گلو کریسی

  • منگل 30 / ستمبر / 2014
  • 5342

دنیا کے بہت سے الفاظ اور بے شمار اصطلاحات کی طرح آزادی کا مفہوم بھی اسلامی لغت میں نہ صرف سب سے الگ ہے بلکہ دیگر مذاہب کے نقطہء نظر سے مختلف بھی ہے ۔ مسلمانوں کے نزدیک آزادی کے معنی انسان کا اللہ کے سوا ہر اطاعت و بندگی سے آزاد ہونا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے نفس ، خواہشات اور اپنی قومی حاکمیت کا عقیدہ اس کی میں حائل نہ رہے ۔

اس کے بر عکس دیگر مذاہب کے ماننے والے سوائے اللہ کو ماننے کے باوجود خود کو آزاد تصور کرتے ہیں ۔اسلامی تعلیمات میں کہیں کوئی پیچیدگی موجود نہیں اسکی تعلیمات جو ابتداء سے تھیں ، آج بھی وہی ہیں اور ہمیشہ اسی طرح رہیں گی۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ آزاد رہنا ہر فرد اور قوم کا پیدائشی حق ہے ۔ محکومی اور غلامی کی کیلئے کس قدر بھی خوش نما نام کیوں نہ رکھ لئے جائیں بہرحال غلامی کے زمرے میں ہی آتے ہیں۔ جو خدا کی مرضی اور اس کے قونین کے خلا ف ہیں۔ انسان کا اشرف المخلوق ہونے کاشرف اللہ ہی کی جانب سے دیا گیا ہے اور یہ خالق کائنات کی جانب سے دنیا میں اللہ کا خلیفہ بناکر بھیجا گیا ہے ۔ اس کا عقیدہ جس قدر اپنے رب کے آگے انکسار سے خود کو جھکاتا ہے اسی قدراسے تمام کائنات کے آگے سربلند کر دیتا ہے ۔ دنیا کی کوئی طاقت خدا کے علاوہ اس کے دل کو مرعوب نہیں بناسکتی۔وہ ایک چوکھٹ پر سر جھکا کر تمام بندگیوں اور فرمانبرداریوں سے آزاد ہوجاتا ہے ۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے اسی تناظر میں کہا تھاکہ:
وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

14 سو قبل اسلام اس اعتقاد کی دعوت کو لیکر آیا ہے اور ان الحکم الا اللہ کی صدا کے ساتھ حکومت ، خاندان ، نسب ، رسم ورواج اور قوم کی تمیز کی وہ تمام بیڑیاں توڑڈالیں جس کے بوجھ سے انسان شل ہوچکے تھے۔اسلام سے قبل دنیا غلامی کی عذاب میں مبتلا تھی۔ روم کے قیصر اور فارس کے کسریٰ گوکہ دیوتا نہ تھے لیکن خود کو انسانیت کے مرتبہ سے بلند سمجھتے تھے۔ان کے سامنے بیٹھنا ممنوع تھا۔ابتدائے کلام گناہ، نام لینا آداب کیخلاف اور موجب قتل تھا۔ بیت المال ذاتی مصرف میں لایا جاتا جبکہ رعایا کو غلام تصور کیا جاتا تھا۔ اقتدار اور قبائل کی جنگ نے عرب کے گوشہ گوشہ میں بے امنی اور بے اطمینانی کی صورتحال پیدا کررکھی تھی۔ غرض چپہ چپہ انسانوں کے خون سے سیراب کیا جارہا تھا۔

اللہ کو اپنے بندوں سے والہانہ محبت ہے اور دنیا کی اس بے ثباتی کے پیش نظر کائنات میں اپنے خلیفہ کی عظمت کیلئے ایک صاحب لولاک کو مبعوث کیا جو رحمت اللعالمین ﷺ کہلایا۔ جس نے انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلانے کی خوشخبری سنائی ۔خطبہ حجۃ الوداع میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ “ ہوشیار ہوجاؤ! آج جان ومال کی حرمت قائم کردی جاتی ہے جس طرح آج کے روز کی، اس شہر مکہ کی اور اس ماہ حج کی حرمت ہے ۔تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنے تھے۔ پس! تمام انسان آپس میں برابر ہیں۔ بزرگی اور بڑائی صرف تقویٰ و حسن عمل ہے۔ “

یہ وہ آواز تھی جس سے عرب کی پر شور اور شر انگیز فضا میں سکوت طاری ہوگیا اور چہار سو امن و امان کا ابر چھاگیا۔ حکومت الہیٰ کے اس داعیﷺ نے دائرہ اسلام میں آنے والے خوفزدہ مسلمانوں کو خوشخبری دیتے ہوئے فرمایا کہ ً عرب کی بے اطمینانی سے نہ گھبراؤ ۔ ایک وقت آئے گا کہ ایک بڑھیاعرب کے ایک گوشہ سے سونے کا سکہ اچھالتے ہوئے بے خوف دوسرے گوشہ میں داخل ہوجائے گی اور پھر وہ وقت آگیا جب ایک بڑھیا ایک گوشہ سے دوسرے گوشہ میں بغیر کسی خوف کے داخل ہوگئی۔

اسلام میں حکومت کرنے کا جو نظام دیا گیاہے وہ ایسی چیز ہے جس کے مقابل کوئی اور نظام برقرار نہیں رہ سکتا ۔اس نے باقاعدہ قانونی وجمہوری حکومت کی بنیاد ڈالی۔ حقوق عامہ کی تشریح کی ۔تعزیرات قائم کیں ، مالی ، ملکی اور انتظامی قوانین وضع کئے۔ عدل و انصاف کی تعلیم دی۔ شخصی حکومت اور ذاتی امتیاز کو مٹادیا۔ گویاایک بہتر جمہوری حکومت کے تمام لوازمات اسلامی ریاست میں موجود ہیں۔ ریاست میں تمام افراد کیلئے یکساں حقوق مقرر ہیں اور سربراہ کے انتخاب کا اختیار عوامی رائے کے بغیر ممکن نہیں۔ ملکی معاملات میں اہل علم سے مشاورت کو ناگزیر اور بیت المال یا قومی خزانہ کو عوام کی اجازت کے بغیر خرچ کرنے کا منع کیا گیا ہے۔قرآن مجید میں بھی اس کی دلالت میں فرمادیا گیا کہً اے نبیﷺ! امور حکومت میں مسلمانوں سے مشورہ کرلیا کرو۔ً

تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام خلفائے راشدینؓ کے دور میں عدل و انصاف کو اولین ترجیح دی گئی۔ خلیفہ ء اول حضرت ابوبکر صدیقؓ نے منصب خلافت قبول کرتے ہوئے مسلمانوں سے کہا کہ ً میں جب تک انصاف پر چلوں میراساتھ دینااور جب اس کے برعکس اقدام کروں توملامت کرنا۔ جب تک احکام شریعت پر قائم رہوں اطاعت کرنا لیکن اگر راہ شریعت سے ہٹ جاؤں تو میرا کہنا نہ ماننا۔ً یہی کیفیت دیگر خلفائے راشدین میں بھی دیکھی گئی۔ اسلامی فلاحی ریاست میں حکومت جمہور کی ملکیت ہے جس میں کسی کی ذاتی یا خاندانی حکمرانی کا کوئی تصور نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ اور پھر خلفائے راشدین میں کسی نے اپنا جانشین اپنے کسی عزیز ، رشتہ دار یا اپنی اولاد کو نہیں بنایا۔

آپ ﷺ نے دین اسلام میں امتیازی سلوک کا فرق واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کی حدود یعنی اللہ کے مقرر کردہ قوانین و آئین دور و قریبب ، رشتہ دار و غیر رشتہ دار سب پر یکساں جاری کردو اور خدا کے معاملہ میں تم ملامت کرنے والوں کی پروا نہ کرو۔ قبل از اسلام بادشاہ یا حکمران اپنی رعایا کے مقابلہ میں ایک معمولی آدمی کی طرح عدالت میں حاضر نہیں ہوتا تھا اور کسی وجہ سے اس کا آنا ناگزیر ہوتا تو اس کی تعظیم کی جاتی ۔ اسلا م نے اسے یکسر مسترد کردیا۔ حضرت عمر فاروقؓ اور ابی کعبؓ میں ایک معاملہ کی نسبت نزع ہوئی۔ زید بن ثابتؓ کی عدالت میں مقدمہ پیش ہؤا۔ خلیفہ دوم وہاں پہنچے تو ابن ثابتؓ نے تعظیم کی اور جگہ خالی کردی ۔ عمرؓ خفا ہوئے اور فرمایا کہ ابن ثابتؓ یہ پہلی ناانصافی ہے جو تم نے کی ۔ اس کے بعد آپؓ اپنے فریق کے برابر جابیٹھے۔

آج تمام دنیا میں جمہوریت کے حوالے سے خیالات تیز ی سے پھیل رہے ہیں ۔ شخصی حکومت کیلئے ہر جگہ نفرت پائی جاتی ہے اور اس حقیقت کا اعتراف پیہم ہے کہ قانون و سیاسی آزادی میں تمام انسان مساوی حقوق رکھتے ہیں ۔ دنیا کی اقوام اس حقیقت پر ایمان لا چکی ہیں اور ہر ممکن کوشش کے ذریعہ اس کے حصول میں کوشاں ہیں ۔ بعض نے اسے حاصل کرلیا ہے جبکہ بعض اس کے کیلئے جدوجہد کررہی ہیں ۔ مسلمان جو دنیا میں اپنے اثرات رکھتے ہیں وہ اس حقیقت سے پوری طرح سے باخبر نہیں ہیں حالانکہ انہیں اس حوالے سے سب سے آگے ہونا چاہئے تھا۔کیونکہ رسول خدا ﷺ انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات کیلئے مبعوث کئے گئے تھے۔ مسلمانوں نے بے شمارملک فتح کئے اور اسلام کا پرچم دنیا کے ہر کونے میں لہرایا لیکن بدقسمتی سے مسلمانوں آہستہ آہستہ خلافت کی جگہ ملوکیت نے فروغ پانا شروع کردیا ۔

مسلمان خلیفہ عرب کے جاہلانہ دور کی عکاسی کرنے لگے۔ کربلا کا واقعہ اس کی واضح مثال ہے جبکہ اقتدار کی جنگ نے اسلام کا اصل تشخص بھی مجروح کر د یا ۔ ہندوستان میں مسلمان بادشاہوں نے عیش و عشرت میں دین میں تحریف کرنے کی بھی کوشش کی ۔جس سے بنیاد پرست مسلم زبوں حالی کا شکار ہوئے۔ 1865 کی آزادی کی تحریک سے ایک بار پھر اسلام کا بول بالا ہوا اور 1947 میں مسلما ن لاتعداد قربانیا ں دینے کے بعدایک آزاد ریاست قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔گوکہ ملک اپنے قیام سے ہی مسائل کا سامنا کرتا رہا ہے لیکن ملک کے دو لخت ہونے کے بعد یہاں جاگیر دارانہ نظام نے بھر پور انداز میں جڑیں مضبوط کیں ۔ جمہوری ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں حقیقی جمہوریت تاحال ایک خواب سے بڑھ کر کچھ اور نہیں ہے ۔ ہر تھوڑے عرصہ کے بعد ملک میں آمرانہ قوتیں اقدار میں آئیں جس سے ملک میں جمہوریت اور جمہور دونوں کو عذاب میں مبتلا کیا گیا۔

اقتدار کی کھینچا تانی کے باعث سیاسی جماعتوں میں عسکری ونگز کے قیام کا رواج پڑا۔ جب کسی مخالف نے بات نہ مانی تو بزور طاقت اپنے فیصلے مسلط کئے گئے۔ جنرل ضیاء کے بعد ملک کے عوام نے ایک بارپھر جمہوری اداروں کی بحالی اور اپنی خوشحالی کی امیدیں باندھ لیں مگر بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کا پہلا دور اسٹیبلشمنٹ کی نظر ہوا ۔ انکے اگلے ادوار میں باقاعدہ طور پر ملک میں شخصی حکومت قائم ہوئی ۔ صدر ، آرمی چیف ، چیف جسٹس سمیت تمام انتظامی عہدوں پر حکومت کا قبضہ قائم کیا گیا ۔ پھر بھی نام نہاد جمہوریت قائم نہ ہوسکی۔

ملک میں اس وقت تقریباً ہر سیاسی جماعت نے اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کئی جرائم پیشہ عناصر کو پال رکھا ہے ۔ رواں سال جون میں حکومت کی جانب سے ایک کردار گلو بٹ کے نام سے منظر عام پر آیا جس نے ایک جمہوری ملک میں تہلکہ مچادیا ۔ وہ سرعام انتظامیہ کی نگرانی میں ڈنڈا لہراتا گاڑیوں کے شیشے توڑتا رہا ۔ ڈرامائی انداز میں گرفتار بھی کیا گیا لیکن اب وہ رہا ہوچکا ہے ۔ ڈاکٹر طاہرالقادری اس پر ابتداء سے اب تک احتجاج کررہے ہیں اور اسلام آباد میں عمران خان کے مقابل دھرنا دئے ہوئے ہیں ۔

بات صرف گلو بٹ کی نہیں ہے بلکہ ہمیں ملکی تاریخ بتاتی ہے کہ یہاں جمہوریت کبھی نہیں پنپ سکی ۔ اسے ہمیشہ بیوروکریسی یا پھر گلوکریسی کا سامنا رہا ہے ۔ مجھے کہنا تو نہیں چاہئے لیکن مجبور ہوں کہ اس وقت ملک میں جمہوریت کی بقاء کی کوئی جنگ نہیں لڑی جارہی اور نہ سیاسی جماعتوں کے رہنماء کسی بھی طرح آئین کے پاسبان ہیں۔ انہیں فقط اپنے اقتدار کی کرسی ڈگمگاتے ہوئے محسوس ہورہی ہے۔ جسے وہ سنبھالا دینے لئے جمہوریت کی بحالی اور آئین کی بے توقیری کا راگ آلاپ رہے ہیں ۔ پڑوسی ممالک دہشت گردی اور قدرتی آفات کے ذریعہ پاکستان کو معاشی طور پر کمزور کررہے ہیں۔ تاکہ کسی بھی طرح سے ملک انتشار کی کیفیت سے باہر نہ آسکے۔

دوسری جانب دنیا کی تمام جمہوریت پسند قوتیں پاکستانیوں کی جہالت کا تماشا دیکھ رہی ہیں اور ازراہ لطف و کرم انہیں اس راستے کے خطرات سے مطلع کررہی ہیں۔ لیکن ہماری سیاسی جماعتیں ابھی تک پرانی روش پر عمل پیرا ہیں۔ اور قوم کو غلام بنائے ہوئے ہیں۔