منافقت ہار گئی

  • جمعہ 17 / اکتوبر / 2014
  • 4571

بس کسی بات کا “ ریکٹ “ چل پڑتاہے ۔ پھر ان لکھے احکامات اور ان لکھے معاہدے کے تحت یہ  ریکٹ ہر جگہ نطر آتا ہے ۔ یہ ریکٹ، فلم، ادب، موسیقی اور صحافت میں آپ کو چلتا نظر آتا ہے۔  ایک دور تھا پاکستان کی فلموں میں بدماشوں کے نام بننے والی فلموں کا  ریکٹ چلا تھا۔ بدماشوں کے نام پہ کیا کیا نہیں فلمیں بنی اور کھڑکی تھوڑ ہفتے کرکے کامیاب رہیں۔

پھر موسیقی میں کلاسیک گائیکی کا ریکٹ  چل پڑا ۔ کوئی فلمی گا نا ہو، فوک گیت ہو اس میں کلاسیک تان تڑکا ضرور سُنائی دیتا چاہے اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو۔ اسی طرح  ہندی اردو اور انگریزی گیتوں، پنجابی صوفی شاعری شامل کرنے کا  ریکٹ چل نکلا۔  ادب میں مختلف ادوار میں مختلف ریکٹ چلتے رہے ہیں۔ کبھی حقیقت نگاری کا ریکٹ، کبھی وجودیت کا ریکٹ، کبھی غزل دشمنی کا ریکٹ اور کبھی نثری نظم کا ریکٹ ۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان تمام شعبوں میں جو یہ ریکٹ چلتے ہیں ان کا کوئی جواز نہیں ہوتا یا یہ تمام کے تمام فضول قسم کے ریکٹ ہوتے ہیں۔ بس جب یہ ریکٹ چلتے ہیں تو ہر کوئی اس میں منہ مارنا اپنا فرض سمجھ لیتا ہے چاہے وہ اس موضوع کی الف بے جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔ صحافت میں ہر ریکٹ مستقل جگہ نہیں بنا پاتا کیونکہ اخبار کی اپنی زندگی ایک دن کی ہوتی ۔ لہذا یہاں ریکٹ جلد تبدیل ہوتے رہتے ہیں مگر پھر بھی صحافت میں کچھ ریکٹ مستقل جگہ بنائے ہوئے ہیں ۔ قومی نظریہ کا ریکٹ ، پاکستان اسلامی قلعہ کا ریکٹ ، انڈیا دشمنی کا ریکٹ ، مقدس اداروں کا ریکٹ  اور اسی طرح پانچ دس اور ریکٹ ہیں جو اخبارات میں مستقل جگہ بنائے ہوئے ہیں۔

 پاکستان میں منافقت کا ریکٹ

پہلے بھی اس موضوع پہ لکھا جاتا تھا مگر پچھلے آٹھ دس سالوں سے سوشل میڈیا ٹی وی اور اخبارت میں “ پاکستان میں منافقت “  کا ریکٹ مستقل جگہ بنائے ہوئے ہے۔ سوشل میڈیا میں ہر دوسری پوسٹ میں اس بات کا رونا رویا جاتا ہے کہ پاکستان کا معاشرہ منافقت ذدہ معاشرہ ہے اور جب تک ہم انفرادی اور بطور معاشرہ سے منافقت نہیں دور نہیں کرتے ہم اس معاشرے کو دفن ہونے سے نہیں بچا سکتے۔ اخبارات اٹھاکر دیکھ لیں۔ اسی بات کا رونا ملے گا۔

سرکاری نوکریوں میں ہر قسم کی تباہی پھیلانے اور تباہی پھیلنے میں مدد گار بننے والے جب پینشن پاتے ہیں تو سب سے پہلے وہ کالم نگار بن کر اس ملک میں ہونے والی منافقت کا پردہ چاک کرنے لگتے ہیں۔ جس کو وہ دوران نوکری روکنے کی کوشش کرتے رہے مگر ملک کے مفاد میں کام کرتے رہے ۔  پرانے سے لے کر نئے بننے والے صحافی بھی اپنے خبروں ، مضمونوں اور کالموں میں پاکستان میں ہونے والی منافقت کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ اور اس منافقت کا پردہ چاک کرتے ہوئے وہ کیا کیا ثبوت فراہم نہیں کرتے۔ 

جیسا کہ میں نے کہا اس کا یہ مطلب نہیں یہ منافقت معاشرے میں موجود نہیں اور یہ غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔ یہ سب درست مگر ملتان کے ضمنی اینتخاب میں میں نے دیکھا لوگوں نے کھل کر منافقت کو شکست دے دی ہے وہ کیسے لیجئے سُن لیں مجھ سے۔

پاکستان تحریک انصاف کی منافقت

پاکستان تحریک انصاف نے انتخابات کو دھاندلی والے انتخابات قرار دیتے ہوئے اس پہ احتجاج کیا۔ لانگ مارچ کیا۔ دھرنا دیا اور آخر قومی اسمبلی میں اپنی نشستوں سے استعفے دے دئے ۔ یہاں پہلی منافقت تو وہ یہ کر رہی ہے کہ استعفے بھی دئے ہیں مگر اس کے ارکان اسلمبلی کے ہوسٹل اور کاریں بھی استمعال کر رہے ہیں۔ بار بار اسپیکر کے بلانے پہ اپنے استعفوں کی تصدیق کے لئے ان کے پاس جا نہیں رہے۔ اس اُمید پہ کہ شاید حکومت سے کوئی معاہدہ ہو جائے ۔ کہتے ہیں ہم اکیلے اکیلے نہیں اکٹھے آئیں گے۔ کیا ان کو اپنے اسمبلی کے ارکان پہ اعتماد نہیں ہے ۔

اب آتے ہیں ملتان کے کے ضمنی انتخاب پر۔ تحریک انصاف نے خود تو قومی اسمبلیوں  سےاستعفے دئے ہیں مگر ملتان کئے ضمنی انتخاب میں آزاد امید وار کی کھلم کھلا حمایت کی ۔ محمود قریشی اُس آزاد امید وار کو ملتان کے جلسہ میں اسٹیج پر بلاتا ہے اور لوگوں سے کہتا ہے: “ خرگوش کو بلا بنا دو ۔“ کیا یہ کھلی منافقت نہیں ہے۔ اگر اس کا مطلب نون لیگ کو تنگ ہی کرنا ہے تو کیا یہ بہتر نہ ہوتا آپ اپنے آدمی کو ٹکٹ دیتے۔ وہ کامیاب ہو کو استعفیٰ دے دیتا۔ پھر انتخاب ہوتا ،  پھر کامیاب ہو کر استعفیٰ دے دیتے۔ اس طرح حکومت کو تنگ کرتے رہتے۔ مگر کم از کم اس منافقت سے تو بچ جاتے۔ پاکستان تحریک انصاف نے سرکاری طور پر انتخاب میں حصہ تو نہیں لیا مگر کھلم کھلا انتخاب میں حصہ لے کر منافقت کی۔ اور ملتان کے لوگوں نے کم تعداد میں ووٹ ڈال کر تحریک انصاف کی اس منافقت کو شکست دی ہے۔ 

نون لیگ کی منافقت

نون لیگ نے بھی وہی منافقت کی جو تحریک انصاف نے کی۔ سرکاری طور پر انتخاب میں حصہ نہیں لیا مگر جاوید ہاشمی کی حمایت کی۔ صرف اس ڈر سے کہ اگر ہمارے نمائندے کو شکست ہو گئی تو یہ عمران خان کی جیت تصور کی جائے گی۔ اور حکومت کی شکست قرار پائے گی۔ اس پر اور بڑی منافقت کی کہ اگر تم نے جاوید ہاشمی کی حمایت کر ہی دی ہے تو پھر کھل کر حمایت کرو۔ لاہور سے آٹھ دس نمبر کے لوگوں کو ملتان روانہ کر دیا کہ جا کر جاوید ہاشمی انتخابی مہم میں حصہ لو۔ اس سے بہتر تھا نواز شریف یا شہباز شریف ملتان میں جلسہ کرتے نون لیگ کے مقامی لرگوں کو ہاشمی کی حمایت پر راضی کرتے۔

ملتان ہمیشہ سے نون لیگ کا گڑھ رہا ہے۔  اگر نون لیگ کی قایدت ذرا سا بھی جوش دکھاتی تو ہاشمی کبھی بھی یہ انتخاب نہ ہارتا۔ مگر یہاں بھی منافقت کا سہارا لیا گیا اور ملتان کے نون لیگ کے ووٹرز نے گھر بیٹھ کر نون لیگ کی اس منافقت کو شکست دی۔ 

پاکستان پیپلز پارٹی 

پاکستان پیپلز پارٹی کو اس لحاظ سے مبارک باد دینی چاہئیے کہ انھوں نے اس سلسلے میں منافقت نہیں کی۔ اپنے آدمی کو ٹکٹ دیا ۔ چاہے اس کو بری طرح شکست ہوئی اور اس کی ضمانت ضبط ہو گئی۔ مگر اس نے منافقت نہیں کی۔ تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کی پیپلز پارٹی نے منافقت نہیں کی ۔ پہلی تو منافقت یہ کہ صرف سیاسی نعروں کے علاوہ سرائیکی صوبہ بنانے کے لیے عملی طور پہ کچھ نہیں کیا ۔ اور پھر اس انتخاب میں بھی یہ منافقت کی کہ پارٹی انتخاب میں حصہ لے رہی تھی مگر مرکزی قیادت  میں سے کوئی بھی اس انتخابی میم میں حصہ نہیں لے رہا تھا۔  سب زرداری کی چاپلوسی کرنے کے لیے لاہور میں ڈیرے ڈالے بیٹھے تھے۔ ملتان کی پیپلز پارٹی کے لوگوں نے پارٹی کے نمائندے کی ضمانت ضبط کروا کے پیپلز پارٹی کی اس منافقت کو شکست دے دی ۔

یہ تمام باتیں بتا رہی ہیں کہ  لوگ اب اپنے ساتھ ہونے والی منافقت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ 

ملتان کے انتخاب نے کیا پیغام دیا 
 
عمران خان صاحب کی پارٹی نے کتنا بڑا لانگ مارچ کیا۔ دو ماہ سے دھرنا دیا ہؤا ہے۔  ہر شہر کے جلسے میں  میں بقول ان کے  تین پانچ لاکھ سے کم لوگ نہیں تھے۔ ملتان کا جلسہ تو منعقد ہی اس اتنخاب کے ہؤا تھا۔ مگر ہؤا کیا؟  اس اتنخاب میں رجسڑڈ ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 41 ہزار 527 ہے۔ مگر پارٹی لوگوں کو انتخاب میں ووٹ ڈالنے کے لیے کتنے لاگوں کو باہر نکال سکی ایک لاکھ سے بھی کم لوگ۔  حالانکہ  اس وقت پورے ملک میں عمران کیا ہوا چلی ہوئی ہے۔ ملتان کا جلسہ  اس انتخاب کے لئے کیا گیا تھا۔ 9 افراد بھی جلسہ کی انتظامیہ کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔ مگر پارٹی کے کہنے پر ووٹر باہر نہ نکلے۔ جمعرات کے انتخاب میں ایک لاکھ سے بھی  ووٹ کاسٹ ہوئے۔  عامر ڈوگر کو  52321  اور ہاشمی کو  38393 ووٹ ملے۔  جاوید صدیقی کو6326، رشید کو 1446 اور ایک  امید وار کو صرف 273  ووٹ حاصل ہوئے۔ اسطرح ایک اور امید وار کو 222 مل سکے۔ اس طرح کل  کاسٹ ہونے والے ووٹ 98981 تھے۔

یہ کس کی شکست نظر آرہی ہے۔ یہ سب سے بڑی شکست عمران کی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ عمران کا حمایت یافتہ تین لاکھ نہیں تو کم از کم دو ڈھائی لاکھ ووٹ لیتا۔ یا کم از کم اتنے لوگ ووٹ تو کاسٹ کرتے۔ مگر تیس فیصد سے بھی کم شرح کیا بتا رہی ہے؟ ایک تو لو گوں نے عمران کی منافقت کا ساتھ نہیں دیا کہ استعفیٰ بھی دو اور انتخاب بھی لڑو۔ دوسرا بڑا اور اہم پیغام یہ ہے کہ:
عمران جی بس ہم اُپ کے اس طریقہ کار کے ساتھ نہیں ہیں۔ 
ملتان کا انتخاب منافقت کی اورعمران کی شکست ہے۔