30 نومبر کو کیا ہوگا
- سوموار 24 / نومبر / 2014
- 4363
پاکستان جنوبی ایشیا کے ان ممالک میں سے ہے جہاں سیاست کرنا خالہ جی کا گھر نہیں کہ آئے ، بیٹھے ، کھایا، پیا اور خوشی خوشی چل دیا۔ یہاں کچھ پانے کیلئے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے یعنی پاپڑبیلنے پڑتے ہیں ۔ ایک مقبول عام عوامی نمائندہ بننے کیلئے موسم کی سختیاں برداشت کرنی پڑتی ہیں اور ہر اس شخص کی سننی پڑتی ہے جس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
ایسی صورتحال کا سامنابھی ہو تا ہے جس کیلئے بعض اوقات تیاری بھی نہیں ہوتی ۔گویا اقتدار کا حصول ایک آگ کا دریا بن جاتا ہے جسے عبورکئے بغیر کوئی اور راستہ باقی نہیں رہتا۔ ضیا ء دور کے بعد پاکستان کی سیاست میں یکسر تبدیلی آگئی اور عوام کو نفسیاتی طور پر بیوقوف بنانے کا سلسلہ شروع ہوگیااور لاشوں کی سیاست کا آغاز بھی ہوا۔1988ء میں بے نظیر بھٹو جب پاکستان میں آئیں تو ان کا شہید کی بیٹی کی حیثیت سے والہانہ استقبال کیا گیااور اسی کی بدولت پیپلز پارٹی کو اقتدار حاصل ہوا۔
مشرف کے چیف ایگزیکٹو بنتے ہی بی بی نے خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزارنے لگیں لیکن مشرف کے جانے سے قبل انہوں نے جلاوطنی ختم کی اور 2007ء میں وہ ایک بار پھر پاکستان میں جمہوریت کی بقاء کیلئے وطن آن پہنچیں اور سیاسی منظر کا حصہ بن گئیں ۔ 18اکتوبر 2007ء کو ایک جم غفیر قائد اعظم انٹر نیشنل ائرپورٹ سے شاہراہ فیصل پر موجود تھا جہاں رات گئے ان پر حملہ کیاگیا جس کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں اور کئی لوگ زخمی بھی ہوئے۔ پیپلز پارٹی کی کھوئی ہوئی عوامی مقبولیت کو زندہ ہوگئی۔ اسی سال 27 دسمبر کو راولپنڈی میں بے نظیر کی ہلاکت نے ایک اور سانحہ کو جنم دیا جس نے ملک کو ایک اچھے لیڈر سے محروم کردیا۔ تاہم انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کو ایک بار پھر اقتدار نصیب ہوا۔ ۔ یہ دور درحقیقت زرداری کی بادشاہت کا وقت تھا جس کی غالباً وہ عرصہ دراز سے خواہش کررہے تھے۔
ملک میں لاشوں پر سیاست کرنے کی روایت مضبوط ہوگئی ۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری جو 2013ء میں ملک میں جمہوریت کی خاطر ایک ناکام کوشش کرچکے تھے، 2014ء میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کو جواز بناکر ملک میں وارد ہوئے اور اپنے کارکنوں کی ہلاکت کو بنیاد بنا کر ملک میں انقلاب برپا کرنے کیلئے اسلام آباد جاپہنچے ۔ ان کے ساتھ ساتھ آزدای مارچ کی قیادت کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین نے بھی کارکنان کے ہمراہ وزیراعظم نواز شریف کا استعفیٰ لینے کا عزم لئے دھرنا دینے کیلئے وفاقی دارالحکومت میں ڈیرے ڈال دئے۔
عمران 18سال سے ملکی سیاست میں معیاری اور سستے انصاف کی فراہمی کیلئے کوششیں کر رہے ہیں ۔ انہوں نے گوکہ کوئی بڑی کامیابی تو حاصل نہیں کی لیکن 2013کے عام انتخابات میں صوبہ خیبر پختونخوا میں مخلوط حکومت بناچکے ہیں ۔ وفاقی سطح پر انہیں نمایاں کامیابی نہیں ملی جو عمران خان کو مبینہ دھاندلی کا شاخسانہ محسوس ہوئی۔ لہٰذا انہوں نے اس کو بنیاد بناکر ایک تحریک چلائی جس کا آغاز 14اگست کوکیاگیا۔ پاکستان تحریک انصاف ملک کی شاید واحد سیاسی جماعت ہے کہ جس میں شہادتوں کی کوئی داستان ابھی تک رقم نہیں ہوسکی ۔ آزادی مارچ میں دیگر مقاصد کے ساتھ ساتھ ایک مقصد یہ بھی کارفرما تھا کہ وہ اس بار کارکنوں کو جان کی قربانی دینے کیلئے بھی آمادہ کرلیں۔ اور مارچ کے دوران چند لاشیں گریں گی جو ان کی سیاست کو مضبوط بنانے میں کارآمد ثابت ہونگی ۔
مارچ کے دوران گوجرانوالہ کے مقام پر ان کے کارکنوں پر حملہ ہوا لیکن یہ معمولی نوعیت کا تھا جسے بڑھاچڑھا کر پیش کرنے کی کوشش بہرحال کی گئی ۔ لیکن بظاہر اس حوالے سے خاطر خواہ فوائد حاصل نہیں ہوئے تاکہ وہ موجودہ حکومت پر دباؤ کا باعث ہوتے ۔طاہرالقادری کے دھرنے کے اختتام اور پی ٹی آئی کے احتجاج کی مقبولیت میں کمی نے عمران خان کو ملک بھر میں جلسوں کے انعقادپر مجبور کیا ۔ عمران خان ان جلسوں میں بھی بنیادی طور پر مقبولیت کے جھنڈے نہیں گاڑ سکے۔ اس لئے انہوں نے ایک بار لہو گرمانے کیلئے 30نومبر کو اسلام آباد میں دمادم مست قلندر کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
اس اعلان کے بعد سے مقتدر حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے اور وہ ایسے اقدامات کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں کہ جس کی وجہ سے حالات کو کنٹرول کیا جاسکے ۔کیونکہ ننکانہ صاحب کے جلسے میں لال کوٹھی والے شیخ رشید بپھرے ہوئے نظر آئے۔ انہوں نے عوام کے جذبات کو بھڑکاتے ہوئے پرجوش انداز میں بیان دے دے ڈالاکہ نواز شریف کی حکومت گرانے کیلئے جلاؤ گھیراؤ کیاجائے، توڑ پھوڑ کرتے ہوئے ہر رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے 30 نومبر کو اسلام آباد میں طاقت کا بھر پور مظاہرہ کیا جائے ۔ ان کا غصہ اسوقت اور بڑھ گیا جب عمران خان کو اشتہاری قرار دیا گیا اور جہلم میں پی ٹی آئی کے کارکنوں پر فائرنگ کی گئی۔ یہ دونوں عوامل تحریک انصاف کیلئے ٹرننگ پوائنٹ تھے جو ان کی سیاست کیلئے گرم لوہے پر چوٹ لگانے کے مترادف تھا۔ عمران خان اسے انتقامی کارروائی قرار دینے لگے جبکہ حکومت اس سے انکار کررہی ہے اور پی ٹی آئی کارکنوں کے زخمی ہونے پر افسوس کا اظہار بھی کررہی ہے ۔
عمران خان اور ان کی جماعت کے رہنماء 30 نومبر کو فیصلہ کن جنگ سے تعبیر کررہے ہیں اور اس دن عوام کو گھروں سے باہر نکلنے اور تبدیلی کیلئے کردار ادا کرنے کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں ۔ان کاکہنا ہے کہ اگر عوام اب بھی باہر نہ نکلے تو ملک کرپٹ ٹولے کے ہاتھوں 5سال تک یرغمال بن جائیگا۔ پارٹی چیئرمین کہتے ہیں کہ ہمارا احتجاج پر امن ہوگا ، صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ روکا گیا تو مقابلہ کریں گے اور جیل جانے سمیت کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائیگا۔
دوسری جانب حکومتی ایوانوں میں 14 اگست کے بعد ایک بار مضطرب ہے اور 30 نومبر کو وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال کوبرقرار رکھنے کیلئے حفاظتی تدابیر کررہی ہے۔ حفاظتی اقدامات کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کیلئے آرڈینس بھی جاری کردیا گیا ہے۔ اسلام آباد کے ریڈ زون کیلئے آرٹیکل 245کا اطلاق ختم ہوچکا ہے۔ جبکہ فوج بھی واپس بیرکوں میں چلی گئی ہے ۔اب اسلام آباد کی سیکیورٹی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والوں کو دیدی گئی ہے جو تمام حساس عمارتوں کی حفاظت پر مامور ہوں گے اور ہائی الرٹ زون میں داخلے کا اختیار انہی سیکیورٹی اہلکاروں کے پاس ہوگاجبکہ اس آرڈینس کا اطلاق صرف وفاقی دارالحکومت پر ہوگا اور اسے کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ 30 نومبر کی تحریک انصاف کے احتجاج کو موجودہ سرکار اسے یلغارتصور کرتی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار اس کا اظہار مسلسل میڈیا کے زریعے کررہے ہیں۔
عمران خان نے مجموعی طور پر قوم کو مایوس کیا ہے۔ جو لوگ ان کے دھرنے یا جلسوں میں شرکت کررہے ہیں وہ محض تفریح کے سوا کچھ اور نہیں۔ عوام کی حالت جس طرح پہلے تھی اب بھی اس میں کہیں بہتری محسوس نہیں کی جاسکتی ۔ لوگ عدالتوں میں آج بھی اپنے مقدمات کی پیروی میں اسی طرح حاضریاں لگوارہے ہیں جیسا کہ وہ اس سے قبل مقدمات بھگتارہے تھے۔۔ پی ٹی آئی کے روز روز کے اعلانات سے عوام کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ عوام اس قدر باشعور ہوچکے ہیں کہ انہیں معلوم ہے کہ ملک میں تبدیلی لانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ یہ ایک دشوار گزار اور صبر و تحمل کا معاملہ ہے جس کیلئے اگر لاشوں کے ڈھیر بھی لگادئے جائیں تب بھی مسائل حل نہیں ہوسکتے۔
30نومبر کو اسلام آباد میں کچھ ایسا ہونے والا نہیں کہ جس سے ملک کا پہیہ رک جائیگا۔ یہ اتوار کا دن ہے جب ملک میں چھٹی ہوتی ہے اور لوگ ہفتہ بھر کام کرنے کے بعد گھروں میں آرام کرتے ہیں لہٰذا قوم پریشان نہ ہو۔ عمران خان اور اس کے ہمراہیوں کا 30نومبر کا احتجاج ایک نعرہ مستانہ ہے اس سے ملک میں کوئی دراڑ نہیں پڑ سکتی ۔ میاں نواز شریف ممکن ہے کہ غیر ملکی دورے پر چلے جائیں اور وزراء اپنے اپنے آبائی علاقوں کا رخ کرلیں ۔ ہاں ایک بات بہت اہم ہے کہ موجودہ حکومت کچھ سبق سیکھے اور عوام کی بھلائی کی جانب توجہ دے تاکہ ان میں پائی جانے والی مایوسی کا خاتمہ ہوسکے۔