کربلا اور دھرنا
- بدھ 29 / اکتوبر / 2014
- 3840
اسلامی ریاست کا مقصد خدا کی زمین پر خدا کا قانون نافذ کرنا،نیکیوں کو قائم کرنا اور انہیں فروغ دینا ہے اور ہر وہ اقدام کرنا جو اللہ رب العزت کو پسند ہوں ۔ جبکہ ہر اس قوت کا قلع قمع کرنا جس سے جو اس ذات کو ناپسند ہیں۔اسلامی ریاست کی روح تقویٰ، خدا ترسی اور پرہیز گاری ہے جس کا سب سے بڑا مظہر ریاست کا سربراہ ہے ۔ حکومت کے عمال ( انتظامی معاملات)، قاضی (عدلیہ) اور سپہ سالار (فوج) سب اس کی روح سے سرشار ہوتے ہیں اور اسی کے باعث پورا معاشرہ فیضیاب ہوتا ہے۔
اسلامی ریاست میں صدق دل سے اللہ کے قانون کو اپنانا ضروری ۔ ملک خدا کا ہے ۔ اس ملک میں رہنے والے باشندے خدا کی رعیت ہیں اور حکومت اس رعیت کے معاملہ میں خدا کے سامنے جوابدہ ہے۔ حکمرانوں کا کام ہے کہ وہ اللہ کی حاکمیت قبول کرتے ہوئے رعیت پر اس کا قانون نافذ کریں۔ لیکن رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدینؓ کے چالیس برس کے ادوار میں جس طرح اسلامی ریاست کام کرتی رہی، بعد ازاں اس میں تحریف کی جانے لگی ۔ مسلمانوں کی حکومتوں اور ان کے حکمرانوں نے قیصر و کسریٰ جیسے رنگ ڈھنگ اپنالئے۔عمل کی جگہ ظلم و جبر کا غلبہ ہوتا رہا ، پرہیز گاری کی بجائے فسق و فجور ، راگ رنگ اور عیش و عشرت کا دور شروع ہوگیا۔
حرام و حلال کی تمیز سے حکمرانوں کی سیرت اور کردار خالی ہوتے چلے گئے اور سیاست کا رشتہ اخلاق سے ٹوٹتا گیا۔اسلامی ریاست کو خاندانی بادشاہت میں تبدیل کرنے کے واقعات رونما ہونے لگے ۔ یہ وہ عوامل تھے جو یزید کی ولی عہدی کا نقطہ آغاز بھی تھا۔ یزید کی ولی عہدی سے جس انسانی بادشاہت کا آغازمسلمانوں میں ہؤا، اس میں خدا کی بادشاہت کا تصور صرف زبانی اعتراف تک محدود رہ گیا تھا۔ عملی طور پر اس بادشاہت نے وہی نظریہ اختیار کرلیا تھا جو ہمیشہ سے ہر انسانی بادشاہت کا رہا ہے۔ یعنی ملک بادشاہ اور شاہی خاندان کا جبکہ وہ رعایا کی جان و مال ، عزت و آبرو حتی ٰ کہ اس کی ہر شے کا مالک بن گیا تھا۔
حضرت امام حسین ؑ ان تغیرات پر صبر نہ کرسکے کیونکہ امام عالی مقام ؑ مسلم معاشرے کی اسلامی فلاحی ریاست کی روح، اس کے مزاج اور اس کے نظام میں کسی بڑی تبدیلی کو قبول نہیں کرسکتے تھے۔ اسے روکنے کی جدوجہد ان کے نزدیک اولین ترجیح تھی۔ خواہ اس راہ مقصد کے لئے لڑنے کی نوبت بھی آجائے۔
سوال یہ ہے کہ وہ تغیرات کیا تھے؟ ایسا نہیں تھاکہ لوگوں نے اپنا دین بدل لیا تھا۔ حکمران سمیت عوام اللہ ، اس کے رسول ﷺ ا ور قرآن کو اسی طرح مان رہے تھے جس طرح وہ پہلے مانتے تھے۔ ملک کا قانون بھی پہلے جیسا تھا۔ عدالتوں میں قراان و سنت کے تحت فیصلے کئے جارہے تھے ۔ تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی قوانین میں رد وبدل 19 ویں صدی عیسوی سے قبل نہیں ہؤا تھا۔ البتہ یزید کی ولی عہدی اور اس کی تخت نشینی سے دراصل جس خرابی کی ابتدا ہورہی تھی وہ اسلامی ریاست کے دستور ، اس کے مزاج اور اس کے مقاصد کی تبدیلی تھی۔ اس تبدیلی کے نتائج اگرچہ اس وقت سامنے نہیں آئے تھے البتہ صاحب نظر کی حیثیت سے امام حسین ؑ نے مستقبل کی خرابیوں کو محسوس کرلیا تھا۔
انہوں ؑ نے اس تبدیلی کومحسوس کیا اور فیصلہ کیا کہ وہ یزید کی حکومت کیخلاف آواز بلند کریں گے۔ انہوں نے اس عظیم کام کیلئے خطروں کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور اپنی جان وار کر اسلامی ریاست کی بنیادی خصوصیات کو بچالیا۔
برصغیر میں اسلام 711عیسوی میں آیا۔ لیکن رفتہ رفتہ بادشاہت کی اندھیر نگری میں اسلامی ریاست کی پہچان ختم ہونے لگی۔ ۔ 1947 کا سال برصغیر میں ایک بار اسلام کی سر بلندی کاسال قرار پایا اور دنیا کے نقشہ میں ایک اسلامی ریاست قائم ہوئی ۔ سرزمین پاکستان میں مسلمانوں کو مکمل مذہبی آزادی میسر آئی اور عوام بااحسن و خوبی اپنے عقیدے پر عمل پیرا ہوئے۔ لیکن بدقسمتی سے یہ آسودگی زیادہ عرصہ تک نہ رہی اور معاشرے میں بدعنوانی اور اقرباء پروری نے اپنی جڑیں مضبوط کرنا شروع کردیں ۔ صاحب ثروت اور طاقتور طبقے نے اسلام کی بنیاد کو کھوکھلا کرنا شروع کردیااور قائد اعظم محمد علی جناح کے ملک کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کاخواب چکنا چور کردیا۔
وطن عزیز میں شخصی بادشاہت اور ولی عہدی کا نظام رائج ہونے لگا۔ جس میں لوٹ کھسوٹ اور خاندانی وقار فروغ کو ترجیح دی گئی ۔ میرٹ کی پامالی کے باعث عوام کے حالات دن بدن بتدریج ابتر ہونے لگے ۔ احتساب کا عمل ختم ہوگیا۔ معاشرے میں عزت و احترام فقط صاحب ثروت افراد کیلئے مخصوص ہوگیا جبکہ قانون کی عملداری عوام کے حصے میں آئی ۔ ان استحصالی اقدامات کیخلاف گو کہ کئی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے صدائے احتجاج بلند کی لیکن ڈاکٹر طاہر القادری اس حوالے سے نمایاں رہے ہیں۔
انہوں نے عوامی تحریک کے پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا تھا۔ تاہم سیاسی ناکامی کے باعث وہ سیاسی ماحول سے الگ ہوکر اشاعت دین میں لگ گئے تھے۔ مگر ایک سال قبل اچانک انہیں ملک میں غیراسلامی ماحول نظر آیا اور وہ اس صورتحال کیخلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور اسلام آبا د میں جاکر دھرنا دیدیا جو کار گر ثابت نہ ہؤا۔ اس سال پھر وہ قوم کا درد لئے کینیڈا سے پاکستان آپہنچے ۔ اس دوران لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں ان کے متعدد کارکنوں کو ہلاک کردیا گیا۔ وہ مرنے والوں کے لئے انصاف چاہتے تھے۔ انہوں نے انصاف کے حصول کیلئے انقلاب مارچ اور بعدازاں انقلاب دھرنے کا راستہ اختیار کیا ۔
مارچ کے آغاز میں انہوں نے اس مارچ کو کربلا کے سفر سے تعبیر کیا اور خود امام حسین ؑ جیسا جبکہ مارچ کے شرکاء کو رفقاء حسینی کہا۔ دھرنے ایک موڑ پر انہوں نے اپنے کارکنا ن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب معرکہ کربلا ہونے کو ہے ۔ انہوں نے اس وقت کو شب عاشور قرار دیتے ہوئے کہاکہ جو جانا چاہے چلا جائے ، جوب طلبی نہیں ہوگی ۔ کارکنان کو کفن پوشی کی ترغیب اور نواز حکومت کو مسلسل الٹم میٹم پر الٹی میٹم دئے۔ اسلام آباد کی فضاء کو خوب گرمایا ۔ پھر ایک وقت آیا کہ کہا گیاانقلاب کے بغیر واپس جانے والوں کو شہید ( ہلاک کردینے ) کردیا جائے۔
تقریباً 70 دن تک انقلاب کا انتظار کرنے اور ماڈال ٹاؤن کی شہادتوں کا غم منانے کے بعد اچانک دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہاکہ حکومت نے ہماری ایک نہ مانی ۔ چھوٹے انقلاب کا سوچ کرآئے تھے کامیاب ہوئے ۔ ہم نے قوم میں بیداری پیدا کردی ہے جس کی وجہ سے اب قوم کی سوچ میں تبدیلی آگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب درحقیقت ایک سفر کا نام ہے جو مرحلہ وار آیا کرتا ہے یعنی یہ اس بہتے ہوئے پانی کا نام ہے جو چٹانوں کو چیرتا ہؤا گزرتا ہے اور اپنے اثرات مرتب کرتاجاتا ہے۔
ان کے اچانک اقدام سے کارکنوں میں مایوسی دیکھی گئی ۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کو دنیا ایک مسلم اسکالر اور دانشور کے طور پر جانتی ہے ۔ وہ فن خطابت میں اعلیٰ مقام بھی رکھتے ہیں لیکن دوماہ سے زائد عرصہ تک انہوں نے جو کچھ کیا وہ عملاً ملک کو یرغمال بنانے کے سوا کچھ نہ تھا۔ جو حکومت کیلئے مشکلات کا باعث بنا۔ ملکی معیشت کو دھچکا لگا۔ یہاں تک کہ خارجہ پالیسی پر بھی نمایاں منفی اثرات مرتب ہوئے ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس تمام عرصہ میں وہ آئمہ کرام کی بے توقیری کی وجہ بھی بنے جو کسی بھی لحاظ سے امت مسلمہ بالخصوص پاکستان کیلئے اچھا نہیں ہے ۔
انہیں اس بات کا ادراک ہی نہیں کیا کہ وہ 2013 ء میں بھی ناکام و نامرادہوئے تھے اور موجودہ ہنگامہ خیز دھرنے کے نتائج بھی ان کے دعوؤں کے برعکس بے ثمر رہے ۔ انہوں نے اڑھائی ماہ میں کارکنان اور پاکستان کے عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ مورثی سیاست کی بھینٹ چڑھے ہوئے عوام کو وہ کوئی آسودگی دلانے میں ناکام رہے۔ ڈاکٹر صاحب کے افسوس ناک اقدام سے امام عالی مقامؑ کے انقلاب کی روح تک متاثر ہوئی ہے ۔
امام حسین ؑ نے اسلامی نظام کی بحالی و بقا کیلئے بھوک، پیاس، غیرب الوطنی اور ساتھیوں سمیت قربانی دیکر اسلام کو نئی زندگی دی جبکہ قادری صاحب نے ہمیشہ بلٹ پروف کنٹینر میں موسم کے مطابق پرآسائش وقت گزاراہے۔ انہیں کیا خبر گرمی کی شدت کسے کہتے ہیں ، بچوں کی العطش کی صدائیں کیا ہوتی ہیں، جوان بیٹے کا لاشہ اٹھانا کیا ہوتا ہے ، بھائیوں اور عزیزوں کے سر تن کیسے جدا ہوتے ہیں ، مشعیت الہیٰ کیا ہے، تپتے صحرا میں سر کٹانا کیا معنی رکھتا ہے اورسب سے بڑھ کر کس طرح کا فیصلہ مفاد عامہ میں ہے ۔
وہ تو یو ٹرن کے عادی ہیں اور اس تمام عرصہ میں انہوں نے جس طرح اور جس قدر ٹرن لئے وہ ایک ریکارڈ ہے ۔ دھرنے کا ڈرامائی انداز میں اختتام اور اب ایک بار پھر ملک سے باہر جانا بھی اسی زمرے میں آتا ہے ۔ گوکہ دھرنا اب “ سفر انقلاب “ میں تبدیل ہوچکا ہے مگر حقیقت میں ڈاکٹر طاہرالقادری عوامی اعتبار کھو چکے ہیں۔ نظریاتی کارکنوں کی دھرنے سے واپسی کے احکامات کے موقع پر جذباتی کیفیت دیدنی تھی۔ کیونکہ وہ اس بار ہر صورت ملک میں انقلاب کیلئے سب کچھ لٹادینے کا عزم لے کر آئے تھے۔
اس ساری صورتحال میں ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے 14 شہداء کے خون کا سودا ہوچکا ہے ۔ ملک میں کسی قسم کا انقلاب نہیں آنے والا ۔ اگر آنے والا ہے تو وہ ہے ایک نیا فارمولا جس سے عوام کو ایک بار پھر بیوقوف بنایا جائے گا۔ کیونکہ قادری صاحب پھر سے کینیڈا جاچکے ہیں۔