خواتین کی امامت کا مسلہ
- منگل 14 / اکتوبر / 2014
- 4809
امریکہ کے بعد اب ہالینڈ میں بھی خواتین کے لئے مخصوص مسجد کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ خبر کے مطابق مسلم خواتین نے گزشتہ دنوں دارالحکومت ایمسٹرڈیم میں ایک ایسی مسجد کا افتتاح کیا ہے جس میں صرف خواتین عبادت کے فرائض سرانجام دے سکیں گی۔ اس مسجد کا افتتاح مصر کی خاتون ادیبہ نول السعادی کے ہاتھوں ہؤا جس کے خلاف مصر کی ایک عدالت میں اسلام سے برگشتہ اور مرتد ہو جانے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔ جس پر مصر کی مختللف لبرل تنظیموں نے عدالت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔
ملک میں بڑھتے ہوئے ہنگاموں سے خوفزدہ ہو کر یہ مفکر اسلام خاتون ہالینڈ چلی آئیں۔ انہوں نے مسجد کے افتتاحی اجلاس میں منبر پر کھڑے ہو کر اپنا وعظ مکمل کیا جس میں عورتوں کو نصیحت کی کہ وہ مردوں کی بالا دستی کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں اور ان کی بالادستی کو قبول کرنے سے انکار کر دیں۔ اپنے مساوی حقوق کے مطالبہ پر زر دیتے ہوئے اس خاتون نے کہا کہ فریضہ حج کے تعلق سے بیان دینے اور اسلام کے قانون وراثت کے قانون میں تبدیلی کرنے کے مطالبہ کی پاداش میں روایتی علما حضرات نے مصر کی ایک عدالت میں ان کے خلاف اسلام سے برگشتہ اور مرتد ہو جانے کا الزام عائد کر کے مردوں کی بالادستی کا ثبوت فراہم کر دیا ہے۔
اس نئی مسجد جس میں نماز کی امامت صرف خاتون کرے گی، کے افتتاحی موقع پر زیادہ تر مرد حضرات نے شرکت کی۔ یورپی یونین میں اسلامی تنظیم کے صدر اور سیکرٹری جنرل نے خواتین کے لئے مخصوص اس مسجد کے حوالے سے کہا ہے کہ مغربی معاشرہ اس طرح کی مساجد کی حوصلہ افزائی کر کے مسلمانوں کی توجہ اسلام کے حقیقی مسائل سے ہٹانا چاہتا ہے۔ یاد رہے کہ ہالینڈ کی 18 ملین آبادی میں مسلمانوں کی تعداد دس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ جس میں اکثریت کا تعلق ترکی اور مراکش سے ہے۔ ہالینڈ میں 450 مساجد ہیں جبکہ ایک ہزار کے قریب اسلامی ادارے ہیں۔
اس سے قبل اوباما کے دیس امریکہ کی ریاست ورجینیا میں افریقہ سے تعلق رکھنے والی اسلامیات کی ایک پروفیسر امینہ ودود نے نیویارک اپرمین ہیٹن کی ایک عمارت ایمسٹرڈیم ایونیو میں ایک چرچ کے بڑے ہال میں نماز جمعہ کی امامت کر کے تاریخ اسلام میں اپنا نام لکھوا لیا تھا۔ اسلامیات کی پروفیسر جس نے بہت پہلے ” اسلام اور عورت “ کے عنوان سے ایک کتاب لکھ کر مسلمان مفکروں ، دانشوروں اور علما کو چیلنج دے رکھا تھا نماز جمعہ کے خطبہ میں کہا۔ ” آج مسلمان مرد یہ بتاتا ہے کہ مسلمان عورت کو کیسا ہونا چاہئے جبکہ وہ کبھی عورت رہا ہی نہیں“۔ امینہ ودود نے مرد حضرات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ” قرآن پاک میں کہا گیا ہے کہ جب اذان کی آواز سنو تو دنیاوی کام چھوڑ کر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونے کے لئے روانہ ہو جاﺅ۔ جب اس فرمان میں قرآن نے صرف مرد حضرات کو ہی مخاطب نہیں کیا تو عورت کو مسجد سے کیسے دور رکھ سکتے ہیں؟۔ انہوں نے اپنے خطبے میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب خدا ” مذکر “ ہے نہ ” مؤنث“ تو پھر اسے مذکر ہی سے کیوں مخاطب کیا جاتا ہے؟
میرے حساب سے بھی وطن عزیز میں پچاس فیصد سے زائد آبادی رکھنے والی بے زبان مخلوق یعنی خواتین کو مسجد میں جا کر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایسے اسلام کو کون ” برابر کے حقوق دینے والا مذہب “ کہے؟ ایسا دین جس میں بیٹیوں ، بہنوں ، ماﺅں اور بیویوں کو مسجد کے قریب تک جانے کی اجازت نہیں ہے دنیا اس بارے میں کیا نتائج اخذ کرے گی؟ اور پھر مسجد سے دور رکھی جانے والی مائیں کیوں کر اور کس منہ سے اپنے بچوں کو مسجد ، خدا ، سجدہ اور عبادت وغیرہ کی اہمیت کے بارے میں تربیت دے سکیں گی؟۔ زندہ لوگوں کی بات چھوڑئیے عورت تو مردوں (قبرستان) کے پاس بھی نہیں جا سکتی اور ہم ہیں کہ پھر بھی ” برابر کے حقوق“ کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
مسلم ویب سائٹ میں چھپنے والی ایک رپورٹ میں مصر کے مفتی اعظم شیخ علی نے کہا ہے کہ اگر نمازی چاہیں تو عورت کے امام بننے کی اجازت ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق عرب ٹی وی العربیہ نے شیخ علی محترم سے ایک انٹرویو بھی کیا ہے جس میں شیخ نے کہا کہ فقہاء میں عورت کی امامت پر اتفاق رائے نہیں ہے۔ اس میں عورت کے امام/ امامہ بننے کی گنجائش ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ امام طبرانی اور امام العربی کے نزدیک عورت کی امامت جائز ہے۔
دوسری طرف آج کے اسلام میں عورت کی کیا حیثیت باقی رہ گئی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اسلام کے گڑھ سعودی میں کوئی عورت اپنے مرد ولی کے دستخط کے بغیر اسپتال میں بغرض علاج داخل تک نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان کے اردو اخبار جنگ نے ” اجتہاد ناگزیر ہے“ کے عنوان سے اپنا اداریہ سپرد قلم کیا ہے۔ جس میں اخبار جنگ لکھتا ہے ” ایک مکتب فکر کے نزدیک صدارتی نظام ، موسیقی اور نظام تعلیم ایسے مسائل ہیں جن کے بارے میں اجتہاد ہونا چاہئے“۔ اسلام میں موسیقی کی ممانعت کے بارے میں دو رائے نہیں ہو سکتی۔ اگر موسیقی کے بارے میں اجتہاد کر کے اسے مشرف بہ اسلام کیا جا سکتا ہے تو پھر خواتین کی امامت کے بارے میں مرد حضرات کیوں الرجک ہیں؟
جب یہ سب لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ آج کے مسلم معاشرہ میں اسلامی معاشرہ کی تشکیل میں اجتہاد کی اہمیت غیر معمولی ہے تو پھر خواتین کی امامت کے بارے میں اتنی بے رخی کیوں اختیار کی جا رہی ہے؟ ایک دلچسپ بات جس کا ذکر میں کرنا چاہوں گا وہ یہ ہے کہ کیا یہ حسن اتفاق ہے کہ دونوں خواتین جنہوں نے مساجد میں امامت کا بیڑہ اٹھایا ہے ان کا تعلق افریقہ سے ہے۔ اس لئے میرے حساب سے ضروری ہے کہ بھارت اور پاکستان کے علمائے کرام اور مذہبی مفکر عورت کے روحانیت میں مردوں کے برابر ہونے کی خواہش کا احترام کریں کہ دنیائے اسلام وسیع اور متنوع ہے۔ اگر خواتین گھروں اور ٹیلی ویژن پر باآواز بلند قرآن پاک کی تلاوت کر سکتی ہیں تو مسجد میں خدا کا نام لینے پر کیوں پابندی ہے؟
ہم پر لازم ہے کہ دور حاضر کے اسلامی مسائل کا حل تلاش کریں جو کہ ایک طویل عرصہ سے ہماری پسماندگی کا باعث ہے۔ اب عورت کی امامت کے مسئلے ہی کو لیجئے، سوائے برصغیر کے مسلمانوں کے دنیائے اسلام سے کوئی بلند آواز سامنے نہیں آئی اور برصغیر کے مسلمانوں کا اظہار یہ ہے کہ وہ خود کو ہوش مند ، دانشمند اور خرد مند سمجھتے ہیں جبکہ باقی دنیا کو انتہائی درجے کا احمق ، نادان اور بے وقوف گردانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ من گھڑت داستانوں کو تاریخی واقعات اور جھوٹی سچی مذہبی روایات کو حقیقت کا نام دے کر یہ امید کرتے ہیں کہ ساری دنیا انہیں حقیقت سمجھے۔ یہ بات میں پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں کہ ہمیں قدامت پسندی کے جال کو توڑنا ہو گا۔ اصلاح خوف کے سائے میں نہیں ہوتی، اس کے لئے جرات رندانہ چاہئے۔ میں آج کا اپنا یہ کالم یگانہ کے اس شعر پر تمام کرتا ہوں۔
سب ترے سوا کافر آخر اس کا مطلب کیا
سر پھرا دے انسان کو ایسا خبط مذہب کیا