ہمسایہ کے حقوق
- سوموار 17 / نومبر / 2014
- 16098
سرور کائنات ﷺ کی نظر میں اللہ تعالی نے قران حکیم میں اور نبی آخر الزماں سیدنا حضرت محمد مصطفی ﷺ نے اپنی تعلیمات میں متعدد جگہ تمام انسانوں کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی تاکید فرمائی ہے اور تمام انسانوں کے حقوق کی تفصیل بیا ن فرمائی ہے ۔ کوئی مسلمان کسی کا حق غصب نہیں کرسکتا۔
نبی کریم ﷺ نے اور رب ذولجلال نے تمام انسانوں کے حقوق کی ادائیگی پر زور دیا ہے چنانچہ سورہ نسا ء میں ما ں ، با پ ، رشتہ دا ر ، یتیمو ں ، محتا جو ں ، ہمسا یو ں، مسافرو ں ، خا دمو ں وغیرہ کے حقوق کی ادائیگی پر توجہ دلائی گئی ہے ۔ آج کل معا شرے میں بندو ں کے حقوق کی طرف سے لا پروا ئی کا مظا ہرہ ہو رہا ہے ۔ اس کا لازمی نتیجہ پریشا نی ، تنگ دلی ، تنگ نظری ، افلاس اور خود غرضی وغیرہ کی صورت میں ظا ہر ہو رہا ہے ۔ اولاد ماں باپ کی نافرمانی کر رہی ہے۔ ماں باپ اولاد کے رویے سے بیزار ہیں۔ بھا ئی بھا ئی کا دشمن ہے۔ خو یش و اقا رب ایک دوسرے کے حق میں سانپ اور بچھوؤں کے مانند ہوگئے ہیں ۔ پڑوسی اپنے پڑوسی سے نالاں ہے اہل شہر ایک دوسرے کے شاکی ہیں ۔غرضکہ دنیا میں ہر جگہ معاشرہ افرا تفری کا شکار ہے حالانکہ اسلام نے ہمیں ایک ایسا مربوط معاشرتی نظام دیا ہے کہ جس پر چل کر ہماری زندگی نہایت خوشگوار بن سکتی ہے ۔
ہمسایوں کے حقوق کے بارے میں سورۂ نساء کی ایک آیت میں مذکور ہے ۔ تم اپنے پاس والے پڑوسی کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرو اور دوروالے پڑوسی کے ساتھ بھی ( سورۃ النساء آیت نمبر 36) پاس والے پڑوسی سے مراد وہ ہے جس کا گھر اپنے گھر کے پاس ہو یا نسب میں قریبی ہو یا جو دین کے اعتبار سے قریبی ہو ۔ اور دور والا وہ ہے جس کا گھر فاصلے پر ہو۔ مگر محلہ ایک ہی ہو۔ جو پڑوسی رشتے دار نہ ہو یا دین میں شریک نہ ہو، اس سے معلوم ہوا کہ اگر اہل حقوق کافر ہوں تب بھی ان کے ساتھ احسان کیاجائے ۔ البتہ مسلمان کا حق اسلام کی وجہ سے ان سے پہلے درجے میں ہوگا۔چنانچہ حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پڑوسی تین طرح کے ہیں۔1 ۔ ایک پڑوسی وہ ہے جس کے تین حق ہیں (الف) یعنی پڑوسی ہونے کا حق (ب) رشتہ دار ہونے کا حق(ج) اور اسلام کا حق۔ 2۔ اور ایک پڑوسی وہ ہے جس کے دو حق ہیں (الف) یعنی پڑوسی ہونے کا حق (ب) اور مسلمان ہونے کا حق ۔3۔ تیسرا پڑوسی وہ ہے جس کا صرف ایک ہی حق ہے یعنی صرف پڑوسی ہونے کا حق اور وہ مشرک یا اہل کتاب ہے۔
اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ ہمسایہ کا ایک حق محض انسان ہونے کی حیثیت سے ہے۔اگرچہ وہ اس کا ہم مذہب و ہم خیال نہ بھی ہو۔اورکوئی قرابت بھی نہ رکھتا ہو ۔ اس کے بعد جس قدر قرابتیں زیادہ ہوتی جائیں گی اس قدر اس کا حق دوسرے سے فائق ہوتا جائے گا ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے دو ہمسائے ہیں ، میں ان دونوں میں سے کس کی طرف ہدیہ بھیجوں ؟ (یعنی جب ایک ہی کی طرف بھیجنا ہو ۔) آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ان دونوں میں سے جو تیرے مکان کے زیادہ قریب ہے اس کو بھیج ۔ اس کو امام بخاری ؒ نے روایت کیا ہے ۔ ہمسائے کے حقوق میں کثرت سے احادیث مبارکہ آئی ہیں جن سے ان کے حقوق کی اہمیت واضح ہوتی ہے ۔ ام المومنین حضرت عائشۃ صدیقہؓ اور حضرت ابن عمرؓ کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام مجھے ہمسائے کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی ہمیشہ تاکید کرتے رہے ، یہاں تک میں نے گمان کیا کہ وہ ہمسائے کو وارث بنادیں گے۔ اس مبارک حدیث کو امام بخاری و امام مسلم نے روایت کیا ہے ۔
ترمذی شریف میں ایک حدیث مبارکہ میں ہے کہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ پاک کے ہاں اچھا دوست وہ ہے جو اپنے دوستوں سے اچھا ہو اور اچھا ہمسایہ وہ ہے جو اپنے ہمسائیوں سے اچھا ہو۔حضرت امام مسلم ؒ نے حضرت ابوزرؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تو سالن پکائے تو اس میں شوربہ زیادہ کرلیاکرو اور اس سالن سے اپنے ہمسائے کی خبر گیری کیا کر ۔ اور جو لوگ اپنے ہمسائے کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے بلکہ ان کو ستاتے ہیں ، ان کے بارے میں احادیث مبارکہ میں سخت تنبیہ آئی ہے ۔چنانچہ بخاری ومسلم شریف کی روایت میں ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کی قسم وہ ایماندار نہیں ، اللہ کی قسم وہ ایمان دار نہیں، اللہ کی قسم وہ ایماندارنہیں تین مرتبہ یہی الفاظ آپ ﷺ نے دہراے۔ سوال کیا گیا یارسول اللہ ﷺ وہ کون شخص ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کا ہمسایہ اس کی شرارتوں سے محفوظ نہیں۔ بہت سے لوگوں کے پڑوسی بھوکے سوتے ہیں اور وہ خود خوب سیر ہوکر سوئے ہیں ان کو ہمسائے کی کوئی خبر نہیں ۔ایسے لوگوں کے بارے میں حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا وہ شخص مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھا ئے اور اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوکا ہو۔
ایک اور حدیث شریف میں ہے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ !فلاں اپنی نماز روزہ اور خیرات کی کثرت کے باعث مشہور ہے مگر وہ اپنے ہمسائیوں کو اپنی زبان سے تکلیف پہنچاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ جہنم میں ہے ۔ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ہمسائیوں کا ایک دوسرے پر کسقدر حق ہے۔
ہمسائیوں کے حقوق کئی طرح کے ہیں ۔ مثلا یہ کہ اس کے ساتھ احساس کرے اور رعایت سے پیش آئے ۔ اس کے بیوی بچوں کی آبرو کی حفاظت کرے ۔کبھی کبھی اس کے گھر تحفہ وغیرہ بھیجتا رہے ۔ خاص طور پر جب پڑوسی اتنا غریب ہو کہ فاقہ تک نوبت پہنچ جا تی ہو ۔ تو اس کو کچھ نہ کچھ کھانا ضرور دیا کرے اس کو تکلیف نہ دیں بلا وجہ معمولی باتوں میں اس سے رنج و تکرار نہ کرے ۔ اگر کوئی ہمسایہ غیر مسلم ہو تو اس کے بھی حقوق ہیں مثلا یہ کہ بلا قصور کسی کو جان و مال کی تکلیف نہ دیں۔ اس کے ساتھ بد زبانی نہ کرے اگر کسی کو مصیبت یا فاقہ یا بیماری میں مبتلا دیکھے تو اس کی مدد کرے، کھانا وغیرہ دے۔ علاج معالجہ کرادے۔
جس طرح شہر و بستی میں ہمسایہ ہوتا ہے ۔اس طرح سفر میں بھی ہوتا ہے ۔ یعنی سفر میں روانہ ہوتے ہی جو اس کا رفیق سفر ہو یا راستے میں اتفاقاً اس کا ساتھ ہوگیا ہو تو اس کے حقوق بھی آبادی کے ہمسائے کی طرح ہیں۔ اس کے آرام کو اپنے آرام پر ترجیح دے ۔ ریل گاڑی یا موڑر وغیرہ پر سوار ہوتے وقت اس کو آرام پہنچائے ۔ وغیرہ وغیرہ۔ بعض ہمسائے نادا ر، غریب یا محتاج ہوتے ہیں۔ محتاج ہونے کی وجہ سے اور بھی زیادہ توجہ کے مستحق ہوتے ہیں۔ نہ وہ خود کماسکتے ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی کمانے والا ہوتا ہے۔ پس وہ لوگ رب کے بھروسے پر پڑے ہو ئے ہیں جیسے یتیم معصوم بچے جن کا کوئی وارث نہیں ۔ بیوہ جس کا کوئی سہارانہیں ، عاجز جو کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں ہے، اس قدر بوڑھا ہو چکا کہ خود محنت مزدوری نہیں کرسکتا ، مسکین، بیمار کمانے کے قابل ہی نہیں رہا ، اپاہج کسی حادثے کی وجہ سے اس حال کو پہنچ گیا کہ اب دوسروں کی طرف دیکھنے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہے ، وغیرہ ۔ ان کے اور بھی زائد حقوق ہیں وہ یہ کہ جہاں تک ہو سکے تو مال سے ان کی خدمت کرے اپنے ہاتھ پاؤں سے ان کا کام کردیا کرے ۔ ان لوگوں کی دل جوئی اور تسلی کرتا رہے اور جہاں تک ہوسکے ان کی حاجت اور سوال کو رد نہ کرے اور اگر ان اہل حقوق کے کسی حق کی ادائیگی میں کچھ کمی ہوگئی ہو تو اس کو پورا کرے یا ان سے معاف کرائے اور آئندہ اس بات کا خیال رکھا کرے کہ کوئی کوتاہی نہ ہونے پائے۔ ہمیشہ ان کے حق میں دعائے خیر کرتا رہے ۔اگر اس کے پڑوسی کی طرف سے کوئی زیادتی ہوئی ہو یا حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہوئی ہو تو اس کو معاف کردے ۔ اس میں بہت ثواب ہے خاص کر جب کوئی شخص منت سماجت کرکے معافی چاہے تو معاف کر دینے میں بہت ہی ثواب ہے اور اس کا اجر ہرحال میں اللہ کے ہاں محفوظ ہے ۔جو روز قیامت کام آئے گا ۔
اگر ہر شخص اس ذمہ داری کو محسوس کرے اور اپنے ہمسائے کے حقوق کا پوری طرح خیال رکھے اور انفرادی احساس کے ساتھ اگر ہر محلے والے اپنے اپنے محلوں میں ۱جتماعی تنظیمیں قائم کرکے اہل محلہ اور ہمسائیوں کے لیے کام کریں تو ہمارے معاشرے کی اصلاح ہوکر نہایت پُر سکون ماحول پیدا ہوسکتا ہے اور ہماری زندگی آرام و راحت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ ہم دین و دنیا کی سعادت سے بہرہ ور ہوسکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ااس اُسوۂ حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق اور اس پر استقامت عطا فرمائے ۔آمین۔ ایک حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنے ہمسائیوں کو تکلیف دی اس نے مجھ کو تکلیف دی ۔اور جس نے مجھ کو تکلیف دی اس نے اللہ تعالی کو تکلیف دی ۔اور جوشخص اپنے پڑوسی سے لڑا وہ مجھ سے لڑا اور جو مجھ سے لڑا وہ اللہ تعالیٰ سے لڑا۔ ہمسائے کے حقوق کے متعلق آپ ﷺ کی اتنی سخت ہدایت سے ہمسائے کے حقوق کے متعلق اس کی اہمیت سے کو ن انکار کرسکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں ہر چھوٹے بڑے گناہ سے محفوظ فرمائے۔آمین ۔