سیاستدان اور لیڈر میں فرق
- منگل 23 / ستمبر / 2014
- 6349
پاکستان میں نام نہاد لیڈر کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ یہ شاید واحد شعبہ ہے جس میں پاکستان خود کفیل ہے۔ اس کے لیے ہمیں بیرونی ممالک کی امداد کا سہارا نہیں لینا پڑتا۔ وطن عزیز میں لیڈر اتنی وافر مقدار میں دستیاب ہیں کہ عوام کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ کس کا دامن پکڑ کر مشکلات کا دریاعبور کریں۔
یہ تمام لیڈران بھی اپنی مثال آپ ہوتے ہیں۔ یہ اپنی ازلی خصلت کے سبب عوام کو کبھی پار نہیں لگاتے ۔کیوں کہ اگر وہ ایسا کر دیں تو ان کو پھرلیڈر بننے کا موقع میسر نہیں ہو گا۔ وافر مقدار میں پائی جانے والے لیڈر دراصل رہنما نہیں ہوتے ۔ انہیں عام زبان میں سیاستدان کہا جاتا ہے۔ تاہم یہ خود کو لیڈر سمجھتے ہیں۔ اور ان داتا بھی تصور کر لیتے ہیں۔ ان کے خیال میں وہ عوام کے سب سے بڑے خیر خواہ ہوتے ہیں اور ان کی ایک آواز پہ کروڑوں لوگ لبیک کہنے کو تیار ہوتے ہیں۔
پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ اس ملک کو سیاستدان تو بہت سے میسر آئے لیکن لیڈر یا راہنما جتنے ملے وہ انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں جو سیاستدانوں کی فوج ہے اسے دیکھ کے بے ساختہ ٹڈی دل کی اصطلاح ذہن نیں آتی ہے اور شاید ملک میں سیاستدانوں کی تعداد اس اصطلاح سے بھی زیادہ ہو گی ۔ کیوں کہ یہاں ہر وہ شخص سیاستدان ہے جس کے پاس چند لاکھ روپے اور چند وفا دار ساتھی موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ایٹمی قوت ہوتے ہوئے بھی ہم اقوام عالم میں تباہی کے دہانے پر کھڑی ریاست شمار کیے جاتے ہیں۔
حقیقی لیڈر اپنے مفادات کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔ پھر اُسے یہ غرض نہیں رہتی کہ سیلاب کے پانی میں کھڑے ہو کر تصویریں بنوائے یا پھر ہیلی کاپٹر سے راشن کا تھیلا پھینکتے ہوئے کیمرے کا فلیش اس کے چہرے پر پڑے ۔ بلکہ جب اس میں راہنما جیسے اوصاف پیدا ہو جائیں تو وہ 7 سال کے قلیل عرصے میں ایک نا ممکن خواب کو تکمیل دے دیتا ہے۔ جس شخص کو لوگ دل سے راہنما سمجھنا شروع کر دیں وہ کروڑوں لوگوں کے دلوں میں رہنے کے باوجود ایک ویران ائیرپورٹ پر خراب ایمبولینس میں زندگی کے آخری لمحات میں پسینے میں شرابور کراہ رہا ہوتا ہے۔ (کاش آنے والی نسلیں خراب ایمبولینس کہانی کی حقیقت جان پائیں)۔
جو شخص ملت کا راہنما ہوتا ہے ، وہ کسی ان دیکھی گولی کا شکار ہو جاتا ہے اور اس کی خالی جیبیں چیخ چیخ کر پکار رہی ہوتی ہیں کہ یہ ملک سیاستدان نہیں راہنما چلا سکتے ہیں۔ سیاستدان اور لیڈر میں فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ سیاستدان لعن طعن سن کر بھی منافقانہ مسکراہٹ کی لالی چہرے پہ سجائے رکھتا ہے۔ لیکن لیڈر ملک کو پانی کے سب سے بڑے ذخائر کا تحفہ دینے کے باوجود چند الفاظ سن کر ہی کرسی چھوڑ دیتا ہے۔ اور بعد میں لوگ اس کویاد کرتے ہیں۔ (بے شک اس کا اپنا کردار کیسا ہی ہو۔ یا اس نے اس ملک کے ایک سرمائے کو رسوا کیا ہو لیکن وہ ملک کو پھر بھی کچھ دے کر گیا) ۔ جب لفظ صفحات کی زینت بنتے ہیں تو ہو سکتا ہے لکھنے والا اقوام عالم کے سامنے کاغذوں کے ٹکڑے کرنے والے سے ہزار اختلافات رکھتا ہو لیکن پھر بھی شاید وہ ان سیاستدانوں سے بہر حال بہتر تصور کیا جا سکتا ہے جو ہاتھ باندھ کر جی حضوری کو اپنی کامیابی تصور کرتے ہیں۔
جمہوریت کا یقیناًکوئی نعم البدل نہیں ہے۔ دنیا میں جتنے ممالک نے ترقی کی منازل طے کیں ان میں سے کم و بیش تمام ہی ممالک نے جمہوریت کو اپنایا۔ لیکن اس سیاسی جمہوریت سے وہ آمرانہ لیڈر شپ بہتر ہے جو کم از کم ملک کو مستحکم کرنے کا سبب بنی ہو۔ لیکن آمریت پھر بھی جمہوریت کا نعم البدل نہیں بشرطیکہ جمہوریت مضبوط بنیادوں پر استوار ہو۔ صرف گارے مٹی کی عمارتیں ہی جمہوریت نہیں ہیں۔ مضبوط جمہوریت لیڈر قائم کرتے ہیں جب کہ سیاستدان اسے صرف ایک نعرے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ بری جمہوریت اچھی آمریت سے بہتر ہے جیسا فقرہ صرف اپنے مفادات کا تحفظ ہے۔ جس دن سیاستدانوں میں راہنماؤں جیسی صفات نمودار ہونا شروع ہو جاءں گی، اس دن یقیناًجمہوریت مضبوط ہو گی ۔
عظیم جناح نے ایک عظیم مقصد کے لئے کام کیا اسی لئے اس مقصدیت نے ان کو ایک عظیم راہنما بنا دیا۔وہ ایک سیاستدان تھے لیکن ان کے خمیر میں خصوصیات ایک راہنما کی تھیں۔ اسی لئے لوگ آج تک اپنے دل میں ان کے لیے عزت رکھتے ہیں۔ جب سیاستدان اپنی زمینیں ، جاگیریں و ملیں بچانے کے لیے پانی کا رخ موڑیں گے۔ اپنا سرمایہ دنیا کے محفوظ ملکوں میں رکھیں گے تو پھر وہ پورا دن پانی میں ڈوبے رہیں پھر بھی عوام کے دل میں گھر نہیں کر سکتے۔ عوام کا لیڈر تو اس شخص کو ہونا چاہیے جس کے پاس پیسہ کمانے کا موقع بھی ہو پھر بھی وہ وطن کا سوچے اور جو اس قوم کی بہتری کے لئے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دے ۔لیکن بد قسمتی سے اس قوم کے کرتا دھرتا اربوں ڈالروں کے مالک اور عوام سڑکوں پہ خوار ہیں۔ شاعر نے شاید وطن عزیز کے سیاسی حالات کے متعلق ہی کہا تھا :
یہاں تہذیب بکتی ہے، یہاں فرمان بکتے ہیں
ذرا تم دام تو بدلو ، یہاں ایمان بکتے ہیں
ہماری آنے والی نسلیں جب تاریخ کا مطالعہ کریں گی تو وہ حالات و واقعات کا مشاہدہ عقلی دلائل سے کریں گی۔ وہ ان سیاستدانوں کو نہیں سراہیں گی جنہوں نے اپنا سرمایہ تک اس وطن میں رکھنا گوارا نہیں کیا۔ جنہوں نے اس ملک کے غریب طبقے کو جمہوریت کے لالی پاپ کے سوا کچھ نہیں دیا۔ بلکہ ان کی نظر میں وہی سیاستدان لیڈر کا رتبہ پائے گا جو دولت کے انبار میں سے خود کو نکال کر اس دیس میں لایا۔ جس کے اس دعوے میں حقیقت ہو گی کہ اس کا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے۔ لیڈر یا راہنما تو کہا ہی اسے جا سکتا ہے جو چند دن کے مفاد کے بجائے آنے والی نسلوں کے دلوں میں زندہ رہنے کی جہدو جہد کرے۔ اس جہدو جہد میں ضروری نہیں کہ وہ ہمیشہ کامیاب ہی ہو۔ وہ عارضی طور پر ناکام بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ ناکامیاں اسے رہنما بنا دیتی ہیں۔ اس کی عارضی ناکامی شاید مستقبل کی نسلوں کو اپنا راستہ خود بنانے کا فن سکھا دے ۔ اور اگر مستقبل کی نسلیں اس کی جہدو جہد سے یہ فن سیکھ گئیں تو اس راہنما کو اس کی جہدو جہد کا صلہ مل جائے گا۔