مسلم برادری یا ” نسلی برادری“
- سوموار 29 / ستمبر / 2014
- 4714
گزشتہ دنوں انٹرنیشنل یونین آف جرنلسٹس کے حوالے سے منعقد ہونے والی ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے جب میں برلن میں تھا تو جرمن اخبارات و رسائل کے مطالعہ سے پتہ چلا کہ نسلی تشدد کی ایک شدید لہر نے ان دنوں جرمنی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ نسلی منافرت تیزی سے پھیل رہی ہے اور اقلیتوں کو نسلی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔ نسلی حملوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کا نشانہ وہاں کی سب سے بڑی اقلیت مسلم بن رہی ہے۔
ایک خبر کے مطابق جرمن پولیس حکام نے کٹر قوم پرست نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی کے نسل پرست سیاسی کارکنوں پر نیو نازی تشدد کی لہر کے پیش نظر پابندی لگانے کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے یہ تجویز حکام بالا تک پہنچا دی ہے تاہم سیاسی قائدین نے اس پارٹی کے خلاف کارروائیوں میں احتیاط سے کام لینے پر زور دیا ہے کہ اس طرح کی پابندیوں سے اس پارٹی کے کارکنوں کی اہمیت میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ جو کہ حکومت کو قطعی منظور نہیں۔ دوسری طرف سرکاری اعلیٰ عہدیداروں نے یہ کہہ کر اس پابندی کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے کہ اس طرح متنازع ، غیر مؤثر ، غیر منطقی بلکہ جوابی ردعمل پیدا ہو سکتا ہے۔
پولیس حکام کی اس مندرجہ بالا تجویز کی ٹھوس وجہ یہ ہے کہ وہ اس بات کی قائل ہو چکی ہے کہ نیو نازی پارٹی جرمنی میں ترک نژاد باشندوں ، مشرقی یورپ سے آئے ہوئے پناہ گزینوں، ایشیائی باشندوں ( جن میں پاکستانی ، ہندوستانی ، بنگلہ دیشی اور سری لنکا کے لوگ شامل ہیں) مسلمانوں اور یہودیوں کے خلاف حملوں کے ذمہ دار ہیں۔ ان حملوں کی خبریں نہ صرف جرمنی بلکہ تمام یورپی میڈیا نے بھی نمایاں طور پر شائع کی ہیں۔ علاوہ ازیں یورپ کے تمام بڑے شہروں میں ہونے والے اقلیتوں پر حملوں کے واقعات کی رپورٹنگ کی وجہ سے بھی جرمن حکام کو نیو نازی پارٹی کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ بچار کرنا پڑ رہا ہے۔
اس وقت جرمنی میں تقریباً 70 لاکھ غیر ملکی باشندے مقیم ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ سوویت یونین کی ٹوٹ پھوٹ اور برلن کے ادغام کے بعد یورپی یونین کے ممبر ملکوں میں سیاسی پناہ طلب کرنے والوں کی 58 فیصد تعداد نے جرمنی میں پناہ کی درخواست دی ہے۔ اس تعداد کے سبب دوسرے مغربی ملکوں کے مقابلے میں جرمنی اپنے اوپر ” بوجھ “ تصور کرتا ہے۔ اس سے دوسری اقلیتوں پر حملوں کا بھی جواز فراہم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غیر ملکی باشندوں کے خلاف جرمن نیو نازیوں کے حملوں کا نشانہ مسلم اقلیت اور مسلم آبادی رہی ہے۔ آج جرمنی میں بسنے والے مسلمانوں کی تعداد 25 لاکھ سے زیادہ ہے۔ ان میں سے تین چوتھائی مسلمانوں کا تعلق ترکی سے ہے۔ بعض ناقدین کے نزدیک جرمنی میں اسلامی اور عیسائی تہذیب و تمدن اور اقدار میں تصادم ہو رہا ہے۔
اس کی وجہ مغربی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ ہے کہ جرمنی میں مسلم آبادی اور بالخصوص ترکی کے مسلم مذہبی احیا پسند ( جنہیں وہ بنیاد پرست سمجھتے ہیں) جرمنی تہذیبی قدروں اور طرز زندگی کو اپنانے سے گریز کر رہے ہیں۔ اور یہ کہ مسلمانوں کی خلافت کی داغ بیل ڈالی جا رہی ہے۔ اس کے احیا کے لئے جو گروپ یا پارٹی کام کر رہی ہے اس کا ہیڈ آفس جرمنی میں قائم کیا گیا ہے۔
فرانس کی طرح جرمنی میں بھی عیسائیت کے بعد اسلام دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے۔ اس کے علاوہ جرمنی کے بینکوں میں 25 فیصد سرمایہ ترکوں کا ہے۔ رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ مسلم برادری جرمنی میں سب سے زیادہ تیز رفتاری سے ترقی کرنے والی نسلی برادری بھی بنتی جا رہی ہے۔ آج کے جرمنی میں 134 چھوٹی بڑی نسلی پارٹیاں انڈر گراﺅنڈ اپنے مقاصد کی تکمیل میں مصروف اپنے چالیس ہزار نازی ممبران کے ذریعے نسلی منافرت پھیلا رہی ہیں۔ لیکن اس وقت جرمن نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد خود کو جرمن سے زیادہ یورپی سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ سیکولر اور جمہوری اقدار سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اور نئے یورپ کی کثیر تہذیبی اور مخلوط نسلی ارتقا کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
تاہم یورپی یونین کے ممبر ممالک اور جرمنی میں بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے خطرے اور نسبتاً سست رفتار معاشی ترقی نے اچانک نسل پرست نیو نازی سیاست کو نئی ” توانائی“ بخشی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جرمنی میں نیو نازی ” تہذیب “ ابھی تک محض نوجوان نسل تک محدود ہے۔ اس تحریک سے وہ نوجوان متاثر ہو رہے ہیں جو 1980 اور 90 کی دہائی میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو جرمنی کی موجودہ نازی شناخت کو خطرناک راہیں دکھانے کے خواہشمند ہیں۔
نیو نازی تحریک سے وابستہ یہ لوگ جرمنی میں جمہوریت کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق مسلم برادری میں جمہوری کلچر کے فقدان کے باعث نازی پارٹی بھی انہیں خطوط پر سوچتے ہوئے ان کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ” عظیم جرمنی“ کے ” عظیم تر جرمن“ فارمولا کے قائل ہیں۔ جبکہ جنگ عظیم دوئم کے بعد نئے جرمنی کے کثیر تہذیبی ، کثیر نسلی اور مخلوط معاشرے نے جرمن قوم کو جرمنی کی طاقت اور عظمت رفتہ کی وفاداری سے کہیں زیادہ جمہوری اقدار سے وفاداری کے اظہار کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اس کے برعکس نیو نازی تحریک نسل پرست اور فاشسٹ نظریات پر عمل پیرا ہے۔
آخر پر میں نیو نازی تحریک کے حوالے سے ” اسلام کی نشاة ثانیہ کا واحد راستہ جہاد ہے “ کے علمبرداروں کو یورپ میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نسلی منافرت اور مذہبی غیر رواداری جیسے مسائل کے حل کے لئے دعوت فکر دیتا ہوں۔