یس بیل پرائز

  • جمعہ 17 / اکتوبر / 2014
  • 4485

دیکھا آپ نے !
ہمارے عالم فاضل دانشوروں اور جید اخبار نویسوں کا وہ اندیشہ بالآخر درست ثابت ہوا جس کا اظہار وہ ایک عرصے سے کر رہے تھے۔
سازش !! عالم اسلام کے خلاف مغربی طاقتوں کی ایک اور سازش۔ خاص طور سے پاکستان کے خلاف۔
وجہ ؟ ؟
اسکا اسلامی ملکوں میں واحد ایٹمی قوت ہونا، جس نے کافروں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔

ذرا سوچیئے۔ ایدھی صاحب کے ہوتے ہوئے ملالہ کو نوبیل انعام دینے کا مقصد سوائے اسکے اور کیا ہو سکتا ہے کہ یہ بچی سر میں گولی لگنے کا ڈرامہ رچا کر مکمل طور پر ان طاقتوں کی ایجنٹ بن چکی ہے جو پاکستان کو سیکیولر ریاست میں تبدیل کر کے برباد کردینا چاہتی ہیں۔ یہی طاقتیں نوبل پرائز والی سازش پاکستان کے خلاف ایک مرتبہ پہلے بھی کر چکی ہیں۔ لیکن آفریں کہ ہماری بہادراور خوددار قوم نے اپنے بالغ و عاقل اور تاریخ کا گہرا شعور رکھنے والے لیڈروں کی رہنمائی میں انکے مکروہ عزائم خاک میں ملا دیئے تھے اور انکے نوبل ایجنٹ کو یہاں سے بھاگتے ہی بن پائی تھی۔اس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔

اقبالؔ کہتے ہیں ۔۔
خراج کی جو گدا ہو وہ قیصری کیا ہے
توبھائی پھراس پیغام پر عمل کرتے ہوئے ہم کسی پرائز کی بھیک مانگنے کی بجائے اپنی قیصری اپنے ہی زور بازو سے کیوں نہ حاصل کر لیں۔
لہٰذاہ کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ ہم “ نوبیل پرائز “ کے مقابلے میں اپنا “ یس بیل پرائز“ متعارف کروا دیں!!

جی ہاں ! یس بیل پرائز۔ میڈ ان پاکستان۔
اور اسکی رقم اتنی بڑھا دی جائے کہ نوبل انعام حاصل کرنے کی آرزو رکھنے والا ہر ایجنٹ “ آ بیل مجھے مار“ کی تمنا کرنے لگے۔
اور ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔ ہمارے پاس کیا نہیں ہے !

ڈالر ! وہ تو اربوں کی تعداد میں سوئس اور دوسرے بیرونی بینکوں میں پڑے ہیں۔ سارے کے سارے اپنے ہی غیرت مندوں کے ہیں جو ناموس وطن کے نام پر خوشی خوشی دس بیس ملین ڈالر اس کار خیر میں لگانے پر آمادہ ہو جائیں گے۔ سو یہ مسئلہ تو حل ہؤا۔
انعام کا فیصلہ کرنے کے لئے یس بیل کمیٹی ؟
اسکا انتخاب بھی کوئی مسئلہ نہیں۔
پارلیمنٹ میں نمائیندگی رکھنے والی ہر سیاسی جماعت اس میں اپنے نمائندے شامل کر سکتی ہے۔عوام کے یہ سچے کھرے صادق و امین خادم سب کے سب الیکشن کمیشن کی چھلنی سے چھن کر نکلے ہوئے ہیں۔کسی کی ڈگری بھی جعلی نہیں۔ ماشااللہ بہت پڑھے لکھے بھی ہیں۔

اور اگر آپ چاہیں تو دو ایک اینکر پرسن اور تجزیہ نگار بھی لے سکتے ہیں جنہیں اپنی ٹی وی سکرینوں پر آپ تواتر سے دیکھتے رہتے ہیں۔وہی جو ہر شام گائیڈ بکوں سے نئی نئی معلومات لا کر ناظرین کے حلق میں انڈیلتے ہیں اور پھر گھر جانے تک خود بھی بھول جاتے ہیں کہ آج کیا رٹا لگایا تھا۔


اور ہاں ! ان سابق جنرل صاحب کو لینا مت بھولیئے جو ریٹائرمنٹ کے بیسیؤں سال بعد ابھی تک اس عمر میں بھی عوام کی خدمت سے دستربردار ہونے کو تیار نہیں۔سنا ہے انہوں نے اپنے ڈرائنگ روم میں اپنی ہی ایک قد آدم تصویر سجا رکھی ہے جس میں یہ کئی کلو تمغوں کے بوجھ کے باوجود سیدھے کھڑے مسکرا رہے ہیں۔ یہ بھی سنا ہے کہ یہ ہر صبح اپنے اس پوٹریٹ کے سامنے کھڑے ہو کر اسے سیلوٹ کرتے ہیں اور پھر شام کو ٹی وی کے کسی پراگرام میں اپنی دانش کے موتی بکھیرنے نکل جاتے ہیں۔ بہت عظیم انسان ہیں۔ یوں سمجھئے اقبال کے مردمومن اور شاہین وغیرہ کی مجسم تصویر۔

اور اگر ہمارا مشورہ مانیں تو کمیٹی کی سربراہی فقیر منش وزیر اعظم صاحب کو دیں جو نہ صرف بہت پڑھے لکھے ہیں بلکہ بڑے بڑے لوگوں از قسم امریکی صدور وغیرہ کے سامنے بھی اپنے پڑھنے لکھنے کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔سنا ہے انکے چھوٹے سے گھر میں قدآدم پوٹریٹ تو بہت ہیں لیکن داخلے کی سیڑھیوں کے دائیں بائیں بھس بھرے دو ببر شیر بھی پہرہ دیتے ہیں جو ہر وقت دھاڑتے رہتے ہیں۔۔۔ کم پرائم منسٹرکم ۔۔ کم پرائم منسٹر کم ۔

اور اگروزیر اعظم بہت مصروف ہوں تو تو پھر اپنے ان اعزازی ڈاکٹر صاحب کو کمیٹی کا سربراہ بنا دیں جو پروٹوکول سے شدید نفرت اور پابندی وقت کا بے حد خیال رکھتے ہیں اور کبھی کسی سواری کو لیٹ نہیں ہونے دیتے۔ان کی انہیں خدادا صلاحیتوں پر انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی گئی تھی۔ ماشااللہ بہت خوش شکل اور پر کشش شخصیت کے مالک ہیں جسے انکے چمکیلے سوٹ اور بھی پر کشش بنا دیتے ہیں۔آیات قرانی روانی سے پڑھنا اسلام سے انکی بے پناہ محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

یس بیل پرائز میڈ ان پاکستان کمیٹی میں کم از کم ایک نامور سائنسدان کا ہونا بھی ضروری ہے تاکہ دنیا کو اس میدان میں پاکستان کی خدمات اور ایجادات کا پتہ بھی چل سکے۔ ملک میں اتنے بہت سارے سائنسدانوں کے ہوتے ہوئے چناؤ تو خا صہ مشکل ہے لیکن فوری طور پر ایک نام انجینئر آغا صاحب کا ذہن میں آتا ہے۔ کیا خیال ہے آپ کا ! جی ہاں وہی جنہوں نے دنیا کو پانی سے موٹر چلا کر دکھا دی دی تھی۔ جس پر بڑے بڑے ایٹمی سائنسدان بھی دنگ رہ گئے تھے۔ ہماری رائے میں تو فزکس میں میں سب سے پہلا یس بیل پرائز بھی انہی کو ملنا چاہیئے۔

سو جیسا کہ ہم نے پہلے کہا، اگر باہر والوں سے کسی پرائز کی خیرات لینے کی بجائے ہم خود انحصاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا یس بیل پرائز میدان میں لے آئیں تو نہ صر ف اپنے عظیم قوم ہونے پر ہمارے تفاخر میں اضافہ ہو گا بلکہ باہر والے جب دیکھیں گے کہ ہر سال اس ملک میں کتنے لوگ یہ پرائز حاصل کرتے ہیں تو جل جل کر آدھے رہ جائیں گے۔

ویسے ہمیں بھی چاہیئے کہ ادلہ کا بدلہ کے طور پر ہم بھی ان ملکوں میں اپنے کسی ایجنٹ کو ایک آدھ پرائز دے ہی دیا کریں۔
جہاں تک ایدھی صاحب کا تعلق ہے تو انکی عظمت کسی پرائز کی محتاج نہیں۔ یہ درویش تولوگوں کے دلوں میں بستا ہے۔
رہے نام اللہ کا۔