کیا بلاول کامیاب ہؤا
- اتوار 19 / اکتوبر / 2014
- 4154
بلاول بھٹو زرداری کے بارے بات کرتے ہوئے اکثر اس جملے سے بات شروع ہوتی ہے کہ “ ابھی وہ بچہ ہے “ ۔ جس طرح پیپلز پارٹی اور خاص طور پر جب بھی آصف زرداری کی بات کی جاتی ہے تو لفظ کرپشن کی گردان شروع کر دی جاتی ہے۔ اور ان حالات پر کبھی بات نہیں ہوتی جن حالات سے زرداری اور اس کی حکومت گزری تھی ۔
فوج سے لے کر عدلیہ تک اور جماعت اسلامی سے لے کر مسلم لیگ تک سب اس کے خلاف صف آرا تھے۔ کبھی میمو سیکنڈل، کبھی اثاثے سیکنڈل، کبھی خفیہ اہجنسیوں پر کنٹرول کا سیکنڈل۔ اوپر سے سارا میڈیا آئے دن حکومت کے خلاف دن رات شو مچا رہا تھا اور بتا رہا تھا کہ بس حکومت آج گئی کہ کل۔ کبھی ایوان صدر میں جانے والی ایمبو لینس کی تصویر دکھائی جاتی اور کبھی ہوائی اڈے پر کھڑے جہاز کی تصویر دکھائی جاتی، جو زرداری کو لینے کے لیے آیا ہؤا ہوتا۔ اور یہ کہ زرداری کو رات سوتے ہوئے بندوق ساتھ لے کر سونا پڑتا۔
محترمہ بے نظیر بھی جب سیاست میں آئی تھیں تو تقریباٌ اسی عمر کی تھیں جس مٰن اس وقت بلاول ہے۔ ان کو بھی لوگ سنجدگی سے نہیں لے رہے تھے۔ حتیٰ کہ پیپلز پارٹی میں انکل کی عمر کے لوگوں کے لئے یہ بڑا مشکل تھا کہ وہ اس بچی کی قیادت تسلیم کریں۔ کل تک جس کو وہ پنکی بیٹی کہہ کر محاطب کرتے رہے تھے، اب وہ پارٹی کی چئرپرسن تھی۔ آخر بے نظیر نے اب سب انکلوں کو ایک طرف کیا اور آمر سے نجات پانے کی لیے حکمت عملی ترتیب دی۔ جب بے نظیر بھٹو وزیر اعظم بنی تو حکومت کے ایک اجلاس میں صدر اسحاق صاحب نے وزیر اعظم بے نظیر کومخاطب کرتے ہوئے کہا: بیٹی اصل بات یہ ہے کہ ۔۔۔ بے نظیر نے فوری طور پہ صدر اسحاق صاحب کو ٹوکا اور کہا: “ مسڑ پرایز ڈنٹ میں بیٹی صرف اپنے باپ کی ہوں۔ مجھے وزیر اعظم کہہ کر مخاطب کریں ۔“
بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ بھی وہی رویہ برتا جا رہا ہے جو شروع میں بے نظیر بھٹو کے ساتھ برتا گیا تھا۔ جس کی ایک مثال کل کا عمران خان کا دھرنے سے خطاب ہے۔ بجائے اس کے کہ بلاول کی ایمپائر کی انگلی والی بات کا جواب دیا جاتا، وہی جملہ کہ میں اس کی بات کا جواب نہیں دینا چاہتا کہ بلاول ابھی بچہ ہے۔ اور وہی ہر روزدہرانے والا جملہ کہ زرداری کے کتنے اثاثے بیرون ملک ہیں۔
بلاول کامیاب یا ناکام
کل کے پیپلز پارٹی کے جلسے کو اکثر لوگ بلاول بھٹو زرادری کی سیاست میں رونمائی کا نام دے رہے ہیں۔ حالنکہ بلاول تو اسی دن سیاست میں آگیا تھا جس دن اس نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے دوسرے دن پریس کانفرنس میں سیاست میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا ۔ کل کا جلسہ اصل میں پنجاب کے کارکنوں کو منانے کی کوشش تھی ۔ پیپلز پارٹی کے کارکن کا مزاج لکھنوی مزاج نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کے کارکن کا مزاج ہلے غلے، لڑنے لڑانے کا مزاج ہے۔ مسلم لیگ آج تک جو پیپلز پارٹی کے ساتھ کرتی رہی ہے پیپلز پارٹی کے کارکن اس کو نہیں بھول سکتے۔ پارٹی کے کارکن نے ساری عمر جماعت اسلامی اور مسلم لیگ سے لڑتے ہوئے گزاری ہے۔
پھر خاص طور پر زرداری کی حکومت میں مسلم لیگ اور جماعت اسلامی نے پیپلز پارٹی کے ساتھ جو سلوک کیا ہے، پیپلز پارٹی کا کارکن وہ بھولا نہیں ہے۔ کبھی عدلیہ کے ساتھ مل کر وزیر اعظم کو بر طرف کرانا کبھی میمو اسیکنڈل بنانا اور پھر خاص طور پر شہباز شیرف نے جو زبان زرداری کے لئے استمعال کی ہے پیپلز پارٹی کا کارکن وہ بھول نہیں سکتا۔ اسی لئے زرداری نے نواز شریف کی حکومت کو بچانے کی جو حکمت عملی اپنائی ہے پیپلز پارٹی اور خاص طور پر پنجاب کے کارکن نے اس کی حمایت نہیں کی۔ ان کی اکثریت خاموش ہو کر گھر بیٹھ گئی ہے۔ بلکہ ایک تعداد تو عمران خان کے دھرنوں میں جانے لگی ہے۔ پارٹی کے کچھ رہنما تو عمران کی پارٹی میں جانے کے لیے پر تول رہے تھے ۔
پہلی بات تو یہ کہ زرداری نے جو اس وقت نواز شریف کی حمایت کا فیصلہ کیا وہ بہت سوچ سمجھ کے کیا ہے۔ زرادری کو پتہ تھا کہ پیپلز پارٹی ابھی اس مقام پر نہیں آئی کہ فوری انتخاب میں حصہ لے۔ آگر لیتی ہے تو شاید پہلے سے بھی بُری شکست ملے۔ اس لیے زرداری کچھ وقت لینا چاہتا تھا تاکہ ناراض کارکنوں کا منایا جا سکے۔ اس کے لئے کم از کم دو تین سال چایئں۔ تو کیوں نہ ایک تیر سے دو نشانے لگائے جائیں۔ جمہوریت کا تحفظ کا باب بھی لکھا جائے اور نواز شریف کو ہمیشہ کے لئے آنکھیں نیچی کر کے بات کرنے کا پیغام دیا جائے۔ اور عمران خان کی مقبولیت کے بلبلے کے پھٹنے کا بھی انتظار کیا جائے۔ اس عرصے میں ناراض کارکنوں کو بھی دوبارہ متحرک کیا جا سکتا ہے ۔ کل بلاول کی ساری تقریر اسی پس منظر میں تھی۔
انڈیا دشمنی
پاکستان کے سارے صوبوں کی نسبت پنجاب میں بہت زیادہ بھارت دشمنی پائی جاتی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو بھی جب سیاست میں آئے تھے تو انھوں نے انڈیا دشمنی کا نعرہ لگا یا تھا ۔ تاشقند معاہدہ کا راز کھولنا اور ایک ہزار سال تک گھاس کھا کر ایٹم بمم بنانے کے نعروں کو سب سے زیادہ پذایرائی پنجاب میں ملی تھی۔ پاکستان کے میڈیا میں بھی دوسرے صوبوں کی نسبت پنجاب کا میڈیا زیادہ تر اینٹی انڈیا ہے۔ پنجاب پیپلز پارٹی کا گڑھ بننے کی ایک وجہ بھارت مخالف نعرہ بازی بھی تھی۔ کل بلاول بھٹو کی انٹی انڈیا تقریر بھی اسی پس منظر میں ہے۔ آپ دیکھیں گے ایک دو دنوں میں پنجاب کے بہت سے کالم نگار بلاول بھٹو کی اس پالیسی کے حق میں کالم لکھیں گے۔ عبدالقادر حسین سے لے کر ہارون رشید تک اور فوج کا ایک خاصا بڑا حصہ بھی بلاول کی اس پالیسی کے ساتھ کھڑا ہو گا۔
کارنوں کا رد عمل آپ عنقریب دیکھ لیں گے۔ کچھ نتیجہ نومبر میں نکلتا نظر آئے گا ۔ باقی سیاست میں معجزے ہوتے رہتے ہیں دیکھئیے کیا ہوتا ہے۔