مڈ ٹرم دیگ کی تیاری
- منگل 21 / اکتوبر / 2014
- 5028
چاہے ذاتی جنگ ہو یا قوموں کی جنگ ۔۔۔۔ جنگ کرنے کی بہترین حکمت عملیوں میں سے ایک حکمت عملی یہ ہوتی ہے کہ دشمن کو ایسے بے ضرر قسم کے منصوبوں میں الجھائے رکھو کہ دشمن کو آپ کے اصل منصوبے کی بھنک نہ پڑے۔ اور جب آپ اس کو شکست دہنے کے لیے آخری وار کریں تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں۔
ان حکمت عملیوں میں ایک حکمت عملی یہ بھی ہوتی ہے کہ جنگ کرنے کے لیے آپ کے پاس ایک نہیں بہت سے پلان ہوں ۔ تاکہ آپ کا اگر پہلا ۔ دوسرا یا تیسرا پلان ناکام ہو جائے تو آپ حواس باختہ نہ ہو جائیں اور دشمن کو شکست دینے کی بجائے خود شکست کھا لیں۔
نواز شریف صاحب کے ساتھ بھی یہی ہو رہا ہے کہ دشمن نے اسے بے ضرر قسم کے لانگ مارچوں، دھرنوں اور بڑے بڑے جلسوں میں الجھایا ہؤا ہے۔ نواز شریف صاحب صبح ناشتے میں بے ضرر قسم کے سری پاووں سے ۔۔۔ بد ہضمی کرانےسے لے کر رات بسترپر پڑی چادر میں منصوبے کی بے ضرر قسم کی شکنوں تک سے اپنا جسم چھلنی کرا رہے ہیں۔
لکھے گئے اسکریٹ میں پہلے یہ کوشش کی گئی کہ کوئی ایسا واقعہ رونما ہو کہ لانگ مارچ نواز شریف صاحب کی ناشتے کی میز پر رکھ دیا جائے۔ نواز شریف صاحب نے اس منصوبے کو اپنی مصومیت اور بےوقوفی ( جس میں کوئی دوسرا ان کا ثانی نہیں ہے ) سے سانحہ ماڈل ٹاون کی صورت میں اس منصوبے کو اس طرح کامیاب کرایا ۔ جیسا کہ نواز شریف کے دشمن چاہتے تھے ۔ منصوبہ بنانے والوں کا خیال تھا اسی لانگ مارچ سے ہی نواز شریف اپنا پاندان اُٹھاتے نظر آئیں گے۔ مگر نواز شریف کے سامنے ایک بڑی تعداد میں فوج کو صف آرا کرنے میں ناکامی نے نواز شریف کو اسی پاندان میں کچھ دیر کے لیے اقتدار کی پیک اگلنے کی مہلت دے دی ۔
پلان بی کے تحت نواز شریف کو دوپہر کے لنچ میں دھرنے کا انتہائی مرغن کھا نا دیا گیا کہ نواز شریف صاحب قومی اسمبلی میں ورزش کر کے اس دھرنے والے مرغن کھانے کو ہضم کرنے میں جُت گئے۔ اور کسی حد تک وہ کھانے کو ہضم کرنے میں کا میاب بھی ہو گئے۔ جب منصوبہ بنانے والوں کو پتہ چلا کہ نواز شریف صاحب قومی اسمبلی میں دن رات اپنی طاقت سے زیادہ ورزش کر کے دوپہر میں دئیے گئے دھرنے والا مرغن کھانا ہضم کر چکے ہیں تو انھوں نے رات کے ڈنر کے لیے کھانا بنا کر ہیش کرنے کی بجائے زندہ اور طاقتور بل فائیٹر سے نواز شریف صاحب کے قومی اسمبلی کےباورچی خانے کی دیواریں توڑنا شروع کر دیں۔
مگر قومی اسمبلی کی ڈائینگ میز پر بیٹھے جب کھانے والوں کو علم ہؤا کہ کہ باورچی خانے کی دیوار ٹوٹنے سے نہ صرف نواز شریف صاحب بھوکے مریں گے بلکہ ان کے آگے رکھا کھانا بھی اُٹھا لیاجائے گا تو سب نے مل کر اپنے کندھوں کے سہارے سے قومی اسمبلی کے باورچی خانے کی ٹوٹتی دیوار کو گرنے سے بچا لیا۔ نواز شریف صاحب کو ایسا خواب آور کھانا کھلایا کہ کہ نواز شریف صاحب ہر طرف سے مطمئن ہو کر اسی غنودگی میں اقوام متحدہ میں تقریر بھی کر آئے۔ وہ نیند کے عالم میں اجلاس کی خالی کرسیوں اور چند کرسیوں پر سوئے لوگوں کو بھی نہ دیکھ سکے۔
ایم کیو ایم سول اور خاکی ادروں کے پا س ایک ایسی جماعت ہے کہ جو اشارہ ملنے پر کسی بھی محبت کے ساتھ چٹ بیاہ اور پٹ طلاق کے لیے حاضر رہتی ہے۔ اگرطلاق کے بعد سہاگ رات کی لذت زیادہ ستانے لگے تو بغیر کسی سے پو چھے جھٹ حلالہ بھی کر لیتی ہے ۔ اسی وجہ سے یہ جماعت طلاق کے بعد عدت کے زیادہ دن نہیں گزار پاتی۔ اور اپنے جسمانی تقاضوں کو قومی تقاضے کا نام دے کر حلالہ کر لیتی ہے۔
سول اور خاکی ادارے اس جماعت کو ہمیشہ آخر میں استمعال کرتے ہیں۔ جس خاوند سے اس کی طلاق کرانا چاہتے ہیں تو پہلے ایم کیو ایم اور اس خاوند کی محبت کے چرچے کئے جاتے ہیں اوراس کے قصے چھاپ کر مفت یا دو دو پیسے والے چھپنےقصوں کی طرح گلی گلی تقسیم کر دئے جاتے ہیں۔ جب ایم کیو ایم کا خاوند اس کی محبت سے سر شار خواب غفلت میں خراٹے لے رہا ہوتا ہے تو آچانک ایم کیو ایم طلاق کا کاغذ سوئے خاوند کے سرہانے رکھ کر اگلے بیاہ کی تیاریوں میں مصروف جاتی ہے۔
کرا چی میں بلال بھٹو کی کہی گئی بات اتنی تلغ نہیں تھی کہ ایم کیو ایم سندھ حکومت سے علیحدگی کا اعلان کر دیتی۔ ماضی میں دونوں جماعتوں کی طرف سے اس سے بھی سخت باتیں کی گئیں ہیں۔ اب بھی اگر منصوبے میں کوئی ردو بدل ہو گیا تو ایم کیو ایم پیپلز پارٹی سے حلالہ کر لے گی وگرنہ یہ سندھ حکومت سے علیحدگی اسی منصوبہ کا حصہ ہے جس ک تحتے نواز شریف صاحب کا کام تمام ہونے والا ہے۔
ایم کیو ایم کی اس دنوں ناراضگی پیپلز پارتٰی سے نہیں ہے بلکہ وہ نواز شریف صاحب کو اقردار سے محروم کرنے منصوبے کا حصہ ہے ۔ منصوبے کے تحت ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی کا حزب ِ اختلاف کے قائد کا تبدیل کرنے کی درخواست دے دی ہے ۔ یہ سب کو پتہ ہے ایم کیو ایم قومی اسمبلی میں اپنی تعداد کے حساب سے ایسا نہیں کر پائے گی۔ البتہ تحریک انصاف کے ممبران اسمبلی میں ہوتے تو شاید دوسروں کو ساتھ ملا کر وہ قائد حزب اخلاف کو تبدیل کرا لیتے۔ مگر یہ اسی منصوبہ کا حصہ ہے کہ نواز شریف کو بے ضرر قسم کاموں میں الجھائے رکھو۔
آپ دیکھیں گے کہ اچانک نواز شریف سے کوئی ایسا بیان دلوایا جائے گا یا کوئی ایسا اقدام کرایا جائے گا جس سے بھڑک کر ایم کیو ایم قومی اسمبلی سے استعفوں کا اعلان کر دے گی۔ نواز شریف ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔ تحریک انصاف کے 34 ارکان پہلے ہی قومی اسمبلی کے اسپیکر کے پاس اپنے استعفے پہنچا چکے ہیں۔ اگر ایم کیو ایم کے اکیس ارکان بھی قومی اسمبلی میں استعفے دے دیتے ہیں اور رہی سہی کسر مسلم لیگ کا ایک گروپ (جو اشارے کا منتظر ہے) کے استعفوں سے پوری کی جا سکتی ہے۔ اس طرح آدھی اسمبلی خالی ہو جائے گی اور نواز شرہف کو اپنا پاندان اُٹھا نا ہی پٹے گا۔ اس مڈ ٹرم الیکشن کی دیگوں کا آرڈر دینا پڑے گا۔ اگر ایسا ہو گیا تو اسمبلی میں بیٹھی دوسری جماعتیں بھی نواز شریف صاحب کو مزید کھانا کھلانے سے معذرت کر لیں گی۔ یہ ان منصوبوں سے آخری منصوبوں میں سے ایک ہے۔ مگر پاکستان میں منصوبوں میں ردو بدل ہوتے رہتا ہے۔
پاکستان میں جنم لینی والی سازشی تھیوریوں میں آپ اس مضمون کو بھی ایک سازشی تھیوری سمجھ سکتے ہیں۔