لاحاصل بھاگ دوڑ
- بدھ 15 / اکتوبر / 2014
- 4393
کم و بیش 120 سے زائد سربراہان مملکت جمع تھے۔ بعض چھوٹے اور عالمی منظر نامے میں غیر اہم ممالک کے سربراہان کی تقاریر کے وقت بھی ہال میں نمائندو ں و سربراہان کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ لیکن میاں صاحب کی تقریر کے دوران 50 فیصد سے زائد خالی کرسیاں پوری قوم کا منہ چڑا رہی تھیں۔(یہ صورت حال پچھلے دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیش آئی)
مجھے میاں صاحب سے ذاتی طور پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ بلکہ میاں صاحب کیوں کہ خود کاروباری مزاج رکھتے ہیں اس لیے ہر دفعہ ان کے آنے پر یہ امید بندھ جاتی ہے کہ شاید ان کے آنے سے ڈانواڈول ملکی معیشت بہتری کی طرف گامزن ہو جائے۔ لیکن ہر دفعہ یہ امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ اس کی وجہ اب میاں صاحب خود ہیں؟ ان کے نا عاقبت اندیش مشیر و وزیر ہیں؟ یا میاں صاحب کا مزاج ہے ؟ یہ میاں صاحب کے علاوہ صرف اللہ ہی جانتا ہے۔
وحید کاکڑ صاحب کا فارمولہ ہو یا پھر غلام اسحٰق خان کا اختیار ۔ جب بھی میاں صاحب کی حکومت ختم ہوئی لوگوں نے شکر ادا کیا۔ لیکن پھر کچھ عرصے بعد لوگوں نے میاں صاحب کو دوبارہ موقع دیا کہ شاید ان کا مزاج کچھ تبدیل ہو گیا ہو۔ لیکن شومئی قسمت کہ ایسا کبھی نہیں ہوتا۔ میری ہمدردیاں میاں صاحب کے ساتھ ہیں کہ کبھی بھی ان کو آئینی مدت پوری کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ لیکن آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اپنے اقتدار پر پہلی ضرب کے بعد ہی میاں صاحب کو ایک تھنک ٹینک بنانا چاہئیے تھا جو اس بات کا تعین کرتا کہ کہیں غلطی میاں صاحب یا ان کی پارٹی ہی تو نہیں۔ آئندہ جب بھی ان کو اقتدار ملتا وہ اس تھنک ٹینک کی سفارشات کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت کرتے۔ جو شاید ان کی اپنی ذات کے ساتھ ساتھ ملک کے لیے بھی بہتر ہوتا۔
میاں صاحب پتہ نہیں ایک بات ہمیشہ ذہن سے نکال دیتے ہیں کہ بادشاہ لوگوں کے دلو ں میں نہیں رہ سکتے ۔ میں میاں صاحب کے لئے دل سے افسوس کرتا ہوں کہ یہ مشکلات بھی سہتے ہیں ۔ قربانیاں بھی دیتے ہیں لیکن پھر بھی ان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی مشکلات ان کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ ہو سکتا ہے ان کے خلاف سازشیں بھی ہو رہی ہوں۔ لیکن میاں صاحب کو ایک دفعہ خود بھی سوچنا ہو گا کہ کہیں مسلہ ان کے اپنے ساتھ ہی تو نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ان کے مشیر ہی ان کو غلط مشورے دے رہے ہوں۔
سب سے اہم نکتہ جو شاید میاں صاحب موجودہ سیاسی حالات میں نظر انداز کر رہے ہیں کہ میثاق جمہوریت کی وجہ سے موجودہ اپوزیشن نے تو اپنی حکومت کی مدت پوری کر لی تھی۔ میاں صاحب نے ان کی حکومت کی مدت پوری کرنے میں پورا ساتھ بھی دیا تھا۔ لیکن اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ یہ فرینڈلی اپوزیشن مشکل وقت آنے پر ان کا ساتھ نہیں دے گی ۔ کیوں کہ اپوزیشن اس وقت اپنا کردار یکسر بھول چکی ہے یا جان بوجھ کر فراموش کئے بیٹھی ہے۔ اپوزیشن کا کام حکومت کے اچھے کاموں کو سراہنا اور غلطیوں کی نشاندہی کرنا ہے۔ لیکن موجودہ اپوزیشن میاں صاحب کے ہر جائز و ناجائز کام کی حمایت پر تلی ہوئی ہے ۔ ایسا کرنا میاں صاحب کی حکومت کے لیے شدید خطرات کا سبب بن رہا ہے۔غلطیوں کی نشاندہی نہ کر کے نام نہاد اپوزیشن میاں صاحب کو حقیقت میں ایک اندھے کنویں کی طرف لے جارہی ہے۔
امریکہ یاترا کے موقع پر جانے کس مشیر نے میاں صاحب کو والڈ روف میں ٹھہرنے کا مشورہ دیا ۔ شاید مشورہ دینے والے نے یہ دلیل دی ہو گی کہ آتے جاتے لابی میں صاحب بہادر سے ملاقات کا شرف مل سکتا ہے۔(کیوں کہ صاحب بہادر بھی اسی ہوٹل میں مقیم تھے) لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ بلکہ مہنگے ترین ہوٹل میں ٹھہرنا، تقریر کے دوران عالمی برادری کی دلچسپی نہ ہونا اور برطانیہ و امریکہ میں مظاہرین کا سامنا ، ایسے عوامل تھے جو اس دورے کی ناکامی کا سبب بنے۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ پڑوسی ملک اور دیگر بعض اہم ممالک کے سربراہان نے اپنے سفارتخانوں میں رہائش اختیار کی ۔ اور پڑوسی ملک کے سربراہ کو تو سرکاری مہمان کا درجہ دیا گیا۔ جس سے میاں صاحب پر تنقید کے نشتر مزید تیزی سے چلنا شروع ہو گئے۔
میاں صاحب کے جن مشیروں نے میاں صاحب کے اتنے مہنگے دورے کے انتظامات کئے تھے ، تنقید کے جواب میں وہ کہیں نظر نہ آئے۔ میاں صاحب کے خلاف ایک مخصوص نعرے کی گونج برطانیہ و امریکہ میں بھی کم نہ ہو سکی ۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ میاں صاحب جس عالمی برادری کی حمایت پر سینہ تان کر بات کر رہے تھے، اب وہ بھی قدرے پیچھے ہٹتی نظر آ رہی ہے۔ میں نے شاید کسی پرانے کالم میں بھی ذکر کیا تھا کہ میاں صاحب کو اپنے زور بازو پر بھروسہ کرنا چاہئیے اور اپنی صلاحیتوں کا امتحان لینا چاہیے۔ نہ کہ اغیار کی مدد پر خوش ہوں۔
میاں صاحب کے لئے ایک اور مشکل مرحلہ یہ آن پڑا ہے کہ دھرنا پروگرام جو پہلے کسی قدر غیر منظم طریقے سے جاری تھا۔ اس میں بھی کچھ تبدیلی آتی نظر آ رہی ہے۔ اور خان صاحب نے طوفانی دوروں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ قادری صاحب بھی دیگر شہروں کا رخ کرنے کا ارادہ کر چکے ہیں۔ کراچی و لاہور کے جلسے کامیاب تصور کئے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ میانوالی کا ہوم گراؤنڈ پر کیا گیا جلسہ بھی کامیابی کی سند پا چکا ہے۔ ملتان میں ایک سانحے کے باوجود جلسہ خطرے کی گھنٹی بجا چکا ہے۔
پنجاب حکومت کو اس بڑھتے خطرے کا احساس ہے۔ اور شاید یہ سطریں شائع ہونے تک پنجاب حکومت جان بچانے کے لیے الیکشن ملتوی کرانے کی درخواست دے چکی ہو گی۔ جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی بھی اگلے کچھ دنوں تک جلسوں کا اعلان کر سکتی ہیں۔ پیپلز پارٹی اس کی ابتداء اپنے 18 اکتوبر کے جلسے سے کر رہی ہے۔ یہ رجحان ایک خطرناک صورتحال کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
دھرنے والوں پر ایک تنقید بھی تھی کہ انہوں نے ریڈ زون میں شرکاء کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ اور وہ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے غلط راستہ اپنا رہے ہیں۔ لیکن اب جو ملک گیر جلسوں کا ایک سلسہ شروع ہؤا ہے، یہ نہ تو غیر قانونی ہے، نہ ہی مخالفین کو اس سے روکا جا سکتا ہے۔ اور حیران کن طور پر خان صاحب تو مخالفین کے مرکز میں جلسے کر رہے ہیں۔ کراچی اور لاہور کے بعد لاڑکانہ میں جلسہ کرنے کا اعلان اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ حالات کی نزاکت کا اندازہ خورشید شاہ کے بیان سے لگایا جا سکتا ہے کہ وسط مدتی انتخابات پر غور کیا جا سکتا ہے۔
میاں صاحب کو اب اپنے مشیروں کے علاوہ اپنی قابلیت پر بھی بھروسہ کرنا ہو گا۔ ان کو اپنے مخالفین کا مقابلہ اپنے عملی اقدامات سے کرنا ہو گا۔ بجلی کی قیمت کم کر دیں۔ پٹرول سستا کر دیں۔ ملازمتوں پر سے غیر اعلانیہ پابندی کو اعلانیہ طور پر ختم کر دیں۔ کرپشن کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کریں۔ تعیناتیوں میں اقربا پروری حقیقی معنوں میں ختم کر کے دکھائیں۔ میٹرو کے علاوہ کچھ توجہ باقی منصوبوں پر دیں۔ ڈیمز بنائیں۔ لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کے بجائے تعلیم کو عام کریں۔ قرضے دینے کے بجائے نوجوانوں کو ملازمتیں دیں۔ اپنے وزیروں اور مشیروں پر یہ قدغن لگا دیں کہ وہ تنقید کا جواب تنقید سے نہیں بلکہ خدمت و کام کر کے دیں۔
میاں صاحب سے گذارش ہے کہ جتنی محنت آپ وزراء سے بیانات دلوانے پر کر رہے ہیں اس سے کئی گنا کم محنت اگر قابل، محنتی اور پر عزم لوگوں کا تھنک ٹینک بنانے پر صرف کر دیں جو صرف آپ کو نیک نیتی سے مشورے دیں تو آپ کو بہت جلد مسائل سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔ یہ تھنک ٹینک کم از کم سیاستدانوں پر مشتمل نہ ہو۔ وسط مدتی انتخابات کا خوف یا پھر دھرنوں کی فکر ذہن سے نکال کر اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں تو شاید دھرنا پروگرام بھی اپنی افادیت کھو بیٹھے گا۔ لیکن کارکردگی شرط ہے
اپنی کابینہ میں یہ احساس اجاگر کریں کہ وہ نواز لیگ کے نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر ہیں۔ ان اقدامات کو آج سے نافذ کرنا شروع کر دیں تو “ گو نواز گو “ کا نعرہ کبھی سننے کو نہیں ملے گا۔ لیکن اگر ان عملی اقدامات سے پہلوتہی برقرار رہی تو پھر امریکہ یاترا یا اندرون ملک دوروں کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ بلکہ سب کچھ ایک لاحاصل بھاگ دوڑ بن جائے گی۔ جس کا نہ آپ کی ذات کو فائدہ ہو گا نہ ہی ملک کو۔ اور نعروں کی گونج بھی یقیناًآپ کے کانوں میں پڑتی رہے گی۔