سانحہ کربلا

  • جمعرات 30 / اکتوبر / 2014
  • 5797

اس وقت اسلامی سال 1436ھ کا مہینہ محرم الحرام شروع ہے ۔ عربی قواعد کے مطابق یہ اسم مفعول ہے ۔ جو کہ تحریم سے بنا ہے تحریم باب تفعیل ہے ۔ تحریم کے بہت سے معنی ہیں ۔ ایک معنی تعظیم کرنا بھی ہے ۔ اس لحاظ سے محرم کا معنی ہے عظمت والا احترام والا مہینہ ۔ حضور اکرم ﷺ کی آمد سے قبل بھی دوسری شریعتوں میں چار مہینے بہت فضیلت والے گنے جا تے تھے جن کا قراٰن کریم میں یوں تذکرہ ہے ےَسْءَلُوْنَکَ عنَِ الشَّھْرِ الْحَرَامْ ۔ان مہینوں کا اہل عرب بھی بہت احترام کرتے تھے۔

عرب اکثر قتل و غارت میں مصروف رہنے کے باوجود ان مہینوں میں جنگ و جدال سے پرہیز کرتے تھے۔ یہ مہینے رجب المرجب ذیقعد ذی الحج اور محرم الحرام تھے ۔ حضور اکرم ﷺ کی تشریف آوری کے بعد بھی یہ مہینے اسی طرح سے حرمت والے کہلاَئے ۔ محرم الحرام کی دسویں تاریخ کو تاریخ عالم میں خاص اہمیت حا صل ہے ۔ مشہور قول کے مطابق سیدنا حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کی تاریخ دس محرم الحرام ہے ۔ اس لیے آپ کی شریعت میں دس تاریخ کا روزہ فرض تھا اور آدم علیہ السلام ہمیشہ دس تاریخ کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ دس محرم الحرام وہ اہم تاریخ ہے جس دن مصر کا نافرمان خد ا بادشاہ فرعون قلزم میں غرق ہوا تھا ۔ اور حضرت موسی علیہ السلام نے مع اپنی قوم بنی اسرائیل اس کے مظالم سے نجات پائی تھی ۔ حضرت موسی علیہ السلام اللہ تعالی کے شکرانہ کی ادائیگی کے لیے ہمیشہ دس محرم کا روزہ رکھا کرتے تھے ۔ آپ کی اقتداء میں قوم یہود نے بھی ہمیشہ اس تاریخ کا روزہ رکھا ۔

حضور اکرم ﷺ جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو اس تاریخ کو روزہ رکھتے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا ہمارے لیے بھی دس محرم اسی طرح سے قابل احترام ہے۔ لیکن مسلمان اپنا امتیاز اور تشخص قائم رکھنے کے لیے نویں اور دسویں محرم کا روزہ رکھا کریں۔ اس لیے صحابہ کرام ہمیشہ یہ دو روزے رکھا کرتے تھے ۔ حضور اکرم ﷺ دس محرم الحرام کو کثرت سے خیرات کرنے کی بھی ہدایت فرمایا کرتے تھے۔ آپ کے فرمودات عالیہ سے یہ بات ملتی ہے ۔ کہ جو شخص دس محرم الحرام کو خیر خیرات کرے گا ، اللہ تبارک و تعالی جل جلا لہ و عم نوالہ اس کے رزق میں فراخی پیدا کر دیں گے۔ یہی وہ دس تاریخ ہے جس دن قیامت آئے گی اور اللہ تبارک و تعالی اس کائنات کی بساط لپیٹ دیں گے۔

محرم الحرام کو اسلامی تاریخ میں اس لیے بھی خصوصی اہمیت حا صل ہو گئی کہ اس کی یکم تاریخ خلیفہ دوم سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کی تاریخ ہے ۔ جنہیں نبی کریم ﷺنے اللہ تبارک و تعالی سے مانگ کے لیا تھا ۔ دوسری اہم ترین اہمیت محرم الحرام کو اس عظیم درد ناک واقعہ سے ہوئی جو کہ کربلاء معلی میں نواسہ رسول پاک ﷺ ، جگر گوشہ بتول سیدہ فاطمۃ الزہر ، ا فرزند ارجمند شیر خدا سیدنا حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ، حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ کے ساتھیوں کی شہادت کا ہوا۔ یہ وہ کربناک افسوس ناک دکھ بھری شہادت کی کہانی ہے کہ جس پر امت مسلمہ نے اتنے آنسو بہائے ہیں کہ اگر قدرت خداوندی سے وہ سب آنسو جمع ہو جائیں تو دنیا میں ایک دجلہ اور فراط اور بہ پڑتے۔

سیدنا حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ وہ نسبی شرافت رکھتے ہیں جس کا کوئی ثانی نہیں ہے ۔ آپ ہمارے پیارے پیغمبرسید الکائنات فخر کونوں مکاں رحمۃ اللعلمین شفیع المذنبین سیدنا حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیﷺخاتم النبیین کے نواسے ہیں۔ شیر خدا سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کے صاحبزادے ہیں۔ وہ علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کرم اللہ وجہہ جنہیں حضور اکرمﷺ نے باب العلم کا خطاب عطاء فرمایا ، جن کی فضیلت عظمت سے کتب بھری پڑی ہیں ۔ جو دس سال کی عمر میں اسلام لا کر اول المسلمین میں شمار ہوئے ۔ اور پوری زندگی میں اسلام کی شان و شوکت کو دوبالا کرنے میں گذار دی ۔ اور بالآخر اللہ کی راہ میں ہی کوفہ کی جامعہ مسجد میں نماز پڑھاتے ہوئے شہید ہو گئے ۔ آپ کی نانی صاحبہ پوری امت کی ماں ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا جو کہ محسنہ نبوت ہیں ۔ خواتین میں سب سے قبل اسلام لا کر او ل المسلمات کہلائیں ۔ وہ چالیس برس کی عمر میں پیارے پیغمبرﷺ کے نکاح میں آئیںْ اس وقت ٓنحضور کی عمر مبارک پچیس برس تھی۔ حضرت خدیجہ 25 سالہ رفاقت کے بعد خالق حقیقی سے جا ملیں۔ ان سے اللہ تبارک و تعالی نے حضور اکرم ﷺ کو صالح اولاد یعنی چار بیٹے اور چار بیٹیاں عنایت فرمائیں۔

سیدنا حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ ماجدہ اللہ کے رسول کے دل کا ٹکڑا سیدہ طاہرہ بتول فاطمۃ الزہرا ء رضی للہ تعالی عنہا ہیں ۔آپ پیارے پیغمبر ﷺ کی سب سے چھوٹی شہزادی تھیں۔ ان کی بڑی بہن کا نام حضرت زینب ان کے بعد حضرت رقیہ پھر حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہن اجمعین پیدا ہوئیں ۔ مدینہ طیبہ میں 15 سال ساڑھے پانچ ماہ کی عمر میں شیر خدا سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کے نکاح مبارک میں آئیں ۔چار سو درہم مہر مقر ہوا جس کی مقدار 150 تولہ چاندی کے برابر ہے ۔ اسی کو مہر فاطمی کہتے ہیں۔ جہیز میں ایک چار پائی ایک گدا ایک تکیہ چاندی کے دو بازہ بند ایک مشکیزہ،دو چکیاں ، اور دو مٹی کے گھڑے دیے گئے۔ آپ کے بطن مبارک سے تین بیٹے حضرت حسن، حضرت حسین اور حضرت محسن اور دو بیٹیاں حضرت ام کلثومؓ اور حضرت زینبؓ پیدا ہوئیں ۔

حضور اکرم ﷺکی نسل اسی شہزادی حضرت فاطمۃ الزہراء کی نسل سے چلی آج دنیامیں جتنے بھی اصلی اور حقیقی سادات کرام ہیں یہ آپ کی ہی اولاد ہیں ۔حضور اکرم ﷺ کی رحلت طیبہ کے 6 ماہ بعد ماہ رمضان المبارک گیارہ ھجری میں اس جہان فانی سے عالم جاوداں کی طرف سفر کرگئیں۔ انا لللہ وانا الیہ راجعون ۔جیسے کہ ایک فطری امر ہے کہ سب سے چھوٹا بچہ بہت لاڈلا ہوتاہے ۔ کیونکہ وہ دیر تک ماں کی گود میں کھیلتا رہتا ہے ۔ اس لحاظ سے بھی اور دیگر خصوصی خوبیوں اورکمالات کی بناء پر بھی سرکار دو عالمﷺ کو اپنی اس شہزادی سے والہانہ محبت تھی ۔ فرمایا کرتے تھے فاطمہ میرے دل کا ٹکڑا ہے ۔ جس نے فاطمہ کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے ان کے بھتیجے جمیع بن عمیر نے پوچھا حضو راکرم ﷺسب سے زیادہ کس سے محبت رکھتے تھے انہوں نے فرمایا سیدہ فاطمۃ الزہرا ؓ سے۔ پھر انہوں نے سوال کیا کہ مردوں میں سب سے زیادہ کس پر شفقت فرما تے تھے ۔ جواب دیا حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ سے ۔

حضرت فاطمۃ الزہرا کا گھر حضور اکرم ﷺکے گھر سے متصل تھا ۔ اس لیے آپ اکثر و بیشتر ان کے گھر میں تشریف لے جاتے اور اسی طرح بیٹی والد محترم کے دولت کدہ پر تشریف لاتی رہتیں ۔ جب حضرت فاطمۃ الزہرا حضور اکرم ﷺکے گھر تشریف لا تیں تو آپ کھڑے ہو جا تے بیٹی کو گلے لگا تے اور جہاں سے بال شروع ہو تے ہیں ، وہاں بیٹی کی پیشانی چومتے تھے۔ اس کے جواب میں حضرت فاطمہ ابا جی کا ہا تھ اپنے ہا تھ میں لے کر پشت کی طرف سے چوم لیا کرتی تھیں ۔ آپ ﷺ جب سفر میں تشریف لے جا تے امہات المومنین کے تمام گھرو ں سے ہو کر آخری گھر جس میں تشریف لے جا تے وہ بیٹی کا گھر ہوا کرتا ۔ اور جب سفر سے واپس آ تے تو سب سے پہلے بیٹی کے گھر میں تشریف لے جا تے ۔ جب کبھی کوئی ہدیہ اورتحفہ پیارے پیغمبر ﷺ کو پیش کیا جاتا تو اکثر و بیشتر اس سے بیٹی کے گھر میں بھیجتے تھے۔ آپ نے زندگی کے آخری لمحات میں آپ کو بتلا دیا کہ میرا سفرآخرت قریب ہے اور سب سے پہلے میرے اہل بیعت میں سے آپ مجھ سے ملیں گی۔ یہی ہوا کہ آپ کی رحلت طیبہ کے چھ ماہ بعد اہل بیعت میں سے سب سے پہلے آپ والد محترم کے پاس تشریف لے گئیں۔آپ کو خاتون جنت کا خطاب بھی اسی روز عطا فرمایا گیا ۔

تسبیحات فاطمہ 33 دفعہ سبحان اللہ 33 دفعہ الحمد الللہ 34 دفعہ اللہ اکبر جس کے پڑھنے سے زمین و آسمان کے خلاء کے برابر نیکیاں ملتی ہیں یہ حضور اکرم ﷺ کا عطا کردہ تحفہ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عہنا کے لیے تھا اور آپ نے یہ تحفہ پوری امت کو عطا فرمایا ۔علاوہ ازیں بے شمار فضائل و مناقب اس عظمت والی شہزادی کے مو جود ہیں، جن سے کتب احادیث و سیرت بھری پڑی ہیں۔ 3 ہجری میں سیدنا حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئے ۔اور 4 ہجری میں ماہ شعبان میں سیدنا حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت باسعادت ہوئی ۔ ان دونوں شہزادوں کی شکل و صورت اپنے نانا جان حضور اکرم ﷺسے بہت زیادہ مشابہت رکھتی تھی ۔حضور اکرم ﷺ کو ان دونوں صاحبزادوں سے والہانہ محبت تھی۔ فرمایا کرتے تھے حسن اور حسین دنیا میں میرے دو پھول ہیں اور یہ بھی فرمایا حسن اور حسین جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔

ان پر شفقت کے کئی پیارے واقعات ہیں۔ایک دفعہ آپ ممبر پر واعظ فرما رہے تھے کہ یہ دونوں صاحبزادے آ رہے تھے اور قمیض میں پاؤں اٹکنے سے گر پڑے تو حضور اکرم ﷺ نے ان دونوں کو اٹھا کر ممبر پر اپنے پہلو میں بٹھا لیا۔ حضرت اسامہ بن زید سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی دونوں رانوں پر حسنؓ اور حسینؓ کو بیٹھے دیکھا اور فرما رہے تھے یہ دونوں میرے بیٹے ہیں ۔ یہ میری بیٹی کے بیٹے ہیں۔ اے اللہ میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما۔ اور ہر اس شخص سے محبت فرما جو ان سے محبت کرتا ہو ۔ آپ کایہ بھی ارشاد عالی موجود ہے کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔ جو حسینؓ سے محبت رکھے اللہ تعالی اس سے محبت رکھے۔حضرت حسینؓ کی شہادت کی خبر آپ نے اپنی زندگی مبارک میں ہی دے دی تھی۔

واقعہ کربلا ء معلی: 35 ھجری میں سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید کردیے گئے ۔ ان کی شہادت کے بعد مسلمانوں میں بعض نا عاقبت اندیش لوگوں کی سازش سے غلط فہمی پیدا ہوگئی ۔اور سلطنت اسلام دو حصوں میں بٹ گئی شام کا علاقہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فرمانروائی میں چلا گیا اور عراقی علاقہ سیدنا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت میں آگیا ۔17 رمضان المبارک چالیس ھجری کو سیدنا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کوفہ کی جامع مسجد میں شہید کردیا گیا۔ آپ کے بعد آپ کے بڑے صاحبزادے سیدنا حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے ۔ان کو اپنے ناناجان کی ایک حدیث پہنچی تھی کہ یہ میرا بیٹا حسن سید ہے۔ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کرادے گا۔ آپ نے اس بشارت کا مستحق بننے کے لیے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صلح کرلی اور خود 41 ھجری میں خلافت سے دستبردار ہوگئے۔ اس طرح سے ملت اسلامیہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سربراہی میں ایک جھنڈے تلے آگئی۔

5 ربیع الاول 50 ھجری کوسیدنا حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کی بیوی جعدہ دختر اشعث ملعونہ نے زہر دیدیا اس طرح سے آپ نے جام شہادت نوش فرمایا ۔60 ھجری میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وفات پائی۔ان کے بعد ان کا بیٹا یزید تخت نشین ہوا جس کے دور میں تاریخ اسلام کا وہ اندہ ناک واقعہ پیش آیا جس پر امت قیامت تک آنسو بہاتی رہے گی۔ واقعہ کی مختصر تفصیل یہ ہے کہ جب یزید نے بیعت لی تو چار عظیم المرتبت ہستیوں نے بیعت سے انکار کردیا 1 ۔سیدنا حضرت امام حسینؓ بن سیدنا علی ا لمرتضیؓ کرم اللہ وجہ۔
-2سیدنا حضرت عبداللہؓ بن عمر۔3 ۔ سیدنا حضرت عبداللہؓ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ 4 ۔ سیدنا حضرت عبداللہؓ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ یہ چاروں عظیم المرتبت ہستیاں مکۃ المکرمہ میں مقیم تھیں ۔چند روز بعد کوفہ جو کہ سیدنا حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہ کا پایہ تخت رہا تھا وہاں کے لوگوں نے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوخطوط لکھے کہ ہمارے اوپر بہت سے مظالم ڈھائے جارہے ہیں ہمیں ان سے نجات دلانے کے لیے آپ کوفہ تشریف لائیں ۔ آپ نے پہلے تو انکار کیا مگر پھر ان کا اصرار بڑھنے پر سفر کا ارادہ فرمالیا ۔

حضرت عبداللہؓبن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عبداللہؓ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس ارادے سے منع کیا ۔ مگر آپ کوفیوں کے آئے ہوئے 1200 خطوط سے اس قدر متا ئثر ہو چکے تھے کہ آپ نے بہر حال ارادہ سفر کرلیا اور آپ 10 ذولحج 60 ھجری کو گھر کے تمام افرادجن میں مرد عورتیں اور بچے شامل تھے، مکۃ المکرمہ سے عراق کی جانب روانہ ہوگئے ۔ یزید نے یہ خبر پاکر کوفہ کے گونر عبیداللہ بن زیاد کو اس معاملے سے نمٹنے کے لیے مقرر کیا اس نے کوفہ کی فوجی چھاؤنی کے کور کمانڈر عمرو بن سعد کو یہ ذمہ داری سونپ دی۔ اس اثناء میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کربلاء معلیٰ کے مقام پر پہنچ چکے تھے۔ عمر بن سعد نے معلومات پاکر کر بلاء معلی کے میدان میں حضرت امام حسینرضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ہمراہیوں کو گھیرے میں لے لیا اور مذاکرات شروع ہوگئے ۔

آپ نے فرمایا کہ میری تین باتیں ہیں یا تو مجھے واپس مکۃ المکرمہ لوٹنے دیا جائے یا دمشق جانے دیں، میں خود یزید سے معاملات طے کرلوں گا ۔ تیسری بات یہ ہے کہ مجھے کسی غیر مسلم کی سرحد تک جانے دیں میں وہاں اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کروں گا ۔ عمر و بن سعدؓ رضامند ہونے کے قریب تھا کہ نائب سپہ سالار شمر ذی الجوشن جو اول درجے کا بدبخت اور دشمن اہل بیت عظام تھا اس نے کوفہ کے گونر عبید اللہ بن زیاد سے کہا اگر حسینؓؓ بچ گئے تو وہ یزید سے مسلم بن عقیل کے قصاص کا مطالبہ کریں گے جس کے عوض میں تم قتل کردئے جاؤ گے ۔ بہتر ہے کہ حضرت حسین کا یہاں ہی کام تمام کردیا جائے ۔ ابن زیاد کی بدبختی غالب آگئی اس نے شمر ذی الجوشن سے اتفاق کیا اور عمر بن سعدؓ کو پیچھے ہٹاکر شمر بن جوشن کو اس دستے کا سربراہ مقرر کر دیا جو حضرت حسینؓ سے نمٹنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ شمر نے کمان سنبھال لی اور دریائے فرات کا پانی بند کردیا ۔ اہل بیت پانی کی بوند بوند کو ترس گئے۔

شمر نے مطالبہ کیا کہ اس کے ہاتھ پر نائب یزید ہونے کی حیثیت سے پہلے بیعت کی جائے پھر یزید کے ہاتھ پر بیعت کی جائے۔ حضرت امام حسینؓ نے اس ناپاک کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے انکار فرمادیا۔ در اصل یہ ملعون شمر کی محض خباثت تھی وہ ہر حال میں نواسہ رسولؓ کو ختم کرنے کے درپے تھا۔ اس کے بعدشمر کی فوج سامنے آئی تو اس میں بہت سے وہ کوفی بھی موجود تھے جن کے خطوط حضرت حسینؓ کو وصول ہوچکے تھے ۔ آپ نے ایک ایک کو خطاب کرکے ان کے خطوط دکھلائے مگر کسی کو غیرت نہ آئی ۔یہ خوفناک حالات سات محرم سے دس محرم تک جاری رہے ۔آخر دس محرم الحرام 61 ھ کو ان ظالموں نے نوسہ پاکؓ حضور اکرم ﷺ کو سجدے کی حالت میں شہید کردیا ۔ اور آپ کا سر مبارک ایک طشت میں رکھ کر ملعون ابن زیاد کے پاس روانہ کردیا۔ حضرت امام حسینؓ کے ساتھ 16 افراد آپ کے گھر والے بھی شہید ہوئے۔ باقی مظلومین کو حضرت امام حسینؓ کے سر مبارک سمیت ایک گاڑی پر سوارکرکے دمشق بھیج دیا گیا ۔

جب یہ لٹا پٹا کافلہ دمشق پہنچا تو ایک کہرام مچ گیا چونکہ بہت سی خواتین کی رشتہ داریاں آپس میں تھیں۔ اس درد ناک منظر کوبیان نہیں کیا جاسکتا اس موقع پر اگر چہ یزید نے بظاہرافسوس کا اظہار کیا مگر یہ بعد از وقت تھاجو ہونا تھا وہ ہوچکا تھا ۔ اس شہادت پر کیا خوب کہا گیا ۔

کرتی ہے پیش اب بھی شہادت حسین کی   

آزادی حیات کا یہ سرمدیں اصول
کٹ کے سرتیرا چڑھ جائے نیزے کی نوک پر

لیکن تو فاسقوں کی اطاعت نہ کر قبول

دس محرم الحرام ہمیں صبر و تحمل کا سبق دیتا ہے اس روز کثرت سے تلاوت کلام پاک اور درودشریف پڑھ کر اور جوکچھ اللہ تعالیٰ توفیق دے اہل بیت عظام کو ایصال ثواب کرنا چاہیے۔ ہر اس کام سے اجتناب کرنا چاہیے جس سے اللہ تبارک وتعالیٰ جل جلالہ وعم نوالہ حضور اکرم ﷺ اہل بیت عظامؓ اور صحابہ کرامؓ کی ناراضگی کا اندیشہ ہو ۔  وآخر دعوانا عن الحمد اللہ رب العالمین