تحریک و انقلاب

  • بدھ 26 / نومبر / 2014
  • 3857

جلسے ، جلوس، ریلیاں، اجتماعات۔۔۔ یہ کسی بھی ملک کے سیاسی کلچر سے آگاہی حاصل کرنے میں اہم کردار ادار کرتے ہیں۔پوری دنیا میں سیاسی، مذہبی ،معاشی، معاشرتی اور اسی طرح کے بہت سے اور معاملات میں ریلیاں نکالنا، اور جلسے جلوس منعقد کرنا ایک عام سی بات تصور کی جاتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ان میں شامل شرکاء کی تعداد ان کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کرتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ جلسے یا اجتماعات کسی بھی معاشرے کی مجموعی نفسیات کو سمجھنے میں بھی اہم کردار ادار کرتے ہیں۔ بعض جگہ پر یہ اجتماعات اور جلسے حقیقی معنوں میں تبدیلی کی راہ ہموار کرتے ہیں اور بعض جگہ پر یہ صرف تاریخ میں رقم ہو جاتے ہیں اس کے علاوہ ان کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

1963ء میں امریکہ میں مارٹن لوتھر کنگ کی سربراہی میں ہونے والا مارچ سیاسی لحاظ سے ایک الگ تاریخ رقم کر چکا ہے۔ اس مارچ سے نہ صرف سیاسی طور پر آگاہی پھیلی بلکہ رنگ و نسل کی بنیاد پر حقوق کی تقسیم پر بھی کاری ضرب لگی ۔ اس مارچ کے روح رواں مارٹن لوتھر کنگ جو ایک سیاہ فام تھے ایک ہیرو بن کر ابھرے۔ اس جہدوجہد کا مقصد بنیادی طور پر سیا ہ فام شہریوں سے امتیازی سلوک کا خاتمہ تھا۔
اسی طرح 1789 سے 1799 کے عرصے نے فرانس کی تاریخ بدل ڈالی۔ اس عرصے کو دنیا آج انقلاب فرانس کے نام سے جانتی ہے ۔انقلاب فرانس نے نہ صرف سیاسی سطح پر تبدیلی کو نمایاں کیا بلکہ اس انقلاب کی وجہ سے سماجی سطح پر بھی نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اور شاید موجودہ فرانس اسی انقلاب کی وجہ سے دنیا کے سامنے ہے۔

ماضی قریب کا جائزہ لیں تو انقلابِ ایران جسے اسلامی انقلاب بھی کہا جاتا ہے ہمارے سامنے آتا ہے۔ اس انقلاب کی وجہ سے سیاسی طور پر ایران کا نقشہ مکمل طور پر تبدیل ہو گیا جو آج تک ایران کی سیاسی و سماجی تشخص کی پہچان بنا ہوا ہے۔ اس انقلاب نے بے شک سیاسی سطح پر بہت بڑے پیمانے پر تبدیلی کی راہ ہموار کی لیکن اس کی خاص بات اس کا مذہبی عنصر تھا۔ کیوں کہ اس انقلاب کے روح رواں امام خمینی تھے۔ وہ ملک میں موجود نہ ہو کر بھی اس انقلاب کی کامیابی کی ضمانت بن گئے۔ اس انقلاب کے بڑے واقعات 1977 سے 1979تک پیش آئے۔ 16جنوری 1979 کو جب شاہ محمد رضا شاہ پہلوی نے ایران چھوڑا تو اس انقلاب کی کامیابی یقینی ہو گئی تھی۔ رضا شاہ پہلوی باقی زندگی جلاوطن رہا اور جلاوطنی میں ہی ان کا انتقال ہوا۔ انقلاب سے پہلے ایران امریکہ کے بہت قریب تھا۔ شاہ کو امریکہ کی حمایت حاصل تھی۔ اور ایران لبرل ازم کی طرف گامزن تھا۔ لیکن انقلاب کے بعد نہ صرف امریکہ سے تعلقات میں سرد مہری آئی بلکہ مذہبی رجحان میں بھی اضافہ ہوا۔ طالبعلموں کا امریکی سفارتخانے پر قبضہ اور عملے کو یرغمال بنانا اس انقلاب کے عروجی نقاط کہے جا سکتے ہیں۔

برصغیر پاک وہند کی تاریخ پر نگاہ دوڑائیں تو گاندھی جی کا سالٹ مارچ جس کی ابتداء 1930ء میں ہوئی، آنے والے دنوں میں اہمیت اختیار کر گیا۔ یہ بنیادی طور پر ٹیکس نظام کے خلاف تھا۔ اسی طرح اقبال کے الٰہ آباد میں خطبے کے بعد 1930 ء سے مسلمانان ہند نے ایک نئی تحریک شروع کی۔ اس تحریک کو 1940ء میں تحریک پاکستان کا نام مل گیا۔ اس پوری تحریک نے برصغیر پاک وہند کا نقشہ ہی تبدیل کر دیا۔ سیاسی طور پر مضبوط ہونے کے باجود کانگریس قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت کا سامنا نہ کر پائی اور 1947ء میں دنیا کے نقشے پرمسلمانوں کا ایک نیا ملک ابھرا جس کے حصول کے لئے لاکھوں شہیدوں کا لہو شامل ہؤا۔

یہ صرف چند مثالیں ہیں۔ورنہ قدیم کائنات اور موجودہ جدید دنیا انقلاب ، احتجاج، تحریکوں سے بھری پڑی ہے۔ یہ صرف ان ہزاروں مثالوں میں سے چند مثالیں ہیں جو کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔ پاکستان کی مثال کو سامنے رکھیں تو بہت سی مثالیں ہیں۔ بھٹو کی تحریک ہو یا 70 کے انتخابات کے بعد کی صورت حال، بی بی کی واپسی ہو یا میاں صاحب کا لانگ مارچ ۔ ایک لمبی فہرست ہے۔ لمبی اس لیے کہ پانچ لوگ بھی کھڑے ہوں تو اسے انقلاب یا مارچ کا نام دیا جاتا ہے۔

پاکستان کے معروضی حالات کو سامنے رکھیں تو اس وقت عمران خان پورے ملک میں جلسے جلوس کر رہے ہیں۔ ان کے جلسوں سے آنے والی تبدیلی کا تو پتہ نہیں لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ ان میں باقاعدگی لا رہے ہیں۔ دنیا بھر میں جتنی بھی تحریکیں کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔ چاہے وہ پر امن ہوں یا ہنگامہ خیز ، ان میں باقاعدگی کا عنصر بہت اہمیت کا حامل ہے۔ تحریک پاکستان کو دیکھیں۔ ایک جلسے کے بعد لوگ نہ صرف اگلے جلسے کے انتظار میں ہوتے تھے۔ بلکہ انہیں اگلے جلسے کے وقت اور مقام کا بھی پتہ ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ سب سے اہم بات لوگوں کا اپنی مرضی سے شامل ہونا تھا۔ موجودہ جلسوں کی لہر سے عمران خان کامیاب ہوں یا ناکام یہ ایک الگ بحث ہے۔ لیکن تین دہائیوں سے روایتی سیاسی ہنگاموں میں ایک باقاعدگی کا عنصر شامل ہو تا جا رہا ہے۔ بے ترتیبی جو جلسوں کی پہچان بن چکی تھی، وہ ختم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ بہر حال ایک اچھا عمل ہے۔ جلسہ، جلوس، ریلی، تحریک وغیرہ چاہے حکمران جماعت کرے یا اپوزیشن جماعتیں۔ انقلاب کا نعرہ چاہے ڈاکٹر صاحب لگائیں یا ایوان اقتدار کے مکین، اس تمام ہلچل کا مقصد تعمیری ہونا بہت ضروری ہے۔

تمام سیاسی کارکنوں کے لیے اور سیاسی راہنماؤں کے لیے دنیا میں چلنے والی تحریکوں، جلسے ، جلوسوں یا رونما ہونے والے انقلاب کا مطالعہ کرنا ایک مفید عمل ہو سکتا ہے۔ اس سے سیاسی کارکنوں و راہنماؤں کو یہ جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ کہاں انقلاب آیا، کس ملک میں تحریک چلی اور ان کے مقاصد کیا تھے۔ ان کے روح رواں ان سے کتنے مخلص رہے۔ اور اس میں شامل لوگوں کی ترجیحات کیا تھیں۔ اور کسی بھی تحریک یا انقلاب کو کامیابی سے ہمکنار کروانے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا گیا۔ ایسا کرنا نہ صرف عمومی طور پر معاشرتی رویوں میں برداشت اور صبر کا عنصر شامل کرے گا بلکہ مجموعی طور پر سیاسی سوجھ بوجھ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔