کاغذ پہ دھری آنکھیں

  • منگل 23 / ستمبر / 2014
  • 5540

فرح دیبا ورک کی نظموں کی  کتاب " کاغذ پہ دھری آنکھیں " میرے آگے دھری ہے اور میں  اس کے اوراق پلٹ کر نظموں کے باطن سے گزرتے ہوئے محسوس کر رہا ہوں کہ یہ ایک شاعرہ کا دھرنا ہے جو اُس نے بنتِ آدم کے نسائی منصب کی بحالی کے لیے آغاز کیا ہے ۔

میں دیکھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ اس کتاب پر مصدقہ دانشوروں اور معتبر قلمکاروں کی آراء کے بعد میری کیا ضرورت یا حیثیت رہ جاتی ہے کہ میں تنقید کے پھٹے میں ٹانگ اڑاؤں ۔ مجھے اپنی اوقات کا اندازہ ہے اور مجھے یاد رکھنا چاہیئے کہ جو بھی کہوں مؤدب رہ کرا ور سراپا عجز بن کر کہوں ۔

کتاب پر لکھے فلیپ اور پیش گفتار میں نصیر احمد ناصر ، ڈاکٹر ابرار احمد ، شیخ  جمیل الرحمٰن ، محترم عرفان ستار، محترمہ یاسمین حبیب صاحبہ ، ابرار مجیب ، محمد ظہیر بدر اور عالم خورشید صاحبان جیسے صاحبانِ فکر و نظر کی نکتہ آفرینیوں کے بعد اگر میں اپنی ڈفلی پر کوئی بے سُرا راگ چھیڑوں تو لا محالہ گستاخی ہو گی ۔ تاہم مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں بھی کتاب کے بارے میں اپنی سی  دوں۔ چونکہ حکم کا بندہ ہوں اس لیے سرتابی کی جراء ت نہیں۔ سو ذیل میں چند گزارشات حاضر ہیں:

صاحبو ! فرح دیبا ورک کی کتاب کی ان نثری تحریروں کو نظمیں کہا گیا لیکن یہ نظمیں نہیں بلکہ کاغذی رومالوں پر قلم کروشیے سے بُنی ہوئی چھوٹی چھوٹی فکری تصویریں ہیں جو خامے کی نوک سے آنکھوں کے زخم کُریدتیں اور درد کے چھالے کھرچتی ہیں ۔ اگر ساحر لدھیانوی صاحب مجھے اجازت مرحمت فرماتے تو میں اُن کے ایک شعر کو معمولی ردوبدل کے ساتھ اس کتاب پر بطور تبصرہ رقم کرتا :
رشتوں نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہی ہوں میں

فرح دیبا ورک کی نظموں کا موضوع نیا نہیں ۔ مجھے ان نظموں کی خواندگی سے گزرتے ہوئے اچانک فروغ فرخ زاد کی نظم " رمیدہ" یاد آگئی :
نمی دانم چہ می خواہم خُدایا
بہ دنبال چہ می گردم شب وروز
چہ می جوید نگاہِ خستہ ء من
چرا افسردہ است ایں قلبِ پرسوز

اور میں سوچنے لگا کہ آخر " کاغذ پہ دھری آنکھیں" کی مصنفہ چاہتی کیا ہے ؟ اسی فکری ادھیڑ بُن میں میرا بائی کو رانا جی کا بھیجا وش کا پیالہ یاد آ گیا ۔ میرا نے کہا :
گھائل کی گتی گھائل جانے
جو کوئی گھائل ہو

اگلے لمحے اچانک یاد کے دریچے سے سارا شگفتہ اور امرتا پریتم نے ایک ساتھ جھانکا ۔ سارا شگفتہ  امرتا کی اوٹ میں چھپی کھڑی تھیں اور پھر خیال کی یہ گردش نسرین انجم بھٹی کی نظموں پر آکر رک گئی ۔ مگر میں تو " کاغذ پہ دھری آنکھیں" پڑھ رہا ہوں ۔

یہ نظمیں ہیں یا گڑیوں کے پٹولے ۔ پٹولے جن میں آنسوؤں کے پیوند لگے ہیں اور دکھ کی باس ہے۔ لیکن بہتے ہوئے آنسوؤں کی دھار سے دھل کر بھی  فرح کے دکھ کی باس ماند نہیں ہوئی ۔ شیخ ایاز کی نظم یاد آگئی :
ہائے ہائے میری چولڑی
دھو نہ دھوبی گھاٹ تے
اس دے وچ جو باس ہے
میں اوسے دی گولڑی
ہائے ہائے میری چولڑی

اور زندگی کے ان دکھوں کو فرح دیبا ورک نے بڑی ہنر مندی اور سگھڑ پنے سے اس طرح نظموں میں سمو دیا ہے کہ وہ سارے دکھ  ان کے لباس کی مہک بن گئے ہیں ۔ یہ دکھ زندگی کے وہ کڑوے گھونٹ ہیں جو رشتوں ناتوں کی ڈیوڑھی میں بیٹھ کر دہی بلوتے ہوئے لازماً پینے پڑتے ہیں ۔

اِس کتاب کی پہلی نظم یا نظمچہ " ناکامی" ہے ۔ جی ، فرح کی شاعری ناکامی سے شروع ہوئی ہے ۔ اختر شیرانی کو بھی  ناکامی سے عشق تھا  ، سو انہوں نے ناکامی سے اپنی محّبت کو پوری طرح رسوا کیا اور ڈنکے کی چوٹ کیا ، فرمایا :
مجھے پسند ہے دنیا میں اپنی ناکامی
کہ ہر ذلیل یہاں کامیاب ہے ساقی

اور یہی فرح دیبا نے کیا کہ خط کا مضمون تار کے اختصار کے ساتھ باندھا اور مرد عورت کے دوطرفہ تعلق کی موت کا نوحہ لکھا ۔
 ناکامی :
میں اس میں
شاعر تلاش کرتی رہی
اور وہ مجھ میں
ا یک دوست
اپنی اپنی کوشش میں
ہم دونوں ناکام رہے

اس کے بعد گھر ، عورت ، شکایت ، الزام ، بازی ، انگوٹھی ، انتظار ، نیل ، کنگن ، کرائے کی عورت ، آنسو ، درد ، چیخ کُتّے اور منکوحہ کے عنوان تلے منی ایچر نظموں کا ایک سلسلہ ہے جو ایک ہی ازدواجی تجربے کا تسلسل ہیں ۔ یہ کتاب ایک البم ہے جس میں خانگی زندگی کی نا آسودگی کے مختلف ٹکڑے جوڑ کر ایک گیسٹالٹ بنایا گیا ہے ۔ ان چھوٹی چھوٹی نظموں میں شاعرہ نے نوکِ قلم سے ایسے ایسے چرکے لگائے ہیں اور ایسے ایسے گھاؤ  بنائے ہیں کہ قاری شدتِ درد سے بے اختیار تڑپ اُٹھتا ہے ۔

مجھے کتاب پڑھتے ہوئے محسوس ہؤا کہ یہ کتاب نہیں بلکہ کسی لڑکی کا کمرا ہے جس کی کھڑکی مسجد کے صحن کی طرف کھلتی ہے جہاں سے اُس پر پتھر پھینکے جاتے ہیں ۔  مذہبی جنونیوں نے تفرقے کی شکل میں جو پھانسی گھاٹ تعمیر کیا ہے ، وہ لوگوں کو کھل کر سانس بھی نہیں لینے دیتا اور اپک اٹکی ہوئی سانس کی پھانس اس کتاب کی نظموں میں صاف دکھائی دیتی ہے ۔

فرح دیبا کی یہ نظمیں ایسی کہاوتوں جیسی ہیں جنھیں گفتگو کے دوران بطور مثال پیش کیا جاتا ہے ۔ یہ وہ نسوانی اقوال ہیں جو ایک فلسفی خاتون کی ڈائری میں رقم ہیں ۔ سیدھی سادی زبان میں ہلکے پھلکے بول ۔ چاہو تو گاؤ اور چاہو تو تحت اللفظ پڑھو ۔ دونوں صورتوں میں کتاب میں درج یہ فکر پارے گہرا تاثر مُرتب کرتے ہیں ۔
الزام

9 فروی 2012

جس دیس میں محبتیں ناپید ہیں
عبادت گاہوں میں
نفرتیں برہنہ ناچتی ہیں
اپنوں کے خون سے
 ہولی کھیلی جاتی ہے
جہاں بارود کے دھوئیں کی بو کے علاوہ
کچھ نہیں
کچھ بھی نہیں
اس دیس میں
کسی پر
ایک پردیسی سے محبّت کا الزام لگا ہے

ایک سو بارہ صفحات کی اس کتاب میں سرسٹھ نظمیں ہیں جنہیں نہایت سلیقے سے کتابت کیا گیا ہے ۔ کتاب کا سرورق ہلکے آبی رنگون میں آنکھ کی ڈرائنگ سے آراستہ ہے ۔ سر ورق کی پشت پر مصنفہ کی تصویر کے ساتھ جناب نصیر احمد ناصر کا فلیپ ہے ۔ اس کتاب کو فیصل آباد سے زریون مطبوعات نامی اشاعت گھر نے شائع کیا ہے ۔ کتاب کی قیمت پاکستان میں مبلغ 200 روپے ، برطانیہ میں دس پاؤنڈ ، جبکہ کینیڈا اور امریکہ میں دس ڈالر ہے ۔

یہ کتاب اپنے چبھتے ہوئے مضامین ، کاٹ دار طنزیہ لہجے اور کج کلہانہ طرز، فکر کی وجہ سے خاصے کی چیز بن گئی ہے ۔ کتاب کی مصنفہ سے توقع وابستہ کی جا سکتی ہے کہ وہ اگلا تخلیقی قدم اٹھائیں تو لسانی پیرایوں کے تنوع کے ساتھ اس قسم کی مزید ایسی نظمیں لکھیں جو ایک قدم گہ کا معرکہ ہوں ۔

فرح دیبا ورک ! کاغذ پر دھری انکھیں مبارک ہوں ۔