حضرت عمر فاروقؓ ۔ سوانحی خاکہ

  • جمعرات 23 / اکتوبر / 2014
  • 7777

حضور اکرمﷺنے ارشاد فرمایا اگر میرے بعد سلسلہ نبوت جا ری رہتا تو عمر فا روقؓ نبی ہو تے۔آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالی نے عمر فاروق کی زباں پر حق جاری کر دیا ہے۔سیدناعمر فاروقؓ کااسلام لاناسرکار دوعالمﷺ کی دعا کا نتیجہ تھا۔ آپ نے اللہ تبارک وتعالی سے درخواست فرمائی تھی کہ اے اللہ اسلام کو عزت دے۔ عمرو بن ہشام کے ذریعے سے یا عمر بن خطاب کے ذریعے سے ۔ اللہ تعالی نے عمر بن خطابؓ کو قبول فرما لیا ۔ اور انہیں نور ایمان سے منور اور دولت اسلام سے مشرف فرما دیا ۔

آپ کا اسم گرامی عمر کنیت ابو حفص لقب فاروق تھا۔والد کا نام خطاب والدہ کانام ختمہ تھا۔آپ نویں پشت پر جناب کعب سے حضور اکرم ﷺنسے سلسلہ نسب میں جا ملتے ہیں ۔ سلسلہ نسب یہ ہے عمر بن خطاب بن نوفیل بن عبدالعزیٰ بن رباح بن عبداللہ بن قرط بن رزح بن عدی بن کعب ۔ عدی کے نام پر آپ کا قبیلہ بنو عدی مشہور ہے۔ایام جاہلیت میں بھی آپ کا خاندان پڑھا لکھا شمار ہو تا تھا۔ قریشیوں کو اگر کسی جگہ سفارت کے لیے کسی نما ئندہ کی ضرورت پڑتی تھی تو اس کا انتخاب آپ کے خاندان سے ہوا کرتا تھا ۔ آپ عمر میں حضور اکرم ﷺنسے تیرہ سال چھو ٹے تھے۔ بچپن سے ہی لکھنا پڑھنا سیکھ لیا ۔ سپاہ گری، شہسواری اور پہلوانی میں کمال حاصل کیا ۔ نہا ئیت فصیح اللسان خطیب تھے ۔

اسلام حضرت عمرؓ :۔ سیدنا حضرت عمر فا رروقؓ کی عمر کا ستا ئیسوا ں سال تھا جب اعلان نبوت ہوا۔قریش کے دوسرے سرداروں کے ساتھ یہ بھی مخالفت اسلام میں سرگرم عمل ہو گئے۔ایک روز کفار نے انہیں اپنا نما ئندہ بنا کر حضوراکرمﷺ کو شہید کر نے کے لیے بھیجا۔راستے میں نعیم بن عبداللہ مل گئے جنہوں نے حالات سے وا قفیت پا کر ان کا رخ یوں مو ڑ دیا کہ تمہا ری توبہن اور بہنوئی دونو ں مسلمان ہو چکے ہیں۔ یہ سن کر عمر فا روق آگ بگولا ہو گئے اور سیدھے بہن کے گھر گئے جنہیں موقع پر قراٰن پاک پڑھتے ہو ئے پایا یہ دیکھتے ہی انہیں مارنا شروع کر دیا۔ جب تھک گئے تو بہن نے کہا عمر تم جان جسم سے نکال سکتے ہو دل سے ایمان نہیں نکال سکتے۔بہن کی اس ثابت قدمی کو دیکھ کر حیران ہو گئے اورکہنے لگے کہ مجھے بھی وہ کلام پاک سنا ؤ۔ بہن نے انہیں غسل کرنے کے لیے کہا۔ جب فارغ ہوئے تو انہوں نے سورہ حدید کی آیات سنائیں سبح لللہ مافی السموات والارض وھو العزیز الحکیم۔جب اس آیت پر پہنچیں آمنو باللہ و رسولہ تو عمر فاروقؓ زاروقطار رونے لگے اور بے ساختہ پکار اٹھے۔اشہد اللہ لا الہ اللہ و اشہد ان محمدا عبدہ ورسولہ ۔

آپ کا ایمان لانا دراصل حضور اکرمﷺ کی دعا کا اثر تھا ۔ حضرت عمر چالیسویں مسلمان تھے۔بہن کے گھر میں اقرار ایمان کر نے کے بعد دار ارقم میں حضور اکرمﷺنکی خدمت میں حا ضر ہو کر اعلان اسلام کیا ۔ اسلام لانے کے بعدپھر سا ری زندگی آ پ کا طرہ امتیاز حب و اطاعت رسول پاکﷺ رہا۔ایمان لانے کے بعد بر ملا اظہار اسلام کیا۔تمام جماعت مسلمین کو سا تھ لے کر بیت اللہ شریف میں آ ئے اور اعلانیہ نماز ادا کی ۔تیرہ نبوی 632 ء میں جب ہجرت کا فیصلہ ہوا تو آفتاب رسالت نے اس ستا رے کو مدینہ طیبہ اپنے سے پہلے جا کر فضا ء کو ہموار کر نے کا حکم دیا ۔آپ نے اعلانیہ ہجرت کی اور مدینہ طیبہ پہنچ کر اپنے علم اور خدادا صلاحیت سے دوسرے اصحاب کی محنت کو سا تھ شامل کرتے ہو ئے پو رے مدینہ طیبہ کو دولت ایمان سے مشرف فرما دیا ۔حضور اکرمﷺنکی ہجرت طیبہ کے وقت مدینہ طیبہ کی آ با دی نے جو فقید المثال استقبال کیا تھا، اس میں آپ کی محنت کا بہت بڑا دخل تھا ۔

مدینہ طیبہ جانے کے بعد کفر نے اس شہر مقدس پر جب یلغار شروع کی تو ہر غزوہ میں آپ کاکردار نمایاں رہا۔ جنگ بدر میں جب کا فر پکڑے گئے تو انہیں قتل کر دینے کی را ئے دی۔جمہور کی رائے کے مطابق جب انہیں فدیہ لے کر چھو ڑ دیا گیا تو وحی الہی نے اگر چہ اس را ئے کی بھی تا ئید کی مگر میلان خداوندی فا روق اعظم کی رائے کی طرف تھا ۔ جنگ احد میں جب بعض مسلمانوں کی لغزش کی وجہ سے وقتی طورپرشکست ہو گئی اور ابو سفیان نے احد پہا ڑپر کھڑے ہو کر اعل ھبل کا نعرہ لگایا تو عمر فا روق ہی تھے جن کی گرج دار آ واز نے اللہ اعلی و اجل سے جواب دے کر اس کے دانت کھٹے کر دئے ۔اس کے بعد غزوہ خندق میں و اقع حدیبیہ میں، فتح خیبر میں، فتح مکہ میں اور غزوہ حنین اور غزوۂ تبوک میں آپ کاکردار ہمیشہ نمایاں رہا۔ 10 ہجری میں حضور اکرمﷺنے سا تھ حجۃ الودا ع کیا۔

11 ہجری میں جب سرور کائناتﷺ کاسفر آخرت ہوا تو اس موقع پر اس قدر غم محسوس کیا کہ ہو ش و حواس کھو بیٹھے اورصدیق اکبرؓ کے دلاسے اورسہارے سے طبیعت سنبھلی۔حضور اکرمﷺ کے بعد جب سیدنا ابو بکر صدیقؓ خلفیہ منتخب ہوئے تو تمام عمر ان کے مشیراورفرمانبردار سپا ہی کی حیثیت سے وقت گذا را ۔ جمادی الثانی13 ہجری میں جب یار غار رسولﷺ خالق حقیقی سے جاملے توامت مسلمہ نے وصیت صدیق اکبر پرآپ کو تا ج خلافت پہنایا۔ آپ نے خلیفہ بنتے ہی ملکی انتظام پر خصوصی توجہ دی ۔ مملکت کے تمام حالات کو مکمل کنٹرول میں لا نے کے بعد بلا تا خیر جہا د کی طرف توجہ دی ۔ اور غلبہ اسلام کے لیے پو ری طرح فکر مند ہو گئے ۔

فتوحات:۔ آپ نے با ر خلافت سنبھالتے ہی کبار صحابہ کرام اور کہنہ مشق اکابرین کا اجلاس بلایا اور اس میں انتہا ئی غور خو ض کے بعد فوج کی مختلف اطراف میں روانگی کے لئے فیصلے کئے ۔ آپ ذا تی طور پر فنون جنگ کے بہت بڑے ما ہر تھے۔اور مکہ کی زندگی میں ہی اطراف عرب اور بہت سے ممالک کا سفر کر چکے تھے اور جغرافیا ئی حدود سے و اقف تھے ۔ چنانچہ آپ نے بلا تا خیر چا روں طرف فوج کشی کی اور اللہ تعالی کی مدد سے فتوحات کے دروز ے کھل گئے ۔ آپ نے سیدنا حضرت ابو عبید ثقفی کو سپہ سالار بنا کر عراق کی مہم پر بھیجا ۔ بعد میں سیدنا حضرت سعد بن وقا صؓ کو بھی اس مہم میں شامل کر دیا گیا۔ اسلام کے ان عظیم فرزندوں نے عراق کے مختلف شہروں کو فتح کرتے ہو ئے قادسیہ کے میدان میں کسریٰ کی فوجوں کو شکست فا ش دیکر سپہ سالا ر رستم کوآخری انجام تک پہنچایا۔ اس طرح عرا ق کی قسمت کا فیصلہ کر دیا۔

قادسیہ کی فتح کے بعدمسلمانوں نے بابل قم مدائن وغیرہ پر قبضہ کرلیا پھر عراق و ایران کے سرداروں نے پورے ملک کی قوت کو نہاوند میں جمع کرلیا۔ قادسیہ کی جنگ کے بعد یہ سب سے بڑی خوف ناک جنگ ہوئی۔ آخر اللہ تعالےٰ نے یہاں بھی فتح عطاء فرمائی ۔ فیروزلوئلو مجوسی اسی جنگ میں گرفتار ہوا تھا جس کے ہاتھوں سیدنا فاروق اعظمؓ کی شہادت مقدر تھی۔ اس جنگ کے بعد خاندان کیانی کا آخری تاجدار ایران سے خاقان چین کے پاس بھاگ گیا ۔ اللہ تعالیٰ نے پورے ایران و عراق پر اسلام کا جھنڈا بلند کردیا ۔ان مہمات کے بعدآپ نے ملک شام کی مہم پر خصوصی توجہ دی ۔شام پر حملہ سیدنا صدیق اکبرؓ کے دور میں ہوچکا تھا اور دمشق محاصرہ کی حالت میں تھا۔ سیدنا حضرت خالد بن ولیدؓ اس مہم پر مامور تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہی دنوں دمشق فتح کروادیا اس کے بعد اردن فتح ہوا ۔ ان فتوحات نے قیصر روم کو آگ بگولہ کردیا اور وہ میدان یرموک میں دولاکھ فوج لیکر کود پڑا ۔ان کے مقابلے میں مسلمانوں کی فوج تیس ہزار تھی۔ مگر ان میں ایک ہزار وہ قدسی بھی شامل تھے جن کی آنکھوں نے جمال مصطفی ﷺ کا دیدار کررکھا تھا اور ایک صد وہ خلد نشین بھی تھے جو غزواء بدر میں بھی شریک ہو چکے تھے ۔ پانچ رجب پندرہ ہجری کوسیدنا حضرت ابو عبیدہ بن جراح سیدنا حضرت خالد بن ولید سپہ سالاروں نے اسلامی فوج کو لیکر دولاکھ فوج سے ٹکرائے۔ اللہ تعالیٰ نے عظیم الشان فتح عطافرمائی۔ دشمن کے ایک لاکھ سپاہی قتل ہوئے ۔ مسلمان صرف تین ہزار شہید ہوئے ۔

اس ہزیمت کے بعد قیصر روم ملک شام کو آخری سلام کرکے قسطنطنیہ روانہ ہوگیا۔ اسی مہم کے دوران سیدنا حضرت عمروبن عا صؓ فلسطین کی مہم پر روانہ تھے ۔ انہوں نے نا بلس ، لد ، عمواس ، وغیرہ پر قبضہ کر کے 16 ھ میں بیت المقدس کا محا صرہ کر لیا ۔ اسی اثنا ء میں سیدنا حضرت ابو عبیدہ بھی اپنی مہم سے فرا غت پا کر ان کے سا تھ جا ملے ۔ بیت المقدس کے علما ء صلحا ء اور راہبوں نے مسلم جرنیلوں سے کہا ہماری الہامی کتابوں میں اس شخص کا نام اور چہرہ تحریر ہے جس نے اس شہر کو فتح کرنا ہے۔ آپ خلیفۃ المسلمین حضرت عمر فا روقؓ کو بلوا ئیں اگر وہ وہی شخص ہو ئے تو ہم بیت المقدس کی چابیاں آپ کے حوالے کر دیں گے۔ جرنیلو ں نے یہ با ت دارالخلافہ تک پہنچا ئی۔ سیدنا حضرت عمر فا روقؓ نے سیدنا حضرت علیؓ کو نا ئب مقرر فرما کر رجب 16ھ میں یہ مقدس سفر شروع کیا ۔ سفر اس سادگی سے تھا کہ ایک ہی اونٹنی پر آ قا و غلام سفر کر رہے تھے ۔ اور با ری باری سوار ہو رہے تھے ۔ جب آ خری منزل آ ئی۔ غلام کی با ری سوار ہو نے کی اور آ قا کی باری پیدل چلنے کی آ گئی باو جود غلام کے اصرارکے وہ سفر پیدل کیا۔ بیت المقدس کے راہبوں کی نظر جب فا روق اعظم کے چہرہ پر پڑی تو انہوں نے بغیر کسی مزاحمت کے شہر کی چا بیاں آپ کے حوالے کر دیں ۔ بیت المقدس سے واپسی پر آپ نے تمام ملک کا دورہ کیا۔ سرحدوں کا معائنہ کر کے ملک کی حفا ظت کے انتظامی احکا مات اور مشورے صادر فرمائے اور بخیرو خوبی مدینہ طیبہ آ گئے ۔ ان اہم مہمات کے بعد سیدنا حضرت عمر و بن عاص کو فتوحات مصر پر روانہ کیا گیا۔ جنہوں نے اللہ تعالی کی کا مل تائید و نصرت سے بر اعظم افریقہ کے بہت سے ممالک فتح کر لیے ۔

شہا دت :۔مسلمانوں کا یہ لشکر ایک بحری سیلاب کی طرح بہ رہا تھا جس کا مقابلہ کر نے کے لیے کو ئی بھی طا قت سا منے نہ ٹھہر سکتی تھی کہ فا روق اعظم کی روانگی کا وقت آگیا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کے ایک پا رسی غلام فیروز نامی جس کی کنیت ابو لولو تھی، نے اپنے آ قا کی شکایت کی۔ آپ نے اسے بے جا سمجھتے ہو ئے مسترد فرما دیا۔ جس پر اس نے اسلام کے اس سب سے بڑے فاتح انسان کو صبح کی نماز میں زہر آ لود خنجر کے چھ وار کر کے گھا ئل کر دیا۔ سیدنا حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے بقیہ نماز مکمل کی۔اس کے بعد تین دن با ہو ش و ہوا س مگر شدید تکلیف میں رہ کر یکم محرم الحرام بروز ہفتہ 24 ھ کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ وفات سے قبل سیدہ طا ہرہ عفیفہ کائنات حضرت عا ئشہؓ صدیقہ بنت صدیقؓ سے اجازت چا ہی کہ مجھے میرے محبوب کے قدموں میں دفن ہو نے کے لیے جگہ دی جا ئے۔ انہوں نے وا قعہ افک میں حق با ت کہنے پر جس کی من و عن تا ئید عرش معلی سے سورہ نور کی 18آ یات سے ہو ئی تھی یعنی اعتراف احسان مندی کے لیے بخوشی اجاز ت دے دی۔ اور آپ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سرور کائناتﷺ کے قدموں میں سو گئے ۔

اس جگہ بارے میں حضور اکرم ﷺننے ارشاد فرمایا ہے۔"ما بین بیتی و منبری روضۃ من ریا ض الجنۃ" میرے گھر اور میرے ممبر کے درمیان جو جگہ ہے یہ جنت کے باغوں میں سے ایک با غ ہے ۔ یہ گنبد خضرا ء جو پو ری دنیا کی آ نکھو ں کو نور اورطراوت بخش رہا ہے یہ سیدہ عا ئشہؓ صدیقہ کا گھر ہے جس میں حضور اکرم ﷺ آ رام فرما یا کرتے تھے ۔

نظام خلافت:۔ سیدنا فا روق اعظمؓ نے مفتوحہ علاقوں میں ایک مثالی امن قائم کیا آپ کی حکومت جمہوری طرز کی تھی صا ئب الرائے حضرات پر مشتمل ایک مجلس شوری تھی جس کے مشورے سے تمام کام ہو تے تھے۔آپکے نظام حکومت کا طرہ امتیا ز عدل و احتساب ہے ۔ آپ نے جو نظام عدل قائم کیا وہ اپنی مثال آپ تھا ۔ اور احتساب اتنا سخت تھا کہ کو ئی بھی افسر یا حکمران اس سے بچ نہیں سکتا تھا ۔ مالیات کے استحکام کے لیے جزیہ کا حصول پو رے رحم و انصاف اور پو ری دیانت سے کیا۔غیر ملکی مال پر کسٹم لگایا۔تمام محصولات کے لیے بیت المال تعمیر کرائے۔ مجرمین کے لیے جیل خانے تعمیر کرا ئے اوراس بات کو یقینی بنا دیا کہ بے قصور انسان کبھی سزا نہیں پا سکتا اور مجرم قا نون کے شکنجے سے کسی حال میں بچ نہیں سکتا ۔ عرب میں پہلے سنہ کا رواج نہ تھا آپ نے 16 ھ میں سنہ ہجری ایجاد کیا ۔

مستعمرات :۔ آپ کے دور میں کئی نئے شہر آ با ہو ئے مثلا بصرہ ، کو فہ، فسطاط ، مو صل ، جیزہ، ان کے علاوہ کئی قصبات شہروں کی شکل اختیار کر گئے ۔ پہلی دفعہ با قاعدہ فو جی نظام قائم کیا اور چھا ؤنیاں تعمیرکیں اور سپا ہیوں کی معقول تنخواہیں اور بروقت چھٹیا ں مقرر کیں۔

علم و فضل :۔ آپ حا فظ قراٰن تھے ہزا روں احا دیث کے حا فظ تھے ۔ بہت بڑے فقیہ تھے، بلا کے خطیب تھے ۔ اپنی بات دو سروں کو سمجھانے کا بہت بڑا ملکہ رکھتے تھے تعلیم پھلا نے میں جذ با تی حد تک آ گے بڑھے ہو ئے تھے آپ کے دور میں بے شمار مدا رس اور تعلیم گاہیں قائم ہوئیں جن میں علوم عربیہ ، اسلامیہ ، اور فنون کی تعلیم ہو تی تھی ۔ فو جی تربیت لا زمی تھی ۔ بہت سی درس گاہوں میں غیر ملکی زبانیں سکھا ئی جا تی تھیں تاکہ دنیا کے کو نے کونے میں مبلغین دین بھیجے جا سکیں ۔ شعر و شاعری میں بھی بہت بڑا ملکہ رکھتے تھے ۔

اخلا ق و عادات : ۔ بلاشبہ اخلاق کی پختگی اور استوای کا اصلی سرچشمہ خشیعت الہی ہے۔ سیدنا فا روق اعظم کے دل میں جو خوف خداوندی تھا اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ۔ حب رسولﷺ اور اتباع سنت آپ کی سرشت کا حصہ تھا ۔ سیدنا حضرت علیؓ ، اور دوسرے افراد اہل بیت سے انتہا ئی محبت کرتے تھے ۔

زہدو قنا عت اور سا دگی اپنانے پر فخر محسوس کرتے تھے ۔ دیانت و امانت کے بہت پکے تھے۔تشددو ترحم میں حکم الہی و حکم رسول اللہ ﷺکے پو ری طرح پا بند تھے ۔ عفو و کرم سے بھی کبھی دریغ نہ کرتے تھے ۔اپنی حیثیت سے بڑھ کر سخا وت کر نے والے تھے ۔ رفا ہ عامہ کے کاموں میں خصوصی دلچسپی لیا کرتے تھے ۔ مساوات کا بہت خیال کرتے تھے ۔ غیرت آپکی طبیعت کا جز تھی۔ حصول معا ش کا ذریعہ تجارت تھی تاہم مدینہ طیبہ پہنچ کر زراعت بھی شروع کی تھی ۔ خلافت کے بار گراں نے حصول معا ش اور ذاتی مشاغل سے روک دیا تو انتہائی عسرت کی زندگی گذارنے لگے ۔ صحابہ کرامؓ نے مشورہ کر کے وظیفہ مقرر کرنا چا ہا تو عہد فاروقی میں بے روزگار لوگوں کے لیے پانچ ہزار درہم سالانہ جو وظیفہ تھا صرف وہی اپنے لیے قبول کیا ۔ گو یا اس شخص کی 416 درہم ماہانہ تنخواہ تھی جس کی حکومت دنیا کے چھ بر اعظموں تک پھیلی ہو ئی تھی۔

رعا یا کا بے حد خیال کرتے تھے را توں کو جا گ جاگ کر دوسرں کے دکھ درد میں شریک ہوا کرتے تھے ۔ فوت ہو تے وقت کچھ قرضہ آپ کے ذمہ تھا۔ وصیت کی کہ میرا ذاتی مکان فروخت کر کے ادا کر دیا جا ئے ۔ چنانچہ بعد وفات آپ کے صاحبزا دے حضرت عبداللہ بن عمرؓجو علم و فضل میں باپ کی طرح ہی مینارہ نور تھے اسے فروخت کیا اور باپ کا قرضہ ادا کر دیا ۔ حضرت عثمان غنیؓ نے اس مکان کو دارالقضاء قرار دے دیا ۔ جہا ں عدل فاروقی کی یا دیں تا زہ ہوا کرتی تھیں۔ آپ کی غذا نہا یت سادہ تھی ۔سا دہ روٹی روغن زیتون پر گذارا کیا کرتے تھے ۔ گو شت دودھ ترکا ری اور سرکہ کا بھی استعمال فرماتے تھے۔ قمیض اورتہ بند استعمال فرماتے تھے سر پر بارعب عمامہ ہوتا تھا جو عرب کے سرداروں کی خاص علامت تھی ۔ قد لمبا جسم گو شت سے بھرا ہوا۔ رنگ گندمی، دا ڑھی گھنی اور لبوں کے آ خری کنا رے پر مو ٹی مو ٹی مونچھیں ہو تی تھیں۔ چہرہ مبارک کو دیکھتے ہی انسان مرعوب ہو جا تا تھا ۔ انتہائی پر جلال شکل و صورت تھی مو ٹی چمکدار آنکھیں تھیں ۔ نہایت سنجیدہ مزا ج تھے کم گو تھے ۔ با مقصد مدلل بات کر نے کے عا دی تھے۔ انتہا ئی سا دہ ہو نے کے باوجود نہایت صاف ستھرا لباس اور پاکیزہ بدن رکھتے تھے۔ ہر وقت با وضو رہتے تھے۔ خو شبو کا اکثر استعمال کرتے تھے ۔ یہی وہ عمر فا روق ہیں جن کے بارے میں غیرمسلم مفکرین نے کہا ہے کہ اگر عمر دس سال اور زندہ رہتے یا ایک عمر دنیا میں اور پیدا ہو جاتا تو سوائے اسلام کے دنیا میں کو ئی دوسرا مذہب نظر نہ آ تا ۔