ہریانہ کی نئی حکومت اور مسلمان

  • بدھ 05 / نومبر / 2014
  • 4332

2011کی مردم شماری کے مطابق فی الوقت ہریانہ کی آبادی 25,353,081ہے۔ڈھائی کروڑ کی آبادی میں 1000مردوں میں صرف877خواتین ہیں۔دوسری جانب بچوں کا تناسب1000میں861 ہے۔ جبکہ 2001میں بچوں کا تناسب1000:964تھا۔ وجہ؟ رحم مادر میں بچیوں کا سفاکانہ قتل ،اسقاط حمل،اور خواتین اور بچیوں کو عزت کی نگاہ سے نہ دیکھنا اوران کی پرورش کو بوجھ سمجھناہے۔ نتیجتاً خواتین پر ظلم و تشددکے بے شمار واقعات بکھرے پڑے ہیں۔

اس غیر فطری تناسب کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں لڑکیوں کو اغوا کرنا،ان کی خرید و فروخت،اور جسم فروشی جیسے قبیح سماجی مسائل سے ہریانہ دوچار ہے۔تیسری جانب اگر یہ بیٹیاں بڑی بھی ہو جائیں تو ان کی شادی،اور شادی میں غیر ضروری رسم و رواج، لڑکیوں اور ان کے والدین پرجہیز کی شکل میں ان کی زندگیوں سے کھلواڑاور سماجی دباؤ،جہیز کم ملنے پر نئی بہوؤں کو زندہ جلایا جانا،ان پر بے شمار مظالم،اور تشدد کی رلا دینے والی داستانیں عام ہیں۔

لیکن اس سے بھی آگے بڑھ کر کہیں فحاشی و عریانیت کا فروغ تو کہیں مال و دولت کی فراوانی میں غرق نوجونوانوں کی بے راہ روی نے خواتین کی عصمت کو تار تار کر دیا ہے۔نیز غربت و افلاس کے نتیجہ میں ایسے شرمناک واقعات بھی آپ کو دیکھنے کو ملیں گے جہاں ایک ہی گھر میں دو اور تین بھائیوں کی بیوی ، بیک وقت،ایک ہی عورت ہے۔اس غیر فطری تناسب اور اس کے نتیجہ میں پیدا شدہ مسائل کی عمومی وجہ ہریانہ میں "گوتر "کاچلن اور اس پر سختی سے عمل درآمد ہے۔ جاٹ سماج میں یہ گوتر ایمان کا حصہ مانے جاتے ہیں۔ اور ایک گوتر میں رہتے ہوئے لڑکے اور لڑکی کی شادی نہیں ہو سکتی ۔ گوتر کے مسائل عموماً کھاپ پنچایتوں میں حل کیے جاتے ہیں۔ جہاں غیرت کے نام پر قتل کے فیصلے نہ صرف یہ کہ  سنائے جاتے ہیں بلکہ عمل بھی کیا جاتا ہے۔

شادی کا معاملہ ہو یا فوجداری کا، یہ کھاپ پنچایتیں فیصلہ سنانے میں دیر نہیں کرتیں۔ اور ان کے فیصلے اکثر عجیب و غریب ہوتے ہیں۔ چند ماہ قبل انہوں نے ایک شادی شدہ جوڑے کو بھائی بہن کی طرح رہنے کا حکم سنایا تھا کیونکہ ان دونوں کا تعلق ایک ہی گوتر یا خاندان سے تھا۔اب وہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ ایک ہی گوتر اور ایک ہی گاؤں کے اندر شادی پر پابندی لگانے کے لیے ہندو میرج ایکٹ میں ترمیم کی جائے۔ ان کا مؤقف یہ ہے کہ گاؤں کی لڑکی کو بہو نہیں بنایا جاسکتا۔لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ہریانہ میں، جہاں آئے دن کوئی نہ کوئی ان پنچایتوں کے من مانے طریقوں کا شکار بنتا ہے، کسی سیاسی رہنما میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ ان کے سامنے آواز اٹھا سکے۔

مسائل اور ان سے پیدا شدہ معاشرے کے علاوہ ایک اہم مسئلہ ریاست کے مسلمان ہیں۔یہ مسلمان آج تک اُس شدھی تحریک سے متاثر ہیں جنہیں شرعی نقطہ نظر سے مرتد کہا جاتا ہے۔شدھی کی تحریک سوامی دیانند سرسوتی سے وابستہ ہے۔شدھی یعنی صفائی یا پاکیزگی ،جس سے کسی بھی فرد بشر کو انکار نہیں ہو سکتا البتہ اْن کی شدھی تحریک کا یہ مطلب تھا کہ ہندوستان میں جو مذہبی گروہ ہندستانی معاشرت سے دور ہو چکے ہیں اُن کی شدھی تب ہی ہو سکتی ہے جب کہ وہ ہندوستانی معاشرت کو پھر سے اپنا لیں۔ شدھی تحریک کا آغازبنگال میں ہندو میلوں سے شروع اور با گذشت زماں اْن میں تشدد کی تحریک بھی شروع ہوئی۔ نو جوان ہندوں کو لاٹھی،تلوار و خنجر استعمال کرنے کے طریقے سکھائے جانے لگے۔

آریہ سماجی تحریک کے بعد راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کا قیام عمل میں آیا جس کی بنیاد 1925ء میں کیشو بیلی رام ہیج ور(1889۔1940)نے ڈالی۔ ان کے بعد سدیسو اراوگولواکرو بالا صاحب دیورس اس کے سر براہ بنے جنہوں نے یکے بعد دیگرے ثقافتی وطن پرستی کو تنظیمی شکل دی اور یہ نظریہ جڑ پکڑتا گیا۔ہندو میلوں سے پہلے ہندو سبھاوں کی تشکیل ہوئی اور1922ء میں ان سبھاوں سے ہندو مہا سبھا کی تشکیل ہوئی۔1923ء میں وی ڈی ساوارکر کا ہندوتوا کا فلسفہ سامنے آیا جس کے مطابق ہندو وہی ہے جو ہندوستان کو اپنی پترو بھومی (یعنی باپ دادا کی سر زمین) اور پنیہ بھومی (پاک سر زمین) مان لے ۔ ورنہ جو ہندو دھرم سے دور ہو گئے ہیں ان کو یہ ماننا پڑے گا کہ ہندوستان ہی پترو بھومی بھی ہے اور پنیہ بھومی بھی اور اِس کے علاوہ بھارت ماتا پر اپنے اعتقاد کے علاوہ انہیں ہندو سنسکرتی کی تعظیم کرنی ہو گی۔

جن مذاہب کا جنم بھارتی دھرتی پرہوا، یعنی بدھ مت،سکھ مذہب، جین مت ،ان کی قبولیت کیلئے کوئی شرط عائد نہیں ہوئی البتہ وہ مذاہب جن کا پنیہ بھومی میں جنم نہیں ہوا، وہ ظاہر ہے بھارتی سنسکرتی سے خارج مانے گئے۔ ویر ساوارکر 1936ء میں ہندو مہا سبھا کے پردھان بنے اور ان کا فلسفہ ہندوتوا کے پرچارکوں کے لیے ایک لائحہ عمل بن گیا اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ہندوستان میں بڑے پیمانہ پر اگر کسی ریاست میں مسلمان شدھی تحریک سے آج بھی متاثر ہیں تو وہ ہریانہ ہی ہے۔

ہریانہ میں یہ متاثرین یا مرتدین آج ان تمام سماجی،معاشرتی،اورتہذیبی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں،جس میں ریاست کا ہر عام و خاص مبتلا ہے۔ان کے نام ،ان کی معاشرت اور سماجی زندگی کے شب و روز کے معاملات غیر مسلموں سے علیحدہ نظر نہیں آتے۔ یہ مرتدین اسلام کی بنیادی معلومات تک سے نا واقف ہیں۔نماز روزہ سے ناواقفیت آج بھی اسی درجہ میں ہے۔پیدائش اور موت کے شرعی مسائل سے یہ بھی یہ لوگ ٓگاہ نہیں ہیں۔علاقہ میں اگر کسی مسلمان کا انتقال ہو جائے تو جنازے کی نماز پڑھانے والا آسانی سے میسر نہیں آتا۔تعلمی پسماندگی،غربت،افلاس، بے روزگاری،اور چھوٹے موٹے اور معمولی کاموں میں مصروف یہ مسلمان،در حقیقت مسلم معاشرے کی کسمپرسی کے عکاس ہیں۔مزید یہ بھی ان تمام غیر اخلاقی و غیر تہذیبی رسم ورواج میں مصروف ہیں جو ریاست میں عام ہیں۔

اس پس منظر میں ہریانہ کی نئی حکومت اورمکمل اکثریت حاصل کرنے والی بی جے پی کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھترنے اپنا قلم دان سنبھال لیا ہے۔کھتر آر ایس ایس کے لیڈر تھے جو خاموشی سے اپنی خدمات انجام دیتے آئے ہیں۔یہی وجہ تھی کہ بی جے پی میں انہیں سخت جانفشانی سے کام کرنے اور کام کروانے والے لیڈر کا درجہ حاصل ہوا ۔ 60سالہ کھتر جو کسی زمانہ میں ڈاکٹر بننے کے خواہاں تھے، اپنی تنظیمی صلاحیتوں کیلئے مانے جاتے ہیں۔ وہ ہنوز غیر شادی شدہ ہیں اور گذشتہ 40 سال انہوں نے آر ایس ایس کی خدمت میں صرف کیے ہیں۔ وہ پہلی بار ایم ایل اے منتخب ہوئے اور پہلی ہی بار میں وزیر اعلیٰ کے عہدہ تک پہنچ گئے۔

آر ایس ایس کے پرچارک سے وزیر اعلیٰ کے عہدہ تک کا سفر ،ایک طویل سفر ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ نئے وزیر اعلیٰ اور ان کی کابینہ مسائل جو ریاست میں بے شمار پہلے سے موجود ہیں،ان کو کیسے حل کریں گے۔وہیں دوسری جانب یہ بھی دیکھنا ہے مسلمان اور ان کی وہ نئی نسل جو اسلام کو سمجھنے میں کوشاں ہے،ان سب کے لیے یہ نئی حکومت کیسی ثابت ہوگی؟کیونکہ شدھی جس کی تحریک 1925میں شروع ہوئی تھی ،آج اس کے علمبردار مکمل اقتدار میں ہیں!