انسانیت کا نقصان
- ہفتہ 27 / ستمبر / 2014
- 4137
پاکستان اور بھارت کے درمیان دشمنی دنیا سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔ اقوام متحدہ نہ صرف جموں و کشمیر میں رائے شماری کے لئے قرار دادیں منظور کر چکی ہے۔ بلکہ تین دہائیوں تک اس قرار داد پر عمل درآمد کی یقین دہانیاں بھی کروائی جاتی رہی ہیں۔
کشمیر کے لوگ برسوں سے اس وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں۔ اسی تنازع کے پس منظر میں وزیراعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر حل کرائے ۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد چاہتے ہیں۔ 6 عشرے قبل اقوام متحدہ نے استصواب رائے کی قرارداد منظور کی تھی اور اب اس اہم ترین مسئلے کو حل کرنا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔
مبصرین کی رائے ہے کہ وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر اس وقت اٹھایا ہے جب اسکاٹ لینڈ میں ریفرنڈم نے دنیا بھر کے کشمیریوں کو ایک بار پھر احساس دلایا ہے کہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ان کا بنیادی حق ہے۔ اسکاٹ لینڈ کا ریفرنڈم کشمیریوں کی آزادی کی خواہش کو مہمیز بخشتا ہے۔ یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ گزشتہ دو عشروں میں انڈونیشیا اور سوڈان کو تقسیم کرنے کے لئے مشرقی تیمور اور ڈارفر میں چند برسوں سے جاری علیحدگی پسند تحریکوں سے وابستہ شہریوں کو ’’حق خود ارادیت ‘‘ دلانے کے لیے بڑی طاقتوں نے اقوام متحدہ پر دباؤ ڈالا۔
جب دنیا کے متعدد ملکوں میں وہاں کے عوام کو حق خود ارادیت دلانے کے لئے عالمی برادری نے اپنا کردار ادا کیا ہے تو کشمیر کے معاملہ پر دوغلا رویہ خطے کو جنگ میں آگ میں جھونک سکتا ہے۔ دنیا اچھی طرح اس بات کو سمجھتی ہے کہ پاکستان اور بھارت ایٹمی قوتیں ہیں۔ اگرچہ پاکستان نے اس معاملہ میں بھی پہل نہیں کی اور بھارت کی جانب سے ایٹمی دھماکوں کے بعد ہی جوابی طور پر ایٹمی تجربات کئے۔ بھارت کی جنگی ذہنیت نے ہی پاکستان کو ایٹمی طاقت بننے پر مجبور کیا۔ اور اگر دونوں ایٹمی طاقتوں کا تصادم ہوتا ہے تو یہ نقصان ناقابل تلافی ہو گا۔
اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستانیوں اور کشمیریوں کے جذبات کی یقینی طور پر ترجمانی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں شہری جبر کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں اور ان کے حقوق سلب کئے گئے ہیں۔ کشمیری خواتین کو مصائب اور تذلیل کا سامنا ہے اور کشمیری عوام اپنے حق خودارادیت کے وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں۔ نواز شریف کی تقریر سے قطع نظر تاریخی طور پر بھی کشمیریوں کا رجحان پاکستان کی طرف ہی رہا ہے۔ بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو وطن عزیز کی شہ رگ قرار دیا تھا۔
وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے پر وہاں کی مقامی قیادت نے بھی انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس (گیلانی گروپ) کے سربراہ سید علی گیلانی نے کہا کہ پاکستان نے جنرل اسمبلی میں کشمیر کے مسئلے کو اس کے تاریخی پس منظر میں پیش کیا ہے، جس سے کشمیری عوام کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس (میر واعظ گروپ) کے چیئرمین عمر فاروق نے بھی نواز شریف کے جنرل اسمبلی میں خطاب کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے دو ٹوک مؤقف اپنانے سے بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حل پر دباؤ بڑھ جائے گا۔ اسی طرح دیگر متعدد اہم کشمیری رہنماؤں نے بھی اس خطاب کو اپنے مستقبل کے لئے مثبت قرار دیا۔
یہاں یہ بات واضح رہے کہ یہ دوسرا موقع ہے کہ نواز شریف نے کشمیر کے مسئلے کو عالمی اداے میں اٹھایا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی دفتر خارجہ کی خواہش تھی کہ پاکستان اقوام متحدہ میں کشمیر کے تذکرے سے گریز کرے۔ بھارتی وزیر خارجہ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر وزیراعظم پاکستان مسئلہ کشمیر کو جنرل اسمبلی میں نہ اٹھائں تو نریندر مودی سے نواز شریف کی ملاقات کا اہتمام کروایا جا سکتا ہے۔ لیکن پاکستان نے دہلی سرکار کی پیشکش کو مسترد کیا اور اپنا مؤقف واشگاف طور پر دنیا کے سامنے رکھا۔
وزیراعظم پاکستان کے اس خطاب کو جنرل اسمبلی کی فضاؤں میں تحلیل نہیں ہونا چاہئے بلکہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو مسئلے کو سنجیدگی سے سامنے رکھ کر قابل عمل حل کی طرف سے پیش رفت کرنا ہو گی۔ وگرنہ خطے کا یہ سلگتا ہؤا مسئلہ جنگ کے شعلوں کو بھڑکانے کا سبب بھی بن سکتا ہے اور اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ جنگ میں نقصان انسانیت کا ہی ہوتا ہے۔