شاید یہی وجہ ہے کہ ....
- منگل 21 / اکتوبر / 2014
- 4158
خبر یوں ہے کہ گریٹر مانچسٹر کے علاقے بری میں برقع پہنے ایک شخص نے جیولری کی دکان لوٹ لی جبکہ برقع کے نیچے اس نے شاٹ گن بھی چھپائی ہوئی تھی۔ گریٹر مانچسٹر میں مسلم کمیونٹی کی بڑی تعداد آباد ہے اور خواتین میں روایتی برقع پہننے کا رواج عام ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ فرانس کی کابینہ نے اسلامی حجاب پر پابندی کے بل کی منظوری دے دی ہے۔ فرانسیسی حکومت نے کہا ہے کہ خواتین کی حقوق کے دفاع اور مخصوص طریقہ کار کے خاتمے کے لئے بل کی منظوری ضروری ہے۔ یاد رہے کہ فرانس میں حجاب پہننے والی خواتین پر ایک سو پچاس یورو جرمانہ کیا جاتا ہے جبکہ پردہ کرنے والی کو پندرہ سو یورو جرمانہ اور ایک سال کی قید دی جائے گی۔
شاید یہی وجہ ہے کہ بیلجئم کی حکومت نے برقع پر پابندی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ برسلز کے میئر نے ایک بار پھر احتجاجی مظاہروں کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاجی مظاہرے برسلز کے مکینوں کے لئے ایک بڑا مسئلہ ہو گا اور ان کے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوں گے۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ بیلجئم کی پارلیمنٹ میں ارکان کی اکثریت نے مسلم خواتین کی طرف سے برقع پہننے کی پابندی کی حمایت کی ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ آسٹریلیا کے ایک اپوزیشن سینیٹ کے رکن سینیٹر کوری برنارڈی نے برقع کو آسٹریلیا کے مزاج اور کلچر کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے عورت پر مرد کے ظلم کی نشانی بتایا ہے۔ کوری برنارڈی نے اپنے ایک مضمون میں کہا ہے کہ جب موٹر سائیکل سوار اپنی شناخت کروانے کے لئے اپنا ہیلمٹ ہٹاتے ہیں لیکن ایک برقع پوش خاتون مذہبی اصولوں کے تحت نقاب ہٹانے سے انکار کرتی ہے کہ مسلم عورت کو ایسا کرنے سے مذہب روکتا ہے کیونکہ اس کو مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے مضمون میں لکھا ہے کہ اگر میں سرتاپا سیاہ خیمہ نما لباس میں آ جاﺅں تو مجھے کوئی پہچان نہیں سکے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آسٹریلیا میں برقع پر مکمل پابندی عائد کر دینا چاہئے اور آسٹریلیا میں آباد ہونے والی مسلم خواتین کو چاہئے کہ وہ آسٹریلیا کی اقدار اپنائیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ اٹلی کے شمالی شہر نوارا میں ایک بازار میں مکمل اسلامی حجاب یعنی برقع پہن کر خرید و فروخت کرنے والی ایک مسلم خاتون کو اطالوی پولیس نے جرمانہ کر دیا۔ اٹلی میں اپنی نوعیت کا غالباً یہ پہلا واقع ہے۔ پولیس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ میونسپل پولیس نے تیونس کی خاتون کو 500 یورو جرمانہ کیا ہے۔
شایید یہی وجہ ہے کہ جرمنی کی اکثریت اور وہاں پر رہنے والے مسلمانوں کی کمیونٹی کے درمیان عوامی بحث چھڑی ہوئی ہے۔ جرمنوں کی اس عوامی بحث میں تارکین وطن کے موضوعات شامل ہیں لیکن سب سے اہم موضوع جس پر اکثر لڑائی جھگڑے تک نوبت پہنچ جاتی ہے، یہ ہے کہ مقامی افراد تارکین وطن پر الزام عائد کرتے ہیں (یہ ایک المیہ ہے لیکن حقیقت بھی ہی ہے) کہ وہ جرمن معاشرے میں ضم یا گھل مل کر رہنا ہی نہیں چاہتے اور یہ کہ وہ خود کو ملک کی عوامی زندگی سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔
شاید یہی وجہ ہے کہ بیلجئم میں حکام ایک وڈیو کا تجزیہ کر رہے ہیں جس میں بیلجئم اور دوسرے یورپی ملکوں کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر انہوں نے پورے چہرے کے نقاب یا برقع پر پابندی لگائی تو ان پر حملے کئے جائیں گے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بیلجئم کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں نے گزشتہ ہفتے ایک بل منظور کیا تھا جس میں برقع اور نقاب پر پابندی کے لئے قانون سازی کی منظوری دی گئی تھی۔ اس کے ردعمل میں مسلمانوں کی طرف سے انٹرنیٹ پر انگریزی زبان میں ایک وڈیو پیغام جاری کیا گیا ہے جس میں آواز کے ساتھ یہ پیغام یا دھمکی بھی دی گئی ہے جو تحریری شکل میں بھی ہے کہ اگر تم نے برقع ، حجاب یا نقاب پر پابندی لگائی تو تم اس کے انتہائی بھیانک نتائج اپنے اپنے ملکوں میں دیکھو گے۔ وڈیو میں ہاتھوں میں بندوقیں اٹھائے خواتین کو بھی دیکھا جا سکتا ہے جس پر آواز اوور لیپ ہوتی ہے کہ برقع ، نقاب یا حجاب پہننا ہر مسلمان خاتون کا حق ہے اور حکومت کو اس فیصلے کی قیمت چکانی ہو گی۔ پیغام بھیجنے والے نے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی۔
یاد رہے کہ یورپ میں پردہ کرنے والی خواتین جو کہ اکثر احمدی ہوتی تھیں کبھی کبھار ہی نظر آتی تھیں لیکن کچھ برسوں سے ان کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ایک سروے کے مطابق فرانس میں ایسی خواتین کی تعداد ہزاروں میں اور بیلجئم میں سینکڑوں میں ہے۔ فرانس میں مردوں اور خواتین کے ساتھ زور زبردستی کرنے والوں کے خلاف بھی قانون وضع کیا گیا ہے۔ آئندہ فرانس میں کسی مسلم خاتون کو برقع پہننے کے لئے زور زبردستی کرنے والے یا والی کو جیل بھیج دیا جائے گا اور بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔ کوئی خاتون اگر اپنی مرضی سے برقع یا نقاب پہنے تو اس کو 150 یورو جرمانہ عائد کیا جائے گا جبکہ دوسروں کو (ماں ، بہن ، بیٹی ، بیوی ، بھابی وغیرہ) برقع پہننے کے لئے جبر کرنے والوں پر فرانسیسی صدر 20 ہزار ڈالر تک جرمانہ اور ایک سال جیل میں ڈالنا چاہتے ہیں۔
مغربی ممالک اور امریکہ میں پردہ موضوع بحث بنا ہؤا ہے۔ مسلمانوں نے اسے پوری طرح سلجھانا تو خیر ایک طرف ٹھہرا، بہت کم اہل علم ہیں جنہوں نے اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کی ہے۔ اگر علامہ اقبال حیات ہوتے تو شاید ” شکوہ “ اور ” جواب شکوہ“ کی طرح ” پردہ “ اور ” جواب پردہ “ بھی لکھ ڈالتے۔ لیکن آج فتوﺅں سے کام چلانے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ کسی چیز کو جائز یا ناجائز کہہ کر الگ ہو جانا تو صرف فتویٰ ہے مگر آج کے دور میں کام صرف فتوے سے نہیں چلتا، ضرورت ہے مشکلات کا حل تلاش کرنے کی۔ مشکلات کا مطلب یہ ہے کہ بعض اوقات ایک شرعی حکم پر عمل کرنا بہت دشوار ہو جاتا ہے۔ اس وقت کوئی ایسی راہ تلاش کرنا پڑتی ہے کہ اس کلمہ کا پورا پورا احترام باقی رکھتے ہوئے یا اس پر زیادہ سے زیادہ عمل کرتے ہوئے جو خامیاں رہ جائیں ان کو دور کیا جا سکے اور تعمیل حکم میں جو خلا رہ جائے اس کو پر کیا جا سکے۔
موجودہ زمانے میں مغربی معاشرے میں پردہ نسواں کا مسئلہ اس قسم کی پیچیدگی کا شکار ہے یا دوچار ہے۔ یورپ میں پہلے سے آباد مسلمانوں کے علاوہ مختلف ممالک سے لگ بھگ ایک کروڑ مسلمان یورپ کو اپنا گھر بنا چکے ہیں۔ یورپ میں سب سے زیادہ مسلمان فرانس میں ہیں جہاں ان کی تعداد مجموعی آبادی کا سات فیصد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں رہنے والے مسلمان ایک ایسی درمیانی راہ کی تلاش میں ہیں جہاں اسلامی اقدار اور مغربی افکار اور گلوبلائزیشن کی جہتوں کو اکٹھا کیا جا سکے۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ لوگ اپنے پرانے تعصبات سے چھٹکارا پانے میں بہت کاہل ہوتے ہیں اور ایسے خیالات و تصورات کو ماننے سے کتراتے ہیں جو انہیں آرام دہ نہیں لگتے۔ علاوہ ازیں مسلمانوں کے بعض سماجی طبقات میں اپنے متوازی معاشرے قائم کرنے کا رجحان بھی فروغ پاتا ہے۔
اس ساری بحث کا نچوڑ میرے حساب سے یہ ہے کہ یورپی معاشرے کی ثقافت اور اقدار کو مکمل طور پر اختیار کرنے یا اپنے عقیدے اور آبائی ملک کے رسم و رواج کے مقابلے میں انہیں یکسر مسترد کرنے کے بجائے دونوں انتہاﺅں کے درمیان ایک راہ ہر وقت ہر جگہ موجود ہوتی ہے جسے ” درمیانی راستہ“ کہتے ہیں۔ میں نے کہیں پڑھا ہے کہ عدم یکسانیت یا یکسانیت دونوں ہی نقصان دہ ہوتے ہیں۔