ریحانہ جباری کا آخری خط
- منگل 28 / اکتوبر / 2014
- 6342
(ہفتہ کی صبح تہران میں 26 سالہ ریحانہ جباری کو پھانسی دے دی گئی۔ اس نوجوان لڑکی کو ایک ایسے شخص کے قتل میں موت کی سزا دی گئی ہے جو اس کے بقول اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ دنیا بھر کے ملکوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایرانی حکومت سے اس پھانسی کو روکنے کی اپیل کی تھی۔ اس حوالے سے دو لاکھ 40 ہزار افراد نے ایک تحریر اپیل بھی ایرانی صدر کو روانہ کی تھی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس پھانسی کو ناجائز قرار دیا ہے۔ اس دوران پھانسی پر چڑھنے والی لڑکی کا اپریل میں لکھا ہؤا ایک خط منظر عام پر آیا ہے جو اس کی طرف سے اپنی ماں شولہ پاکراوان کو لکھی گئی آخری تحریر ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے اس خط کا اردو ترجمہ شائع کیا جا رہا ہے۔ ادارہ)
ڈئیر شولہ۔ مجھے آج پتہ چلا کہ اب قصاص ادا کرنے کی میری باری ہے۔ مجھے صدمہ ہؤا کہ آپ نے خود مجھے یہ کیوں نہیں بتایا کہ میری زندگی کا آخری لمحہ آن پہنچا ہے۔ کیا آپ نہیں سمجھتیں کہ مجھے اس بارے میں جاننا چاہئے تھا۔ جان لیجئے کہ آپ کے افسردہ ہونے پر میں شرمندہ ہوں۔ آپ نے مجھے آخری بار اپنے اور بابا کے ہاتھ کو چومنے کے حق سے کیوں محروم کر دیا؟
دنیا نے مجھے جینے کے لئے 19 سال دئیے۔ اس بھیانک رات کو مجھے قتل ہونا چاہئے تھا۔ میری لاش شہر کے کسی کونے میں پھینک دی جاتی۔ چند روز بعد پولیس آپ سے میری شناخت کرواتی۔ تب آپ کو یہ بھی پتہ چلتا کہ مارنے سے پہلے مجھے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ قاتل کبھی پکڑا نہ جاتا۔ کیونکہ ہمارے پاس اتنی دولت اور طاقت نہیں ہے۔ اس کے بعد آپ تکلیف اور شرم کی زندگی گزارتیں۔ اسی تکلیف میں چند برس بعد آپ کا انتقال ہو جاتا۔
تاہم ایک حادثہ کی وجہ سے یہ کہانی بدل گئی۔ میری لاش شہر کے کونے میں نہ پھینکی جا سکی لیکن مجھے ایون زندان کی قبر میں پھینک دیا گیا۔ اس کے بعد مجھے شہر رے کے قید خانہ میں قید تنہائی میں رکھا گیا۔ یہ مقدر کا لکھا تھا۔ میں اس کی شکایت نہیں کرتی۔ آپ مجھ سے زیادہ اس بات سے آگاہ ہو کہ موت زندگی کا اختتام نہیں ہے۔
آپ نے مجھے سکھایا تھا کہ ہر شخص اس دنیا میں تجربہ حاصل کرنے اور سبق سیکھنے کے لئے آتا ہے۔ ہر شخص پر کچھ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ میں نے سیکھا کہ بعض اوقات آدمی کو جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ آپ نے مجھے بتایا تھا کہ ریڑھی بان نے ناجائز کوڑے برسانے والے کو روکا تو کوڑے والے نے اسی کو ضربیں لگانا شروع کر دیں۔ وہ بے چارہ ان ضربوں کی شدت سے مر گیا۔ آپ نے مجھے بتایا تھا کہ بعض اقدار کی حفاظت ضروری ہے خواہ اس کے لئے جان ہی کیوں نہ قربان کرنی پڑے۔
آپ نے مجھے سکھایا تھا کہ اسکول میں جھگڑے کی صورت میں مہذب اور شائستہ رہنا چاہئے۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ آپ نے کتنی محنت سے ہمیں اچھے اطوار اپنانے کی تربیت دی تھی۔ آپ کا تجربہ غلط تھا۔ جب میری زندگی میں یہ سانحہ ہؤا، میری تعلیمات میرے کام نہ آ سکیں۔ عدالت میں مجھے ایک سفاک قاتل کے طور پر پیش کیا گیا۔ ایک مجرم کی طرح۔ میں نے کوئی آنسو نہیں بہائے۔ میں نے منت سماجت نہیں کی ۔ اس لئے کہ مجھے قانون پر بھروسہ تھا۔
لیکن مجھ پر الزام لگا کہ جرم کے باوجود میں بے حس ہوں۔ آپ کو پتہ ہے کہ میں تو مچھر بھی نہیں مارتی تھی۔ میں تو کاکروچ کو بھی اس کے پروں سے پکڑ کر دور پھینک آتی تھی۔ اب مجھے قاتل قرار دیا گیا ہے۔ جانوروں کے ساتھ میرے سلوک کی یہ وضاحت کی گئی کہ میں لڑکا بننے کی کوشش کر رہی تھی۔ جج نے یہ جاننے کی بھی زحمت نہیں کی کہ سانحہ کے وقت میرے ناخن لمبے اور پالش شدہ تھے۔
ججوں سے انصاف مانگنے والا کتنا پرامید تھا۔ اس نے یہ سچائی بھی نہ دیکھی کہ میرے ہاتھ کھلاڑی عورتوں کی طرح خاص کر باکسر عورتوں کی طرح سخت نہیں ہیں۔ اور جس ملک کی محبت آپ نے میرے دل میں ڈالی تھی ، وہ درحقیقت مجھے کبھی بھی قبول کرنا نہیں چاہتا تھا۔ جب تفتیش کے دوران مجھے زد و کوب کیا جا رہا تھا تو کسی نے میری حمایت نہیں کی۔ مجھ سے شرمناک سوال کئے گئے۔ میں چلاتی رہی۔ جب ایک دن میں نے اپنے جسم پر خوبصورتی کا آخری نشان بھی مٹایا یعنی اپنا سر مونڈ لیا تو مجھے گیارہ روز کے لئے قید تنہائی میں رکھا گیا۔
پیاری شولہ۔ آپ جو پڑھ رہی ہیں، اس پر آنسو نہ بہائیں۔ پولیس اسٹیشن میں پہلے روز ایک عمر رسیدہ غیر شادی شدہ افسر نے مجھے میرے لمبے ناخنوں کی وجہ سے زد و کوب کیا۔ تب مجھے پتہ چلا کہ اس عہد میں حسن کی قدر نہیں ہے۔ نہ خدوخال کا حسن اور نہ ہی تصورات اور خواہشوں کی خوبصورتی۔ نہ خوش خطی اور نہ ہی خوشنما آنکھوں یا ذہن کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ خوبصورت آواز بھی قبول نہیں ہے۔
میری پیاری ماں۔ میرے نظریات بدل چکے ہیں۔ آپ اس کی ذمہ دار نہیں ہیں۔ میرے الفاظ ختم نہیں ہوں گے۔ انہیں کسی کے حوالے کر رہی ہوں تا کہ جب آپ کی موجودگی کے بنا مجھے پھانسی دے دی جائے تو یہ تحریر وہ آپ تک پہنچا دے۔ میرے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریریں آپ کے پاس میرا ورثہ ہے۔
تاہم مرنے سے پہلے میں آپ سے کچھ تقاضہ کرنا چاہتی ہوں۔ آپ کو میری اس بات کو پورا کرنے کے لئے مقدور بھر کوشش کرنا ہو گی۔ درحقیقت یہی ایک چیز ہے جو میں اس دنیا ، اس ملک اور آپ سے مانگ رہی ہوں۔ مجھے اندازہ ہے کہ اس کام کے لئے آپ کو وقت درکار ہو گا۔
اس لئے میں اپنی وصیت کا یہ حصہ آپ کو ابھی بتا رہی ہوں۔ پلیز رونا مت بلکہ غور سے سنیں۔ میں ایسا خط قید خانے کے ذریعے نہیں بھیج سکتی کیونکہ اس طرح اسے جیلر سے منظور کروانا ہو گا۔ آپ کو میری وجہ سے ایک بار پھر تکلیف اٹھانا ہو گی۔ تاہم یہ ایسی چیز ہے کہ جس کے لئے آپ کو منت سماجت بھی کرنا پڑے تو کر لیں۔ حالانکہ میں آپ سے کئی بار کہہ چکی ہوں کہ میری زندگی کے لئے کسی سے بھیک نہ مانگنا۔
میری مہربان ماں۔ میری پیاری شولہ۔ آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہو۔ میں مٹی میں گلنا سڑنا نہیں چاہتی۔ میں نہیں چاہتی کہ میری آنکھیں یا میرا جوان دل مٹی میں مل جائے۔ اس لئے یہ اہتمام کریں کہ میرے مرنے کے بعد میرا دل ، گردے ، آنکھیں ، ہڈیاں غرض کہ جو کچھ بھی ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے، اسے کسی ضرورت مند کو عطیہ کر دیا جائے۔ میں نہیں چاہتی کہ یہ اعضا لینے والے کو میرا نام بتایا جائے۔ میں یہ بھی نہیں چاہتی کہ وہ میرے لئے گلدستہ خریدیں یا میرے لئے دعا بھی کریں۔
میں آپ کو اپنے دل کی گہرائیوں سے بتا رہی ہوں کہ میں نہیں چاہتی کہ میری قبر بنائی جائے اور آپ وہاں آ کر گریہ کریں۔ میں نہیں چاہتی کہ میری یاد میں آپ سیاہ لباس پہنیں۔ میرے صعوبت کے دنوں کو بھلانے کی کوشش کریں۔ اور مجھے ہوا کے حوالے کر دیں کہ وہ مجھے دور لے جائے۔
دنیا نے ہم سے محبت نہیں کی۔ یہ میرا مقدر نہیں چاہتی تھی۔ اب میں موت کو گلے لگا رہی ہوں۔ کیونکہ اللہ کی عدالت میں ، میں انسپکٹروں پر یہ الزام عائد کروں گی۔ میں انسپکٹر شملاﺅ کو مورد الزام ٹھہراﺅں گی۔ میں جج پر الزام لگاﺅں گی۔ اور اس ملک کی سپریم کورٹ کے ججوں پر الزام عائد کروں گی۔ جنہوں نے مجھے ہراساں کیا اور مجھے عذاب میں مبتلا کیا۔
پروردگار کی عدالت میں ، میں ڈاکٹر فارواندی کا گریبان پکڑوں گی۔ میں قاسم شہانی کو الزام دوں گی اور ان سب سے سوال کروں گی جنہوں نے لاعلمی میں یا دروغ گوئی سے کام لیتے ہوئے مجھے غلط ثابت کیا اور میرے حقوق سلب کئے۔ انہوں نے یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کی کہ بعض اوقات سچائی ویسی نہیں ہوتی جیسی کہ وہ بظاہر نظر آتی ہے۔
میری مہربان شولہ۔ اگلے جہاں میں، میں اور آپ مدعی ہوں گے۔ پھر دیکھتے ہیں کہ ہمارے رب کی منشا کیا ہے۔ میں مرنے تک آپ کی آغوش میں سر رکھے رہنا چاہتی تھی۔ میں آپ سے محبت کرتی ہوں۔