پاک بھارت تجارت
- منگل 18 / نومبر / 2014
- 5782
پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر نے ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت سے تعلقات میں بہتری اور تجارت کے بعد پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھے گی۔ اسلام آباد ایکسچینج کے بورڈ آف ڈائریکٹرز سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاک بھارت تعلقات میں پیشرفت اور تجارت میں بہتری سے غیر ملکی سرمایہ کاری ، صنعتوں میں استحکام اور قومی معیشت کی صورتحال میں مزید بہتری آئے گی۔
میں اپنی بات کا آغاز برطانوی راج سے کر رہا ہو۔ سترہویں 17 ویں اور اٹھارویں 18 ویں صدر میں ہندوستان ساری دنیا کی منڈیوں پر چھایا ہؤا تھا۔ دنیا کی تجارت میں اس کا تیسرا نمبر تھا۔ اس وقت ہم متحدہ ہندوستانیوں کی مصنوعات کی بیرونی ممالک میں زبردست مانگ تھی۔ بالخصوص ہندوستان پارچات اور اس سے بنی ہوئی مصنوعات کی پوری دنیا میں بہت طلب تھی۔ چنانچہ ہندوستان کے کپڑے کے استعمال کو روکنے کے لئے ایڈن برگ میں محب وطن شہریوں کی ایک ایسوسی ایشن بنائی گئی۔ اس ایسوسی ایشن نے ہندوستانی اشیا کے خلاف زبردست مہم چلائی اور اعلان کیا کہ آئندہ ہندوستانی مصنوعات کے بیچنے ، خریدنے اور استعمال کرنے والوں کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے گا۔ اگر کوئی شخص کسی سے چوری چھپے ایک گز ہندوستانی کپڑا بھی خریدتا تو اس کا چالان کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں تقسیم ملک کے بعد دونوں ملک اپنا اپنا مال بیچنے کے لئے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہو گئے۔ اس دوڑ میں ایک کہاں نکل گیا اور دوسرا کہاں رہ گیا۔
اس وقت پاکستان اور بھارت کی اقتصادی صورتحال میں بڑا نمایاں فرق ہے۔ بھارت میں مصنوعات بنانے میں لاگت کم آتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت میں پاکستان کی نسبت مہنگائی کم ہے۔ اس لئے وہاں مزدوری سستی مل جاتی ہے۔ میری اطلاعات کے مطابق بھارت کے صنعتی سرمائے پر شرح سود نصف ہے۔ علاوہ ازیں مارک اپ کے حوالے سے بھی بھارت کو ہم پر برتری حاصل ہے۔ اس وقت جنوبی ایشیا میں اس کی تجارت کا گراف اوپر جا رہا ہے اور ہمارا نیچے کی جانب۔ یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش سے بھارت کی تجارت 45 فیصد ہے ، نیپال سے 70 فیصد ، سری لنکا سے 50 فیصد اور بھوٹان سے 80 فیصد۔ یہ گراف اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کی موجودہ تجارتی پالیسی میں کوئی بڑی خامی موجود نہیں۔ اب جہاں تک دو ” دشمن ملکوں“ یعنی پاکستان اور بھارت کی تجارت کا معاملہ ہے وہ کچھ یوں ہے۔
بھارت اور پاکستان کی تجارت کا آغاز تقسیم ملک کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ 1947 سے شروع ہونے والی یہ دو طرفہ تجارت 1949 تک پہنچتے پہنچتے 58 فیصد ہو گئی تھی۔ پاکستان اپنا خام مال بھارت بھیجتا اور اس کے بدلے میں دوسری اشیا درآمد کرتا۔ یہ سلسلہ بخوبی جاری تھا کہ 1949 میں بھارت نے اپنی کرنسی یعنی روپے کی قیمت میں کمی کر دی اور یہ چاہا کہ پاکستان بھی ایسا ہی کرے مگر پاکستان نے انکار کر دیا۔ ان حالات میں تجارتی تعلقات مخدوش ہونے شروع ہوئے اور آخر کار دونوں نے تجارت بند کر دی۔ یہ ڈیڈ لاک تقریبا دو سال تک قائم رہا۔
دونوں ملکوں میں تجارتی تعلقات کیسے سرد مہری کا شکار ہوئے اور یہ ڈیڈ لاک کیوں وجود میں آیا؟ اس کی سمجھ مجھے تو کیا ماہرین معیشت کو بھی نہیں آ سکی۔ اس کے بعد پھر تجارتی ڈول ڈالا گیا اور اسے ” بارڈر ٹریڈ ایگریمنٹ “ کا نام دیا گیا اور یہ تجارت جو 58 فیصد تک جا پہنچی تھی اب صرف (1965 تک) 2 فیصد تک رہ گئی۔ اور 1965 سے 1974 تک آتے آتے یہ بالکل ختم ہو کر رہ گئی۔ 1974 کے بعد دوبارہ ایک معاہدے کے تحت ملک عزیز نے بھارت سے رکشے درآمد کئے۔ بعد ازاں 1982 کے آتے آتے ایک معاہدے کی رو سے 42 اشیا کی تجارت کا آغاز کیا گیا۔
اس معاہدے کا نام ٹریڈ کارپوریشن آف پاکستان تھا جو بعد میں ایک ” بزنس کمیشن “ کی شکل میں تبدیل ہو گیا۔ 1988 تک تجارتی اشیا کی تعداد 42 سے بڑھ کر 575 تک ہو گئی۔ ایسی صورتحال میں حکومت پاکستان کے مثبت روئیے کی وجہ سے اسے ” موسٹ فیورٹ نیشن “ قرار دیا گیا لیکن پھرمسئلہ کشمیر بیچ میں آ کودا اور موسٹ فیورٹ نیشن کی شکل بدل کر رہ گئی۔ پھر سے دونوں ملکوں کی تجارت تعطل کا شکار ہو گئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں مسئلہ کشمیر نے اسے یرغمال بنا لیا ۔ بلکہ مجھے کہنے دیجئے کہ اس مسئلے نے دونوں ملکوں کے عوام کو یرغمالی بنا رکھا ہے۔
ادھر عالمی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر ترقی پذیر ممالک آپس کی تجارت پر عائد محصولات میں کمی کر دیں تو اس سے خام مال کی قیمت میں مفید کمی ہو گی اور یہ ممالک عالمی تجارت کی مسابقتی دوڑ میں زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں گے۔
میں چاہتا ہوں یہ دونوں ممالک زیادہ بہتر کارکردگی نہ سہی کم از کم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ ضرور کر دکھائیں وگرنہ
” ہماری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں “