بلوچستان: بغیر تعلیم ترقی ندارد

  • جمعہ 17 / اکتوبر / 2014
  • 6499

ایک شے طے ہوچکی ہے کہ اب تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہی اقوام ترقی یافتہ ہونے کا اعزاز حاصل کررہی ہیں جو تعلیمی میدان میں گراں قدر اقدامات کررہی ہیں ۔ پاکستان کو قائم ہوئے 67 سال ہوچکے ہیں لیکن بدقسمتی سے ملک میں تعلیمی پسماندگی پر کسی بھی دور میں کسی قسم کے مؤثر اقدامات نہیں کئے گئے۔ جس کی وجہ سے ملک بھر میں خواندگی کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہؤا۔

غیر سنجیدگی کے باعث کئی تعلیمی ادارے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ بچے زمین پر بیٹھ کر علم کی پیاس بجھارہے ہیں ۔ اساتذہ کی حالت یہ ہے کہ بیشتر گھر بیٹھے تنخواہیں لے رہے ہیں جبکہ کئی گھوسٹ اسکول بھی کام کررہے ہیں جوقومی خزانہ پر بوجھ ہے ۔ صوبہ سندھ میں تعلیم کی جانب توجہ دینے یا محکمہ تعلیم میں کوئی بہتری نہ ہونے کی بڑی وجہ سیاسی محاذ آرائی ہے ۔ خیر پختون خوا میں تعلیم کے حوالے سے اقدامات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ البتہ پنجاب میں ہر دور میں کچھ نہ کچھ پیش رفت ہوئی۔ لیکن اسے اطمینان بخش بہر حال نہیں کہا جاسکتا۔ جبکہ بلوچستان میں موجودہ حکومت کی جانب سے تعلیمی ایمر جنسی کے نفاذ کے باوجود شعبہ تعلیم کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ جس پر غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ ساتھ خود حکومتی حلقوں کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔

صوبے میں سکول جانے کی عمر کے دو تہائی بچے سکولوں سے باہر ہیں۔  سرکاری سکولوں میں صرف چھ فیصد سکول ہائی جبکہ 37فیصد سکول ایک ہی کمرے پر مشتمل ہیں۔ بلوچستان کے محکمہ تعلیم  فروغ تعلیم کے لئے کام کرنے والی تنظیم الف اعلان کے اعداد شمار کے مطابق بلوچستان میں کل12ہزار3سو47 سرکاری سکول ہیں جن میں58 فیصد سکولوں میں صرف ایک استاد تعینات ہے۔ جبکہ اساتذہ کی17فیصد منظور شدہ اسامیاں خالی ہیں۔

سرکاری سکولوں کا انفراسٹرکچر انتہائی خراب ہے جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ47فیصد سکولوں کی عمارتوں کی حالت غیر اطمینان بخش ہے۔ صوبے کے 5 میں سے4 سکولوں میں بجلی،  3 میں سے 2 سکولوں میں پینے کا پانی ،  4 میں سے3 سکولوں میں حاجت خانوں اور ہر4 میں سے3 سکولوں کو چار دیواری تک میسر نہیں ہے۔ اعداد شمار کے مطابق بلوچستان میں سکول جانے کی عمر کے27لاکھ بچے ہیں جن میں 18لاکھ سکول نہیں جاتے ۔ پرائمری سکول میں داخلہ لینے والے8 لاکھ65 ہزار3سو37 بچوں میں سے 57 فیصد پرائمری پاس کرنے سے قبل تعلیم کو خیر باد کہہ دیتے ہیں۔

سکول نہ جانے والے بچوں میں لڑکیوں کی شرح زیادہ ہے۔ 5سے16سال کی عمر کی62 فیصد لڑکیاں سکولوں سے محروم ہیں۔ پرائمری سکولوں میں لڑکیوں کے داخلے کی شرح35فیصد ہے جوکہ ہائی سکول تک پہنچتے پہنچتے صرف4 فیصد رہ جاتی ہے۔ قوم پر ستوں کی قیادت میں قائم موجودہ حکومت نے صوبے میں تعلیمی ایمر جنسی کا نفاذ کیا ہے مگر آج بھی بلوچستان میں اندازاً216فرضی یاغیر فعال سکول ہیں۔ صوبے کا تعلیمی معیار پورے ملک میں سب سے زیادہ خراب ہے اور تعلیمی درجہ بندی کے لحاظ سے بلوچستان کا کوئی بھی ضلع اوپر کے درجوں میں نہیں آتا۔

تعلیمی ایمر جنسی کے نفاذ کے باوجود بلوچستان کے سکولوں میں ہر روز14فیصد اساتذہ غیر حاضر رہتے ہیں اساتذہ کی کمی اور تعلیمی ابتری کے باعث زیر تعلیم طلبہ کی صلاحیت متاثر ہورہی ہے جس کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ پانچویں میں زیر تعلیم51فیصد بچے اردو کہانی روانی سے نہیں پڑھ پاتے۔ 71فیصد انگریزی کا ایک بھی جملہ روانی سے نہیں پڑھ سکتے اور61 فیصد ایسے ہیں جو ریاضی کے عام سوال بھی حل نہیں کرسکتے۔

ماہرین تعلیم کے مطابق اس پر یشان کن صورتحال کی مختلف وجوہات ہیں جن میں سکولوں کی کمی، سکولوں میں سہولیات کی عدم فراہمی، اساتذہ کی کمی اور غیر حاضری، ان کی سیاسی بنیادوں پر تعیناتیاں اور مڈل وہائی سکولوں کے طویل فاصلے پر قائم ہونے جیسے محرکات سر فہرست ہیں۔ بلوچستان میں 5 سے 16سال کی عمر کے 27لاکھ بچے موجود ہیں جن میں سے 18لاکھ یعنی 66فیصد بچے سکول نہیں جاتے بلوچستان میں تعلیم مکمل کئے بغیر سکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد انتہائی حد تک خطرناک بڑھ چکی ہے ۔ پرائمری سکول میں داخلہ لینے والے بچوں کی تعداد 8لاکھ 65ہزار 337ہے مڈل اور سکینڈری سکول میں پہنچ کر یہ تعداد تقریباً7لاکھ کم ہوکر صرف ایک لاکھ 91ہزار 300رہ جاتی ہے۔

سکول میں داخلہ لینے والے 57 فیصد بچے پرائمری پاس کرنے سے پہلے ہی سکول چھوڑ دیتے ہیں۔ صرف 23فیصد لڑکیاں ایسی ہیں جو کبھی اسکول گئی ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں 61فیصد لڑکے ایسے ہیں جو کبھی اسکول گئے ہیں ۔ بلوچستان میں گورنمنٹ اسکولوں کی تعداد ضرورت سے بہت کم ہے۔ تعلیمی کی ناکافی فراہمی نہایت سنگین مسئلہ ہے۔ بلوچستان میں گورنمنٹ اسکولوں کی کل تعداد 12347ہے جن میں سے صرف 6فیصد ہائی سکول ہیں۔ زیادہ تر بچے گورنمنٹ اسکولوں میں پڑھتے ہیں 5 سے 16سال کی عمر کے 76فیصد بچے گورنمنٹ اسکولوں میں جبکہ 19فیصد پرائیوٹ سکولوں میں جاتے ہیں۔ صرف 5 فیصد بچے مدرسوں میں داخل ہیں۔

تعلیمی درجہ بندی کے لحاظ سے تمام صوبوں اور علاقہ جات کی نسبت بلوچستان کا تعلیمی معیار بہت کم ہے۔ تعلیمی درجہ بندی کے لحاظ سے بلوچستان کا کوئی ضلع بھی اوپر والے درجوں میں نہیں آتا ہے۔ بلوچستان کے 30اضلاع میں سے 13ضلعوں کا سکور 50سے بھی کم ہے۔ بلوچستان کے کچھ علاقوں میں صورتحال اور بھی خراب ہے جیسا کہ بارکھان کے 81فیصد اسکول صرف ایک کمرہ جماعت پر مشتمل ہیں ۔ پنجگور میں نجی تعلیمی ادارے وزیر اعلیٰ کی مکمل یاددہانیوں کے باوجود شرپسندوں کے نشانے پر رہنے کے بعد بالآخر بند ہوچکے ہیں ۔

حکومت کی جانب سے جب بھی امن و امان کی بہتری کے دعویٰ بھی کئے جاتے ہیں اس کے اگلے ہی روز صوبہ میں کہیں نہ کہیں سے دھماکوں کی گونج سنائی دیتی ہے جو تمام بہتری کے اقدامات پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ حکومت پھر ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہ جاتی ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سے ذرائع ہیں جو کم از کم اس شورش زدہ صوبہ میں تعلیم ماحول کو آگے بڑھنے میں مدد دے سکیں ۔ اس حوالے سے پشتوں اسٹوڈٹنس فیدرریشن نے رواں سال کے ابتداء میں اسکول داخلہ مہم چلائی تاکہ والدین میں تعلیم کے لئے شعور پیدا کیا جائے ۔ کوگہ مہم بھر پور انداز میں چلائی گئی لیکن اس کے مثبت نتائج سامنے نہیں آئے۔ 

مبصرین کا کہنا ہے کہ صوبہ میں انتہاء پسندی، دہشت گردی ، علیحدگی اور عصبیت پسندی کی فضاء موجود ہے ۔ صوبہ میں ایک ضلع یا علاقہ سے دوسرے ضلع یا علاقہ میں جانا غیر محفوظ ہوگیا ہے۔ یعنی صوبہ بھر میں نو گوایریاز بن چکے ہیں۔ لیکن اس حقیقت کو حکومتی سطح پر کبھی بھی تسلیم نہیں کیا گیا ۔ جب تک حکومت زمینی حقائق کو تسلیم نہیں کرتی بلوچستان کسی بھی لحاظ سے ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کی جانب سے محض دعوؤں پر اکتفا نہ کیا جائے بلکہ آگ کے اس دریا کو عبور کرنے کیلئے اقدامات ہونے چاہیئں۔