پاکستان میں پولیو کا خاتمہ
- جمعرات 06 / نومبر / 2014
- 3941
پولیو ایک مہلک اور معتدی مرض ہے جو زیادہ ہلاکتوں کا سبب تو نہیں بنا البتہ اس نے دنیا بھر میں ہزاروں بچوں کو معذور ضرور بنایا ہے۔ان دنوں پاکستان خصوصی طور پر پولیو کی روک تھام نہ کرنے کے باعث ہر طرح سے پابندیوں کاسامنا کررہا ہے۔ دنیا کا 80 فیصد سے زائد حصہ اس مرض کے اثرات سے مکمل طورپر محفوظ ہوچکا ہے ۔ البتہ پاکستان میں ابھی تک اس موذی مرض پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔
یوں تو پولیو کا جنم قبل از تاریخ ہی ہوچکا تھا لیکن 20 صدی عیسوی سے قبل دنیا اس سے مکمل آگاہ نہیں تھی ۔ پولیو کا سب سے پہلا رجسٹرڈ کیس معروف ناول نگار اور شاعر سر والٹر سکاٹ کا تھا جو1773ء میں رونما ہو۔ ان کی دائیں ٹانگ مفلوج ہونے پر انہیں کہا گیا انکی ٹانگ شدید بخار کی وجہ سے مفلوج ہوئی ہے ، حالانکہ یہ پولیو تھا۔پولیو کے بارے میں پہلی رپورٹ 1843ء میں شائع ہوئی جبکہ 1880ء تک پولیو یورپ اور امریکہ میں پھیل گیا۔
یہ وباء 1910 ء میں دنیا بھر کے تمام ترقی یافتہ ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔ پولیو کیسز کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق 1893ء میں پولیوکے 132 کیس سامنے آئے جن میں 18 افراد لقمہ اجل بنے۔1907ء میں صرف نیو یارک شہر میں 25 سو پولیو کیس رجسٹرڈ ہوئے ۔17 جون 1916 ء میں امریکہ کے ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق ملک بھر میں 27 ہزار پولیو کیس رجسٹرڈ ہوئے جن میں 6 ہزار موت کے منہ میں چلے گئے ۔1947ء میں امریکہ میں 2720 افراد اس وبائی مرض کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گئے ۔1940 ء اور1950ء کی دہائی میں جب پولیو اپنے عروج پر تھا اس وقت دنیا بھر میں سالانہ پانچ لاکھ سے زائد افراد اس کی وجہ سے ہلاک یا فالج کا شکار ہوئے۔بعدازاں پولیو کا وائرس یورپ اور امریکہ سے ہوتا ہوا دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلنے لگا جس نے ہر طرف تشویش پیدا کی۔
1950ء کے اوائل میں بوسٹن چلڈرن ہسپتال کے ماہرین کی ایک ٹیم نے انسانی ریشوں سے پولیو وائرس کشید کیا اور یہی کامیابی پولیو ویکسین بنانے کا باعث بنی۔1954ء میں اس کامیابی پر مذکورہ ٹیم کے سربراہ جان اینڈرز اور ان کی ٹیم کو نوبل انعام سے بھی نوازا گیا۔
12 اپریل 1955ء میں جونس سالک نے باقاعدہ طور پر پولیو ویکسین بنانے کا اعلان کیا اور1957ء میں ویکسین کی تیاری کے بعد امریکہ میں پہلی بار انسداد پولیو مہم چلائی گئی جس کے نتیجہ میں پولیو کیسز کی تعداد58ہزار سے کم ہوکر 56 سو پر آگئی اور بالآخر 20اگست1994ء مین امریکہ کو پولیو فری ہونے کا اعزاز مل گیا۔1988ء میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے دنیا بھر سے پولیو کے خاتمے کا بیڑا اٹھایا اورآج سوائے چند ممالک کے دنیا میں پولیو وائرس کا خاتمہ ہوچکا ہے ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پولیو کس طرح پھیلتا ہے ؟اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایسا مرض ہے جو چھونے یا ہوا کے ذریعہ سے نہیں بلکہ متاثرہ شخص کے فضلے سے پھیلتا ہے۔یہ فضلہ گٹر کے پائپوں میں جانے کے بعد پانی میں مکس ہوکر دوسروں کو متاثر کرتا ہے پھر ایسا گندا پانی یا خوراک جس میں وائرس موجود ہو وہ بھی اس کے پھیلاؤ اور منتقلی کا سبب بنتا ہے ۔ بچوں کا اعصابی نظام چونکہ بہت حساس ہوتا ہے لہٰذا پولیو کا وائرس بآسانی ان پر حملہ آور ہوجاتا ہے ۔ البتہ قوت مدافعت کی کمی کے باعث یہ بڑوں کو بھی اپنا شکار بنالیتا ہے اور سو افراد میں پولیو وائرس کی موجودگی صرف ایک یا دو لوگوں کو متاثر کرتی ہے یا پھر ہلاکت کی وجہ بنتی ہے ۔
عالمی ادارہ صحت نے بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا سمیت ساؤتھ ایسٹ ایشیا کے 11 ممالک کو پولیو فری قرار دیدیا ہے ۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق ان ممالک کو پولیو فری قرار دینے کے بعد دنیا کی اسی فیصد آبادی اس وائرس سے محفوظ ہوگئی ہے ۔ یوں ڈبلیو ایچ او سرٹیفیکیشن میں شامل خطوں کی تعداد 4 ہوگئی ہے۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کو اس وقت پولیو فری قرار یا جاتا ہے جب اس ملک میں تین سال سے پولیو کا کوئی کیس رونما نہ ہوا ہو۔علاوہ ازیں پولیو وائرس کی لیباٹری کی بنیاد پر بہترین نگرانی ہو، وائرس کی نشاندہی کی عملی صلاحیت ہو، رپورٹ ہونے والے اور باہر سے آنے والے پولیو کیسز سے نمٹنے کی صلاحیت موجود ہو۔
ڈبلیو ایچ او کے ریجنل ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ پولیو فری ممالک کو خوشی منانے کے ساتھ ساتھ ان عوامل کی کڑی نگرانی کرنی ہوگی تاکہ ان کے یہاں یہ وائرس پھر رپورٹ نہ ہوجائے۔ جب تک دنیا بھر سے پولیوکا خاتمہ نہیں ہوجاتااس وقت تک دنیا کے تمام ممالک پولیو کے خطرے سے دوچار رہیں گے۔دنیا بھر میں انسداد پولیومہمات کے باوجود پاکستان تاحال پولیو کیسز پر قابو نہیں پاسکا جس کی وجہ سے اس پر عالمی ادارہ صحت نے وائرس کی روک تھام کی ناکامی اور اس کے دیگر ممالک میں منتقلی ہونے کے باعث سفری پابندیاں عائد کردی ہیں۔
پاکستان میں پولیو کے خاتمہ کے حوالے سے جائزہ لیا جائے تو ملک میں اس وائرس کے خاتمہ کیلئے 1988 ء میں انسداد ی مہم کا آغاز ہوا لیکن مسلسل مہمات کے باوجوداب تک اس کی روک تھام کا خواب ادھورا ہی ہے۔ 17 سال سے جاری اس مہم کی راہ میں کئی رکاوٹیں حائل ہیں جن کی وجہ سے پیش رفت نہیں ہوپارہی۔ وقفہ وقفہ سے پولیو کیسز کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ وطن عزیز میں پولیو ویکسین کیخلاف ایک جھوٹا پرپیگنڈا یہ کیا جارہا ہے کہ یہ ایک غیر مسلموں کی جانب سے تحفہ کے لبادے میں لپٹی ہوئی سازش ہے یعنی اس سے مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔
نیورو ڈپارٹمنٹ سروسز ہسپتال کے سربراہ پروفیسر رضوان مسعود بٹ اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں اور پولیو ویکسین پر خدشات کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ پہلے تو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ پولیو ویکسین کیا ہے ؟ وہ کہتے ہیں کہ ویکسین دراصل پولیو وائرس ہی ہوتا ہے لیکن یہ انتہائی کمزور اور نیم مردہ شکل میں ہوتا ہے ۔ یہ وائرس جب انسان کے جسم میں داخل کیا جاتا ہے تو یہ توانا اور مضبوط پولیو وائرس کیخلاف قوت مدافعت پیدا کرتا ہے ۔ قوت مدافعت دو طرح کی ہوتی ہے ۔ کچھ وائرس کیخلاف قوت مدافعت چند ماہ کیلئے ہوتی ہے لیکن پولیو وائرس کیخلاف پیدا ہونے والی قوت ساری زندگی رہتی ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ پولیو ویکسین پر جن خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے یا افواہیں پھیلائی جارہی ہیں وہ سب جھوٹ پر مبنی ہیں ۔ 60 سال سے یہ ویکسین دنیا کے کروڑوں افراد کو پلائی جاچکی ہے لیکن انہیں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ اس ویکسین سے انکار کرکے بیماری اور معذوری کو دعوت دی جاتی ہے۔ ان کے خیال میں پولیو کے حوالے سے حالیہ پابندیاں حکومتی ناکامی کے سوا کچھ نہیں ۔
پولیو کے خاتمہ کیلئے عطیات دینے والے دنیا کے امیر ترین شخص بل گیٹس کا کہنا ہے کہ آبادی کے بڑھنے کے خوف سے معصوم بچوں کو مرنے یا معذور ہونے کیلئے چھوڑ دینے کا تصورہی انتہائی خوفناک ہے ۔ پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام نے بھی پولیو کے حفاظتی قطروں کو شرعی طور پر جائز اور عین سنت بنوی ﷺ قرار دیا ہے ۔ پولیو کے قطروں سے متعلق جھوٹے پروپیگنڈے کو علماء کرام سے جوڑنا عوام کو گمراہ کن ہے۔ معروف عالم دین اورپاکستان میں رویت ہلال کمیٹی کے مرکزی چیئرمین مولانا مفتی منیب الرحمان نے کہا ہے کہ پولیو ایک خطرناک بیماری ہے اور اس کے نتیجے میں بچے معذور ہوجاتے ہیں ۔ انہیں فعال اور کارآمد شہری بنانے کیلئے پولیو کے قطرے پلاناشرعی طور پر جائز ہے ۔ یہ ایک احتیاطی تدبیر ہے ۔ اس میں ایسا کچھ نہیں جس کی مخالفت کی جارہی ہے ۔ یہ ایک جھوٹا پروپیگنڈا ہے۔ عوام ایسے کسی بھی جھوٹے پروپیگنڈے پر کان نہ دھریں ۔
مفتی نعیم اسے منفی پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں اس کے پیچھے وہی لوگ کارفرما ہیں جن کے ذاتی مفاد ہیں تاکہ قوم ایک اپاہج زندگی گزارتے ہوئے ان کے رحم وکرم پر رہے ۔ متحدہ بین المسلمین فورم کے رہنماء اور ممتاز شیعہ عالم علامہ عباس کمیلی کے مطابق پولیو ویکسین کی مخالفت کی باتیں جاہلانہ اور فرسودہ سوچ کی عکاسی کرتی ہیں۔ لہٰذا بچو ں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کیلئے پولیو کے قطرے پلانا ناگزیر ہے ۔ مولانا محمد سلفی نے کہاہے کہ سچ یہی ہے کہ پولیوکے قطرے پلائے جانے چاہئیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیماریوں کے ساتھ ساتھ ان کا علاج بھی اتارا ہے ۔ معروف عالم دین اور جمعیت علمائے اسلام ( س ) مولانا سمیع الحق نے پولیو ویکسینیشن کی حمایت کرتے ہوئے کہاہے کہ اسلام نے جس طرح اولاد کو والدین کی فرمانبرداری اور خدمت کا حکم دیاہے اسی طرح والدین کو بھی بچوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے، تعلیم و تربیت اور بہتر توجہ کا حکم دیا ہے جس میں صحت کی سہولیات کی فراہمی اہم جزو ہے ۔
آج پاکستان دنیا بھر میں پولیو وائرس سے متاثرہ ملک بن کر رہ گیا ہے۔ اس طرح اسے عالمی تنہائی کا سامنا ہے۔ ضروری ہے کہ اصحت کے معاملات کو سیاست کی بھینٹ نہ چڑھایاجائے ۔انہوں نے زور دیا کہ پولیو ویکسینیشن کو موثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ہم ایک معذور قوم کی بجائے مضبوط اور توانا قوم کی طرح اقوام عالم میں پہچانے جائیں۔
پولیو ویکسین کے حوالے سے ملک میں دوسر ی بڑی رکاوٹ شکیل آفریدی کیس کی وجہ سے پیش آئی ہے ۔انتہا پسندوں کا موقف ہے کہ انسداد پولیو مہم کے ذریعہ سے جاسوسی کی جارہی ہے کیونکہ شکیل آفریدی کے باعث اسامہ بن لادن پر حملہ کیا گیا۔حالانکہ عالمی ادارہ صحت کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کا تعلق انسداد پولیو مہمات سے کبھی نہیں رہی۔ میڈیا کی غلط خبروں کے ذریعے شکیل آفریدی کا معاملہ پولیوجوڑا گیا جس کی وجہ سے ویکسینیشن میں مسائل پیدا ہوئے ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک بھر میں کئی مقامات پر پولیو ورکرز پر حملے ہوئے جن میں کئی ورکرز زخمی اور کئی ہلاکتیں بھی وقوع پذیر ہوئیں۔
ملک میں سترہ سال سے جاری مہم کے باوجود پولیو کیسز کا رپورٹ ہونا باعث تشویش ہے ۔ ملک کے قبائلی علاقوں سمیت بلوچستان بالخصوص ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں کالعدم تنظیموں کی جانب سے دھمکیوں کے بعد لاکھوں بچے حفاظتی قطرے پینے سے محروم ہوئے ہیں ۔حکومت کی ناقص حکمت عملی اور غفلت کے باعث کراچی کی 24 حساس علاقوں میں پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کام نہیں کررہی۔ کئی مقامات پر سیکیورٹی خدشات کے باعث مہم کو 3 دن کی بجائے ایک دن میں تبدیل کیا گیا ہے جس سے بھر پور نتائج حاصل نہیں ہوسکے۔محکمہ صحت کے افسر کا کہنا ہے کہ ای پی آئی کی کوریج100 فیصد ہے لیکن عملاً کوریج 60 سے70 فیصد رہ گئی ہے ۔
ملک بھر میں بالخصوص کراچی میں پولیو کیسز کے سامنے کی اہم وجہ دور دراز علاقں سے نقل مکانی ہے۔ کراچی میں پولیو وائرس وزیرستان سے آتا ہے کیونکہ کراچی کی پختون آبادیوں میں وہ لوگ ہجرت کرکے آتے ہیں ۔ وہ وہاں سیکیورٹی خدشات کے باعث ویکسی نیشن نہیں کرواپاتے اور اپنے ساتھ پولیو وائرس لاتے ہیں ۔ گندگی پولیو کے پھیلنے کا سبب بنتی ہے کیونکہ یہ وائرس فضلہ کے زریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس لئے سیوریج سسٹم بہتر کرنا اور صاف پانی کی فراہمی پولیو وائرس کے خاتمہ کے لئے ضروری ہے۔
پولیو کا ملک بھر سے خاتمہ ایک بہت بڑا اور اہم کام ہے لیکن بدقسمتی سے حکومتی سطح پر اس حوالے سے تاحال موثر اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔ سب سے اولین کوتاہی یہ ہے کہ رضاکار جو ذمہ داری سے گھر گھر جاکر قطرے پلاتے ہیں ان کا معاوضہ ایک عام مزدور سے بھی کم ہے جس کی ابتداء میں 150 روپے فی یوم سے ہوئی جواب 250 روپے یومیہ ہے ۔ یہ معاوضہ کسی بھی طرح سے اس اہم ذمہ داری کے مطابق نہیں۔ اس کے علاوہ کئی ایسے دور دراز علاقے بھی ہیں جہاں پہنچنے کیلئے فیول چاجز یا تو ادا نہیں کئے جارہے یا پھر اس قدر کم دئے جارہے ہیں جو مہم کی تکمیل میں ناکامی کا باعث ہیں ۔
پاکستان پر سفری پابندی عائد کی جاچکی ہے اور بغیر ویکسی نیشن کے سفر کرنا ممنوع ہوگیا ہے ایسے میں وزیر اعظم ذاتی طور پر متوجہ ہوگئے ہیں اور انہوں نے ملک سے پولیو کے خاتمے کیلئے کمیٹی بھی بنادی ہے۔ گوکہ دیر آید درست آید کے مصداق ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پانی سر سے گزرچکا ہے کیونکہ پابندیا ں اچانک نہیں لگا کرتیں ۔ حکومت کو اس بارے میں پہلے سے آگاہی تھی کہ ہمارے ساتھ کیا ہونے والا ہے ۔ عالمی ادارہ صحت اس حوالے سے کئی بار اشارے دے چکا تھا۔ ماہرین صحت حتیٰ کہ بعض سیاستدان الزام لگارہے ہیں کہ پولیو پر قابو پانے میں حکمرانوں کی عدم دلچسپی پابندیوں کی وجہ ہے ۔ بہر کیف اب پابندیاں لگ چکی ہیں اور صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے ایسے میں کئی موثر اور مربوط اقداما ت ناگزیر ہوگئے ہیں۔
پولیو ویکسینیشن مہم کی ناکامیوں کے بعد اب ماہرین کے مطابق مرض کے انسداد کیلئے قطرے کاگر ثابت نہیں ہوں گے بلکہ اب انجکشن کا استعمال کی جانا ضروری ہوگیا ہے۔ تاکہ قوت مدافعت میں اضافہ ممکن ہوسکے۔نیشنل ٹیکنیکل فوکل پرسن برائے پولیو ڈاکٹر الطاف بوسن کے مطابق دنیا بھر میں قوت مدافعت بڑھانے کیلئے انجکشن کے ذریعہ ویکسی نیشن کی جارہی ہے ۔ ابتدائی طور پر ویکسین انجیکشن لگانے کی مہم کراچی، کوئٹہ اور پشاور کی ہائی رسک یونین کونسلز میں شروع کی جائے گی ۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ سیکیورٹی مسائل کے باعث ملک میں پولیو کے خاتمے میں تاخیر ہوئی ورنہ پاکستان بھی بھارت کے ساتھ پولیو فری ہوجاتا ۔