نئے زمانے کو نئے نعرے چاہئیں
- اتوار 19 / اکتوبر / 2014
- 6084
پیپلز پارٹی کے جواں سال چیئرمین نے سیاسی اننگز کے آغاز پر اردو شاعری سے مزین پرجوش تقریر کی جس میں بہت سارے جھول اور تضادات واضح نظر آ رہے تھے۔ تخت و تاج اور مسندِ اختیار کا کھیل بھی بڑا عجیب ہے۔ کل تک نواز شریف کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے والی پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے دل کھول کر وزیراعظم کو ہدف تنقید بنایا۔ کہا جاتا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری جو خود نہیں کہنا چاہتے نوآموز بلاول سے کہلوا دیتے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے سیاسی کیرئیر کے آغاز پر اپنے خطاب میں کہا کہ قائداعظم نے پاکستان کا تحفہ دیا، ذوالفقار علی بھٹو نے73کا آئین دے کر قائداعظم کا خواب پورا کیا۔ اپنے اجداد کی تعریف و توصیف کے ساتھ ساتھ بلاول نے وزیر اعظم نواز شریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم صاحب اس پیسے کا حساب دیں جو گردشی قرضے کے نام پر آپ اور آپ کے ساتھیوں کے پاس آیا ہے۔ انہوں نے دورہ امریکہ کے حوالے سے بھی سخن آرائی کی اور کہا کہ امریکی صدر نے بھارتی وزیراعظم کے ساتھ ڈنر کیا۔ ہمارا شیر کیا لینے گیا تھا؟‘۔
ساتھ ہی چھوٹے میاں شہباز شریف پر بھی چڑھ دوڑے اور کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے بیرئیر ہٹانے پر ماڈل ٹاؤن میں 14سے زیادہ لوگوں کو شہید اور 90 سے زیادہ لوگوں کو زخمی کر دیا اور ایف آئی آر بھی ان کے ورثا کے خلاف درج ہوئی۔ حیران ہوں پنجاب میں کیا ہو رہا ہے۔ جس طرف دیکھتے ہیں پنجاب میں گلو بٹ نظر آتے ہیں۔
حکومت وقت کو ملامت کرنے کے ساتھ ساتھ بلاول نے دھرنے والوں کو بھی مخاطب کیا اور یہاں ان کا لہجہ اور انداز کچھ زیادہ ہی تلخ نظر آیا۔ بلاول نے کہا کہ آپ لوگوں کی وجہ سے چین کے صدر نے پاکستان کا دورہ ملتوی کر کے دوسرے ملک جانا پسند کیا۔ اسکرپٹ کے مطابق ملک کو خانہ جنگی کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ’’ انکل‘‘ الطاف حسین پر بھی تنقید کی تاہم اس موقع پر ان کا لہجہ جذباتی تھا لیکن گفتگو محتاط پیرائے میں ہی کی گئی تا کہ الطاف بھائی کو برا نہ لگے۔ ویسے بھی ایم کیو ایم خورشید شاہ کے بیان پر بری طرح ادھار کھائے بیٹھی ہے اور شاید حساب برابر کرنے کے لئے موقع کی منتظر ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ کراچی کا جلسہ پیپلزپارٹی کا ایک بڑا سیاسی شو تھا۔ اردو سے نابلد پارٹی کے جواں سال چیئر مین بلاول بھٹو نے ڈیڑھ گھنٹہ طویل تقریر کر کے سیاسی حلقوں کو کسی حد تک چونکا دیا۔ بلاول کے لہجے اور اعتماد سے مترشح ہوتا تھا کہ ان کے اتالیق نے ان کی تقریر پر خاصی محنت کی ہے اور ساتھ ہی انہیں خاصی مشق بھی کرائی گئی تھی۔ (میڈیا رپورٹس میں ایسے مشقوں کا خاصا تذکرہ چل رہا ہے) ۔
باقاعدہ سیاست کے آغاز کے تناظر میں تقریر کے حوالے سے ان کا پہلا تاثر برا نہیں تو زیادہ خوشگوار بھی نہیں تھا۔ بلاول کے مشیروں کو انہیں یہ باور کرانا چاہئے کہ میدان سیاست کو گفتار کے غازی نہیں بلکہ کردار کے مجاہد درکار ہوتے ہیں اور عوام کسی ایسے لیڈر کو زیادہ پذیرائی نہیں دیتے جو محض اپنے اجداد کے کارناموں اور فتوحات کا بار بار ذکر کرتا ہے۔ لیکن اس کے اپنے کریڈٹ پر کوئی کارنامہ نہیں ہوتا۔ فی الوقت بلاول بھٹو زرداری کا افتخار صرف یہ ہے کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو کا نواسا اور محترمہ بینظیر بھٹو کا بیٹا ہے۔
بلاول بھٹو کی پیپلز پارٹی کے حوالے سے جذباتی باتیں اپنی جگہ صائب مگر مبصرین کہتے ہیں کہ بڑے جلسے کرنے کی صلاحیت رکھنے والی پیپلز پارٹی کا سیاسی مستقبل انتہائی خطرے میں ہے۔ اس کی سیاسی عملداری کسی زوال پذیر سلطنت کی طرح سکڑتی جارہی ہے۔ الیکشن 2008 میں ایک کروڑ 6 لاکھ سے زائد ووٹ لیکر 119 نشستیں حاصل کر کے پہلے نمبر پر رہنے والی پیپلز پارٹی 2013 کے الیکشن میں صرف 69 لاکھ ووٹ لیکر 45 نشستیں ہی لے سکی۔ مقبولیت کے اعتبار سے وہ تیسرے نمبر پر آئی۔ زوال کا سفر ضمنی الیکشن میں بھی جاری ہے اور ملتان کے ضمنی الیکشن میں ان کے امیدوار جاوید صدیقی صرف ساڑھے چھ ہزار ووٹ ہی لے پائے۔
پیپلز پارٹی کو سوچنا ہو گا کہ سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں میں تیزی سے سکڑتی ہوئی پارٹی مقبولیت کو کراچی کا جلسہ کتنا سہارا دے سکے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کی یہ رائے بھی معنی خیز ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف کے سربراہ کی عوام اور بالخصوص نوجوان ووٹرز اور عوام میں بڑھتی ہوئی مقبولیت کوبڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ18اکتوبر کے جلسے میں آصف علی زرداری نے اپنی پرجوش تقریر کے آغاز ہی میں ملتان کے ضمنی انتخابات میں پی پی پی کی بدترین شکست کے تناظرمیں عمران خان پر تنقید کی۔ جبکہ بلاول بھٹو نے اعلانیہ اور بین السطور ایک سے زائد بار استہزائیہ انداز میں خان کی شخصیت اور طرز سیاست کو آڑے ہاتھوں لیا ۔ اس کی بڑی وجہ عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ہے اور پیپلز پارٹی کو بھی یقیناًاس امر کا احساس ہے۔
پیپلز پارٹی کے جلسے میں اعتزاز احسن اور رضا ربانی کے علاوہ دیگر رہنماؤں کی تقاریر تلخ حقائق سے کہیں دور نظر آرہی تھیں۔ تمام رہنماؤں نے وہی پرانی روایتی کہانیاں سنائیں جو لوگ سن سن کر تھک چکے ہیں۔ اعتزاز احسن نے درست کہا کہ اب پارٹی نئی نسل کے حوالے کر دی جائے اور بوڑھے کھلاڑی اب ریٹائرمنٹ لے لیں۔ مگر سیاست کے سرد و گرم چشیدہ پیشہ ور سیاستدان یہ بات ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیں گے۔
بلاول کو یہ تلخ حقیقت مدنظر رکھنا ہو گی کہ آج کا نوجوان 70 کی دہائی کے نعروں سے بہلنے والا نہیں ہے۔ اب نئے زمانے سے ہم آہنگ نئے نعروں کے ساتھ عملی اقدامات کی صورت میں ہی پیپلز پارٹی سیاسی طور پر زندہ رہ سکتی ہے۔