میٹرو۔۔۔ اور کچھ پرانی یادیں
- بدھ 19 / نومبر / 2014
- 4914
میٹرو بس سروس کے بعد اب میٹرو ٹرین کے منصوبے ایوان اقتدار کی راہداریوں میں پروان چڑھ رہے ہیں۔ اور جس جوش و خروش سے میٹرو بس لاہور میں “ کلکاریاں “ بھر رہی ہے ۔ وہ دن دور نہیں کہ میٹرو ٹرین بھی جلد ہی چنگھاڑتی دکھائی دے گی۔ لاہور میں میٹرو بس کی وجہ سے لوگوں کو سہولت میسر آئی لیکن یہ اختلاف اپنی جگہ پر موجود رہاہے کہ یہ سہولت صرف 27 کلومیٹر تک ہی کیوں؟ اب میٹرو بس کا دائرہ ملتان تک وسیع کیا جا رہا ہے ۔ اور امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ راولپنڈی ، اسلام آباد میں بھی ہواؤں کے سنگ جلد ہی اس کی ملاقات ہو گی۔ ہواؤں کے سنگ اس لیے کہ میٹرو کچھ اکھڑ مزاج ہے اسی لئے اسے بالا ہی بالا رکھا گیا ہے اور عام ٹریفک اس سے دور ہی رہے گی۔ کچھ ایسا ہی میٹرو ٹرین کے ساتھ بھی ہو گا۔
پاکستا ن میں ہر شخص کے پاس اپنی گاڑی موجود نہیں اس لیے کروڑوں کے حساب سے لوگ حصول روزگار کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر کرتے ہیں۔ اور اس سفر کے لیے یقیناًان کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ کہ سفر کا کوئی سستا ذریعہ میسر آئے۔اور امید تو یہی کی جا سکتی ہے کہ میٹرو ان کی دل کی یہ خواہش ضرور پوری کرے گی ۔ شاید اسی لیے راولپنڈی اسلام آباد میں لوگ دھول مٹی کی چادر اوڑھ کے بھی ناک بھوں نہیں چڑھا رہے کہ شاید اس منصوبے سے ان کی قسمت سنور ہی جائے۔
اس منصوبے کی اہمیت اپنی جگہ پرہے ۔ لیکن پتہ نہیں کیوں جب سے یہ منصوبے شروع ہوئے ہیں مجھے کچھ بھولے بسرے قصے یاد آ گئے ہیں۔ جب میری نسل کے نوجوان نے عقل و شعور کی منزل پر قدم رکھا تو G.T.S بس سروس اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی۔ لیکن پھر بھی خاکی دیوہیکل بس کی کچھ یادیں میرے پاس محفوظ ہیں۔ میں نے ایک خوبصورت گاؤں میں آنکھ کھولی۔ مجھے میرے والد نے شہر سے تعلیم دلوانے کا تہیہ کیا۔ اس وجہ سے ہی میرا واسطہ اس گم گشتہ بس سروس سے ہوا۔ اس بس سروس کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ اس کا ڈرائیور اور کنڈیکٹر دونوں زیادہ تر مقامی ہوتے تھے۔ لہذا کسی غریب کے پاس کرایہ نہ بھی ہوتا تو وہ بلا جھجک بس میں سوار ہو جاتا تھا۔ کیوں کہ اسے یقین ہوتا تھا کہ اس کا ٹکٹ کنڈیکٹر یا ڈرائیور ادا کر دے گا۔
یہ ایک کامیاب بس سروس تھی۔ گاؤں میں اگر کوئی بیمار ہو جائے تو ہسپتال لے جانے کے لیے ایمبولینس کا تو تصور ہی نہیں تھا ۔ یہی بس سروس کام آتی تھی۔ کسی کو اپنا مال یا سبزیاں منڈی تک لے جانا ہوتیں تو الگ سے گاڑی کا بندوبست کرنے کے بجائے ، اسی بس کے زریعے سامان کی ترسیل ہوتی۔ راولپنڈی میں اس بس کا مرکزصدر کے علاقے میں تھا۔اس بس سروس میں کرایہ نہ ہونے کے برابر ہوتا تھا۔اور کرایہ کسی غریب کے پاس نہ ہونے کی صورت میں یہ ڈر نہیں کہ نیچے اتار دیا جائے گا۔ غرض یہ کہ یہ سہولت ہر لحاظ سے عام آدمی کے لیے فائدہ مند تھی۔ تاہم عام آدمی کے لئے مفید یہ بس سروسر 90ء کی دہائی میں ہمیشہ کے لیے قصہ ء پارینہ بن گئی۔
اسی طرح کراچی ، جو پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے ، بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ اس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ کسی کو بھوکا نہیں سونے دیتا ۔ یعنی اس میں ہر رنگ و نسل کے لوگوں کے لیے مواقع موجود ہیں۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے لوگوں کی سہولت کے لیے اس شہر میں ایک ٹرین سروس چلا کرتی تھی۔ جسے سرکولر ریل کہتے تھے۔ یہ ٹرین سروس بھی جی ۔ ٹی۔ ایس بس سروس کی طرح ہی تھی۔ یہ ملیر، ملیر کینٹ، کیماڑی، اورنگی، سعود آباد، سٹی اسٹیشن وغیرہ اور اسی طرح کے دوسرے علاقوں سے گزرتی تھی۔ ی گویایہ پورے کراچی کا چکر لگاتی تھی۔ میرے ایک عزیز جو فوج سے ریٹائرڈ ہیں انہوں نے بتایا کہ اس ٹرین پہ80ء کی دہائی میں ایک سٹاپ سے دوسرے سٹاپ تک کرایہ 25پیسے تھا۔ یہ لوگوں سے کچھا کچھ بھری ہوتی تھی۔ کیوں کہ یہ پورے کراچی کا چکر لگاتی تھی اس لیے کاروبار زندگی اور محنت مزدوری کے لیے شہر کے کسی بھی علاقے میں جانا مسلہ نہیں تھا۔ لیکن بات پھر وہیں پہ آتی ہے کہ اس سے چونکہ ایک عام آدمی کو فائدہ ہو رہا تھا لہذا یہ سروس بھی 1999-2000 میں بند کر دی گئی۔شائد ارباب اختیار کا خیال ہو گا کہ عوام تو پیدا ہی دھکے کھانے کے لیے ہوئے ہیں۔ پھر انہیں یہ سہولت کیوں میسر رہے۔ اس سروس کی لوہے کی پٹری توضرورت مند بابو شاید ہضم کر چکے ہیں البتہ کسی کسی علاقے میں یادگار کے طور پر کچھ حصے باقی ہیں۔
میٹرو بس و میٹرو ٹرین کا سن کے پتہ نہیں کیوں یہ پرانے قصے یاد آ گئے۔ میاں صاحبان سے بہت سی باتوں میں اختلاف ہے لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ میٹرو بس و ٹرین سروس عوام کے لیے زحمت کے بجائے سہولت ہی بنے گی ۔لیکن ساتھ ہی یہ التجا بھی ہے کہ خدارا اس منصوبے کو جی ۔ ٹی ۔ ایس سروس یا سرکلر ٹرین نہ بننے دیجیے گا۔اگر یہ منصوبے حقیقی معنوں میں عوام کی بھلائی کے لئے ہیں توانہیں مستقل شکل دیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جب یہ حکومت ختم ہو تو ساتھ ہی یہ منصوبے بھی دم توڑ دیں۔ ان منصوبوں کی تکمیل کے ساتھ ایک ایسا نظام بھی وضع کریں ، جس کی بدولت کسی بھی آنے والی حکومت کے بابو اس کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ یہ پاکستان کے عوام پر ایک بہت بڑا حسان ہو گا۔