ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
- منگل 25 / نومبر / 2014
- 4589
پاکستان کی سرسٹھ سالہ تاریخ بنیادی شہری اور معاشی حقوق کے حصول کی جدوجہد، نا آسودگی کے طوفانوں اور زوال کی تاریخ ہے ۔ زوال ان معنوں میں کہ جو قافلہ 1947 میں کراچی اور ڈھاکہ سے ایک ساتھ چلا تھا وہ سن 1971 کی فوجی مہم میں دونیم ہو گیا ۔ اس نوزائیدہ قوم کو یکے بعد دیگرے بہت سے سیاسی ، عسکری اور مذہبی مسیحاؤں نے انقلاب رسید کرنے کی کوشش کی مگر نہ تو انقلاب ہی ٓیا اور نہ ہی قوم کی تقدیر بدلی ۔
کراچی کے مہاجر کیمپ کی طرف نگاہ اُٹھاؤ تو لگتا ہے ہم اب تک اگست اُنیس سو سنتالیس میں رہ رہے ہیں ۔ کتنا دردناک المیہ ہے کہ کسی سیاسی جماعت نے اس قوم کو ملی وحدت سے ہمکنار کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی ۔ سب نے لڑاؤ اور حکومت کرو کے استعماری اصول کو بروئے کار لا کر اپنی اپنی گروہی سلطانی کی دھاک بٹھائی ہے ۔ سب نے عوام کی بات کی مگر جہاں عوام کی خدمت کا سوال آیا ، سب ہی نے عوام کو نظر انداز کیا ۔ ہر مسیحا کے حواریوں اور حلقہ بگوشوں نے ملک میں ہونے والی تبدیلیوں سے فائدہ اُٹھایا مگر بے چاری عوام سرسٹھ سال تک کولہو کے بیل کی طرح چل کر بھی اُسی جگہ کھڑی ہے ، جہاں سے تقسیم کے بعد چلی تھی :
مُنیرؔ ، اس شہر پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
اور ہمارا یہ قومی سفر عمودی نہیں رہٹ کے بیل کی طرح دائرے میں ہے ۔ ایک نقطے کا خود اپنی نقطیت میں سفر ۔ اس سفر کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ پاکستانی معاشرہ پچھلے تین مہینوں سے دھرنے کے بُخار میں مبتلا ہے ۔یہ ایک بحرانی کیفیت ہے جس میں معاشرے کے تمام شعبے ، طبقے اور حصّے بہت شدت سے حرکت کر رہے ہیں مگر کسی سمت میں مثبت پیش رفت ہوتی دکھائی نہیں دیتی ۔ سیاسی جماعتوں ، دھڑوں اور گروہوں کے درمیان �آویزش اور کشمکش جاری ہے ۔ اندر سکوتِ ہزیمت طاری ہے اور باہر حصولِ اقتدار کی ہوس کی خماری ہے ۔ پچھلے تین مہینوں سے سیاسی تھیٹروں میں انقلاب اور تبدیلی کا ناٹک چل رہا ہے ۔ لفظوں ، نعروں اور الزاموں کی جنگ جاری ہے لیکن اب تک تبدیلی تو درکنار وزیر اعظم اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے استعفے تک نہیں آئے جو دھرنا داروں کا سب سے نمایاں مطالبہ ہے ۔
البتہ دھرنے کا احتجاجی کلچر فروغ پا رہا ہے ۔ جگہ جگہ سیاسی میلے لگے ہیں ۔ ٹوپیاں ، سکارف ، جھنڈے اور ٹی شرٹس کا کارنیوال برپا ہے ۔ اب پشاور سے سلاجیت اور ہینگ کے بجائے جلوسوں میں استعمال ہونے والا مال پنجاب اور سندھ کی منڈیوں میں بیچنے کے لیے لایا جا رہا ہے اور خیبر پختون خواہ کے کوچی تاجروں کی چاندی ہے ۔
تبدیلی کی کتاب کا دیباچہ لکھا جا رہا ہے ۔ یہ تبدیلی میک اپ سے مزین چہروں کی نمائش ہے ۔ لیکن اصل تبدیلی جو عوام کی خوشحالی اور امن سے آتی ہے ، تا حال کہیں دکھائی نہیں دے رہی۔ تبدیلی کا کوڈ ورڈ عام آدمی کے معیار زندگی کے گراف سے منسلک ہے ۔ یہ کوڈ ورڈ اُس صورت میں کام کرتا ہے جب لوگوں کو ضروریاتِ زندگی بہم ہوں ۔ کم سن بچے اور نوعمر لڑکے لڑکیاں کھوکھوں پر چائے کے جھوٹے برتن مانجھنے اور بازاروں میں جوتے پالش کرنے کے بجائے بستے گلے میں ڈالے سکول جا رہے ہوں ۔ بیماروں کی دیکھ بھال ذمہ داری سے ہو رہی ہو ۔ شیر خواروں کو چاندی سا اُجلا دودھ میسر ہو اور نلوں میں پانی کی جگہ زمزم آ رہا ہو ۔ جب سب کچھ اس طرح سے اچھا ہو تب دلوں میں امن کے پھول کھلتے ہیں اور محبّت کی پروا چلتی ہے ۔
دھرنے ، جلسے اور احتجاجی تحریکیں پاکستان میں کوئی نئی بات نہییں ۔ پہلے بھی اس طرح کے سیاسی میلے ٹھیلے ہوتے رہے ہیں ۔ بھٹّو نے پاکستان کے دو لخت ہو جانے کے بعد جس طرح پاکستان کو سنبھالا ، شملہ معاہدہ کیا ، نوے ہزار جنگی قیدی رہائے کرائے اور پھر لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کی ۔ وہ سارے واقعات پاکستان میں سیاسی پیش رفت اور تبدیلی کی گواہیاں ہیں ۔ لیکن بھٹو کے بعد پیپلز پارٹی کے قبضہ گروپ نے جس طرح روٹی ، کپڑا اور مکان کے نعرے کو قتل کیا وہ سب کے سامنے ہے ۔
فوج کی آمد پر مٹھائیاں بانٹنے کی تاریخ چار بار دوہرائی گئی لیکن ملک جہاں تھا وہاں بھی کھڑا نہ رہ سکا اور سیاسی سانپ سیڑھی سے نیچے گر کر دہشت گردوں اور خود کُش بمباروں کا نوالہ بن گیا۔ اور آج بھی جماعت اسلامی کے جلسوں میں قتال فی سبیل اللہ کی صدا گونج رہی ہے ، جو اس بات کی گواہی ہے کہ طالبان کی تحریک مذہبی سیاسی جماعتوں کے ذریعے اب بھی چل رہی ہے ۔
سیاستدانوں کے یہاں ہر جگہ دوہرا معیار نظر آتا ہے ۔ وہ غریبوں کی بات کرتے ہیں ، بھوکوں کو وافر خوراک کا سبز باغ دکھا کر ٹرخاتے ہیں مگر اُن کی اپنی ضیافتوں کی میزیں انواع و اقسام کے کھانوں سے اس طرح پٹی ہوتی ہیں کہ اسراف چغلی کھاتا ہے اور فضول خرچی شور مچاتی ہے ۔ ابھی دو دن پہلے سوشل میڈیا میں تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کی تصویر چھپی ہے جس میں وہ عرب شیوخ کی طرح اشیائے خورونوش سے بھری میزوں کے گرد حلقہ زن ہیں ۔ ایسی تصویریں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ :
ہیں کواکب کچھ ، نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا
فی زمانہ یہ جلسہ دھرنا کلچر پاکستانی معاشرت میں بہت مقبول ہے ۔ اتنا مقبول کہ آب اس رجحان کو معاشرے کا نمایاں خدوخال قرار دے سکتے ہیں ۔ جلسوں کی بارات کا سا سماں ہے ۔ ق لیگ بھی جلسہ کر رہی ہے ۔ جماعت اسلامی نے لاہور میں سہ روزہ تبدیلی کیمپ لگا رکھا ہے ۔ جمعیت العلمائے اسلام کے فتووں کا بازار گرم ہے ۔ طاہر القادری بھکر میں حکمرانوں کو للکار للکار کر بیمار ہو گئے ہیں ۔ اس بار ان جلسوں کی ایک نویکلی خصوصیت بہت سی پنجابی تقریریں تھیں ۔ طاہر القادری کی جھنگوچی میں اور چودھری پرویز الہٰی کی گجراتی میں تقریر نے لطف بھی دیا اور یکسانیت کا تاثر بھی کہ کوئی نئی بات سننے کو نہیں ملی۔ سارے لیڈر پرانے ریکارڈ پر گھسی پٹی دھنیں بجاتے رہے ۔
یہ سب کچھ اپنی جگہ مگر سچ تو یہ ہے کہ تحریک کی بیل سچ مچ اُس روز منڈھے چڑھے گی ، جس دن پاکستان میں انصاف کا سورج نکلے گا اور عوام اور حکمرانوں کا معیارِ زندگی ایک جیسا ہوگا ۔ جس دن نواز شریف جیسا کوئی شریفِ اسلام آباد حضرت عمر ؒ کی طرح اپنے کرتے کو خود پیوند لگائے گا ورنہ یہ سارا دھرنا اکارت جائے گا ۔
کیا ایسا ہوگا ؟
یہ اور لوگ ہیں ، اِن سے تو مت توقع باندھ
اِنہیں تو کرسی کا شِکرا شکار کرنا ہے
نہیں کسی میں یہاں خُوئے رہبری مسعود
مجھے یہ رازِ خفی آشکار کرنا ہے