پاکستان میں اقلیتوں کے مسائل
- اتوار 09 / نومبر / 2014
- 6498
اللہ رب العزت خالق کائنات ہے اور اس نے انسان کو کائنات میں اپنا خلیفہ بناکر بھیجا ہے تاکہ اس کا قانون اور اس کی شریعت کا نفاذ ہو تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رہے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ہر بار انسانیت کے سامنے لاقانونیت جبکہ شریعت کے مدمقابل شیطانی طاقتیں آئیں ۔اللہ کو اپنی مخلوق کی بھلائی مقصود ہے۔ اس نے ان خرابیوں کے تدارک کیلئے کائنات کے توازن کو برقرار رکھنے کیلئے لاتعداد بنی، پیغمبر اور رسول مبعوث فرمائے ۔ صحیفے اور کتابیں نازل کیں جن کی بدولت معاشرے اصلاح کی گئی۔
اللہ کی جانب سے جتنے بھی انبیاء مبعوث کئے گئے انکا مرتبہ و علم اعلیٰ اور ارفع تھا یعنی کوئی بھی بنی بغیر علم نازل نہ ہوا۔ یہ مشیت الہیٰ تھی تاکہ اصلاح معاشرے میں کوئی گڑ بڑ واقع نہ ہو۔قبل از اسلام دنیا کا توازن نہایت بری حالت میں تھا۔لوگ اقتدار کے حصول اور خواہشات کی تکمیل ہی کو زندگی تصور کرتے تھے اور اس کی خاطر انسانیت کی پامالی کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔پیغمبر آخرالزمان ﷺکے نزول کے بعد انسانیت اور اخلاقیات کو فوقیت دی گئی اور علم کا بول بالا ہوا۔قرآن مجید کی تعلیم کی بدولت نبی کریم ﷺرحمت العالمین اور مبلغ کائنات قرار پائے جنہوں نے اللہ کے علم سے دنیا کو منور اور باشعور کیا۔ اس طرح تمام انسانوں کو تحفظ کا احساس ہونے لگا۔
اللہ کے آخری نبی ﷺ نے دعوت و تبلیغ میں مصیبتیں برداشت کیں لیکن کبھی بھی زور و زبردستی سے کام نہیں لیا۔ دشمنان دین کے بڑھتے ہوئے مظالم کے باعث ہجرت کی اس کے باوجود فتح مکہ کے موقع پر نہ صرف دشمنان اسلام کو امان دی بلکہ اقلیتوں کا تحفظ بھی اسلامی ریاست کی ذمہ داریوں کا حصہ بنادیا۔یہی وجہ ہے کہ نبی ﷺ کے وصال کے بعد خلفائے راشدینؓ کے دور میں بھی کسی نے غیر مسلموں پر کسی قسم کا ظلم نہیں کیا اور نہ ہی اس حوالے سے تاریخ میں کہیں مسلمانوں کو موردالزام ٹھہرایا گیا۔مسلمانوں کا طرہ امتیاز ہے کہ انہوں نے کسی بھی معاملہ میں احکامات سے روگردانی کی اور نہ ہی مستند علم کے بغیر عمل کیا جس سے انسانیت کی تذلیل ہوئی ہو۔
برصغیر میں مسلمانوں کی حکمرانی کی اسا س بھی یہی اصول تھے۔ ایک آزاد مملکت کے حصول میں بھی وہ اسی رویہ پر کابند رہے ۔ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ میانہ روی اور بردباری کے برتاؤ کی واضح مثال قائم کی گئی۔ بھارت کے ساتھ کئی جنگیں ہوئیں ، تعلقات مسلسل کشیدہ ہیں ،بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے گئے، مال اسباب لوٹے گئے، مسلمان آبادیوں پر یلغار کی گئی ،بے گناہ مسلمانوں کا خون بہایا گیا حتیٰ کہ عبادت گاہوں کی بے حرمتی کے ساتھ ساتھ مساجد کو شہید بھی کیا گیا۔ امریکہ نے 9/11 کے بعد مسلمانوں عرصہ حیات تنگ کردیا لیکن اس کے باوجود مسلمانوں نے صبر تحمل کا مظاہرہ کیا ۔
البتہ گزشتہ چند برسوں میں وطن عزیز میں اقلیتی برادری کو کچھ خطرات کا ضرور سامنا ہے لیکن اس کی بنیادی وجہ ملک میں جاری دہشت گردی کی وہ لہر ہے جس نے چاروں طرف آگ لگا رکھی ہے ۔اس دہشت گردی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہاں کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو مذہبی انتہا پسندی کو ہوا دے رہے ہیں اور ان میں تعلیم، شعور اور مذہبی رواداری کا کم ہے ۔ انہیں صرف مخصوص مقاصد کے کیلئے خاص قسم کی تربیت دی جاتی ہے جو امت مسلمہ کیلئے زہر قاتل سے کم نہیں ہے۔بدقسمتی کی بات ہے کہ ہماری مساجد و دیگر مذہبی تعلیم کے اداروں میں اساتذہ کا وہ معیار نہیں ہے جس کا ہمارا دین اور معاشرہ متقاضی ہے ۔ مساجد میں جو لوگ نشین ہیں وہ فقط نماز اور روزے کے حوالے سے چیدہ چیدہ معلومات رکھتے ہیں۔ وہ کسی بھی طرح ایک ملا سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے ۔ یہ ملا حضرات کہانیاں سناکر عوام کو ان کے اصل عقائد سے دور کرتے ہیں جو دین اسلام کیلئے نہایت خطرناک ہیں ۔
پاکستان اپنے قیام سے لیکر تاحال ہر لمحہ کسی نہ کسی شکل میں بحرانوں میں گھرا ہوا ہے جو ملکی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کرتے آرہے ہیں۔ ابتداء میں اثاثہ جات کی غیر منصفانہ اور جانبدارانہ تقسیم کے باعث معاشی مسائل بڑھے اور تعمیر و ترقی متاثر ہوئی ۔ پھر ملک میں آمریت اور جمہوریت کے کھیل نے اسے آگے نہ بڑھنے دیا۔ان دنوں فرقہ واریت ، انتہاء پسندی ، دہشت گردی بالخصوص ملاازم نے ملک میں ایسے ڈیرے ڈالے ہیں کہ کسی کو ہوش ہی نہیں رہاکہ ایسے کون سے اقدامات کئے جائیں جن سے یہ گھتی سلجھ سکے۔ علامہ اقبال زمانہ گذرا کہہ چکے ہیں کہ ملا کی اذان اور ہے ، مجاہد کی اذان اور لیکن ہمارے نادان لوگ اس آگ کی جانب کی جانب بڑھے چلے جارہے ہیں کہ ان میں تباہی کا خوف ہی ختم ہوگیا ہے ۔
اس وقت اسلام بالخصوص پاکستان کوبلاشبہ سب سے بڑا خطرہ دہشت گردی ، انتہا پسندی اور فرقہ واریت سے ہے لیکن اس سے بڑھ کر خطرہ عقیدے کی ناپختگی ہے اور اسی ناپختگی کے باعث ملک میں توہین مذہب کے حوالے سے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں ۔ ان واقعات کے باعث ہلاکتیں ہوئیں، احتجاج کیا گیا، مظاہرے کئے گئے ، توڑ پھوڑ بھی ہوئی، اسلام اور پاکستان بدنام ہو۔ا لیکن کسی نے نہیں سوچا اس سے کسے فائدہ حاصل ہوا۔ کچھ عرصہ قبل کی بات ہے کہ اسلام آبا د کی ایک مقامی مسجد سے اعلان ہوا کہ ایک عیسائی لڑکی رمشا مسیح توہین مذہب کی مرتکب ہوئی ہے ۔ اس پر سخت احتجاج کیا گیا۔ سڑکیں بلاک ہوئیں ، توڑ پھوڑ ہوئی۔ پولیس نے رمشاء مسیح کیخلاف مقدمہ درج کیا۔ بعدازاں عدم ثبوت کی بناء پر اسے رہائی مل گئی ۔ لیکن رمشاء سمیت خاندان کے افراد کو خطرات لاحق ہوئے اور انہیں بیرون ملک روانہ کردیا گیا۔
اب چند دن پہلے صوبہ پنجاب کے کوٹ رادھاکشن میں بھی مقامی مسجد سے ایک ملا نے بغیر تحقیق کے متعدد بار اعلان کرڈالے کہ ایک مسیحی جوڑے نے قرآن پاک کو نذر آتش کردیا ہے جو سخت سزاکے مسحق ہیں ۔ اس اعلان کے بعد لوگ گھروں اور کھیتوں سے جتھوں کی صورت میں اپنا کام کاج چھوڑ کر جائے وقوعہ پر آن پہنچے اور انہوں نے شہزاد مسیح اور اس کی بیوی شمع مسیح کونہ صرف تشدد کا نشانہ بنایابلکہ انیٹوں کے بھٹے میں لگی ہوئی آگ میں جھونک دیا۔
گوکہ اس واقعہ میں 43 افراد گرفتار ہوئے جبکہ 53 افراد کو نامزد بھی کیا جاچکا ہے لیکن اصل حقائق چھپانے کی کوشش کی جارہی ۔ درحقیقت یہ بھٹہ مالک اور شہزاد مسیح کے درمیان ایڈوانس رقم کی واپسی کا تنازعہ تھا۔ معاملہ نہ حل ہونے کی صورت مالک نے کوئی راستہ اختیار کرنے کی بجائے مقامی مسجد کے ملا کی خدمات حاصل کرکے مسیحی جوڑے پر تشدد کی منصوبہ بندی کی گئی اور اعلانات کا سلسلہ شروع کرکے مسلمانوں کے جذبات کو بھڑکایا گیا۔ یعنی اس سارے واقعہ میں ملا کا کردار سب سے نمایاں ہے جس نے ایک جانب ملک میں آباد اقلیتوں کو عدم تحفظ کے خدشات سے دوچار کیا ہے وہیں عالمی سطح پر ملکی وقار کو دھچکا لگا ہے اور اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے ۔ ملک بھر میں تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی سمیت انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کی پر زور مذمت کررہی ہیں ۔ تاہم اقلیتی برادری کے تحفظات کو کم کرنے کے حوالے سے کوئی واضح اقدامات نظر نہیں آرہے ۔
کوٹ رادھا کشن سانحہ سے کئی باتیں آشکار ہوئی ہیں۔ ایک تو یہ کہ ملک میں مزدوروں کو آج بھی تحفظ حاصل نہیں ۔ مزدوروں اور محنت کشوں کے نام پر یکم مئی کو دن منایا جاتا ہے لیکن استحصالی قوتیں، جاگیردارانہ ، سرمایہ دارانہ نظام ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کررہا ہے ۔ملک میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ پاکستان کیلئے مقد م ہوچکا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ملک میں انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ ملک میں ایسے اقدامت کئے جائیں جن میں مساجد میں ایسے افراد کو تعینات کیا جائے جو اس مرتبہ و مقام کے لائق ہوں ۔