تیس نومبر کے بعد کیا ہوگا

  • اتوار 16 / نومبر / 2014
  • 4128

یہ معاشرہ  ۔۔۔۔ نہیں  ، وہ ہمارا آبائی معاشرہ ، ہماری مٹّی کا فردوس ، عجیب لا یعنی طور پر تقسیم ہے ۔ ٹُکڑے ٹُکڑے معاشرہ ، جس میں جو نطر آتا ہے وہ ہے نہیں ۔ نہ قانون نہ آئین ، نہ حکومت نہ اطاعت ،  نہ یک جہتی نہ یگانگت ، نہ ترتیب نہ تنظیم ، نہ دین اور نہ مُساوات ، چھوٹے چھوٹے ، بڑے بڑے گروہ اور گینگ جن کے گروہی سُلطان ایک دوسرے سے گینگ لیڈروں کی طرح بر سرِ جنگ ہیں ۔

یہ خانہ جنگی کی ایک منفعل صورت ہے ۔ قانون کا احترام عنقا ہے۔ جس کو دیکھو وہی قانون ہاتھ میں اس طرح لئے پھرتا ہے جیسے دہشت گرد کے ہاتھ میں کلاشنکوف ہوتی ہے ۔  اور اس کلاشنکوف کو وہ کس پر تانے ہوئے ہیں ، کس پر ؟ شاید خود پر مگر اُنہیں اس کا اندازہ نہیں ہے ۔

تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک کا وزیرِ اعظم کے استعفا کا مُطالبہ تا حال منظور نہیں ہؤا ۔ اُدھر اِن متذکرہ بالا سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کے وارنٹ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں اور خبروں یا افواہوں کے مطابق وہ اشتہاری قرار پا چکے ہیں۔ مگر اِن اشتہاریوں میں سے ایک آج بھی  ساہیوال میں حکومت کو للکارتا رہا ۔ طرح طرح کے آوازے سُننے کو ملے ۔

شیخ رشید نے اپنی ننکانہ صاحب کی تقریر  میں کی گئی  دشنام طرازی کی وضاحت تو نہیں کی ، مگر یہ ضرور کہا کہ جلاؤ گھیراؤ کی تجویز اس نظام کے بارے میں تھی ۔  ممکن ہے یہ بات درست ہو مگر شیخ صاحب جس طرح عمران خان کی کاسہ لیسی کر رہے ہیں وہ اُن کی کمزوری کی دلیل ہے ۔ ہر چند کہ وہ اپنی سنگل پسلی کی عوامی تحریک کے ساتھ عمران خان کی تحریک کے در پر پڑے ہیں مگر وہ حکومت کو للکارتے عوامی انداز میں ہیں ۔ گلا بھی پھاڑتے ہیں ، بڑھک بھی مارتے ہیں اور گالی بھی دیتے ہیں ۔

پاکستان عوامی تحریک بھی قادری صاحب کے وارنٹ گرفتاری پر  سیخ پا ہے اور للکار رہی ہے کہ وہ آ رہے ہیں۔ ہمت ہے تو گرفتار کر کے دکھاؤ ! لگتا ہے حکومت کی رِٹ کو چلینج کیا جا رہا ہے۔ لیکن حکومت کی رِٹ سے زیادہ یہ قوم کی رِٹ کو چیلنج ہے کہ آیا جو تماشا من حیث القوم ہم  کر رہے ہیں ، وہ کسی قوم کو زیب دیتا ہے یا نہیں ۔ قانون بے چارہ اس صورتِ حال میں شرمندگی سے دو چار ہے اور کتابوں سے باہر مونہہ ہی نہیں نکالتا ۔  لیکن گمان غالب ہے کہ بایں ہمہ  ہنگامہ آرائی ، پیٹ اور پی ٹی آئی کے ہاتھوں سچ مُچ نیا پاکستان بن رہا ہے ۔

میں کتابی آدمی ہوں اور کتاب کو قانون کا ہم معنی سمجھتا ہوں ۔ میرے مبلغِ تفہیم میں قانون شکنی فرد کو انسانی سطح سے گرا دیتی ہے ۔ قانون شکن کا انسانی مرتبہ معطل یا منسوخ ہو جاتا ہے ۔ میں وقت کو ماضی کا ریورس گیئر لگاتا ہوں :
ہاں ، سُنا تم نے ، سقراط گرفتار ہؤا ۔ شہر کے نوجوانون کو بد اخلاق بنا رہا تھا ۔ اُسے جیوری نے موت کی سزا سنائی ۔ جیوری میں اُس وقت کے سارے  دانشور ، شریف وزیراعظم کی ساری کابینہ جیسے نابغے موجود تھے۔ وہ سارے جج تھے جن کو جج ہونا نہیں آتا ۔ جیوری نے سچ کو زہر پلانے کی سزا تجویز کی ۔ 

قریطون نے کہا کہ جیل کی انتظامیہ سے مل کر سقراط کے فرار ہونے اور جلا وطنی اختیار  کرنے کے انتظامات ہو چکے ہیں مگر سقراط فرار ہونے اور جلاوطنی اختیار کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ سزا میرے وطن کے قانونی نظام نے سنائی ہے اور مجھے اپنے وطن کی طرح عزیز ہے ۔ سقراط اپنے وطن سے غداری نہیں کر سکتا ۔  وہ نہایت خوش دلی سے زہر کا پیالہ پیتا ہے اور ہمیشہ کے لیے امر ہوجاتا ہے ۔ 

مگر اب سقراط نہیں ہے اور  اس وقت سزا جن کو سنائی گئی ہے اُن کا ذہنی معیار وہ نہیں ہے جو اُس بے وقوف بوڑھے کا تھا جسے ڈیلفی کی بوڑھی کاہنہ ایتھنز کا سب سے عقل مند آدمی کہتی تھی ۔

مگر اب اسلام آباد کی جمہوریت میں جن لوگوں کو عقل مند سمجھا جا رہا ہے وہ قانون کو للکارتے ہیں ۔ قانون اِن من مانی کرنے والوں کے شکنجے میں ہے ۔ قانون فروختنی جنس ہے ۔ قانون پولیس کے ہاتھ کا میل ہے ۔ قانون تو قانون، انصاف بھی بکاؤ ہے ۔ جو آئے ، قیمت ادا کرے اور ریمنڈ ڈیوس کو چھڑا لے جائے ۔ پاکستان کے عام آدمی کے خون کی کوئی قیمت ہے ہی نہیں ۔ پاکستان کا عام  آدمی تو ڈینگی مچھروں اور پلیگ کے چوہوں کی طرح موذی ہے اسے ہلاک کرو اور جمہوریت بچاؤ ۔

لوگ گذشتہ کئی مہینوں سے نئے پاکستان کے خواب کا پھندا گلے میں ڈالے نعروں کے پیڑ سے لٹکے ہوئے ہیں۔ جنہوں نے لوگوں کو کنٹینروں کے گرد جمع کر کے  “ استعفا دو“ کی تحریک چلائی ہے ، وہ نئے نہیں ہیں ۔ آج عمران خان پھر ساہیوال کے کرکٹ سٹیڈیم میں کرکٹ کے شیدائیوں اور  تماشائیوں کو بتا رہے تھے کہ انہوں نے سولہ سال کی عمر میں اس سٹیڈیم میں ٹیسٹ کھیلا تھا۔  اُنہوں نے ایک ایک لفظ پر زور دے کہا کہ یہ شخص جو آپ کے سامنے کھڑا ہے اُس کے پاس اللہ کا دیا بہت ہے ، مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اللہ نے اُن پر تو بڑی مہربانی کی مگر قوم کے اُن لوگوں کو ، جن کو دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں ، کیوں نطر انداز کیا حالانکہ کہا جاتا ہے کہ اللہ کی نظروں  میں سب انسان برابر ہیں ۔

عمران خان اس ملک میں نئے نہیں ہیں ۔ وہ کئی برسوں سے سیاست کےبحرِ مردار میں تیرتے چلے آرہے ہیں ۔ لیکن وہ  اپنی فلاحی اور رفاعی سیاست سے کوئی ایسا معجزہ نہیں دکھا سکے جو اس قوم کے لئے سکھ کا سانس بن پاتا ۔ فلاحی میدان میں عبدالستار ایدھی موجود ہیں جو سیاست سے دور خدمت کی چکّی پیس رہے ہیں ۔ وہ اپنے کئے پر خوش اور مطمئن ہیں اور لوگ اُن سے خُوش ہیں ۔

مگر ایدھی صاحب کے برعکس عوامی تحریک اور تحریکِ انصاف کے ہنگاموں میں ڈراما بہت ہے ۔  لوگوں نے ان تحریکی میلوں میں کفن بھی بولتے دیکھے ہیں اور انقلاب کی تحریک ، شہادت تک ختم نہ کرنے کے پیمان بھی ۔ لیکن یہ پیمان لوگوں کے آنسوؤں  اور دلوں کے درمیان ٹوٹے ہیں ۔

عمران خان تبدیلی کے لیے تاریخیں بالکل پاکستانی عدالتوں کی طرح  دیتے آئے ہیں ۔ اب نئی تاریخ 30 نومبر ہے ۔ کیا اس تاریخ کو تبدیلی کا کفر ٹوٹے گا یا پھر ایک نئی تاریخ دی جائے گی ۔ قوم نئی تاریخ کی منتطر ہے ۔