قابل ستائش اقدام

  • جمعہ 31 / اکتوبر / 2014
  • 3939

یورپی یونین کے اہم ملک سویڈن نے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کر لیا ہے۔ سویڈن کے اس فیصلے پر اسرائیل نے حسب توقع برہمی کا اظہار کیا ہے اور بطور احتجاج سویڈن سے اپنا سفیر واپس بلا لیا ہے۔ جبکہ اسرائیل کے ’’ ازلی اتحادی اور انسانی حقوق کے نام نہاد چیمپئن ‘‘ امریکہ نے سویڈن کو انتباہ کیا ہے کہ یہ فیصلہ قبل از وقت ہے اور فلسطینی ریاست کے قیام کا حل اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ہی نکل سکتا ہے۔ امریکہ اسرائیل کی ہٹ دھرمی کو بھول چکا ہے یا یاد رکھ کر بھی بھولنا چاہتا ہے۔ فلسطین کا مسئلہ چند ماہ یا سال نہیں بلکہ 70 سال پرانا تنازعہ ہے اور دنیا بھر کے جمہوریت اور اعتدال و انصاف پسند حلقے اسرائیلی قبضے کے خلاف ہیں اور فلسطینی حقوق کو تسلیم کرتے ہیں۔

سویڈن یورپی یونین کا پہلا ملک ہے جس نے فلسطینیوں کی آزاد ریاست کو باقاعدہ تسلیم کیا ہے۔ یورپ کے سات دیگر ممالک جن میں ہنگری، بلغاریہ، چیک ری پبلک، مالٹا، قبرص، پولینڈ اور رومانیہ شامل ہیں۔ وہ بھی تسلیم کر چکے ہیں جبکہ یورپی یونین سے باہر آئس لینڈ بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکا ہے۔ سویڈش وزیراعظم نے ایک ماہ قبل پارلیمنٹ میں اعلان کیا تھا کہ حکومت نے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سویڈش وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ ایک اہم قدم ہے جو فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کی تصدیق کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں فلسطینیوں کو حق خود ارادیت کے حق میں مزید حمایت حاصل ہو گی۔

سویڈن کے اس فیصلے کی امن کے خواہاں حلقے بجا طور پر ستائش کر رہے ہیں۔ فلسطینیوں کو بھی دنیا کی دیگر اقوام کی طرح آزادانہ طور پر زندگی گزارنے کا حق ہے جو اسرائیل نے سلب کر رکھا ہے ۔ فلسطینیوں کو آئے روز ناروا پابندیاں لگا کر انہیں شدت پسندی پر مجبور کیا جاتا ہے اور جب کوئی شخص انفرادی طور پر کوئی شدت پسندانہ عمل انجام دے تو اس کی سزا ہزاروں فلسطینیوں کو دی جاتی ہے جو غیر منصفانہ طریقہ اور نہتے فلسطینیوں کو شدت پسندی پر اکسانے کے مترادف ہے۔

فلسطین کے صدر محمود عباس نے سویڈن کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور اسے جرات مندانہ اور تاریخی قرار دیا ہے۔ سویڈن کا یہ فیصلہ برطانوی پارلیمان میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی تحریک کی منظوری کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔ سویڈن کی طرف سے یہ فیصلہ ہر طرح سے خوش آئند ہے کہ اس سے ان ممالک کو حوصلہ ملے گا جو اسرائیل کے خلاف ہیں تاہم وہ فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔
فلسطینیوں کے لئے اپنے حق خود ارادیت کے حصول کے ضمن میں یہ اہم قدم ہے کہ یورپی یونین کے رکن ملک میں سے سویڈن پہلا ملک ہے جس نے اسے تسلیم کیا ہے۔ اس سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ فلسطینیوں کے حوالے سے عالمی شعور میں تبدیلی اور بہتری آ رہی ہے اور عوام کے دباؤ پر حکومتیں اسرائیل کے خلاف بھی فیصلہ کرنے کی ہمت پیدا کر سکی ہیں۔

اقوام متحدہ کی فلسطین کے بارے میں قراردادیں بھی اس بات کا تقاضہ کرتی ہیں کہ فلسطین کو الگ ریاست کے طور جینے کا حق دیا جائے اور اسرائیل فلسطینی علاقوں میں ان کے معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہ کرے۔ فلسطینیوں نے آزادی اور اپنے حقوق کے لئے بے پناہ جدوجہد کی ہے اور ہزاروں جانیوں قربانی دی ہے۔ غزہ میں چند ماہ قبل اسرائیل نے وحشیانہ انداز میں فلسطینیوں کے خلاف فضائی اور زمینی حملہ کیا۔ ان کی رہائش گاہیں، مساجد اور کاروباری مراکز تباہ کئے۔ ان حملوں میں 2 ہزار سے زائد فلسطینی زندگیوں سے محروم کر دیئے گئے جن میں معصوم بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شامل تھی۔

سویڈن کے اس تاریخی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امریکہ اور یورپی ممالک اس تنازعہ کے حل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہ ممالک اسرائیل کو مجبور کر سکتے ہیں کہ فلسطینیوں کو ان کے اپنے علاقوں میں جبر کے بغیر زندگی گزارنے دی جائے۔ وہاں پر حملے بند کئے جائیں۔ فلسطینی حکومت کو آزادی کے ساتھ اپنے ملک کے معاملات چلانے دیئے جائیں تا کہ اس دیرینہ تنازعات کا حل نکل سکے اور دنیا کا یہ خطہ امن کا راستہ دیکھ سکے۔

یہاں یہ کہنا لازم ہے کہ سویڈن کا فیصلہ مشعل راہ ہے اور دیگر یورپی ملکوں کو بھی جو انسانی روایات و اقدار اور حقوق کے داعی ہیں اس بات کو سمجھنا چاہئے کہ فلسطینیوں کو دنیا میں جینے کاحق ہے اور دنیا کو بالآخر ان کو ان کا یہ حق دینا ہو گا ۔ فلسطین کو آزادی دلانے میں دنیا جتنی تاخیر کرے گی کرہ ارض کا امن اس وقت تک خطرے میں رہے گا۔

سویڈن کی جانب سے یہ تازہ پیش رفت ایک تقاضہ اور بھی کرتی ہے کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کے لئے بھی قدم بڑھائے تاکہ جنوبی ایشیا بھی جنگ کے خوف سے آزاد ہو اور جنگی ساز و سامان پر خرچ ہونے والے وسائل خطے کے کروڑوں غربا کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو سکیں۔