دہشت گردی کی نئی لہر

  • سوموار 17 / نومبر / 2014
  • 4787

قانون شکنی کا مزاج انتہا پسندی کے فروغ کا ذریعہ ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں قانون شکنی کے حوالے سے مختلف واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جن کی وجہ سے ہلاکتیں ہورہی ہیں اور عدم برداشت اور مذہبی ہم آہنگی کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔معاشرے میں رواداری کا فقدان پیدا ہورہا ہے ۔

دوسری جانب اخلاقی برائیوں نے بھی سر اٹھانا شروع کردیا ہے ۔ ماضی میں انتہا پسندی یا فرقہ واریت کے واقعات اس قدر تسلسل سے نہیں ہوتے تھے کہ ملکی معیشت کو نقصانات سے دوچارہونا پڑتا۔ ملک میں سرمایہ کار محفوظ تھے اور بیرونی سرمایہ کاری بھی بہترانداز میں ہورہی تھی۔ غیر ملکی کمپنیاں اور ان سے منسلک افراد بھی عدم تحفظ کا شکار نہیں تھے ۔ یعنی ملکی اقتصادی صورتحال کم و بیش آسودہ تھی۔ لیکن پرویز مشرف کے چیف ایگزیکٹو بننے کے بعد حالات یکسر تبدیل ہوگئے۔ بالخصوص9/11 کے واقعہ کے بعد عالمی سطح پر دہشت گردی کیخلاف پاکستان کا امریکہ کیلئے فرنٹ لائن اتحادی ہونا ملک کو اندھیر نگری میں دھکیلنے کا سبب بنا۔القاعدہ جو امریکہ ہی کی پیداوار تھی، اس کے خلاف افغانستان میں کارروائیوں سے طالبان حکومت کا خاتمہ تو ہوا مگر اس نے پاکستان میں تحریک طالبان کے نام سے نئی انتہا پسند تنظیم کو جنم دیا۔ جس کی وجہ سے اسلام کے نام پر خانہ جنگی کا آغا ز ہوا ۔

خیبر پختون خواہ جسے ہم چند برس قبل سرحد کے نام سے جانتے تھے وہاں طالبان نے سادہ لوح پشتونوں کو اسلامی نظام کے نفاذکی یقین دہانی پر یرغمال بنالیا۔ اس کے باجود حکومتی سطح پر اس کے وجود کی سختی سے تردید کی گئی۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال کو کسی طور سے تسلی بخش قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اکبر بگٹی کے قتل نے یہاں کی شورش زدہ کیفیت کو مزید ایندھن فراہم کیا۔ علیحدگی پسند تنظیمیں جو پہلے ہی صوبے کیلئے زہرقاتل تھیں انہوں اپنی کارروائیاں تیز کردیں اور صوبہ کالعدم تنظیموں کی آماجگاہ بن گیا۔کراچی کے کئی علاقے اسلحہ کی فراوانی میں رکاوٹوں کا خاتمہ ہوا جس سے تعصب و شدت پسندی کو فروغ حاصل ہونے لگا۔

سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ ملک میں بہتری کی بجائے بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ خود کش دھماکوں کی بہتات نے عوام کو خوف و ہراس میں مبتلا کردیا جس سے وہ عدم تضفظ کا شکار ہوئے۔ ملکی اقتصادی حالت بھی انتہائی تشویش ناک ہوگئی۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے منہ پھیر لیا جبکہ ملکی سرمایہ کار بھی اپنا سرمایہ سمیٹ کر دوسرے ملکوں کو سدھار گئے۔ ملک میں انتہا پسندی و دہشت گردی کے باعث عوامی ، سیاسی و مذہبی اجتماعات نشانہ بنے ، سیکیورٹی فورسز پر حملے بھی کئے گئے اور حکومت ان کا تدارک کرنے میں ناکام نظر آئی ۔ ملک کے کئی علاقوں میں طالبان کا قبضہ یقینی ہوگیا۔

کراچی کے حالات قدرے بہتر تھے لیکن 2008 ء میں یہاں بھی طالبانئزیشن نے اپنے قدم جمانے شروع کردئے تو متحد ہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کراچی کی عوام کو متنبہ کیا کہ یہاں طالبان اپنی کارروئیوں کا آغاز کرنے کیلئے پرتول رہے ہیں۔ لہٰذا ان کیخلاف متحد ہوکر لائحہ عمل طے کیاجائے ۔ یہ انتباہ عوام کیلئے کسی خود کش حملے سے کم نہ تھا ۔لوگ خوفزدہ ہوگئے لیکن حکومت نے اسے مسترد کرتے ہوئے عوام کو بے خوف زندگی گزارنے کا مشورہ دیا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے ملک میں طالبان کے وجود کے نہ ہونے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے اسے پروپیگنڈا قرار دیا گیا۔مگر بعد کے حالات و واقعات نے حکومتی دعوؤں کی قلعی کھول دی اور طالبان آزادانہ طور پر سرگرمیاں کرتے ہوئے صوبہ پنجاب سمیت کراچی میں دکھائی دئے ۔ سابق وزیرداخلہ اٹھتے بیٹھتے ، سوتے جاگتے کسی بھی سانحہ یا واقعہ کی وقوع پزیری کے بعد طالبان ہی کو اس کاذمہ دار ٹھہرا کر بری الذمہ ہوتے رہے۔

طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں پر نہ کبھی حکومت نے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا اور نہ ہی دفاعی اداروں کو اس کیخلاف نوٹس لینے کی اپیل کی گئی جس کی وجہ سے حالات گمبھیر ہوتے چلے گئے البتہ میاں نواز شریف نے اقتدار سنبھالتے ہی اس سنگین مسئلے کی جانب توجہ مرکوز کی اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کی مشاورت سے امن مذاکرات کی ابتداء کی ۔ بعدازاں نتائج کے لاحاصل ہونے اور طالبان کی جانب سے غیرسنجیدگی و مسلسل دہشت گردی کی کارروائیوں کے باعث حکومت کو آپریشن شروع کرنا پڑا۔پاک فوج کی نگرانی میں ضرب عضب کے نام سے یہ آپریشن تاحال کامیابی سے جاری ہے ۔ طالبان سمیت کئی کالعدم تنظیموں کے اہم رہنما ان کاررائیوں میں ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ کئی نے راہ فرار اختیار کرلی ہے ۔ اور مجتمع ہوکر نئی حکمت عملی پر غورکررہے ہیں ۔

ملکی عسکری قیادت کا عزم ہے کہ وہ دہشت گروں کا ملک سے مکمل صفایا کرکے دم لے گی اور ملک کے کسی کونے میں بھی انہیں پناہ نہیں لینے دے گی تاکہ ان کیخلاف جاری آپریشن منطقی انجام تک پہنچ سکے۔گوکہ پورا ملک دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے لکین صوبہ بلوچستان سب سے زیادہ متاثر ہورہاہے ۔ صوبہ میں کئی شدت پسند اور کالعدم تنظیموں کے مضبوط نیٹ ورک قائم ہیں جنہیں اسلحہ سمیت تمام تر وسائل کی فراہمی پڑوسی ممالک کے ذریعہ کی جارہی ہے ۔ تاکہ تخریب کاریوں کا سلسلہ جاری رہے۔وفاق کو بخوبی اس کا علم ہے ۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ مضبوط اعصاب کے مالک ہیں اور اقتدار سے لیکر اب تک صوبہ میں پائیدار امن کیلئے کوشاں ہیں ۔ ان کاکہنا ہے کہ صوبہ کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے اور ان میں اہم مسئلہ دہشت گردی ہے جس کیلئے وہ اپنی کابینہ کے ساتھ ملکر قابو پانے کیلئے ہر ممکن اقدامت کررہے ہیں ۔گزشتہ دنوں صوبہ کے پوش علاقوں میں داعش کی حمایت میں وال چاکنگ کی گئی اور ذرائع ابلاغ کے مطابق شبہ ظاہر کیا گیا کہ داعش یہاں سرگرم ہورہی ہے ۔ اس حوالے سے جب مالک بلوچ سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے ان خبروں کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تاثر کو غلط نہیں کیا جاسکتا کہ صوبہ میں جس طرح سے منظم اندازمیں دہشت گردی کی کارروائیاں کی جارہی ہیں۔ ان میں داعش بلاشبہ ملوث ہوسکتی ہے ۔

داعش بنیادی طور پرامریکہ ہی کی پروردہ شدت پسند تنظیم ہے جس نے عراق و شام سے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور وہاں نام نہاد دولت اسلامیہ قائم کرکے ابوبکر البغدادی کو امیرالمومنین مقرر کیا ہے ۔ اب اس تنظیم نے دیگر اسلامی ممالک کی جانب پیش قدمی شروع کردی ہے جس کا بنیادی مقصد دنیا میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل کروانا ہے۔ لبنانی عسکریت پسند حزب اللہ نے اسے مسلمانوں کیلئے اسرائیل سے زیادہ خطرناک قرار دیا ہے ۔ تنظیم کے رہنما اور لبنانی وزیر محمد فنیش کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو اصل خطرہ داعش جیسی تنظیموں سے ہے جن کی وجہ سے دنیا بھر میں مسلمانوں کا تشخص متاثرہورہا ہے ۔ بہر حال وہ دنیا میں ایک مشترکہ اسلامی ریاست کا قیام چاہتی ہے ۔

اطلاعات کے مطابق ان دنوں ابوبکر البغدادی نے پاکستان میں دولت اسلامیہ کی بنیاد رکھنے رکھنے کیلئے ملک میں موجود مختلف عسکریت پسندوں گرپوں سے رابطے کرنے شروع کردئے ہیں کہ پاکستان میں داعش یا دولت اسلامیہ کے قیام کیلئے یہ ان کا ساتھ دیں ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق جنداللہ نامی عسکریت پسند تنظیم کے ترجمان فہد مروت بلوچستان میں ایک نامعلوم مقام پر داعش کے تین رکنی وفد سے ملے ہیں ۔ وفد میں زبیر الکویتی ، شیخ یوسف اور فہیم انصری شامل تھے۔ جنہوں نے انہیں البغدادی کا خصوصی پیغام پہنچایاہے کہ جنداللہ ان سے تعاون کرے ۔ یعنی پاکستان میں دولت اسلامیہ کی بنیاد رکھنے کی تیاریاں شروع ہوچکی ہیں اور اس حوالے سے تمام شدت و عسکریت پسند تنظیموں کو کہا گیا ہے کہ وہ باہمی اختلافات بھلا کر متحد ہوجائیں اور داعش میں شمولیت اختیار کرلیں ۔

زبیرالکویتی جو کویت کے رہنے والے ہیں اور القاعدہ کے سرگرم رہنما بھی رہ چکے ہیں۔ انہیں وقتی طور پر یہاں تنظیم کا امیر مقرر کیا گیا ہے جبکہ تنظیم کی سرگرمیوں کے باقاعدہ آغاز پر مستقل بنیادوں پر قائد مقرر کیا جائے گا۔ اس شدت پسند تنظیم نے ہنگو اور کرم ایجنسی میں دس سے بارہ ہزار انتہا پسند بھرتی بھی کرلئے ہیں جن میں کالعدم تنظیموں کے کئی اہم رہنما بھی شامل ہیں۔ داعش کی سربراہی میں ایک دس رکنی اسٹریٹجک پلاننگ ونگ کا قیام بھی عمل میں لا جاچکا ہے ۔ وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید اور وزیر داخلہ ان خبروں کی تردید کررہے ہیں کہ ملک میںisis کا کوئی وجود نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ ایسے گروپ اور دہشت گرد تنظیمیں ملک میں ضرور موجود ہیں جو از خود داعش سے اپنی وابستگی ظاہر کرکے ملک میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

سی سی پی او کوئٹہ عبدالرزاق چیمہ نے بھی اس تاثر کو مسترد کردیا ہے کہ بلوچستان میں داعش اور جنداللہ کے مابین کوئی ملاقات ہوئی ہے ۔ انہوں ایسی تمام خبروں کو افواہ قرار دیا ہے کہ داعش کی موجودگی یا اس حوالے کسی قسم کی کوئی سرگرمی ہورہی ہے۔ البتہ وال چاکنگ مقامی شدت پسند تنظیموں کی جانب سے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی مذموم کوشش ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سیاسی بیانات ضرور ہوسکتے ہیں لیکن اس سے نہ تو عوام کی تشفی کا سامان ہوسکتا ہے اور نہ آنے والی دہشت گردی کی نئی لہر کا خاتمہ ممکن ہے ۔البتہ ایک درد ناک اور اذیت انگیز کیفیت یہ ہے کہ ہمارے یہاں ہر ایشو کو کیش کرانے کا رواج عام ہے ۔ حکمران بیرونی امداد کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار رہتے ہیں۔

افغانستان کی لڑائی کیلئے امریکہ کا دم بھرنے کے نتیجہ میں لاکھوں ڈالر حاصل کئے گئے۔ جس طرح سے موجودہ صورتحال کی سنگینی کے باوجود پہلو تہی کی جارہی ہے اور عوام کو بہلانے کی کوشش کی جارہی ہے ، اس کے پس پردہ کسی امداد کا حصول ہی مقصد ہو۔ ورنہ ملکی اور بین الاقوامی میڈیا جس طرح سے اس کی موجودگی کی نشاندہی کررہا ہے وہ بہر کیف سو فی صدغلط نہیں ہوسکتا۔ اگر موجودہ حکومت واقعی ملک کی سلامتی اور اس کے محفوظ مستقبل کیلئے سنجیدہ ہے اور ملک کو دہشت گردی کی دلدل میں گرنے سے بچانے کیلئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا چاہتی ہے تو لازم ہے کہ اسے ماضی کی غلطیوں کو دہرانے کی بجائے ایک ایسی موثر حکمت عملی وضع کرنا ہوگی۔ ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو اکھاڑ پھیکنا ہوگا۔ اس قسم کے اقدامات کے بغیر ترقی و خوشحالی کی طرف ایک قدم بھی ا ٹھانا نا ممکن ہے ۔