کبھی ختم نہ ہونے والا ماضی

  • منگل 11 / نومبر / 2014
  • 4708

آپ اسے مبالغہ آرائی نہ سمجھیں، میں بڑے اعتماد کے ساتھ یہ بات کہنے لگا ہوں کہ آج تمام تر مخدوش حالات کے باوجود پاکستان و بھارت تعلقات (باہمی) بہتر بنانے میں سنجیدہ اور مخلص نظر آ رہے ہیں۔ اگر اب بھی ہم صحیح منصوبہ بندی پر کاربند نہیں ہوتے تو مستقبل حال بن جاتا ہے۔ حال ماضی اور ماضی ایک ناقابل فراموش المناک داستان ........ حبیب جالب نے ایک بار مجھے خط میں لکھا تھا ” آخر ہمارے ساتھ کیا خرابی ہے کہ بحیثیت قوم کوئی دوسری قوم ہم پر کیوں اعتماد نہیں کرتی۔ ہمارے الفاظ ہمارا چہرہ کیوں نہیں بن پاتے۔ ہمارے احساسات ، ہمارے جذبات آخر دوستی کی طرف کیوں باتھ نہیں بڑھاتے؟ ہمسائے جو کہ اس دوستی کے بہترین حقدار ہیں وہاں بھی دشمنی اپنا رنگ کیوں جمائے ہوئے ہے“۔

حبیب جالب میرا دوست تھا۔ اس گھٹا ٹوپ اندیھرے میں اس نے سورج کے اگلنے کی تمنا کی تھی لیکن وہ اس روشنی کی ہلکی سی لکیر دیکھنے سے قبل ہی چل بسا۔ بہت سال ادھر کی بات ہے عالمی اردو کانفرنس کی دعوت پر میں دہلی گیا تو میں نے وہاں سے اسے کارڈ لکھا۔ ” موقع ملے تو اس پار بھی آﺅ کہ لوگ تمہاری راہ دیکھ رہے ہیں“۔ اس نے لکھا تھا۔ ” تم خوش قسمت ہو جب چاہو دونوں ملکوں میں آ جا سکتے ہے۔ خدا کرے کہ دونوں ملکوں میں جلد دوستی ہو، امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہو ، شانتی کا رنگ گاڑھا ہو“۔ آگے چل کر لکھتا ہے۔ ” آخر خرابی ہے کہاں؟ دونوں ملکوں میں یہ پسماندگی اور زبوں حالی کیوں ہے! کیا ہمارے ہاں ذہین لوگوں کا قحط ہے؟ یہاں کی زمینیں بانجھ ہیں؟ کیا اس علاقے سے گزرنے والی ہوائیں نامہربان ہیں؟ گردشیں ہمارے نصیب میں لکھ دی گئی ہیں ، کیا یہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رات ٹھہر گئی ہے؟“ وہ اکثر کہتا تھا کہ کسی بھی نظریہ پر ایمان رکھنا بری بات نہیں لیکن اپنے نظرئیے کے خلاف زندگی گزارنا مکروہ عمل ہے۔

جالب کو ہم سے بچھڑے ہوئے بہت سال گزر گئے۔ اس دوران پانچ دریاﺅں کے پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ دونوں ملکوں پر ٹھہری ہوئی رات میں صبح کے آثار نمودار ہو رہے ہیں۔ جالب کا کھلی آنکھوں سے دیکھا سپنا ، امن و دوستی کا خواب تعبیر پانے لگا تھا۔ امرتسر سے واہگہ تک کا 37 میل کا فاصلہ پہلی بار ایک وزیراعظم نے بس کے ذریعے طے کیا تھا۔ نفرت کی برف پگھلنے لگی تھی۔ آدھی صدی سے زائد بیت گئی ہے۔ ہم نے بہت کچھ دیکھا اور سنا ہے لیکن جو حاصل ہے وہ کیا ہے۔ دشمنی ، جنگیں ، اسلحہ ، میزائل ، ایٹم بم ، استحصال ، ناداری ، افلاس ، جرائم ، جہالت ، انتشار ، تعصبات ، توہمات ، مذہبی جنونیت ، رشوت ، چوری ، ڈاکے ، اجتماعی خود کشیاں اور قتل و غارت۔

اس تناظر میں جب ہم جالب کی امن پسندی ، عقل دوستی ، سیکولر ازم ، خیر سگالی ، عدم تشدد ، بھائی چارہ اور خوشحالی کی خواہش کو دیکھتے ہیں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ پاک بھارت دوستی کی اشد ضرورت ہے۔ واجپائی کا جالب کے شہر لاہور کے تاریخی سفر دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کا ایک سنگ میل تھا۔ پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے جس گرم جوشی کے ساتھ بھارت کے وزیراعظم کا استقبال کیا تھا اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کے لئے جس عوامی مینڈیٹ کا ذکر کیا تھا، اس سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ پاکستان میں بھی بھارت کی طرح امن و سلامتی ، بھائی چارہ ، حقیقت پسندی ، وقار ، انسانی عظمت اور دیانتداری کی فضا سازگار ہے۔ ایسی صورت میں اگر کوئی جماعت یا گروہ اس تاریخی سفر کی مخالفت کرتا ہے تو بلا شبہ اس کا یہ اقدام قومی اور ملکی مفادات کے خلاف ہے۔ دنیا بھر کے امن پسند عوام ، حکومتوں اور جماعتوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے مذاکرات لاہور کا خیر مقدم کیا تھا۔ بہت سے ممالک نے وعدہ کیا کہ خطے میں خوشحالی و ترقی کو فروغ دینے میں دونوں ملکوں سے ہر ممکن تعاون کریں گے۔

امریکی صدر کلنٹن نے کہا تھا کہ میں دونوں ملکوں کے سربراہوں کے اس غیر معمولی اقدام ہمت و حوصلہ کی داد دیتا ہوں کہ وہ ایک دوسرے کے قریب آئے اور ان دشوار مسائل پر تبادلہ خیالات کیا جو طویل عرصہ سے دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کی بنیاد بنے ہوئے ہیں۔ مختلف ملکوں کی جانب سے دونوں وزرائے اعظم کی تعریفیں اور اخبارات کے تبصرے اس بات کی طرف واضح اشارہ کر رہے تھے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی دوڑ کو کم کرنے ، باہم جنگ نہ کرنے ، علاقائی تنازعات حل کرنے ، سیاسی آزادی اور انسانی حقوق کو فروغ دینے اور اقتصادی خوشحالی کے ذریعے اپنے اپنے عوام کا طرز معاشرت بہتر بنانے جیسے معاملات سمیت تمام کلیدی امور پر خاص توجہ مرکوز کرنے نیز پائیدار امن کی کوششوں میں تیزی لانے کا ان دونوں وزرائے اعظم کا عزم قابل تحسین ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دونوں ملکوں کے سربراہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام باہمی تنازعوں کا کسی طے شدہ فارمولا کے ذریعے کوئی حل نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ گزشتہ آدھی صدی سے مسئلہ کشمیر نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بے حد کشیدہ اور پیچیدہ کر دیا ہے۔ معاہدہ لاہور سے پہلے بھی کئی بار مذاکرات کا ڈول ڈالا گیا لیکن مسئلہ کشمیر مزید الجھتا گیا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ کشمیر دونوں ملکوں کی انا کا مسئلہ بن چکا ہے اور دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر اٹل ہیں۔ آج تک اگر بھارت اپنے اس مؤقف پر قائم رہا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور بھارت کے ساتھ اس کا الحاق آئینی ہے تو پاکستان بھی اپنے مضبوط مؤقف کو بار بار دہراتا رہا کہ رائے شماری کرائے بغیر مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکتا۔ ایسی صورتحال میں دونوں ملکوں کے درمیان امن اور دوستی کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ آخر مسئلہ کشمیر کا حل کیا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ دونوں ملکوں کو اپنے اپنے مؤقف میں نرمی پیدا کرنی چاہئے۔ ایک دوسرے کی مشکلات کا خیال کرتے ہوئے ” کچھ لو کچھ دو “ کی پالیسی ہی سے یہ معاملہ طے ہو سکتا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں میں غالب سیمینار میں شرکت کے لئے دہلی میں تھا تو بی جے پی کے سابق لیڈر رام جیٹھ ملانی نے بھی اپنے ایک بیان میں اسی قسم کے خیالات کا اظہار کیا تھا اور خود من موہن سنگھ بھی چند سال قبل جب وہ وزیراعظم بھی تھے، اس اصول کی صداقت کا اظہار کر چکے ہیں۔

بھارت کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اٹوٹ انگ کا بے سرا راگ نہ الاپے اور پاکستان کو بھی چاہئے کہ وہ حق خود ارادیت کے لئے رائے شماری پر زور نہ دے۔ دونوں ملکوں کے حکمران اپنے عوام کے ذہنوں سے بے جا خدشات دور کریں کہ دونوں ملکوں کے عوام کا نظریہ ایک دوسرے کے متعلق بہت ہی غلط رخ اختیار کئے ہوئے ہے۔ ادھر پاکستانی عوام سوچتے ہیں کہ بھارت کے ہندوﺅں نے آج تک پاکستان کو دل سے قبول اور تسلیم نہیں کیا اور یہ کہ ہندو دھرم اسلام سے عناد رکھتا ہے۔ ہندو لیڈر شپ نے بنگلہ دیش بنوایا اور مستقبل میں بھی وہ کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دے گا۔ ادھر بھارتی عوام یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان امریکہ اور چین کا آلہ کار ہے اور یہ کہ وہ بھارتی سیکولر ازم ، جمہوریت اور مشترکہ سماج کو تباہ و برباد کرنے کا خواہاں ہے وغیرہ وغیرہ ........

برصغیر کی تاریخ میں ہمیشہ یہی دیکھا گیا ہے کہ جب بھی دو ہمسایوں کے درمیان کوئی تنازعہ پیدا ہؤا تو ایسی صورت میں ہمیشہ تیسرے فریق نے ہی فائدہ اٹھایا ہے۔ لاہور مذاکرات میں وزیراعظم نواز شریف کی ایک بڑی کامیابی یہ تھی کہ بھارتی وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر کو تنازعہ کی اصل بنیاد مان لیا  اور وہ اس موضوع پر بات کرنے کو تیار ہو گئے جس پر وہ پہلے بات سننا بھی پسند نہ کرتے تھے۔ ادھر وزیراعظم نواز شریف نے بھی وسعت نظری سے کام لیا اور پہلی بار پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے نہ تو کسی تیسرے فریق کی ثالثی پر اصرار یا زور دیا اور نہ ہی اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق رائے شماری کرانے کے مطالبے کو دہرایا۔

وزیراعظم نواز شریف نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا تھا۔ ” گزشتہ 50 پچاس برسوں میں ہم نے ایک دوسرے پر الزام تراشی کے علاوہ اور کیا کیا ہے؟ اب جبکہ جمود ٹوٹ رہا ہے تو یہ الزام تراشی بھی بند ہو جائے گی“۔

بھارتی وزیراعظم سے جب اس کی وضاحت کے لئے کہا گیا تو انہوں نے کہا ” جموں و کشمیر پر بات چیت ہو رہی ہے۔ اس کا کیا نتیجہ نکلے گا یہ بتانا قبل از وقت ہے“۔

یہاں میں یہ عرض کرتا چلوں کہ اگر سیاسی مسائل کے حل میں دشواریاں حائل ہیں تو ان کی قیمت پر تجارتی اور سماجی تعلقات کو خسارے میں نہیں رہنا چاہئے کہ آج کے دور میں جب یورپی ممالک ایک مشترکہ تشخص کی تلاش میں سرگرداں ہیں ، برصغیر کے ممالک کو ان کے مقابل کہیں زیادہ اتحاد اور مشترکہ تشخص کی ضرورت ہے کہ پاک و ہند کے لوگ ایک دوسرے کے لئے خیر سگالی اور تعاون کا جذبہ رکھتے ہیں۔ ان کے درمیان نفرتیں سطحی اور مصنوعی ہیں۔ جب بھی خیر سگالی کی بات ہوتی ہے تو سرحد کے دونوں طرف آباد کروڑوں لوگ نفرت کے جذبے کو فراموش کر کے ایک دوسرے کے لئے بانہیں وا کر دیتے ہیں اور ایٹم بم کی گھن گرج خیر سگالی کے نعروں میں دم توڑ دیتی ہے۔

بظاہر دونوں ملکوں کے درمیان مسائل اس قدر دشوار اور پیچیدہ ہیں کہ ان کو سلجھانے میں کافی وقت درکار ہو گا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آج دونوں ملک تعلقات بہتر بنانے میں بے حد سنجیدہ اور مخلص نظر آ رہے ہیں۔ اور یہ کہ جس کسی کی بھی لاہور سے دہلی ” بس ڈپلومیسی“ کی تجویز ہے، بے حد شاندار اور امن کو قریب لانے کی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر آج جالب زندہ ہوتا تو وہ اس بس کا ڈرائیور ہوتا اور ہم اس کے چاہنے والے اس بس میں سیٹوں پر قبضہ کرنے کے لئے ایک دوسرے پر گرے پڑے ہوتے۔

میرا ایک شعر حاضر ہے:

لمحہ لمحہ جیسے کوئی مر رہا ہے ، میں کہ تو

محو حیرت آئینہ در آئینہ ہے، میں کہ تو