پاکستان کا مقدمہ

  • جمعہ 21 / نومبر / 2014
  • 3864

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور نہ ہی بھارت کی توسیع پسندی کے عزائم سے دنیا لاعلم ہے۔ دہشت گردی کے ہر چھوٹے بڑے واقعے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنا بھارت کی فطرت بن چکی ہے، چاہے سارے دعوے بعد میں اپنے ہی منہ پر کالک تھوپنے لگیں۔

سمجھوتہ ایکسپریس پر ہونے والی تحقیقات میں بھارتی فوج کے افسر کے ملوث ہونے کی خبر بھی میڈیا شہ سرخیوں میں شائع کر چکا ہے۔  جبکہ ممبئی حملوں کے حوالے سے بھی تاحال بھارت ٹھوس شواہد فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ ہندو مسلم فسادات آئے روز کا قصہ ہیں اور مودی سرکار کی آمد کے ساتھ ہی بلوائیوں کے حوصلے آسمان کو چھونے لگے ہیں۔ مسلمانوں پر حملوں کا سلسلہ زور پکڑ گیا ہے۔ کشمیری طالب علموں کی آئے روز درگت کی خبریں زبان زد عام ہیں۔

افغانستان سے اتحادی فوجوں کا انخلا مکمل ہونے کے قریب ہے جبکہ ادھر پاکستان میں فوج دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب میں مصروف ہے۔ فوج کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ آپریشن بلا تفریق تمام شدت پسند گروہوں کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ اس تمام پس منظر کے باوجود بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔

موجودہ منظر نامے میں یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کی صورتحال پیدا کرنے کا مطلب پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ لیکن بھارت کو اس امر کو مدنظر رکھنا ہو گا کہ پاکستان کو  کمزور کرنے کا مطلب اس کی طاقت میں اضافہ ہرگز نہیں ہو گا۔

ایسے کشیدہ حالات اور مشکل صورتحال میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے امریکی عسکری، انتظامی، انٹیلی جنس اور سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں اور ان ملاقاتوں کے دوران آرمی چیف نے ریاست پاکستان کے وکیل کی حیثیت سے مدلل انداز میں پینٹاگون اور اوباما انتظامیہ کے حکام کی شکایات اور تحفظات کو انتہائی بے باکی اور جرات مندی سے رفع کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے ساتھ  ہی انہوں نے بھارت کی فتنہ پروری سے بھی پردہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے امریکی حکام کو برملا کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فوج کی کارروائیوں سے پاکستان کے لئے افغان سرحدی علاقے میں شدت پسندوں کیخلاف کارروائی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔  بھارت کی طرف سے جس طرح کے اشتعال انگیز واقعات اور بیانات آ رہے ہیں، وہ دہشت گردوں کے خلاف جاری مہم پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

دنیا کی نظروں سے یہ حقیقت اوجھل نہیں کہ پاکستان نے اپنی مغربی سرحد پر 1 لاکھ 40 ہزار فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔ پاکستان کو بجا طور پر قوی امید تھی کہ اس کی افواج جب دنیا بھر کے امن کو بچانے کے لئے دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب آپریشن کو کامیابی سے آگے بڑھا رہی ہیں، مشرق میں بھارت سے متصل سرحد پر امن رہے گی۔ مگر حالات و حقائق گواہ ہیں کہ ایسا نہیں ہؤا۔

آپریشن ضرب عضب شروع ہونے کے بعد بھارت نے متعدد بار لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر جارحانہ کارروائیاں کر کے پاکستان کو اشتعال دلانے کی کوشش کی۔ اس اشتعال انگیزی کے باوجود پاکستان نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملے پر بھارت سے سفارتی سطح پر احتجاج کیا۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ بھارت میں نریندر مودی کے اقتدار سنبھالتے ہی جارحیت پر مبنی کارروائیوں میں اضافہ ہؤا ہے۔ اس کے باوجود افواجِ پاکستان نے قبائلی علاقوں میں غیرملکی در اندازوں اور مقامی تخریب کاروں، دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کیں اور انہیں مذموم سرگرمیوں میں ناکامی پر مجبور کر دیا۔

یہی وجہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل پینٹا گون کی تخیلاتی رپورٹ کے باوجود جنرل راحیل شریف کے دورہ امریکہ کے دوران اوباما انتظامیہ کی طرف سے ضرب عضب آپریشن پر پاک افواج کی دلیرانہ کارروائیوں کو سراہا گیا اور یقین ظاہر کیا گیا کہ افغانستان کی نئی قیادت کے ساتھ مل کر حکومت پاکستان زیادہ اعتماد سے سرحدی علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا کرے گی۔ اس امر کا ثبوت یہ ہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو ان کی خدمات کے اعتراف میں امریکی فوج کی جانب سے ’’ لیجن آف دی میرٹ ‘‘ کا اعزاز دیا گیا ہے۔

پاک فوج کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق پانچ ماہ سے جاری آپریشن میں شمالی وزیرستان کے مختلف حصوں میں 1200 سے زیادہ شدت پسند ہلاک کئے گئے اور ان کے 200 سے زائد ٹھکانے تباہ کر کے سیکڑوں کلو بارودی مواد برآمد کیا گیا ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس دوران حقانی نیٹ ورک اور ایسٹ ترکستان موومنٹ (چین نے بھی اس تنظیم کے بارے میں اپنے شبہات پاکستان سے شیئر کئے تھے) کے عناصر کا اس علاقے سے صفایا کر دیا گیا ہے۔

جنرل راحیل شریف نے امریکی سینٹ کی امور خارجہ کمیٹی اور سینٹ کی سلیکٹ کمیٹی برائے انٹیلی جنس سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر امریکی چیف آف آرمی سٹاف اور بحریہ کے کمانڈنٹ جوزف ڈنفورڈ بھی موجود تھے۔ دونوں کمیٹیوں نے پاکستانی وفد سے دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق کوششوں پر بات کی۔ وفد نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں سے کمیٹیوں کوآگاہ کیا۔ پاکستانی وفد نے امریکی حکام کو بتایا کہ پاکستان تمام دہشت گرد گروپس کو بلاتفریق ختم کر رہا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق جنرل راحیل شریف نے فوجی حکام سے ملاقات میں علاقائی سکیورٹی امور پر بھی گفتگو کی۔

دفاعی تجزیہ نگاروں اور میڈیا میں آنے والی رپورٹس کے مطابق مذاکرات کے دوران حقانی نیٹ ورک سمیت تمام دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی بلا تمیز کارروائی کا معاملہ اٹھایا گیا اور وہاں سے یہی تاثر ملا کہ کم از کم پینٹا گون اور امریکی فوجی کمانڈر اس سلسلے میں پاکستان کے اقدامات پرپوری طرح مطمئن ہیں۔ امریکہ کے قانون دان اور سکیورٹی سے متعلق انتظامیہ کی ٹیم کے ارکان کی سوچ پوری طرح واضح نہیں ہے۔

تاہم افغانستان سے اتحادی افواج کے  انخلا کے بعد پاکستان کی اہمیت میں جو اضافہ ہو گا، امریکی سینیٹ اور انتظامیہ اسے سمجھنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ بلکہ یہ عندیہ ضرور مل رہا ہے کہ وہ اختلافی معاملات حتمی اطمینان ہو نے تک اٹھاتے رہیں گے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جیف راتھکی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ بات بہت اہم ہے کہ پاکستانی حکومت تمام شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کر نے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ترجمان کے مطابق جہاں تک وزیراعظم نواز شریف کے مشیر سرتاج عزیز کے انٹرویو کی بات ہے تو ہم پاکستانی حکومت کی اس وضاحت کا خیرمقدم کرتے ہیں کہ وہ ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف ہے اور شمالی وزیرستان میں تمام دہشت گرد گروہوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سامنے آنے والی منظر نامے کے مطابق یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ آرمی چیف کا دورہ امریکہ نتیجہ خیز ہوگا اور امریکی حکام بھی اپنے رویوں میں تبدیلی پیدا کرتے ہوئے ڈومور کی گردان سے گریز کرنا شروع کریں گے۔

امریکہ اگر خطے میں امن کا خواہاں ہے تو یقینی طور پر اسے بھارت کو اشتعال انگیزی سے روکنا ہو گا۔ بھارت کی جارحیت پر مبنی کارروائیاں پاکستان کو نقصان پہنچانے کی بجائے دہشت گردوں کی مددگار اور انہیں پھر سے منظم ہونے کا موقع فراہم کر سکتی ہیں۔ بھارت کو خود اپنے اور ہمسایوں کو چین سے جینے کی پالیسی اپنانا ہو گی۔ ورنہ جو آگ وہ بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے اس سے وہ خود بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ بھارت یاد رکھے کہ اگر پاکستانی ریاست کا ڈھانچہ زمیں بوس ہوتا ہے تو اس کا امن بھی تہہ و بالا ہو جائے گا۔