دھرنے کا تعطّل
- بدھ 22 / اکتوبر / 2014
- 4289
سیاست ایک علم ہے جو افلاطون کی “ سیاسیات “ سے لے کر استاد میکیاولی کی “ دی پرنس “ اور چانکیہ کے چکموں تک ایک بحرِ نا پیدا کنار ہے ۔ یہ وہ رموزِ مملکت ہیں جنہیں خود حکمران ہی جانتے ہیں، آپ اور میں نہیں ۔ البتہ اندازے ، قیاس ، ظن اور گمان کی سب کو اجازت ہے ۔ یہاں تک کہ مجھے بھی ۔
میں گزشتہ ہفتے سکنڈے نیویا کے گلی کوچوں کی خاک چھانتا کوپن ہیگن جا پہنچا اور بھول گیا کہ پاکستان پچھلے سوا دو مہینوں سے دھرنوں میں مبتلا ہے ۔ میں کل شام واپس لوٹا ہوں اور آج یہ خبر سُننے کو ملی ہے کہ علامّہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اپنے کنٹینر کی قیدِ سیاست سے رہائی اختیار کر لی ہے۔ اور اپنی محفوظ گاڑی میں بیٹھ کر لاہور کے لیے روانہ ہو گئے ہیں ۔
یا حضرت قبلہ ! خُدا حافط ۔ رب العزت ، جس کی عزّت کی قسم آپ کھایا کرتے ہیں ۔ آپ کو ہر بلا سے محفوظ رکھے اور آپ کا یہ فیصلہ قوم کے حق میں نیک فال ثابت ہو ۔
حضرت قبلہ کے اِس فیصلے پر طرح طرح کی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں ۔ کچھ نابکار اِسے حضرت والا تبار کی سیاسی شکست سے تعبیر کر رہے ہیں اور کچھ اِسے ایک نئی حکمتِ عملی کا شگون قرار دے رہے ہیں ۔ آرا کے اختلاف کی اس ملی جلی کیفیت میں تمام ٹی وی مبصرین اورٹاک شوز کے ٹاکیے ایک بات پر متفق ہیں کہ اس دھرنے اور انقلاب مارچ نے قوم کو جگا دیا ہے ۔
ممکن ہے یہ بات درست ہو مگر مجھے اِس سے بالکل بھی اتفاق نہیں ہے ۔ اور وہ اس لیے کہ میں پچھلے سرسٹھ سال میں اِس قوم کے جاگنے کی متعدد پیش گوئیوں کی تلاوت سن سن کر اور اُن پیشگوئیوں کا انجام دیکھنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ قوم اب بھی نہیں جاگی ۔ یہ نیند میں چلنے والی قوم ہے اور اس کا سارا شور و غوغا نیند کی بڑبڑاہٹ کے سوا کچھ نہیں ہوتا ۔ یہ کسی خوشبو دار جھاگ کی طرح اُٹھتی ہے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس کا جذباتی طوفان تھم جاتا ہے ۔
مجھے پینسٹھ کی جنگ کے دن یاد آ رہے ہیں جس میں پرنٹ میڈیا اور ریڈیو بہت لڑے ۔ شاعروں نے قلم کو سیف بنا کر وار کیے اور جنگی ترانوں کی بھرپور فصل اُگا دی ، ہتھیلی پر سرسوں جمائی اور موسیقاروں اور گلوکاروں نے حلفیہ کہا کہ:
جاگ اُٹھا ہے سارا وطن ساتھیو
اُس وقت سارا بوجھ اخبارات اور ریڈیو کے کندھوں پر تھا کیونکہ ٹی وی ابھی پردہء غیب سے ظاہر نہیں ہؤا تھا۔ جنگ کا پہلا نغمہ کراچی میں رئیس امروہوی نے لکھا:
خطہء لاہور تیرے جانثاروں کو سلام
غازیوں کو ، شہریوں کو ، شہ سواروں کو سلام
لاہور میں صوفی تبسم ، رشید انور ، منظور جھلا ،عالم لوہار ، نورجہاں اور سائیں مرنا ایک ساتھ بھارت سے نبرد آزما تھے ۔ ساری قوم جاگی ہوئی تھی لیکن اعلانِ تاشقند نے اس جاگی ہوئی قوم کو ڈپلومیسی کی لوری دے کر پھر سلا دیا ۔ قوم سو گئی ۔
دوسری بار قوم اُنیس سو اکہتر میں جاگی تو لیکن آدھی جاگی جبکہ باقی آدھی نیند میں چلتی ہوئی پاکستان کی سرحد عبور کر کے بنگلہ دیش میں داخل ہو گئی ۔ مُلک ٹُوٹ گیا ۔ نوے ہزار پاکستانی فوجی جنگی قیدی بن کر بھارت جا پہنچے اور شاعروں نے پھر قلم کو کلاشنکوف بنا لیا ۔ اس بار یہ جنگی قیدیوں کی رہائی کی جنگ تھی۔ لیکن اس جنگ میں پاکستان کا اکلوتا ٹی وی چینل پی ٹی وی بھی شریکِ تھا ۔ یہ جنگی قیدیوں کی رہائی اور شکست خوردہ قوم کو حوصلہ دلانے کا مرحلہ تھا ۔ شملہ معاہدہ ہؤا ، جنگی قیدی رہا ہوئے اور بچا کھچا پاکستان آہستہ اہستہ اپنے پائوں پر کھڑا ہونے لگا ۔ لیکن قوم نے پھر نیند کی گولیاں کھا لیں ۔
تیسری بار قوم جہاد کے لیے جاگی ۔ کراچی سے بشاور تک اور کوئٹہ سے لاہور تک ساری قوم ایسے جاگی جیسے سحری کے لیے روزہ دار جاگتے ہیں ۔ ملک بھانت بھانت کے لشکروں کی لشکر گاہ بن گیا ۔ بھٹو کو تختہء دار پر کھینچنے کے بعد مردِ حق جنرل ضیا الحق نے اسلامی سزائیں نافذ کر دیں۔ نیم برہنہ پشتوں پر کوڑے برسے اور جہاد شروع ہو گیا ۔ جو آج بھی جاری ہے ۔ مگر یہ سب نیند میں چلنے والے ہیں جو ایک تنویمی کیفیت میں لڑ رہے ہیں ۔
اور اب پھر کہا جا رہا ہے کہ قوم جاگ گئی ہے ۔ کرپشن کرنے والوں کو پتہ چل گیا ہے کہ وہ کرپشن کر رہے ہیں ۔ جس کرپٹ کو پتہ چل جائے کہ اُس سے جرم سر زد ہورہا ہے تو وہ جرم سے باز آ جاتا ہے، توبہ کرتا ہے۔ توبہ کا مطلب ہے واپسی ۔ خیر کی طرف واپسی لیکن ابھی تک اس واپسی کا کوئی ثبوت بہم نہیں ہؤا ۔ جن لوگوں کو بتا دیا گیا ہے کہ وہ کرپٹ ، نا اہل اور کاہل ہیں ۔ انہوں نے خود کو بدلا ہے یا نہیں ؟
اگر نہیں تو وہ کب بدلیں گے ۔ اگربجلی چوروں، رشوت خوروں، دہشت گرد وں، بھتہ خوروں اور ہدف بنا کر قتل کرنے والوں تک دھرنے اور انقلاب کا پیغام پہنچ گیا ہے اور انہوں نے پیغام کے متن کو سمجھ لیا ہے تو تبدیلی آجائے گی اور اگر انہوں نے انقلاب کا متن ناظرہ پڑھا ہے تو نیند طاری رہے گی ۔
انقلابوں کے لیے کرسی نشینوں کا بدلنا شرط نہیں ہوتا اور نہ ہی شریعت حکومت نافذ کرتی ہے ۔ شریعت کی تربیت نظام مساجد دیتا ہے اور صلوٰۃ کے ذریعے لوگوں کو برائی اور بے حیائی سے پاک کرتا ہے۔ جب لوگ برائی اور بے حیائی سے پاک ہوں تو اسے انقلاب کہتے ہیں۔ کیونکہ صالحین کا معاشرہ انصاف کی ضمانت ہوتا ہے۔ اُس کے لیے تحریکِ انصاف کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کیونکہ قرآن وہ انقلابی منشور ہے جو معاشرے کو شر سے پاک شریعت کا تحفہ دیتا ہے ۔ یہ وہ انعام ہے جو انسان کو خلقِ عظیم سے مشرف کر کے اوسط درجہ کے خاکیوں کو اعلیٰ درجے کے نوری بناتا ہے اور یہ کام مساجد کرتی ہیں جو پاکستانی مساجد نہیں کر پائیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ معاشرہ اخلاقی طور پر اپاہج ہے ۔ اور ایک اپاہج معاشرہ کوئی انقلاب برپا نہیں کر سکتا۔
اچھا ہوا کہ دھرنا کچھ دیر کے لیے معطل ہؤا ہے۔ اس تعطل کی تعطیل میں لوگ شاید سکون سے یہ سوچ سکیں گے کہ انہیں کرنا کیا ہے کیونکہ ستر دن کا دھرنا بشمول انقلاب مارچ قوم کے درد کا درماں نہیں بن سکا اور نہ ہی بن سکے گا ۔ اس کا فارمولا ایک ہی ہے ۔
لا یغییر ما بقوم حتیٰ یغییر ما بانفسھم ۔
سب لوگ اپنے تن کے من آنگن کی صفائی کریں، برائی اور بے حیائی سے اجتناب کریں کہ یہی انقلاب کا نقطہء آغاز ہے ورنہ دھرنوں اور مارچوں سے کچھ نہیں ہوگا ۔ قسم وحدہ لا شریک کی