خاندانی منصوبہ بندی اور مضمرات

  • ہفتہ 22 / نومبر / 2014
  • 5417

گزشتہ دنوں چھتیس گڑھ کے علاقہ بلاسپور کے پینڈار گاؤں میں مرکزی خاندانی منصوبہ بندی کے پروگرام کے تحت نس بندی کیمپ لگایا گیا۔  گاؤں والوں کا الزام ہے کہ سرکاری ہدف پورا کرنے کی جلد بازی میں صرف چھ گھنٹے کے دوران ہی ضلع اسپتال کے ایک ڈاکٹر نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر 83 خواتین کی نس بندی کر دی۔

نس بندی کی جانے والی خواتین چند ہی گھنٹوں میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہو گئیں۔ اب تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق15خواتین اپنی جان کھو چکی ہیں اور بقیہ مسائل سے دوچار ہیں۔ مرنے والی ایک خاتون جانکی بائی کے شوہر کا کہنا ہے کہ نس بندی سے پہلے دوا کھاتے ہی کئی خواتین کو قے ہونے لگی تھی لیکن ڈاکٹر نے ان کی طرف توجہ نہیں دی۔  عورتوں کی حالت بگڑتی چلی گئی۔  دوسری طرف اینٹی بائیو ٹک دوا کی ابتدائی جانچ میں چوہے مارنے میں استعمال ہونے والا کیمکل پایا گیا ہے۔ یہی نہیں دوا بنانے والی کمپنی کو دو سال پہلے بلیک لسٹ کیا جا چکا تھا، مگر حکومت اس سے اب بھی دوائیں خرید رہی تھی۔

اینٹی بائیو ٹک ٹیبلیٹ سپروفلاکسیسن500کی جانچ سے پتہ چلا ہے کہ اس میں زنک فاسفائڈ ملا ہوا تھا۔ یہ کیمکل چوہے مارنے کے لے استعمال ہوتا ہے۔ واقعہ کے بعد برانگیختہ و مشتعل مقامی شہریوں اور حزب اختلاف کانگریس پارٹی کے لوگوں نے ریاست کے وزیر صحت امر اگروال کی رہائش گاہ کا بلاسپور میں محاصرہ کرلیا۔ حکومت نے سرکاری کیمپ میں 83 سے زیادہ خواتین کا نس بندی آپریشن کرنے والے ڈاکٹر آر کے گپتا اور سی ایم ایچ او ڈاکٹر بھاگے کو برطرف بھی کر لیا ہے۔ پہلے ان افراد کو معطل کیا گیا تھا۔

ادھر حکومت کی کارروائی سے انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن بھی ناراض ہے۔ ایسوسی ایشن کا الزام ہے کہ یہ پورا معاملہ ناقص ادویات کی فراہمی کا ہے لیکن حکومت ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ دوسری طرف ریاست کے وزیر صحت امر اگروال نے کا کہنا ہے کہ وہ اخلاقی طور پر اس واقعہ کے لیے ذمہ دار ہیں۔ل یکن ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس مشکل گھڑی میں کانگریس متاثرین کے دکھ دور کرنے میں تعاون کے بجائے لاشوں پر سیاست کر رہی ہے۔

نس بندی کا واقعہ اور اس میں غیر ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے والے ڈاکٹر کے تعلق سے سوال یہ نہیں ہے کہ برسراقتدار اور حزب اختلاف کا عمل کیا ہے۔ بلکہ ہماری سمجھ کے مطابق اس موقع پر لازماً یہ سوال اٹھنا چاہیے کہ نس بندی کی ضرورت کس کوہے؟ اور کیوں؟اور وہ کون سے مقاصد ہیں جن کے پیش نظر خاندانی منصوبہ بندی کے لئے اس طرح کے پروگرام چلائے جاتے ہیں؟ کیونکہ معاملہ خاندانی منصوبہ بندی کا نہیں ہے بلکہ معاملہ یہ ہے کہ غریبوں اور ضرورت مند شہریوں کے حقوق کس طرح پامال کئے جائیں۔ خواتین پر جاری ظلم و استحصال کو کیسے جاری رکھا جائے۔

قابل احترام عورت کو آج سماج نے ذلت آمیز مقام دیا ہؤا ہے۔ ہماری دانست میں یہ پروگرام بھی اسئ ظلم کے تسلسل کا نام ہیں۔  ایسا نہیں ہے تو پھر کیوں رحم مادر میں قتل جنین کے واقعات تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں؟ کیوں خواتین کی عزت و آبرو اور ان کی عفت و عصمت سے کھلواڑ میں اضافہ ہورہا ہے؟ اور کیوں مہذب دنیا کے تاجرین اُن کو بازار میں ایک فروخت کی جانے والی شے کے طور پر استعمال کرتے ہیں؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب دینے اور تلاش کرنی تاب نہ حزب اختلاف میں ہے  اور نہ ہی برسر اقتدار گروہ اِن سوالوں کا پوسٹ مارٹم کریں گے۔ نہ ہی ان مسائل کا حل تلاشکرنے کی جانب پیش قدمی کی جائے گی۔ لیکن اس موقع پر ان لوگوں کو لازماً متوجہ ہونا چاہیے جو یا تو سیاست سے خود کو بالاتر سمجھتے ہیں یا وہ لوگ جو اقدار پر مبنی سیاست کے خواہاں ہیں۔ لیکن اگر یہ دونوں ہی قسم کے افراد و گروہ خاموشی اختیار کرتے ہیں تو پھر یہ بات واضح ہو جائے گی کہ درحقیقت ماہرینِ خطابت عدل کے قیام میں سنجیدہ نہیں ہیں۔

خاندانی منصوبہ بندی کا مقصد نسل کی افزائش کو روکنا ہے۔ قدیم زمانے میں بھی اس کا وجود تھا۔ لیکن اس زمانے میں یہ تحریک زیادہ منظم نہ تھی۔ قدیم دور میں افزائش نسل کو روکنے کے لیے عزل، اسقاط حمل، قتل اولاد اور ضبط نفس کے طریقے اختیار کیے جاتے تھے۔ یورپ میں اس تحریک کی ابتداء اٹھارویں صدی عیسوی کے اواخرمیں ہوئی۔ اس کا پہلا محرک غالبا انگلستان کا مشہور ماہر معاشیات Malthus تھا۔اس کے عہد میں انگریزی قوم کی روزافزوں خوشحالی کے سبب انگلستان کی آبادی تیزی کے ساتھ بڑھنی شروع ہوئی ۔ اُس نے حساب لگایا کہ اگر نسل اپنی فطری رفتار کے ساتھ بڑھتی رہی تو زمین اس کے لیے تنگ ہوجائے گی۔

اس صورت میں وسائل  بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے کافی نہیں ہوں گے۔  لہذا نسل انسانی کی خوشحالی کے لئے ضروری ہے کہ اس کی افزائش ایک حد سے آگے نہ بڑھنے پائے۔ اس غرض کے لئے اس نے برہم چرچ کے قدیم طریقے رائج کرنے کا مشورہ دیا۔ یعنی بڑی عمر میں شادی کی جائے اور ازدواجی زندگی میں ضبط سے کام لیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار اس نے اپنے رسالہ “ آبادی اور معاشرے کی آیندہ ترقی پر اس کے اثرات “ میں پیش کئے تھے۔

اس کے بعد Frances Place نے اخلاقی ذرائع چھوڑ کر دواؤں اور آلات کے ذریعہ سے منع حمل کی تجویز پیش کی۔اس رائے کی تائید میں 1833ء میں ایک مشہور ڈاکٹر چارلس نولٹن نے پلاس کی تائید کی اورمنع حمل کے طبی طریقوں کی تشریح کی نیزان کے فوائد پر زور دیا ۔ انیسویں صدی کے ربع آخر میں ایک نئی تحریک اٹھی جو نو مالتھی تحریک کہلاتی ہے۔1877ء میں ڈاکٹر ڈریسڈل کی زیر صدارت ایک انجمن قائم ہوئی، جس نے ضبط ولادت کی تائید میں نشرواشاعت شروع کی۔

اس کے دو سال بعد مسز سینٹ کی کتاب “ قانون آبادی “ شائع ہوئی۔ 1881 میں یہ تحریک یالینڈ ، بیلجیم، فرانس اور جرمنی  پہنچی اوراس کے بعد رفتہ رفتہ یورپ اور امریکہ میں پھیل گئی۔ اس کے لئے باقاعدہ انجمنیں قائم ہوئیں جوضبط ولادت کے فوائد اور عملی طریقوں سے آگاہ کیا کرتی تھیں۔ نیزاس کو اخلاقی نقطہ نظرسے جائز اور معاشی نقطہ نظر سے مفید بتاتی تھیں۔

دوسری جانب براعظم ہند و پاک میں گزشتہ ربع صدی سے ضبط ولادت تحریک زور پکڑ رہی ہے۔1931 کی مردم شماری کے کمشنر ڈاکٹر ہٹن نے اپنی رپورٹ میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کو خطرناک ظاہر کرنے کے لئے ضبط ولادت کی ترویج پر زور دیا۔ بعد میں  ہندوستان نے اس تحریک کو ایک قومی پالیسی کی حیثیت سے اختیار کر لیا۔

واقعہ یہ ہے کہ نس بندی ہو یا قتل جنین یہ دونوں ہی معاملات سماج کی اس خستہ حالی کو پیش کرتے ہیں جس میں لڑکی کو ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے۔ لڑکے سے کمتر لڑکی کی حیثیت کے پیش نظر ہی شادی کے وقت بڑی بڑی رقمیں جہیز کی شکل میں ادا کرنی پڑتی ہیں۔ مسائل کے حل اور نومولود بچی کی جان کی حفاظت کے لئے حکومت مختلف اسکمیں چلا رہی ہے۔ اس کے باوجود اعداد شمار بتاتے ہیں کہ ہندوستان میں 1981میں پیدائش تا 6؍سال کی عمر کی بچوں کا اوسط جو1000:962تھا وہ 1991میں945، 2001میں 927اور2011میں 914 رہ گیا ہے۔

حقیقت میں قتل جنین، نس بندی اور خاندانی منصوبہ بندی کاایک پہلو ہے۔ جبکہ دوسری طرف اس کے معاشی و معا شرتی اور اخلاقی و تمدنی مضر اثرات کیا ہیں؟ اگر وہ جان لئے جائیں جو یہ حقیقت پوری طرح آشکار ہو جائے گی کہ متذکرہ عمل کے نتیجہ میں ملک عزیز ترقی و خوشحالی کی جانب نہیں بلکہ تنزلی اور بحران میں گھرتا جا رہا ہے۔ اس پوری گفتگو کے پس منظر میں ضرورت ہے کہ ہر دو پہلوؤں سے نس بندی کے واقعہ کو موضوع بحث بنایا جائے!