تباہ حال معاشرہ
- منگل 25 / نومبر / 2014
- 4251
فیض احمد فیض نے پطرس بخاری کے انتقال پر ایک تقریر میں کہا تھا ” دوستی باہمی محنت و ریاضت اور شفقت کا ثمر ہوتی ہے۔ دوستی کیلئے ایثار، بار بار اظہار اور تکرار و تجدید کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ کام محنت کا ہے اور اس میں وقت صرف ہوتا ہے، عمل کے بغیر یہ ممکن نہیں، عمل کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں“۔
ہم زندگی میں لاکھوں کروڑوں چہرے دیکھتے ہیں۔ قریب سے دور سے کسی کو محسوس کرتے ہیں۔ کوئی یونہی ایک جھلک دکھا کر گزر جاتا ہے، کوئی ہم کو اپنی جانب کھینچ لیتا ہے ۔ کسی کو ہم اس حد تک متاثر کرتے ہیں کہ اس کی راتیں اس کے دن اپنے نہیں رہتے۔ چہرے ایک دوسرے پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں۔ چہرے جو سپاٹ ہوتے ہیں، جن میں تپاک ہوتا ہے ۔ ایک حال ، ایک کیفیت ، ایک جذب ، ایک گریز رقم ہوتا ہے۔ جسے پہچاننے والی نظریں پہچان لیتی ہیں اور جسے محسوس کرنے والے محسوس کرتے ہیں اور یہیں سے یہ بات طے ہوتی ہے کہ دوستی اور ربط کس شدت ، کس درجہ پر قائم ہے۔
آخر ہمارے ساتھ کیا خرابی ہے کہ بحیثیت فرد کوئی دوسرا ہم پر کیوں بھروسہ نہیں کرتا۔ بحیثیت قوم کوئی دوسری قوم ہم پر کیوں اعتماد نہیں کرتی۔ ہمارے الفاظ ہمارا چہرہ کیوں نہیں بن پاتے۔ چہرہ جو ہونے کا ثبوت ہے۔ جس میں ایک فرد ، ایک قوم چھپی ہوتی ہے۔ اس کے احساسات ، اس کے جذبات ، یہ احساس اور جذبات آخر دوستی کی طرف کیوں ہاتھ نہیں بڑھاتے؟
ہمسائے جو کہ اس دوستی کے بہترین حقدار ہیں وہاں بھی دشمنی اپنا رنگ کیوں جمائے ہوئے ہے اور کیا امن کا خواب شانتی کا رنگ ہم کبھی نہ دیکھ سکیں گے ؟ کیا یہ خوشبو ایک خواب بن کر رہ جائے گی؟ کیا لفظ تپاک دوستی کی بنیاد ہے، اب سراب کے معنوں میں استعمال ہؤا کرے گا۔ آخر خرابی ہے کہاں؟ یہ پسماندگی اور زبوں حالی کیوں ہے؟ کیا ہمارے ہاں ذہین لوگوں کا قحط ہے؟ یہاں کی زمینیں بانجھ ہیں؟ کیا اس علاقے سے گزرنے والی ہوائیں نامہرباں ہیں؟ گردشیں ہمارے نصیب میں لکھ دی گئی ہیں؟ کیا یہاں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رات ٹھہر گئی ہے؟
آدھی صدی سے زائد بیت گئی ہم نے بہت کچھ سنا اور دیکھا لیکن جو حاصل ہے وہ کیا ہے۔ دشمنی ، جنگیں ، اسلحہ ، میزائل ، ایٹم بم ، استحصال ، ناداری ، افلاس ، جرائم ، جہالت ، جرنیل ، انتشار ، تعصبات ، توہمات ، انتہا پسندی ، مذہبی جنونیت ، دہشت گردی ، اغوا ، رشوت ، چوری ، ڈاکے اور قتل و غارت ، چند آدمیوں کی ترقی ، چند شہروں کی رونق ، عمارتوں کی بلندی ، سڑکوں کا پھیلاﺅ ، چاہ اور پل۔ مگر عام آدمی جہاں پہلے تھا وہاں سے بھی نیچے گر گیا ہے یا گرا دیا گیا ہے۔ اور یوں پورا ملک وہاں سے بھی پیچھے ہٹ رہا ہے جہاں سے اس نے سفر شروع کیا تھا۔ اسے آپ حالات ، وقت ، سیاست یا عقیدے کا جبر کہئے کہ ہمارے معاشرے میں افراتفری ہے ، بے راہ روی ہے ، قید و بند ، بندشیں و قیود ، ظلم جبر ........ اور اس پر معاشرتی ، طبقاتی ، اقتصادی ، مذہبی اور سیاسی نظام کی کج روی سے پیدا ہونے والی دہشت ، سفاکی ، تخریب کاری ، ظلم و بربریت ، کھوکھلا پن ، لاقانونیت اور انتشار کا راج۔
موجودہ معاشرے کی تہذیب نے انسانیت ، خلوص ، ہمدردی ، محبت و مروت و شفقت وغیرہ کے جذبات اور احساسات کو موت کے دہانے تک پہنچا دیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک عام آدمی اپنی زندگی کے خوابوں ، تمناﺅں اور آزوﺅں سے رشتے استوار کرنا چاہتا ہے۔ لیکن ہم اس عہد کے باسی ہیں جنہیں وقت ، حالات ، زندگی ، نظام اور مسائل نے محصور کر رکھا ہے۔ عوام ان سے نجات تو حاصل کرنا چاہتے ہیں مگر نجات کی ساری راہیں انہیں بند نظر آتی ہیں۔ جہاں اصلاح کی کوئی گنجائش نہیں۔
اس معاشرے کی اصلاح کا کون سا پہلو بچا ہؤا ہے۔ جس میں دال میں نمک زیادہ ہو جانے پر شوہر بیوی کو مٹی کا تیل چھڑک کر جلا دیتا ہے۔ ایسے حالات میں دور دور تک کوئی امید بھی نظر نہیں آتی اور حکومتیں ہیں کہ بدلتی رہیں گی، انتشار اور بڑھے گا، سڑکیں اور کشادہ ، شہر اور پر رونق اور نئی طرز تعمیر کی عمارتیں اور بڑھ جائیں گی۔ ساتھ ہی جھونپڑیاں ، تاریکیاں ، لوٹ کھسوٹ ، جرائم ، بھوک اور دکھوں میں اضافہ ہو گا اور پھر اس پر سماجی و معاشی نام نہاد تجزیہ نگار ان مصائب کے سلسلے میں بہت سی سائنسی اور فنی وجوہ پیش کر دیں گے۔ وہ کہیں گے کہ یہ اس ملک کا ” عبوری دور “ ہے۔ انتقال اقتدار کا مرحلہ ہے، پرانی زندگی اور نئی زندگی کی سماجیاتی کشمکش کا معاملہ ہے۔ یہ دور ہمارے ہاں کے سماجی اداروں کے تضاد کا دور ہے۔ یہ ثقافتی خلا کی بات ہے۔ وہ کہیں گے کہ صنعتی انقلاب کے بعد برطانیہ میں بھی یہی کچھ ہؤا تھا۔ ترقی پذیر ممالک ان مراحل سے گزرتے رہتے ہیں مگر ایک نئی زندگی ان پیچیدگیوں اور ناہمواریوں کے بعد شروع ہو گی۔ وغیرہ وغیرہ ۔
مجھے تو ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ جس معاشرے میں توہمات ، تعصبات اور مذہبی جنون پرستوں کا راج ہو وہاں خرد افروزی کے چراغ جل پائیں؟ کیا ہمارے معاشرے میں عقل پروری ، انسانی فکر ، عقل دوستی اور سائنسی نقطہ نظر رکھنے والے افراد کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر نہیں ہے؟ کیا عہد تاریک کے محافظین کے مقابل ڈٹ جانے والے افراد آپ کو کہیں نظر آتے ہیں؟ کیا ہماری سوسائٹی میں افہام و تفہیم ، سیکولر ازم ، خیر سگالی ، عدم تشدد ، بھائی چارہ اور خوشحالی نام کی کوئی شے باقی ہے؟ اور کیا وہاں شرافت ، عظمت ، عروج ، ترقی ، حقیقت پسندی ، دیانتداری ، وقار ، شائستگی ، زیبائی ، خوش نیتی اور امن پسندی کو دن دیہاڑے قتل نہیں کر دیا گیا؟ ان تناظر میں جب میں پاکستان میں عقل دوستی ، سیکولر ازم اور سائنسی نقطہ نظر کو اختیار کرنے کے رویے تلاش کرتا ہوں تو اس نتیجہ پر پہنچتا ہوں کہ ہماری تہذیب آج تک خرد افروزی کے اس مرحلے پر نہیں پہنچی جہاں سے عقل پروری نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا کہ آج بھی عقلی رویوں کا روزمرہ زندگی میں عمل دخل آٹے میں چٹکی بھر نمک کے برابر ہے۔
ان حالات میں ترقی پسندی ، روشن خیالی ، عقل پروری اور عقل دوستی کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمسایوں کے خلاف ” حالت جنگ “ میں رہنے کے بجائے ناداری ، افلاس ، جہالت ، جرائم ، انتہا پسندی ، دہشت گردی اور مذہبی جنونیت کے خلاف جنگ شروع کریں کہ اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ترقی پسندی ، روشن خیالی ، خرد افروزی اور عقل دوستی کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم جہاں بھی ہوں ، جن حالات میں بھی گھرے ہوں ، خرد افروزی کے فروغ کے لئے سخنے درمے ، دامے قدمے جو کچھ بھی ہم سے بن پڑے اسے کرنا چاہئے کہ ہمارے دلوں میں امن و محبت ، انصاف ، مساوات ، رواداری اور جمہوریت کا جو چراغ جل رہا ہے فیض صاحب نے اس چراغ میں نوک قلم سے اتنا تیل بھر دیا ہے کہ صدیوں تک جلتا رہے گا۔ ذکر فیض کے ساتھ مجھے اپنی نئی نظم کا شعر یاد آ رہا ہے۔
یہ بھی سچ ہے کہ کڑی دھوپ میں چلنا ہے مجھے
اور وہ سایہ فگن مجھ پہ ہے یہ بھی سچ ہے!