا کانا ہویا ایک آنکھ کی تہا ئی یا اس سے زیادہ بینائی جاتی رہی ہو ، ایک کان یا دونوں کان تہائی یا تہائی سے زیادہ کٹ گئے ہوں ۔ دم تہائی سے زیادہ کٹ گئی ہو ۔ سینگ جڑ سے اکھڑ گئے ہوں۔ ایسے جانور جس کے منہ کے دانت تمام کے تما م نکل گئے ہوں۔ ایسا جانور جس کے پیدائش سے ہی کان نہ ہوں تو ان سب جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہے ۔
سینگ ٹوٹ چکے ہیں اندر کچھ نشان باقی ہیں کان پیدائشی طور پر بالکل چھوٹے چھوٹے ہیں۔ سینگ پیدائشی طور پر ہی اگے ہوئے نہیں ہیں۔ جانورخصی کیا ہوا ہے۔ منہ میں دانت اکثر ٹوٹ گئے مگر کچھ باقی ہیں تو ان سب جانور وں کی قربانی جائزہے ۔جنگلی و پالتو جانور کے ملاپ سے کوئی بچہ پیدا ہوا ہو تو قربانی کرنے کے لیے نر جانور کی طرف اس کی نسبت ہو گی ۔گابھن جانور کی قربانی بھی جائز ہے ۔ بچہ زندہ نکل آیا تو اسے بھی ذبح کرنا پڑے گا۔مناسب یہ ہے کہ جانور خریدتے وقت خیال کریں کہ گابھن نہ ہو ۔
قربانی کا وقت عیدالاضحی کی نماز پڑھ کر شروع ہوتا ہے ۔ اور بارہ ذوالحج کے غروب آفتاب کے ساتھ ہی ختم ہو جاتا ہے۔ دن ہو یا رات قربانی کی جاسکتی ہے ۔ قربانی کے جانوراونٹ گائے بیل بھینس بھینسامیں سات حصے دار شامل ہو سکتے ہیں۔ اگر کچھ حصہ دار ان کا ارادہ قربانی کا ہے اور کچھ کا عقیقے کا تب بھی قربانی درست ہے۔ اس کے علاوہ کسی دوسری نیت سے شمولیت درست نہیں ۔ قربانی کے جانور میں سات حصے دار شریک ہوں تو گوشت تول کر وزن کر کے پورا پورا بانٹا جائے گا ۔
قربانی کے جانور کے گوشت کے تین حصے کیے جا تے ہیں۔ ایک گھر میں، ایک قریبی احباب میں اورایک دور کے احباب میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ ایک تہائی حصے سے زیادہ بھی گھر میں استعمال کر لے تو غیر مستحب ہے گناہ نہیں۔قربانی کے جانوروں کی کھال اس کی رسی جھول جھانجھریں وغیرہ سب کی سب خیرات کرنا واجب ہے ۔ قربانی کی کھال سے مصلی یا ڈول بنا لیا جائے تو جائز ہے۔ اگر کھال فروخت کر دی تو قیمت صدقہ کرنا واجب ہے ۔ قربانی کے جانور کا گوشت غیر مسلم کو بھی دیا جا سکتا ہے ۔قصاب کو ذبح کے عوض کھال دینا یا گوشت دینا جائز نہیں ہے۔ تمام قربانی ضائع ہو جائے گی ۔ کسی فوت شدہ کی وصیت پر یا منت مان کر قربانی کی گئی ہو تو اس جانور کا گوشت گھر میں استعمال کرنا جائز نہیں تمام تر خیرات کرنا پڑے گا۔
قربانی کا جانور خریدا تھا گم ہو گیا نیا خرید لیا چند دن بعد گم شدہ بھی مل گیا، اگر امیر آدمی ہے تو دونوں جانور ذبح کرے گا ، اگر ا غریب آدمی ہے تو کسی ایک کو ذبح کر دے ۔ قربانی کے دنوں میں جانور ذبح نہیں کر سکا تو اسی قسم کا جانور لے کر دوسرے دنوں میں خیرات کرنا واجب ہے۔ قربانی کا جانور خود ذبح کرنا زیادہ ثواب ہے یا کم از کم پاس کھڑا ہوکر اجازت دینا ضروری ہے۔ قربانی کی کھالیں فقراء مساکین بالخصوص دینی مدارس کے طلباء کا حق ہے ان کی قیمت تعمیرمساجدپر لگانا بالکل ناجائز ہے۔