اعتماد کا فقدان سنگین مسلہ
- بدھ 12 / نومبر / 2014
- 5035
دنیا بھر میں جمہوریت کو عوامی خواہشات کی تکمیل اور ریاست کی تعمیر وترقی کاضامن سمجھا جاتا ہے کیونکہ اسی نظام کی بدولت ایک عام آدمی اپنی مرضی و منشاء کے مطابق اپنے مسائل کے حل کیلئے نمائندے منتخب کرتا ہے جو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر انہیں سہولیات کی فراہمی باعث بنتے ہیں۔جمہوریت کی بقاء اور اس کے فروغ کیلئے ضروری ہے کہ جمہوری ادارے خود مختار ہوں اور کرپشن و اقرباء پروری سے پاک ہوں۔
جس طرح کسی معاشرے کا قیام اس کے افراد پر منحصر ہوتاہے اسی طرح کسی ریاست میں جمہوریت کے استحکام کیلئے اس کے اداروں کا باہم رابطہ بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔بشرطیکہ وہ اخلاص کے ساتھ اور دیانت داری کے جذبہ سے سرشار ہو۔ ملک کے مختلف ادارے جمہوریت کے نظام کو آگے بڑھانے میں ممدومعاون ہوتے ہیں ۔ ان میں سب سے اہم جوادارہ الیکشن کمیشن ہے ۔ یہ ادارہ ملک کے قانون ساز اداروں میں ا فرادکو منتخب کرانے میں کردار کا فریضہ انجام دیتا ہے ۔یہ ادارہ ایک ضابطہ اخلاق مرتب کرتا ہے جس پر عملدرآمد کرکے عوامی نمائندے اپنی انتخابی مہم کا آغاز اور عوام کااعتماد یعنی ووٹ حاصل کرتے ہیں تاکہ وہ ملک و قوم کی تعمیر وترقی کے ساتھ ساتھ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات کرسکیں۔
الیکشن کمیشن کو ملک بھر میں انتخابات کے عمل کو مکمل کروانے کیلئے بہت کم وقت میں بہت سے کام کرنے ہوتے ہیں اور ایک ایک ووٹر تک پہنچنے ، اس کی رائے کی حفاظت اور احترام کرنا اس کی اہم ذمہ داری ہوتی ہے ۔ کمیشن کے مرکز اور صوبائی دفاتر قائم ہیں لیکن اس میں عملہ اس قدر نہیں کہ وہ ا س سارے عمل کی خود نگرانی کر سکے۔ بلکہ اس کیلئے اسے ملک کے مختلف اداروں کا تعاون درکار ہوتا ہے ۔ ووٹروں کی تعداد اورووٹنگ لسٹ کی ترتیب کیلئے ڈیٹابیس ادارہ اسے معلومات فراہم کرتا ہے۔ امیدواروں کی اسکروٹنی کیلئے عدالتوں کا تعاون اسے اہل افراد کو عوام کے سامنے اپنا منشور یا نقطہ نظر واضح کرنے کا موقع دیتا ہے ۔حالات کیسے بھی ہوں ملک کے کونے کونے سے عوام کی رائے کو اکٹھا کرنے کیلئے بیلٹ پیپر کی تیاری ، پولنگ اسٹیشنز کا قیام ، اس میں عملے کی تعیناتی، انتخابی عمل کے مکمل ہونے اور نتائج کے اعلان تک ہر طرح کے تحفظ کیلئے قانون نافذ کرنے والے ادارے، سرکاری و نجی اسکولز ، ا ساتذہ سمیت مختلف لوگ اور ادارے مستعدی، دیانت داری کے ساتھ کمیشن کے قواعد کی پاسداری کرتے ہوئے دن رات ایک کرکے قومی امانت کی حفاظت اور اسے حقیقی افراد کے ہاتھوں منتقل کرتے ہیں۔
ہمارے ملک کی بدقسمتی رہی ہے کہ یہاں جمہوریت کو کبھی بھی مستقل بنیادوں پر استحکام حاصل نہیں ہو۔ نہ ہی اس سے جڑے اداروں میں اصلاحات کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا۔ 1988ء میں ضیاء دور کے بعد انتخابات اچانک نہیں ہوئے لیکن اس ادارے میں کوئی بہتری نہیں لائی گئی۔ اب میاں نواز شریف تیسری بار وزیراعظم کی مسند پر براجمان ہیں ۔ لیکن انتخابات اور الیکشن کمیشن سے متعلق مسائل اسی طرح سے موجود ہیں۔
شفاف اور غیر جانبدار انتخاب کا انعقاد کسی صاحب کردار ، دیانت دار، مخلص اور تجربہ کار شخصیت کے بغیر ہونا نا ممکن ہے ۔ کیونکہ ہر عمل کی نگرانی اور اس میں حائل رکاوٹوں کا حل نکالنا کسی بھی طرح ایک عام آدمی کے بس کاکام نہیں ہے ۔یہ کام آسان لگتا ہے مگر ایسا ہے نہیں ۔ اگر انتخابی عمل کے دوران یا بعدمیں کوئی اعتراض کرے تو اس کو آئین اور قانون کے مطابق حل کرنا ضروری ہوجاتا ہے ، تاکہ کوئی اس معتبر ادارے پر انگلی نہ اٹھاسکے۔ ماضی میں دیگر اداروں کی طرح الیکشن کمیشن بھی سیاسی مداخلت اور دباؤ کا شکار رہا ہے جس کی وجہ سے یہ ایک متازعہ ادارہ بن چکا ہے۔ سیاسی جماعتوں سے لیکر عام افراد کا اعتماد اس پر سے اٹھ گیا ہے ۔
2013 کے عام انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کی ذمہ داری جسٹس (ر)فخرالدین جی ابراہیم نے قبول کی حالانکہ وہ عمر کے اس حصے میں تھے کہ انہیں اس قدر کٹھن اور تھکا دینے والے کام کی بجائے آرام کرنا چاہئے تھا۔ لیکن انہیں پاکستان کا بہترین مستقبل سب سے زیادہ عزیز تھا جس کی وجہ سے انہوں نے ضعیف العمری میں بھی اپنی خدمات پیش کردیں ۔وہ دن رات اس کام میں جت گئے اور انتخابی عمل میں کئی اصطلاحات بھی لائے تاکہ شفافیت کا عمل سامنے آسکے ۔فخرو بھائی کی تعیناتی اور انکے اقدامات سے ہر سیاسی لیڈرنے اعتماد کا اظہار کیا جس سے ان کے حوصلوں کو تقویت ملی۔ 11 مئی2013 کے انتخابات کے نتیجے میں ملک میں پہلی بار ایک جمہوری حکومت نے اقتدار دوسری منتخب جمہوری حکومت کے حوالے کیا اور ملک کا وقار دنیا بھر بلند ہوا۔ ان انتخابات میں جس قدر محنت کمیشن کے چیئرمین نے کی وہ قابل قدر ہے ۔
لیکن ہمارے یہاں ایک وطیرہ ہے کہ تنقید نہ کی جائے تو کھانا ہضم ہی نہیں ہوتا یہی حال ملک کی تیسری ابھرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا ہے ۔ جنہوں نے مبینہ دھاندلی کے الزامات لگاکر حکومت، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کو آڑے ہاتھوں لیااور جس طرح فخروالدین جی ابراہیم کی تذلیل کی وہ نہایت شرمناک ہے ۔ اس رویہ نے بلکہ فخرو بھائی کو دلبرداشتہ کیا۔ انہوں نے اپنے اوپرلگنے والے الزامات کا بھر پور دفاع کیا اور ساتھ ہی اپنے عہدے سے بھی مستعفی ہوگئے جو کسی بھی طرح ایک المیہ سے کم نہیں ہے ۔ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اس کی بدقسمتی یہ ہے کہ لوگ اپنے مفادات کی خاطر کوئی بھی اقدام اٹھانے سے دریغ نہیں کرتے خواہ اس سے کسی دل آزاری ہو یا اس کے جذبات کو ٹھیس ہی کیوں نہ پہنچے ۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو لوگوں اور اداروں پر سے اعتمادد اٹھ گیا ہے ۔
فخروالدین جی ابراہیم کے بعد سے اس عہدے پر موجودہ چیف جسٹس جزوقتی چیئرمین رہے اور جب سے انہوں نے سپریم کورٹ کے سربراہ کی حیثیت ذمہ داریاں سنبھالی ہیں تب سے یہ عہد ہ خالی ہے ۔ تین ماہ قبل عدلیہ کی جانب سے حکومت اور اپوزیشن کو کمیشن کا سربراہ کی تعیناتی کا وقت دیا گیا جو بغیر کسی پیش رفت کے گزر گیا ۔جب مزید مہلت کیلئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے درخواست کی تو عدلیہ نے پندرہ دن کے اندر میں چیئرمین کی تعیناتی کا حکم صادر کردیا۔ جس کے بعد سے ایک نئی سیاسی صورتحال نے جنم لے لیا ہے ۔
حکومت سمیت اپوزشن جماعتیں سر جوڑکر بیٹھ گئی ہیں لیکن مسئلہ حل نہیں ہورہا کیونکہ جس طرح کی گفتگو کی جاتی رہی ہے اور جس قسم کے بیانات آرہے ہیں اس سے کوئی شخص بھی اپنی ساری زندگی کی نیک نامی داؤ پر لگانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ حکومت نے اپوزیشن کی مشاورت سے پانچ ناموں پر اتفاق کیا جن میں تصدق حسین جیلانی، سعیدالزمان صدیقی، میاں محمد اجمل ، طارق پرویز اور رانا بھگوان داس شامل ہیں ۔بھگوان داس کو تمام قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ انہوں نے9 مارچ 2007 کو سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو معذول کئے جانے کے بعد کسی دباؤ کے بغیر بہت مثبت کردار ادا کیاجسے جمہوریت پسندوں نے بے حد سراہا۔قانون دانوں کی رائے ہے کہ بھگوان داس کی تعیناتی اقلیتی برادری کیلئے خوشخبر ی ہے چونکہ ان کا تعلق دیہی سندھ سے ہے اس کئے اندورن سندھ سے تعلق تعلق رکھنے والے طبقات کے احساس محرومی میں کمی ہوگی کیونکہ دوران ملازمت ان پر کسی قسم کا جانبداری کا کوئی الزام نہیں لگا یا گیا۔ سوائے رانا بھگوان داس کے تمام پر دیگر جماعتوں نے اعتراض کیا لیکن بھگوان داس نے اس ذمہ داری کو قبول کرنے سے معذرت کرلی حالانکہ اپوزیشن لیڈر نے سینیٹر رضا ربانی کو ٹاسک بھی دیاتھا کہ وہ انہیں اس کیلئے رضامند کریں ۔ تصدق جیلانی اس عہدے پر کام کرنے کیلئے تیار تھے لیکن ان کے سب سے بڑے بھائی اور سابق بیوروکریٹ اعتزازالدین نے انہیں روکا کیونکہ عمران خان نے رحیم یار خان کے جلسے میں ان پر تنقید کی تھی جس کے بعد ان پر خاندان کی طرف سے عہدہ قبل نہ کرنے کا دباؤ بڑھ گیا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے اس سے دور رہنے ہی میں بھلائی سمجھی۔
تصدق حسین جیلا نی کی معذرت اور رانا بھگوان داس کی جانب سے چیف الیکش کمیشن کمشنر کے موجودہ اختیارات پر تحفظات کے بعد کمشنر کی تعیناتی ایک معمہ بن گئی ہے ۔ تحریک انصاف کہتی ہے کہ وہ اس تعیناتی پر کسی قسم کا مک مکا نہیں ہونے دیگی۔ گوکہ حکومت اور اپوزیشن جسٹس طارق پرویز کے نام پر متفق ہوچکی ہے لیکن کسی نے ابھی تک ان سے رابطہ نہیں کیا ۔
الیکشن کمشنر کی تعیناتی کامعاملہ سنگین رخ اختیار کر گیا ہے۔ اس سے ایک بات تو واضح ہوگئی ہے کہ ملک میں جس جمہوریت کی بات کی جارہی ہے وہ سرے سے ناپید ہے ۔ بے اعتمادی کی صورتحال ہم گزشتہ دنوں مشترکہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں دیکھ چکے ہیں۔ جب تمام سیاسی جماعتوں نے اپنا اقتدار جاتے محسوس کیا تو آپس ہی میں لڑنے لگے اور چوہدری اپنی چوہدراہٹ کو پارلیمنٹ میں بھی قائم کرنے لگے تھے۔
ہمیں اس بات سے انکار نہیں کہ دہشت گردی ، فرقہ واریت اورانتہاپسندی ملک کو نقصان پہنچارہی ہے لیکن جس عدم اعتماد کی فضاء کو قائم کیا جارہا ہے اس سے ایک شریف شہری اور ملک کو جس بحران کا سامنا ہے وہ سب سے سنگین ہے ۔ اس طرح کی صورتحال سے نیکی ، بھلائی ، امانت ، دیانت اور اخلاص کا فروغ معدوم ہوجائیگا جو معاشرے کی اخلاقی تباہی ہے۔ لہٰذا اخلاقیات سمیت معاشرتی اقدار کی بقاء کیلئے سنجیدگی کا مظاہرہ ناگزیر ہوچکاہے اور اس کیلئے حکومت کے علاوہ دیگر لوگوں کو بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔